آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, پاکستان کی توسکا نامی ایرانی جہاز کے عملے کی حوالگی کی تصدیق: ’امریکہ نے اعتماد سازی کے لیے قدم اٹھایا‘

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے ایک ترجمان نے اے بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ وہ ایرانی جہاز، جسے امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کے بعد تحویل میں لیا گیا تھا عملے سمیت پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اسے ایران واپس بھیجا جا سکے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کی صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے ’پراجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ نے بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کے بعد تحویل میں لیے جانے والا ایرانی بحری جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا ہے
  • ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہوئیں تو انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔
  • ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے جہازوں اور اُن کے عملے کی محفوظ روانگی کے لیے پیر سے'بہترین کوششوں' کے آغاز کا اعلان
  • مذاکرات میں تسلسل کے لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہو گی: پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر
  • ٹرمپ کو ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا: پاسداران انقلاب
  • 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ کویت کی ماہانہ تیل برآمدات صفر بیرل رہیں: رپورت
  • جرمنی کا ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری پروگرام ترک کرنے کا مطالبہ

لائیو کوریج

  1. امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں: ایرانی وزارتِ خارجہ

    امریکہ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اس اعلان پر کہ امریکی فوج سوموار کے روز سے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کی رہنمائی شروع کرے گی، ایران کی طرف سے ایک بار پھر ردِعمل سامنے آیا ہے۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ’امریکی دھمکی‘ کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری بیان میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’ایران آبنائے ہرمز کا ’نگہبان اور محافظ‘ ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو بخوبی علم ہے کہ ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے مجاز حکام کے ساتھ رابطہ ضروری ہے۔‘

    ترجمان نے کہا کہ ’جو ممالک قانون کی پاسداری کرتے ہیں، ان کے لیے امریکہ کی جانب سے کی جانے والی ’غیرقانونی کارروائیوں‘ کی حمایت کرنے کی کوئی وجہ اور ضرورت نہیں۔‘

    اس سے قبل ایران کی سینٹرل کمان کے سربراہ نے کہا تھا کہ ’آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے والی کسی بھی غیرملکی مسلح فوج کو نشانہ بنایا جائے گا خصوصاً امریکی فوج کو۔‘

  2. آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی منصوبہ ابہام کا شکار، ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر کشیدگی کا خدشہ, بی بی سی نیوز کی یروشلم سے نامہ نگار یولنڈے نیل کا تجزیہ

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے ’پراجیکٹ فریڈم‘ کے تحت امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو براہِ راست معاونت فراہم کرنا ضروری نہیں، بلکہ اس کا مقصد جہازوں کو محفوظ سمندری راستوں سے آگاہ کرنا اور ایرانی حملوں سے بچاؤ کے لیے قریب رہ کر نگرانی کرنا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے مطابق اس کا مشن اہم آبی گزرگاہ میں جہازرانی کی آمدورفت کو آزادانہ ماحول فراہم کرنے میں معاونت کرنا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

    ایران کی جانب سے جاری تازہ بیان نے اس امر کو واضح کر دیا ہے کہ اگر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں داخل ہوئی تو نئے فوجی تصادم اور کشیدگی میں اضافے کا خدشہ موجود ہے، جو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تین ہفتے پرانی جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

    ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی ہمارے ہاتھ میں ہے۔‘ اور ایران کی جانب سے اس بات پر زور بھر دیا گیا ہے کہ ’جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایرانی مسلح افواج سے اجازت ضروری ہے۔‘

    واضح رہے کہ ایران کے خلاف دو ماہ قبل شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک سینکڑوں بین الاقوامی تجارتی جہاز اس علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں، جن پر مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار عملے کے کارکُنان سوار ہیں۔

    مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی کشیدگی کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارتی اور توانائی منڈیوں پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  3. امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں اب تک کی تازہ صورتحال کیا ہے؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’پراجیکٹ فریڈم‘ کے اعلان کے ساتھ ساتھ اپنے تازہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ’انتہائی مثبت مذاکرات‘ جاری ہیں، جو ان کے بقول ’سب کے لیے کسی بہت مثبت پیش رفت کا باعث ہوں گے۔‘

    ٹرمپ کے یہ تبصرے ایران اور امریکہ کے درمیان امن کے لیے 14 نکاتی منصوبے پر ہونے والی حالیہ خط و کتابت کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ یہ منصوبہ ایران نے تیار کر کے امریکہ کو بھیجا تھا، جس پر دونوں جانب سے رد و بدل کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ تہران واشنگٹن کی جانب سے موصول ہونے والے جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ جواب پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا، کیونکہ پاکستان اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کی سرحدوں کے قریب سے اپنی افواج واپس بلائے، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے اور تمام عسکری کارروائیاں بند کی جائیں جن میں لبنان میں اسرائیلی افواج کی کارروائی بھی شامل ہے۔

    ایرانی مؤقف کے مطابق تہران نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 30 دن کے اندر معالات کو طے کیا جائے۔

    تاہم، امریکہ نے تاحال باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس نے ایران کو کوئی تحریری جواب دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی نشریاتی ادارے کان نیوز کے مطابق ٹرمپ نے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں ایرانی تجویز کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔

  4. بریکنگ, آبنائے ہرمز میں امریکی افواج داخل ہوئیں تو نشانہ بنایا جائے گا، ایران

    ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہوئیں تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔

    ایرانی فوج کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ طور پر آمدورفت سے متعلق ایک آپریشن کا اعلان کیا ہے۔

    ایران کے مرکزی فوجی کمان کے سربراہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والی کسی بھی غیر ملکی مسلح فورس کو نشانہ بنایا جائے گا، ’خصوصاً امریکی فوج کو۔‘

    ایرانی فوج کے میجر جنرل علی عبداللّہی نے کہا ہے کہ ’ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے اور اس سے محفوظ آمدورفت کا عمل ہر صورت ایران کے ساتھ ہم آہنگی میں ہونا چاہیے۔‘

    یہ بیان ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی جانب سے نشر کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ’پراجیکٹ فریڈم‘ کی حمایت کے لیے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، 100 سے زائد زمینی و بحری طیارے، مختلف شعبوں میں استعمال ہونے والے بغیر پائلٹ پلیٹ فارمز اور 15 ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

  5. پاکستان کی توسکا نامی ایرانی جہاز کے عملے کی حوالگی کی تصدیق: ’امریکہ نے اعتماد سازی کے لیے قدم اٹھایا‘

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر ضبط کیے گئے ایرانی کنٹینر جہاز ’ایم وی توسکا‘ پر موجود 22 ایرانی عملے کے ارکان کو پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جن افراد کو گزشتہ رات پاکستان منتقل کیا گیا تھا، آج ایرانی حکام کے حوالے کر دیے جائیں گے۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ ایرانی جہاز، جسے امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کے بعد تحویل میں لیا گیا تھا عملے سمیت پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اسے ایران واپس بھیجا جا سکے۔

    پاکستانی دفترِ خارجہ کا اپنے بیان میں مزید کہنا ہے کہ ’ایرانی جہاز کو ضروری مرمت کے بعد پاکستان کی آبی حدود میں واپس لایا جائے گا تاکہ اسے واپس ایران بھیجا جا سکے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان ایسے اعتماد سازی کے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے جاری ثالثی کی کوششوں کے تحت مذاکرات اور سفارت کاری کی سہولت فراہم کرتا رہے گا۔‘

    تاہم اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے کہا تھا کہ ’آج یعنی سوموار کے روز امریکی افواج نے ’ایم وی توسکا‘ کے 22 عملے کے اراکین کو ایران واپسی کے لیے پاکستان منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے، جب کہ چھ دیگر مسافروں کو گزشتہ ہفتے ہی منتقل کر دیا گیا تھا۔‘

  6. ’پراجیکٹ فریڈم‘ کی حمایت کے لیے 15 ہزار امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے: سینٹ کام

    امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے امریکی صدر کے اعلان کردہ ’پراجیکٹ فریڈم‘ کی حمایت سے متعلق تازہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج چار مئی سے اس منصوبے کی معاونت کا آغاز کریں گی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازرانی کی آمدورفت کو آزادنہ طور پر بحال کرنا ہے۔

    اتوار کو جاری بیان میں سینٹ کام نے بتایا کہ اس مشن کے تحت 15 ہزار اہلکار، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز اور 100 سے زائد طیارے تعینات کیے جائیں گے۔

    سینٹ کام کے مطابق ’دنیا بھر کی سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اور ایندھن و کھاد کی بڑی مقدار آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے۔‘

    سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ’ہماری جانب سے اس دفاعی مشن کی حمایت علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے جب کہ ہم بحری ناکہ بندی کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’آبنائے ہرمز میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔‘

  7. آبنائے ہرمز کی بندش: دو ہزار بحری جہازوں کے 20 ہزار کارکُنوں کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے: سربراہ آئی ایم او

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے چند روز قبل لندن میں ہونے والے ایک اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک نے عالمی جہازرانی میں ایران کی مداخلت کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔

    اجلاس میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (یعنی آئی ایم او) جو اقوامِ متحدہ کا جہازرانی سے متعلق خصوصی ادارہ ہے کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد منظور ہوئی جس میں کہا گیا کہ ’ایران نے مال بردار بحری جہازوں کے عملے کے ارکان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا، انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ پیدا کیا اور سمندری ماحول کو سنگین نقصان کے خدشات سے دوچار کیا۔‘

    تاہم ووٹنگ کے بعد آئی ایم او کے سربراہ آرسینیو ڈومینگیز نے زور دیا کہ توجہ سیاسی بیانات اور قراردادوں کے بجائے عملی امداد پر مرکوز رہنی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں اس طریقۂ کار پر کسی حد تک مایوسی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جس کے تحت ہم ان مسائل کو دیکھ رہے ہیں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ بحث، طریقہ کار اور ووٹنگز ان 20 ہزار ملاحوں کی کس طرح مدد کرتی ہیں جو گزشتہ نو ہفتوں سے پھنسے ہوئے ہیں، جب کہ دو ہزار جہاز بھی مختلف مقامات پر رکے ہوئے ہیں۔‘

    آئی ایم او سربراہ کے مطابق اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے اُن بحری جہازوں کے عملے کے ارکان کو درپیش مشکلات کے عملی حل تلاش کرنے کی ہے، نہ کہ محض سیاسی بیانات تک محدود رہنے کی۔‘

  8. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 4000 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسیچنج میں سوموار کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور مارکیٹ انڈیکس میں اب 4090 پوائنٹس تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس 167090 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔

    پاکستان سٹاک ایکسیچنج میں ہفتے کے پہلے روز سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں دلچسپی کا رجحان دیکھا گیا جس کے بعد انڈیکس میں ملسلس اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    پاکستان سٹاک ایکسیچنج میں گزشتہ ہفتے مندی کا ریکارڈ رجحان دیکھا گیا تھا اور ہفتے کے آخری روز انڈیکس 2830 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا تھا جس کی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور اس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ تھا۔

    تاہم نئے ہفتے کے پہلے روز عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مثبت بات چیت کا عندیہ تھا۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی صدر کے بیان کے بعد تیل کی قیتمیں گری ہیں جس کا اثر پاکستان سٹاک مارکیٹ پر بھی ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ ’امریکی صدر کے بیان سے لگتا ہے کہ معاملات میں کچھ بہتری آئے گی جس کا پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت اثر ہوا اور مارکیٹ انڈیکس میں حصص کی خریداری کی وجہ سے اضافہ دیکھا گیا۔‘

  9. پاکستان، ایران وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ: مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کے پرامن حل کا واحد راستہ ہیں، اسحاق ڈار

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اتوار کی شب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران علاقائی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے مختلف فریقین کے درمیان تعمیری کردار اور مخلصانہ ثالثی کی کوششوں پر پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔

    اس موقع پر نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کے پرامن حل اور خطے سمیت دنیا بھر میں دیرپا امن و استحکام کے حصول کا واحد مؤثر راستہ ہیں۔

  10. آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس کو ٹرمپ کے خیالی بیانات کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا: ابراہیم عزیزی

    جیسا کہ اب سے کُچھ دیر قبل ہم نے آپ تک یہ خبر پہنچائی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کرنے کے لیے ’پراجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم اسی کے ساتھ انھوں نے خبردار بھی کیا کہ کسی بھی طرح مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

    اب امریکی صدر کے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس بیان کے جواب میں ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایک بیان میں ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ’آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس کو ٹرمپ کے خیالی بیانات کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا۔‘

    ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز کے نئے بحری نظام میں کسی بھی امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس ٹرمپ کی مرضی کے مطابق نہیں چلیں گے۔ الزام تراشی اور دہونس کسی کو قابلِ قبول نہیں۔‘

  11. ہانٹا وائرس کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہانٹا وائرس ایک نایاب مگر خطرناک وائرس ہے جو انسانوں میں زیادہ تر چوہوں اور دوسرے کترنے والے جانوروں سے منتقل ہوتا ہے۔

    ادارے کے مطابق یہ وائرس متاثرہ چوہوں کے پیشاب، پاخانے یا لعاب کے ذرات کی گرد سانس کے ذریعے اندر جانے سے انسانوں کو متاثر کرتا ہے۔

    اس کی علامات کیا ہے؟

    عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ہانٹا وائرس کی علامات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ متاثرہ فرد کو بخار، سر درد، پٹھوں میں درد، شدید تھکن اور متلی یا الٹی کی شکایت ہو سکتی ہے تاہم اس کے شدید ہونے کی صورت میں یہ وائرس پھیپھڑوں کو متاثر کر سکتا ہے جس کی وجہ سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

    ادارے کے مطابق اس وائرس کے شکار افراد کو سانس لینے میں شدید دشواری، کھانسی، سینے میں جکڑن جیسے خطرناک مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

    ادارے کے مطابق اس وائرس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین موجود نہیں تاہم علامات کو دیکھتے ہوئے اس مرض پر دیگر ادویات کی مدد سے قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

    بچاؤ کیسے کریں؟

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وائرس سے بچاؤ کے لیے گھروں اور گوداموں میں چوہوں کو خاتم کیا جائے، صفائی کرتے وقت ماسک اور دستانے استعمال کریں، جھاڑو دینے کے بجائے گیلے کپڑے سے صفائی کریں تاکہ صفائی کی صورت میں دھول مٹی نا اُڑے اور یہ سانس کے ساتھ پھیپھڑوں کو متاثر نہ کرے۔

    اسی کے ساتھ کھانے پینے کی اشیا بند ڈبوں میں رکھیں اور اگر چوہوں والی جگہ پر رہنے کے بعد بخار یا سانس کی تکلیف ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

  12. کروز جہاز پر مبینہ ’ہانٹا وائرس‘ کا پھیلاؤ، تین افراد ہلاک

    عالمی ادارۂ صحت نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بحرِ اوقیانوس میں سفر کرنے والے ایک کروز جہاز پر مبینہ ’ہانٹا وائرس‘ کے پھیلاؤ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایک کیس کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ مزید پانچ مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ 69 سالہ برطانوی شہری اس وقت جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرِ علاج ہیں۔

    یہ وبا ’ایم وی ہونڈیئس‘ نامی کروز شپ پر رپورٹ ہوئی جو ارجنٹینا سے کیپ وردے کی جانب سفر کر رہا تھا۔

    ہانٹا وائرس عام طور پر متاثرہ چوہوں کے پیشاب یا پاخانے سے ہونے والے ماحولیاتی رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے، تاہم نایاب صورتوں میں یہ انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں شدید سانس کی بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔

    جنوبی افریقہ کے محکمۂ صحت کے ترجمان فوسٹر موہالے کے مطابق 70 سالہ شخص اس وقت اچانک بیمار ہو گئے کہ جب کروز جہاز ارجنٹینا کے شہر اوشوآیا سے جزیرہ سینٹ ہیلینا کی جانب رواں دواں تھا۔

    ترجمان کے مطابق مریض میں بخار، سر درد، پیٹ درد اور اسہال کی علامات ظاہر ہوئیں اور وہ سینٹ ہیلینا پہنچنے پر دم توڑ گیا۔

    محکمۂ صحت کے ایک اور ترجمان نے بتایا کہ جہاز پر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 150 سیاح سوار تھے اور یہ جہاز جنوبی ارجنٹینا کے شہر اوشوآیا سے تقریباً تین ہفتے قبل روانہ ہوا تھا۔

    بیان کے مطابق یہ کروز جہاز کینری آئی لینڈز کی جانب رواں تھا، جس کے دوران اس نے مین لینڈ انٹارکٹکا، فاک لینڈ جزائر، ساؤتھ جارجیا، نائٹنگیل آئی لینڈ، ٹرستن، سینٹ ہیلینا، اسینشن اور کیپ وردے سمیت متعدد مقامات پر رکنا تھا۔

  13. امریکہ نے توسکا نامی ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا، ترجمان امریکی سینٹ کام

    امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے ایک ترجمان نے اے بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ وہ ایرانی جہاز، جسے امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کے بعد تحویل میں لیا گیا تھا عملے سمیت پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اسے ایران واپس بھیجا جا سکے۔

    سینٹ کام کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز کے مطابق ’آج یعنی سوموار کے روز امریکی افواج نے ’ایم وی توسکا‘ کے 22 عملے کے اراکین کو ایران واپسی کے لیے پاکستان منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے، جب کہ چھ دیگر مسافروں کو گزشتہ ہفتے ہی منتقل کر دیا گیا تھا۔‘

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان چھ افراد کی شناخت عملے کے بعض ارکان کے اہلِ خانہ کے طور پر کی گئی ہے۔‘

    کیپٹن ہاکنز کا کہنا تھا کہ ’جہاز توسکا کو اس کی اصل ملکیت رکھنے والی انتظامیہ کے حوالے کرنے کے لیے اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس بحری جہاز کو گزشتہ ماہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کے دوران روکا اور ضبط کیا گیا تھا۔‘

    امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے مطابق ’19 اپریل کو امریکی بحری جہازوں کی جانب سے چھ گھنٹے تک دی گئی وارننگز کو نظر انداز کرنے کے بعد ایک امریکی ڈسٹرائر نے کنٹینر شپ کے انجن روم پر فائرنگ کی، بعد ازاں امریکی میرینز نے جہاز پر سوار ہو کر اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔‘

  14. ایران سے مثبت بات چیت کا عندیہ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پراجیکٹ فریڈم شروع کرنے کا اعلان

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کرنے کے لیے ’پراجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ کسی بھی طرح مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

    سوشل میڈیا پوسٹ پر انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات کا علم ہے کہ ان کے نمائندے ایران کے ساتھ ’انتہائی مثبت‘ بات چیت کر رہے ہیں، اور یہ مذاکرات سب کے لیے کسی مثبت پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ عمل، جسے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا گیا ہے، پیر کی صبح سے شروع ہوگا۔‘

    امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک نے امریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اُن کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت نکالنے میں مدد فراہم کرے۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کا مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔

    امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر بتایا کہ ایران، مشرقِ وسطیٰ اور خود امریکہ کے مفاد میں اِن ممالک کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ امریکہ اُن کے جہازوں کو محدود آبی گزرگاہوں سے محفوظ طریقے سے نکالنے میں رہنمائی فراہم کرے گا تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق انھوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ متعلقہ ممالک کو مطلع کریں کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں اور اُن کے عملے کی محفوظ روانگی کے لیے ’بہترین کوششیں‘ کرے گا۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق متعلقہ ممالک نے بتایا ہے کہ یہ جہاز اُس وقت تک علاقے میں واپس نہیں آئیں گے جب تک اسے جہاز رانی کے لیے محفوظ قرار نہیں دیا جاتا۔

    ایران کے ساتھ ’انتہائی مثبت‘ بات چیت جاری: ٹرمپ

    صدر ٹرمپ کے بیان کے مطابق جہازوں کی یہ نقل و حرکت اُن افراد، کمپنیوں اور ممالک کی مدد کے لیے ہے جنھوں نے ’’بالکل کوئی غلط کام نہیں کیا‘‘ اور جو اس صورتحال میں محض حالات کا شکار ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو امریکہ، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور خصوصاً ایران کی جانب سے ایک ’انسانی ہمدردی‘ کا قدم قرار دیا۔

    سوشل میڈیا پر جاری ٹرمپ بیان کے مطابق یہ تمام جہاز اُن خطوں سے تعلق رکھتے ہیں جو اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال میں کسی بھی طور ملوث نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کئی جہازوں پر خوراک اور دیگر ضروری سامان کی کمی ہے جو بڑے عملے کے لیے صحت مند اور صاف ستھرے ماحول میں جہاز پر قیام کے لیے لازم ہے۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام گزشتہ کئی ماہ کے دوران شدید تنازع میں الجھے فریقوں کی جانب سے خیرسگالی کے اظہار میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

    امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر کسی بھی طرح اس انسانی ہمدردی کے عمل میں مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

  15. ایران کے قریب کارگو ٹینکر پر چھوٹی کشتیوں کے حملے کی اطلاعات:برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز

    برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے اطلاع دی ہے کہ اتوار کے روز آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر کئی چھوٹی کشتیوں نے حملہ کیا ہے۔

    یو کے ایم ٹی اور کے مطابق ایرانی بندرگاہ سرک کے مغرب میں تقریباً 11 ناٹیکل میل کے فاصلے پر شمال کی طرف سفر کرتے ہوئے اس کارگو پر حملے کی خبر موصول ہوئی ہے۔

    ایجنسی کے مطابق عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور ماحولیاتی اثرات کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

  16. نئے مجوزہ قانون کے تحت امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی: ایرانی نائب سپیکر

    ایران کی پارلیمنٹ کے نائب سپیکر علی نیکزاد کا کہنا ہے کہ پارلیمان سے ایک ایسا قانون منظور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے تحت امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    علی نیکزاد نے آبنائے ہرمز کا دورہ بھی کیا تھا۔ ان کے مطابق اس مجوزہ قانون کے مطابق دیگر ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی، تاہم انھیں ’سروس، حفاظت، ماحولیاتی تحفظ اور جہازوں کی رہنمائی‘ کے لیے فیس ادا کرنا ہوگی۔

    نیکزاد کے مطابق دنیا بھر میں اس فیس کی ادائیگی عام سی بات ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے والی صورتحال میں اب واپس نہیں آئے گی۔

  17. جرمنی کا ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری پروگرام ترک کرنے کا مطالبہ

    جرمن وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری پروگرام ترک کا مطالبہ کیا ہے۔

    یہ بات جرمن وزیرِ خارجہ یوہانس واڈے فُل نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہی۔

    واڈے فُل کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتوار کو ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے اور اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرے۔

    جرمن وزیرِ خارجہ کا اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک پیغام میں کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جرمنی مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کی حمایت کرتا ہے۔

    بیان میں ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا قریبی اتحادی کے ناطے ہمارے مقاصد مشترکہ ہیں: ایران کو اپنے جوہری ہتھیاروں کے منصوبے کو مکمل اور قابلِ تصدیق انداز میں ترک کرنا ہو گا اور فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنا ہو گا۔

  18. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    آئیے آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    • دنیا میں سمندر کے ذریعے تیل کی ترسیل پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’ٹینکر ٹریکرز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اپریل کے مہینے میں کویت کی خام تیل کی برآمدات صفر رہیں۔ ٹینکر ٹریکرز کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 1991 کی خلیجی جنگ کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کویت نے پورے مہینے خام تیل برآمد نہیں کیا۔
    • پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے تسلسل لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہو گی۔ اتوار کو اسلام آباد میں ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک جامع منصوبہ اور اپنا موقف واضح انداز میں پیش کیا ہے۔
    • ایران کے صوبے سیستان بلوچستان کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ضلع راسک میں مسلح افراد کی جانب سے فوجی گاڑیوں کے ایک قافلے پر حملے کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کے کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ایرانی عدلیہ کے خبر رساں ادارے میزان کے مطابق 2022 میں ایران میں مظاہروں کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار کے قتل میں ملوث مجرم کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ اتوار کے روز میزان کی جانب سے شائع رپورٹ میں کہا گیا ایران کی سپریم کورٹ نے 2025 کے اواخر میں مجرم کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا جس کے بعد اسے پھانسی دے دی گئی۔
  19. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔