امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو بتایا ہے کہ جنگ بندی کے باعث ایران کے خلاف کارروائیاں ختم ہو چکی ہیں، لہذا انھیں جنگ جاری رکھنے کے لیے قانون سازوں کی اجازت درکار نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے کانگریس کی قیادت کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ’سات اپریل 2026 کے بعد سے امریکہ کی مسلح افواج اور ایران کے درمیان فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی لڑائی ختم ہو چکی ہیں۔‘
یہ خط اس اعلان کے 60ویں دن آیا ہے کہ جب صدر ٹرمپ نے باضابطہ طور پر کانگریس کو ایران کے خلاف حملوں سے آگاہ کیا تھا۔
امریکی قانون کے تحت ایسے اعلان کے بعد صدر کو 60 دن کے اندر ’امریکی مسلح افواج کے کسی بھی استعمال کو ختم کرنا ہوتا ہے جب تک کہ کانگریس اس کے تسلسل کی اجازت نہ دے۔‘
جمعے کے روز کانگریس کے رہنماؤں کو لکھے گئے خط میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں پہلے اور اب بھی اپنی آئینی ذمہ داریوں کے تحت امریکہ کی خارجہ پالیسی اور بطور کمانڈر اِن چیف اور چیف ایگزیکٹو اپنے اختیارات کے مطابق امریکی مسلح افواج کو ہدایات دیتا رہوں گا۔‘
امریکہ کا متعلقہ قانون، جو کئی دہائیوں پرانا ’وار پاورز ریزولیوشن‘ ہے، صدر پر یہ لازم کرتا ہے کہ وہ جنگی صورتحال میں امریکی افواج کے استعمال کے ’60 دنوں‘ کے اندر بعض تقاضے پورے کریں۔
اس قانون کے تحت صدر کو افواج کے استعمال کو ختم کرنا ہوتا ہے جب تک کہ کانگریس باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو زیادہ سے زیادہ 30 دن کی توسیع نہ دے تاکہ فوجیوں کی ’فوری واپسی‘ ممکن بنائی جا سکے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو کانگریس کی سماعت کے دوران یہ موقف بھی اختیار کیا کہ اس ڈیڈ لائن کی گھڑی رُک چکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس وقت ہم جنگ بندی کی حالت میں ہیں اور ہماری سمجھ کے مطابق جنگ بندی میں 60 دن کی گھڑی تھم جاتی ہے۔‘
اس پر سوال کرنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ٹِم کین نے جواب دیا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ قانون اس کی تائید کرتا ہے۔‘
یہ قانون 1973 میں اس وقت کے صدر رچرڈ نکسن کی ویتنام جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا۔
قانون سازوں کو اس بارے میں بڑھتے ہوئے سوالات کا سامنا ہے کہ آیا وہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اس بات پر ووٹنگ کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ آیا اس جنگ کو باضابطہ منظوری دی جانی چاہیے۔
بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار اس حوالے سے کانگریس کے ارکان سے بات چیت کر رہے ہیں۔
کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی قیادت میں صدر ٹرمپ کو ایران کے معاملے پر محدود کرنے کی کوششیں بارہا ناکام ہو چکی ہیں۔
اکثر ریپبلکنز نے ان کوششوں کی مخالفت کی ہے۔ تاہم کچھ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ 60 دن کی مدت پوری ہونے کے بعد اپنے موقف پر نظرِ ثانی کر سکتے ہیں۔
جنگ بندی کے باوجود دونوں فریق اب تک طویل المدتی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ ایرانی میڈیا نے جمعے کے روز تہران کی جانب سے پاکستان کو بھیجی گئی ایک نئی تجویز کی اطلاع دی ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی ایک تجویز پاکستانی ثالثوں کو ارسال کی گئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی نے تجویز کی تفصیلات شائع نہیں کیں اور یہ واضح نہیں کہ آیا یہ تجویز امریکہ تک پہنچی ہے یا نہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعے کی سہ پہر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم نے ابھی ایران کے ساتھ ایک بات چیت کی ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ میں خوش نہیں ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ طے کرنا اس حد تک مشکل رہا ہے کیونکہ ایرانی قیادت ’بہت کنفیوژن‘ کا شکار ہے، خاص طور پر اس کے کئی اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے مارے جانے کے بعد۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ جمعرات کو انھیں امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے مختلف آپشنز پر بریف کیا گیا جن میں ’انھیں بُری طرح کچل دینا اور ہمیشہ کے لیے معاملہ ختم کر دینا‘ بھی شامل تھا اور ’معاہدہ کرنا‘ بھی۔