آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بین سٹوکس کا آئی سی سی پر طنز: ڈریسنگ روم میں بنائی گئی ریٹائرمنٹ کی ویڈیو پر تنازع کیوں ہوا؟
- مصنف, سٹیفن شیملٹ
- عہدہ, نامہ نگار، بی بی سی سپورٹ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بین سٹوکس کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے اعلان اور اس پر بنائی گئی ویڈیو پر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) سے رابطہ کیا ہے۔
سابق انگلش کپتان کے بین الاقوامی کیریئر کے اختتام کی خبر نیوزی لینڈ کے خلاف ٹرینٹ برج میں تیسرے ٹیسٹ کے چوتھے روز نشر کی گئی تھی۔
سٹوکس نے اتوار کو کھیل شروع ہونے سے پہلے ساتھی کھلاڑیوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تھا جس کی ویڈیو ڈریسنگ روم میں بنائی گئی تھی۔
35 سالہ سٹوکس کی انگلینڈ کے ڈریسنگ روم میں گفتگو کی ویڈیو براڈکاسٹرز کو اور پھر سوشل میڈیا پر برطانوی وقت کے مطابق 15:25 پر شیئر کی گئی جو چائے کے وقفے سے کچھ دیر پہلے تھا۔
لیکن آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اس وقت ویڈیو کی اشاعت بین الاقوامی میچز میں کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز کے مقام (پی ایم او اے) سے متعلق اس کے ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
اس خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے سٹوکس نے ایکس پر خبر کا لنک شیئر کیا اور کیپشن لکھا کہ ’انھیں برطرف کر دیں۔‘
ریٹائرمنٹ کی ویڈیو پر تنازع کیوں؟
سنیچر کو بھیجے گئے ایک خط میں آئی سی سی نے کہا کہ ای سی بی نے ٹیسٹ ختم ہونے سے پہلے سٹوکس کی گفتگو کی ویڈیو نشر کر کے ضابطے کی خلاف ورزی کی۔
پی ایم او اے کے کم از کم معیارات کے آرٹیکل 2.2.11 میں کہا گیا ہے کہ قومی کرکٹ فیڈریشنز کو ’یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ٹیموں کے زیر استعمال کسی بھی ڈریسنگ روم میں ویڈیو یا آڈیو مواد نشر کرنے کے مقصد سے کوئی مستقل یا عارضی ویڈیو کیمرا یا دیگر ریکارڈنگ کا سامان نصب نہ ہو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عالمی گورننگ باڈی اس سے پہلے ای سی بی کو یہ بھی بتا چکی تھی کہ پی ایم او اے میں بنائی گئی کسی بھی ویڈیو میں آڈیو شامل نہیں ہونی چاہیے اور اسے میچ کے اختتام سے پہلے جاری نہیں کیا جانا چاہیے۔
چوتھے روز کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے سٹوکس نے وضاحت کی کہ عوامی اعلان کھیل کے دوران کیوں کیا گیا اور بتایا کہ یہ ان کے ایجنٹس اور ای سی بی کے درمیان ایک منصوبہ تھا۔
اعلان کے وقت سٹوکس بولنگ کے ایک سپیل میں تھے اور ریٹائرمنٹ کی خبر پھیلنے کے بعد اپنی پہلی گیند پر انھوں نے نیوزی لینڈ کے زیک فولکس کو آؤٹ کیا۔
یہ ٹیسٹ اور سٹوکس کا بین الاقوامی کیریئر، اگلے دن تک ختم نہیں ہوا تھا۔
آئی سی سی نے کہا تھا کہ اس نے پی ایم او اے کے لیے ’کم از کم معیارات‘ اس لیے اختیار کیے تاکہ اپنے انسدادِ بدعنوانی ضابطے کی حمایت کی جا سکے۔
نہ ای سی بی اور نہ ہی آئی سی سی نے کوئی تبصرہ کیا ہے۔
آئی سی سی کا خط لارڈز میں ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ فائنل سے ایک روز پہلے بھیجا گیا تھا، جب ای سی بی چیئرمین رچرڈ تھامسن نے عالمی کرکٹ کی گورننگ باڈی کے چیئرمین جے شاہ سے ملاقات کی تھی۔
ای سی بی نے ابھی تک آئی سی سی کو جواب نہیں دیا۔
بروک ٹیسٹ کپتانی کے ’اعزاز‘ کو قبول کریں گے
سٹوکس کی ریٹائرمنٹ کے بعد انگلینڈ کو اگست میں پاکستان کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے پہلے نئے ٹیسٹ کپتان کی تلاش ہے۔
نائب کپتان ہیری بروک نے کہا ہے کہ سٹوکس کا جانشین بننا ان کے لیے ’اعزاز‘ ہو گا لیکن سمجھا جاتا ہے کہ انگلینڈ تقرری کے معاملے میں وقت لے رہا ہے۔
فیصلے میں ایک عنصر انگلینڈ کی انتظامیہ کی دیگر اہم شخصیات کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ میں خراب نتائج اور میدان سے باہر تنازعات کا سلسلہ جاری رہا ہے۔
ہیڈ کوچ برینڈن میک کولم اور ڈائریکٹر آف کرکٹ روب کی کو ایشز سیریز کے جائزے کے بعد حمایت حاصل ہوئی تھی، جس میں انگلینڈ کو 4-1 سے شکست ہوئی تھی۔
ای سی بی اب مردوں کی ٹیم کی صورتحال پر غور کر رہا ہے لیکن ممکن ہے کہ انڈیا کے خلاف جاری وائٹ بال سیریز کے اختتام تک کسی باقاعدہ اعلان کا انتظار کیا جائے۔
سٹوکس کی ریٹائرمنٹ کے بعد نہ روب کی اور نہ ہی چیف ایگزیکٹو رچرڈ گولڈ نے عوامی طور پر کوئی بیان دیا۔