سینٹکام نے اعلن کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جوابی حملوں کا سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ اس کی افواج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر تہران کے وقت آدھی رات کے بعد، ایران کے خلاف ’سیلف ڈیفنس سٹرائیکس‘ شروع کی ہیں۔
جنوبی ایران میں بدھ کی صبح فضائی حملوں کے بارے میں فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے، امریکی حکام نے کہا کہ دیگر مقامات کے علاوہ حملوں میں ’20 اہداف‘ کو نشانہ بنایا گیا، جو بظاہر مختصر وقفوں پر تین لہروں میں کیے گئے تھے۔
ایران نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے جنوبی شہروں جیسا کہ جسک اور بندر عباس کے آس پاس، مناب، سرک اور کوہ مبارک کے دیہاتوں کو نشانہ بنایا گیا، لیکن اس نے ابھی تک ان تنصیبات یا مقامات کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں جن پر حملہ کیا گیا ہے۔
تاہم ہرمزگان میں مقامی حکام نے اطلاع دی ہے کہ سرک کے دیہات میں پانی کے دو ذرائع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی حملوں کے بعد ضلع بیمانی اور کوہستک شہر میں پانی منقطع
ہرمزگان پراونشل واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا ہے کہ آج صبح امریکی حملوں کے بعد ’سرک کاؤنٹی میں پانی کی تقسیم کا اہم انفراسٹرکچر‘ تباہ ہو گیا ہے۔
عبدالحمید حمزہ پور نے کہا کہ ان حملوں میں، ’ضلع بیمانی میں دو سٹریٹجک آبی ذخائر کو نشانہ بنایا گیا اور مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔۔۔ جنھوں نے ضلع بیمانی اور کوہستک شہر کو پینے کا پانی فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔‘
ان کے مطابق، ’فی الحال، ضلع بیمانی اور کوہستک شہر کے تمام دیہات میں پانی کی تقسیم کا عمل روک دیا گیا ہے۔
’یہ مشن بلا جواز ایرانی جارحیت کے تناسب میں ایک جواب ہے۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران پر حملوں کے حوالے سے بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔
سینٹکام نے ایک بیان میں کہا، ’یہ مشن بلا جواز ایرانی جارحیت کے تناسب میں ایک جواب ہے۔‘
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے آج علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے امریکی افواج سے تعلق رکھنے والے ایک اپاچی فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا۔
سینٹکام نے کہا کہ گرائے گئے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے دونوں عملے کو ایک امریکی سمندری ڈرون کے ذریعے بچا لیا گیا۔
یہ پہلا موقع تھا کہ امریکی فوج نے عوامی طور پر تصدیق کی کہ اس نوعیت کی کارروائی میں اس قسم کے جہاز کا استعمال کیا گیا۔
امریکی صدر نے اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ’جس ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا گیا اس میں دو پائلٹ شامل تھے، دونوں محفوظ ہیں اور زخمی نہیں ہوئے، تاہم امریکہ اس کا لازمی جواب دے گا۔‘
ٹرمپ نے بعد میں اے بی سی نیوز کو بتایا کہ ایران پر جوابی حملے ’بہت طاقتور‘ ہوں گے۔
ایک ٹیلی فون انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے لیے امریکی ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے پر ردعمل دینا ’اہم‘ تھا۔
ٹرمپ نے مزید کہا، ’یہ اس کا ردعمل ہے جو انھوں نے گزشتہ رات ہمارے ہیلی کاپٹر کے ساتھ کیا، اور میں سمجھتا ہوں کہ ردعمل بہت مضبوط ہونا چاہیے، اور موجودہ ردعمل اسی کی نمائندگی کرتا ہے۔‘