برطانیہ میں جنسی جرائم کے الزامات کا سامنا کرنے والا گروہ اور اسے احمدی جماعت سے جوڑنے کا تنازع

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انگلینڈ کی کاؤنٹی چیشائر میں ایک مذہبی گروپ کے نو افراد کو سنگین جنسی جرائم، جبری شادی اور جدید غلامی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

لیکن انگلینڈ میں ہونے والی ان گرفتاریوں کے بارے میں جب خبر سامنے آئی تو پاکستان میں اس حوالے سے خبریں گردش کرنے لگیں کہ اس مذہبی گروپ کا تعلق اقلیتی احمدی کمیونٹی سے ہے۔

یہ خبریں سوشل میڈیا کے علاوہ پاکستان کے بڑے میڈیا ہاؤس جنگ گروپ نے بھی شائع کی اور کہا کہ ’برطانیہ میں قادیانیوں کے مراکز پر چھاپے میں جنسی زیادتی کے الزامات پر نو افراد کو گرفتار کیا گیا‘۔

تاہم احمدی جماعت کی جانب سے احتجاج کے بعد اس خبر کے حوالے سے جنگ گروپ نے معذرت کر لی۔

جانتے ہیں کہ یہ سارا معاملہ کیا ہے، انگلینڈ میں پولیس کی کارروائی کے دوران کیا ہوا؟ گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق کس مذہبی گروپ سے ہے اور جنگ گروپ نے اپنی معذرت میں کیا کہا؟

انگلینڈ میں پولیس کارروائی کے دوران کیا ہوا؟

انگلینڈ کی کاؤنٹی چیشائر کے قصبے کریوی میں 500 سے زیادہ پولیس افسران نے ’احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ‘ (AROPL) نامی ایک گروپ کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں تین مختلف جگہوں پو چھاپے مارے۔

اس فرقے کو رواں صدی کے آغاز میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد نے شروع کیا تھا شیعہ ان کے عقائد کو مسترد کرتے ہیں۔

چیشائر پولیس کے مطابق انھیں گذشتہ ماہ ان الزامات سے آگاہ کیا گیا تھا جو مبینہ طور پر سنہ 2023 کے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ الزامات ایک خاتون سے متعلق ہیں، جو جرائم کے وقت اس گروپ کی ایک رکن تھیں۔

گرفتار ہونے والوں میں چھ مرد اور تین خواتین شامل ہیں، جن کا تعلق امریکہ، میکسیکو، اٹلی، سپین اور برطانیہ سے بتایا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق جن افراد کو گرفتار کیا گیا، ان پر سنگین جنسی جرائم، جبری شادی اور جدید غلامی کے الزامات ہیں۔

پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد اس گروہ کے رکن ہیں تاہم افسران کسی مذہب کے بارے میں تحقیقات نہیں کر رہے۔

اس پولیس کارروائی کے بارے میں رپورٹنگ کیسے کی گئی؟

تاہم جب پاکستانی اخبار میں اس واقعے کی خبر شائع ہوئی تو اسے احمدی کمیونٹی سے جوڑا گیا۔

اس خبر کے چھپنے کے بعد جماعتِ احمدیہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس کی تردید کی۔

جماعت کے بیان کے مطابق ’حقیقت یہ ہے کہ گرفتار افراد کا تعلق کسی طرح بھی جماعت احمدیہ کے ساتھ نہیں اور نہ ہی برطانیہ میں جماعت احمدیہ کے مراکز پر پولیس نے چھاپہ مارا۔

پاکستانی اخبار میں شائع ہونے والی خبر میں برطانوی میڈیا کا حوالہ دیا گیا تھا لیکن اگر اس معاملے میں برطانوی میڈیا میں شائع ہونے والی خبریں غور سے پڑھ لی جاتیں تو اس میں واضح طور پر ان افراد کا تعلق جس مذہب سے بیان کیا گیا، اس کا مکمل نام ’امن اور روشنی کا مذہبِ احمدی‘ (AROPL) ہے۔

جماعتِ احمدیہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’صحافتی ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی بھی خبر دینے سے پہلے اس کے حقائق کی جانچ بے حد ضروری ہے۔ محض لفظ احمدی دیکھ کر ان مبینہ ملزمان کا تعلق جماعت احمدیہ سے جوڑ کر جھوٹی سرخی جما دی گئی کہ قادیانیوں کے مراکز پر چھاپے مارے گئے۔ روزنامہ جنگ کو چاہیے تھا کہ برطانیہ یا پاکستان میں جماعت احمدیہ کے کسی ذمہ دار نمائندے سے استفسار کرتا اور درست معلومات پر مبنی خبر دیتا۔‘

اس بیان کے بعد جنگ گروپ نے اس حوالے سے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے معافی مانگی۔

جنگ کی ویب سائٹ پر اس حوالے سے لکھا گیا کہ ’احمدی ریلیجن آف پیس قادیانی نہیں بلکہ نیا مذہب ہے‘ تاہم معذرت کرتے ہوئے اس حوالے سے یہ عذر پیش کیا گیا کہ ’برطانوی میڈیا نے واضح طور پر ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ جس سے یہ تاثر ملے کہ اس مذہب کے ماننے والے قادیانی نہیں۔‘

’احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ‘ کیا ہے؟

ریلیجن میڈیا سینٹر کی محقق ڈاکٹر سارہ ہاروی کے مطابق ’احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ‘ (AROPL) ایک ایسی مذہبی تحریک ہے جس کی جڑیں اثنا عشری شیعہ اسلام میں ہیں۔

اثنا عشری شیعہ 12ویں امام، امام مہدی کی غیبتِ کبریٰ پر یقین رکھتے ہیں اور ان کا ماننا ہے وہ قیامت سے پہلے زمین پر انصاف کے قیام کے لیے واپس آئیں گے تاہم اے آر او پی ایل کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ بنی نوع انسان اب آخری دور میں ہے اور 12ویں امام واپس آ چکے ہیں۔

ڈاکٹر سارہ کے مطابق اس تحریک کے لٹریچر میں بتایا گیا ہے کہ یہ ایک حقیقی عالمگیر مذہب ہے اور اس کے ارکان مبینہ طور پر خدا کے منتخب کردہ لوگ ہیں۔

اس فرقے کی بنیاد عراق کے شہر بصرہ میں 1990 کی دہائی کے اواخر میں رکھی گئی تھی اور اس کے بانی احمد الحسن نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے بذاتِ خود امام مہدی سے ملاقات کی جنھوں نے انھیں مذہبی مشن سونپا تھا۔

یہ فرقہ اب 40 ممالک میں فعال ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اب تک اندازاً سات ہزار لوگ رابطے میں آئے ہیں۔ سنہ 2018 میں اس تحریک کا سویڈن میں ایک مرکز تھا لیکن 2021 سے اس کا ہیڈ کوارٹر انگلینڈ میں ہے۔