آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اٹلی میں پاکستانی اور افغان باشندوں کو وین میں زندہ جلانے کا واقعہ: ’میرے بھائی نے 70 دن کام کیا تھا لیکن اسے تنخواہ نہ ملی‘
- مصنف, مامون درانی اور علی حسینی
- عہدہ, بی بی سی افغانستان کی فیکٹ چیکنگ ٹیم
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
’میں نے سنا ہے کہ ظالموں نے میرے بیٹے کو زندہ جلا دیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کس حالت میں ہو گا۔ ممکن ہے وہ مجھے پکار رہا ہو، لیکن میں گھر میں ہر بات سے بے خبر بیٹھی تھی۔‘
یہ الفاظ عصمت اللہ قیامی کی والدہ کے ہیں۔ عصمت اللہ ان تین افغان باشندوں میں سے ایک تھے، جنھیں چند روز قبل اٹلی کے علاقے کالابریا میں ایک پاکستانی شہری کے ہمراہ گاڑی کے اندر قتل کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے سے متعلق اطالوی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے جن پر ان چار تارکینِ وطن کے قتل کا الزام ہے۔
ان افراد کی لاشیں ایک جلی ہوئی منی وین سے ملی تھیں۔
اس واقعے پر وسیع ردِعمل سامنے آیا اور اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ اس ’ہولناک قتل نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔‘
سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین افغان باشندے عصمت اللہ قیامی، امجد صافی، فضل امین خوگیانی اور ایک پاکستانی وسیم خان شامل ہیں۔
اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق سفیر احمد اور علی رضا، جن کی عمر 31 سال ہے، اس معاملے میں زیرِ تفتیش ہیں۔
بی بی سی نے ان تین افغان باشندوں اور ایک پاکستانی کے 10 سے زائد دوستوں اور رشتہ داروں سے بات کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عصمت اللہ قیامی، جو اس واقعے کے متاثرین میں شامل تھے، تقریباً نو سال پہلے یورپ آئے تھے۔ انھوں نے پانچ سال ترکی میں گزارے، پھر جرمنی گئے اور وہاں دو سال رہے۔ جرمنی میں ان کی مستقل رہائش کی درخواست مسترد ہو گئی اور انھیں مجبوراً اٹلی جانا پڑا۔
عصمت اللہ افغانستان میں اپنے خاندان کے اخراجات برداشت کرتے تھے۔ ان کے ایک عزیز نے بی بی سی کو بتایا ’امید تھی کہ عید کے بعد وہ اپنے گھر والوں کو پیسے بھیجیں گے کیونکہ مالک نے کئی مہینوں کی تنخواہ نہیں دی تھی۔‘
’مزدوروں کا اُجرت کے معاملے پر کانٹریکٹرز سے تنازع تھا‘
اس اندوہناک واقعے میں ہلاک ہونے والے ان چار افراد کے دوستوں اور اہلخانہ نے بی بی سی پشتو سے گفتگو میں اس سارے معاملے پر بات کی۔
ان افراد کے ساتھ کیمپ میں رہنے والے دوستوں نے بتایا کہ دو پاکستانی کانٹریکٹرز ان افراد کو اٹلی میں ساسارے کے علاقے سے کالابریا کے کھیتوں میں کام کے لیے لیے گئے تھے۔
بی بی سی سے گفتگو کرنے والے ان افراد کے دوستوں کا دعویٰ ہے کہ اُجرت کے معاملے پر مرنے والے افراد کا ان پاکستانی کانٹریکٹرز کے ساتھ تنازع رہتا تھا اور انھیں کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی۔
واقعے والے دن وہ گاڑی، جو پانچ مزدوروں کو کام سے واپس لا رہی تھی، ایندھن لینے کے لیے ایک پٹرول پمپ پر رکی۔
اس کے بعد دو افراد، جو اگلی نشست پر بیٹھے تھے، گاڑی سے اترے۔ ان میں سے ایک نے گاڑی کے اندر بیٹھے مزدوروں پر پیٹرول چھڑکا اور دوسرے نے لائٹر سے آگ لگا دی۔
سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو افراد گاڑی میں بیٹھے لوگوں کو باہر نکلنے سے روک رہے تھے جبکہ گاڑی سے سیاہ دھواں اٹھ رہا تھا۔
بعد کی تصاویر میں ایک مکمل طور پر جلی گاڑی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس گاڑی میں چار افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ایک زندہ بچ گیا۔
’امجد 13 سال سے اپنے خاندان سے نہیں ملا تھا‘
واقعے میں ہلاک ہونے والے فضل امین کے چچا نے بی بی سی پشتو کو بتایا فضل نے ڈھائی سال جرمنی میں گزارے۔ لیکن بعدازاں اُنھیں ’ڈبلن لا‘ کے تحت بلغاریہ بھیج دیا گیا کیونکہ وہ پہلی بار یورپ میں بلغاریہ کے راستے داخل ہوئے تھے۔
’ڈبلن لا‘ یورپی یونین کا ایک قانون ہے جو اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کون سا ملک پناہ کے متلاشی شخص کی درخواست کا جائزہ لینے اور کارروائی کا قانونی طور پر ذمے دار ہے۔
فضل امین کے چچا کا مزید کہنا تھا کہ ایک سال قبل وہ اٹلی آئے تھے اور انھیں حال ہی میں ورک پرمٹ ملا تھا۔
فضل امین کے ایک قریبی دوست نے بتایا کہ ٹھیکیداروں نے پھل چننے والے مزدوروں سے وعدہ کیا تھا کہ انھیں آٹھ گھنٹے کے کام کے بدلے روزانہ 45 یورو ملیں گے لیکن 20 اپریل سے اب تک انھیں کوئی رقم نہیں ملی تھی۔
اس واقعے میں ہلاک ہونے والے 27 سالہ امجد صافی 13 سال سے اپنے خاندان سے نہیں ملے تھے۔
اُنھوں نے 11 سال آسٹریا میں گزارے لیکن سخت امیگریشن قوانین کے باعث ان کی پناہ کی درخواست تین بار مسترد ہو گئی۔
ایک سال قبل وہ اٹلی گئے اور ساسارے نامی جزیرے کے کیمپ میں رہتے تھے، جہاں پاکستانی ٹھیکیدار انھیں زرعی کام کے لیے لے گئے تھے۔
ان کے کزن نے بی بی سی کو بتایا کہ امجد کو بھی اپنی تنخواہ نہ ملنے کی شکایت تھی۔
29 سالہ پاکستانی باشندے وسیم خان آٹھ ماہ قبل آذربائیجان سے اٹلی آئے تھے۔
وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے بھائی عدنان نے بی بی سی کو بتایا کہ وسیم نے 70 دن کام کیا تھا لیکن انھیں تنخواہ نہیں ملی۔
وسیم نے واقعے سے ایک دن قبل اپنے بھائی کو بتایا تھا کہ وہ اگلے دن آخری بار کام پر جائیں گے۔
واقعے والے دن دوپہر 12 بجے عدنان نے اپنے بھائی کو واٹس ایپ پر پیغام بھیجا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اب تک مشتبہ افراد یا ان کے وکلا کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا تاہم متاثرین کے اہلِ خانہ اب لاشوں اور باقیات حوالے کیے جانے کے منتظر ہیں۔
وسیم خان کے بھائی نے کہا کہ ’ہماری درخواست ہے کہ میرے بھائی کی لاش کا ہر باقی حصہ ہمیں دیا جائے۔‘
عصمت اللہ کے کزن نے ان کی والدہ کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر میرے بیٹے کی صرف ایک ہڈی بھی باقی ہو تو ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں دے دی جائے۔‘
اٹلی میں افغان سفارت خانے کا کہنا ہے کہ جب تک اس کیس کے قانونی امور مکمل نہیں ہو جاتے، لاشوں کو منتقل کرنا ممکن نہیں۔