جنگ بندی کے بعد تہران کا اسرائیل پر پہلا حملہ اور ٹرمپ کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جوابی کارروائی: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد ایران نے پہلی مرتبہ اتوار کے روز اسرائیل پر میزائل حملے کیے جس کے بعد اسرائیلی فوج نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے وسطی اور مغربی ایران میں عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اتوار کے روز ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں اسرائیل پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے میزائل اور ڈرون دستوں نے اسرائیل کے شمالی شہروں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک مربوط اور شدید حملہ کیا ہے۔‘

اسرائیل نے ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل داغے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران سے داغے گئے تمام میزائل روک لیے ہیں۔

لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کی خبروں کے بیچ یہ معاملہ کیسے شروع ہوا؟

ایران نے اسرائیل پر حملہ کیوں کیا؟

تہران کی جانب سے اتوار کے روز کیے جانے والے حملوں کے بعد ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ ’یہ کارروائی کوئی عارضی واقعہ نہیں بلکہ مسلسل حملوں کے ایک مکمل ہفتے کا آغاز ہے۔‘

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’آئندہ سات دنوں تک 24 گھنٹے میزائلوں اور ڈرونز کی لہریں داغی جاتی رہیں گی، یہاں تک کہ دشمن کو روک دیا جائے اور وہ اپنے جرائم بند کر دے۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ایرانی سرزمین کو نشانہ بنانے کی ہر کوشش کا ایسا تباہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا جو تمام توقعات سے بڑھ کر ہوگا۔‘

اس سے قبل ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خطے میں امریکی اڈوں اور اسرائیلی اثاثوں کو ایک بار پھر ’جائز ہدف‘ قرار دیا تھا۔

امریکہ ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے اتوار کے روز پہلی مرتبہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقوں پر شدید حملے کیے تھے۔

ان حملوں کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان نے کہا تھا کہ اس حملے کا جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب اتوار کے ہی روز ایکس پر جاری ایک بیان میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ’ایرانی قوم کے خلاف بحری ناکہ بندی اور اسرائیلی حکومت کو ملنے والے امریکی گرین سگنل نے خطے میں امریکی اور حکومتی اڈوں اور اثاثوں کو جائز اہداف میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہماری مسلح افواج کے ہاتھ ہمیشہ کی طرح کھلے ہیں۔‘

قالیباف کا کہنا تھا کہ کہ ’وہ (امریکہ، اسرائیل) نہ تو جنگ بندی کے پابند ہیں اور نہ ہی بات چیت پر یقین رکھتے ہیں اور بحری ناکہ بندی اور لبنان کے حوالے سے معاہدوں کی خلاف ورزی کے ذریعے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔‘

صدر ٹرمپ کی ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مشورہ

ایران کے اسرائیل پر تازہ حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مشورہ دیا۔

امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران نے اپنے میزائل داغے ہیں، یہ کافی ہے۔ مذاکرات کی میز پر واپس آ جائیں اور معاہدہ کریں۔‘

بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں کارروائی نہ کرنے کا کہیں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ فوری طور پر نیتن یاہو کو فون کریں گے اور انھیں جوابی حملے سے باز رہنے کا مشورہ دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں طرف سے کارروائی ہو چکی ہے۔ اسرائیل نے اپنا حملہ کیا اور ایران نے اپنا۔ ہمیں مزید کسی کی ضرورت نہیں۔‘

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’امریکہ ایران کے ساتھ ایک حتمی معاہدے کے قریب ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ صورتحال اس عمل کو متاثر کرے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم ایران کے ساتھ ایک حتمی معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ یہ ایک اچھا معاہدہ ہوگا، اور میں نہیں چاہتا کہ یہ موجودہ حالات کی وجہ سے ناکام ہو جائے۔‘

ٹرمپ کے مطابق اگر اسرائیل نے جواب دیا تو یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔

اسرائیل کا وسطی اور مغربی ایران میں عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے ایک محتصر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ کر کے ایران نے ’سنگین غلطی‘ کی ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے اسرائیل کو جوابی حملے نہ کرنے کے مشورے کے باوجود اسرائیلی افواج نے سوموار کے روز ایران کے متعدد مقامات پر حملے کر دیے۔

اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کچھ دیر قبل اسرائیلی فضائیہ نے مغربی اور وسطی ایران میں ایرانی دہشت گرد حکومت سے وابستہ عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔‘

حملوں میں جانی نقصان یا ان کے درست مقامات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اسرائیل کی جانب سے مغربی اور وسطی ایران پر حملوں کے دعوؤں کے بعد ایرانی سرکاری ٹی وی نے تین شہروں میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔

سرکاری ٹی وی نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تہران، تبریز اور اصفہان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔‘

اس سے قبل ایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ امام خمینی ہوائی اڈے پر تمام پروازیں پیر آٹھ جون کی صبح سے اگلے اطلاع تک معطل کر دی جائیں گی۔

تنظیم کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ ’مسافروں کو ہوائی اڈے پر جانے سے گریز کرنا چاہیے اور مزید خبروں کے لیے سرکاری حکام سے فالو اپ کرنا چاہیے۔‘

اس سے قبل عراق نے ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع بڑھنے کے پیش نظر اپنی فضائی حدود 72 گھنٹے کے لیے بند کر دی ہیں۔