آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مالیگاؤں دھماکوں کے 20 برس بعد تمام ملزمان کی بریت جو انڈیا میں پولیس، عدلیہ اور حکومت پر کئی سوال چھوڑ گئی ہے
- مصنف, مہتاب عالم
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں کے رہائشیوں کے لیے ستمبر 2006 کی آٹھ تاریخ وہ دن ہے جسے وہ بھلائے نہیں بھول سکتے۔
یہ جمعے کا دن تھا اور سینکڑوں افراد شبِ برات کے تہوار کی مناسبت سے قبرستان میں جمع تھے کہ دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب نمازِ جمعہ کے بعد بڑا قبرستان، حمیدیہ مسجد اور اس سے ملحقہ مشاورت چوک کا علاقہ یکے بعد دیگرے ہونے والے چار دھماکوں سے گونج اٹھا۔
ان دھماکوں میں 31 افراد ہلاک اور 312 زخمی ہوئے۔
اس واقعے کی تحقیقات مہاراشٹر پولیس کے انسداد دہشت گردی سکواڈ اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے کیں اور نو مسلمان مردوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تاہم ان ملزمان کے خلاف الزامات 2016 میں خارج کر دیے گئے اور اس فیصلے کے خلاف اپیل ابھی تک زیر التوا ہے۔
دوسری جانب اسی معاملے میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے 2011 میں ایک الگ موقف اختیار کیا اور ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو ان دھماکوں کا ملزم قرار دیا۔
اب گذشتہ ماہ 22 اپریل 2026 کو بمبئی ہائیکورٹ نے ان چاروں ملزمان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات سمیت تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں بری کر دیا ہے۔
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شری چندر شیکھر اور جسٹس شیم چندک پر مشتمل ایک ڈویژن بینچ نے چار ملزمان، راجیندر چودھری، دھن سنگھ، منوہر رام سنگھ نارواریا، اور لوکیش شرما کی جانب سے این آئی اے کی عدالت میں دائر الزامات کو چیلنج کرنے والی اپیلیں منظور کیں۔
مالیگاؤں دھماکے کی دونوں فردِ جرم میں سات افراد کو مفرور بھی قرار دیا گیا تھا جن میں سے کسی کا آج تک اتا پتا معلوم نہیں اور ان دھماکوں کے 20 برس بعد بھی بہت سے سوالات جواب طلب ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پہلے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا
دلچسب بات یہ ہے کہ نہ صرف ان دھماکوں کے زیادہ تر متاثرین مسلمان تھے بلکہ ابتدا میں مسلمانوں کو ہی اس کے لیے ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا تھا۔
شروعات میں اس کیس کی تحقیقات مہاراشٹر کی اے ٹی ایس کو سونپی گئی تھی۔ اے ٹی ایس نے اپنی ابتدائی تفتیش کی بنیاد پر نو افراد کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے، ان کو گرفتار کیا۔ گرفتار کیے جانے والے تمام افراد مسلمان تھے۔
اس ضمن میں اے ٹی ایس نے دسمبر سنہ 2006 میں دائر کی گئی اپنی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ دھماکوں کی سازش مئی 2006 میں ملزمان نے ایک شادی کی تقریب میں ملاقات کے دوران کی تھی۔
بعد میں یہ کیس فروری سنہ 2007 میں سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے حوالے کر دیا گیا، جس نے اپنی ضمنی چارج شیٹ میں اے ٹی ایس کی تفتیش سے متفق ہو کر نو مسلمانوں کو ملزمان کے طور پر نامزد کیا۔
تاہم اپریل سنہ 2011 میں نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے)، جو دہشت گردی کے کیسز کی تحقیقات کرتی ہے، کو یہ کیس سونپ دیا گیا۔
تحقیقات کے بعد این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ یہ دھماکے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی کارروائیوں کا نتیجہ تھے اور اس سلسلے میں ان چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔
نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی
این آئی اے نے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے ہندوتوا رہنما اور اجمیر(راجستھان) و مکہ مسجد (حیدرآباد) بلاسٹس کیس کے ملزم سوامی اسیمانند کے اقبالیہ بیان پر انحصار کیا تھا۔ ایک جج کے سامنے دیے گئے اقبالیہ بیان میں اسیما نند نے کہا تھا کہ مالیگاؤں کے دھماکے دائیں بازو کے کارکن سنیل جوشی کے کارندوں نے انجام دیے تھے۔
بعد ازاں این آئی اے نے اپنی تفتیش کے بعد چارج شیٹ داخل کی اور گرفتار مسلم نوجوانوں کو کلین چٹ دے دیا، جس نے ان کی رہائی کا راستہ ہموار کیا بلکہ ان چار افراد کو نامزد کیا، جنھیں کورٹ نے بدھ کے روز اس معاملے میں ڈسچارچ کر دیا ہے۔
اس کے نتیجے میں کیس نے ایک سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا۔ اور اس کے بعد اس وقت کی حکمراں جماعت کانگریس اور ان کے رہنماؤں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ملک میں ’ہندوتوا دہشتگردی‘ یا ’سیفرن ٹیرر‘ اپنا پیر جما رہی ہے، جس پر نظر رکھنے کی سخت ضرورت ہے۔
اگست سنہ 2010 میں ریاستی پولیس چیفز کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے، اس وقت کے وزیر داخلہ پی چدامبَرَم نے مختلف سکیورٹی مسائل پر بات کرتے ہوئے خاص طور پر اس پر بات کی اور اسے ’سیفرن دہشت گردی کا نیا رجحان‘ قرار دیا۔
انھوں نے پولیس افسران کو بتایا: ’حال ہی میں سیفرن دہشت گردی کا ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے جو ماضی میں کئی بم دھماکوں میں ملوث رہا ہے۔ میری آپ کو ہدایت یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ چوکس رہنا چاہیے اور مرکز و ریاست کی سطح پر دہشت گردی کے خلاف ہماری صلاحیتوں کو مسلسل بڑھانا چاہیے۔‘
کانگریس اور بے جے پی کا ٹکراؤ
اس وقت بے جی پی نے پی چدامبَرَم کے اس دعوے کو ہندو مخالف قرار دیا تھا اور اب وہ ان سے اور دیگر کانگریس رہنماؤں سے معافی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
بی جے پی نے اس فیصلے کو کانگریس کے ’ہندو دہشت گردی‘ والے بیانیے پر ایک زبردست طمانچہ قرار دیا ہے۔ بدھ کے روز ایک پریس کانفریس کے دوران بی جے پی کے ترجمان گورو بھاٹیا نے کانگریس لیڈران سے معافی کا مطالبہ کیا۔
انھوں نے دعوی کیا یہ ہندو مذہب کو بدنام کرنے کی سازش تھی۔ انھوں نے مزید کہا کہ دھماکہ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے کے دور میں ہوا تھا لیکن کانگریس نے اپنی ناکامی چھپانے، اپیزمنٹ کی پالیسی پر عمل کرنے اور راہل گاندھی کو خوش کرنے کے لیے سونیا گاندھی کی ہدایات پر اپنے ہی ہیڈکوارٹر میں ’سیفرن دہشت‘ کی ایجاد کی۔
دوسری جانب ان دھماکوں میں مارے گئے افراد کے اہل خانہ نے اس فیصلے پر شدید غم کا اظہار کیا ہے۔ اس دھماکے میں مارے گئے 18 سالہ ساجد کے والد نے روزنامہ انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ اب امید ختم ہو گئی ہے۔
مارے جانے کے وقت وہ چین میں میڈیسن کی تعلیم حاصل کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ لیکن 8 ستمبر 2006 کو ان کا اور ان کے خاندان کا یہ خواب چکناچور ہو گیا جب اس دھماکے میں ساجد اور ان کے 17 سالہ کزن شہباز مارے گئے۔
ساجد کے 59 سالہ والد شفیق احمد محمد سلیم کہتے ہیں: 'اس کے بیگ بھرے ہوئے تھے، تمام تیاری مکمل تھی۔ ویزہ لگا ہوا پاسپورٹ اس کی موت کے دو دن بعد آیا، جو اب کسی کام کا نہ تھا۔