آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عالمی میڈیا، وفود کی آمد اور سخت ترین سکیورٹی کے درمیان پاکستان کا دارالحکومت کیا منظر پیش کر رہا ہے؟
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مقام, اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد آج (11 اپریل) اُس تقریب کی میزبانی کرنے جا رہا ہے جس میں لگ بھگ پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔ ان مذاکرات میں ایک جانب امریکہ جبکہ دوسری طرف ایران ہوں گے۔
جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ایرانی مذاکراتی وفد محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پہنچا جہاں اِس کا استقبال پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کیا۔
پاکستان کی ثالثی پر امریکہ اور ایران باہمی طور پر دو ہفتے کے لیے جنگ روکنے پر آمادہ ہوئے ہیں اور پاکستانی وزیراعظم کی دعوت پر اب ان دونوں ممالک کے وفود اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
ایک طویل عرصے کے بعد اس نوعیت کی میزبانی کرنے والا اسلام آباد معمول سے ایک بہت مختلف تصویر پیش کر رہا ہے۔
اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں آج عام تعطیل ہے، اس لیے سڑکوں پر گاڑیوں کا رش معمول سے بہت کم نظر آ رہا ہے۔
اسلام آباد کا ریڈ زون مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور ریڈ زون کا دائرہ بھی بڑھا دیا گیا ہے اور اس کے اندر وہ رہائشی علاقے بھی شامل کر لیے گئے ہیں جو اہم حکومتی عمارتوں سے ملحقہ ہیں۔ حکومتی نوٹیفیکیشن کے مطابق اس علاقے میں سنیچر کو تمام کاروباری سرگرمیاں اور سرکاری و نجی دفاتر بند رہیں گے۔
ریڈ زون کی سکیورٹی کی ذمہ داری بھی فوج کے سپرد کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسلام آباد میں وی آئی پیز کی آمد کے لیے مخصوص نور خان ایئر پورٹ سے ریڈ زون کی جانب جانے والی تمام اہم شاہراہوں کو سخت سکیورٹی کے حصار میں لے لیا گیا ہے اور عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔
شہر میں ان تمام مقامات پر ’اسلام آباد ٹاکس‘ یعنی اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات لکھ کر نمایاں مقامات پر آویزاں کیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس تقریب کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
امریکی وفد کی آمد سے قبل ان کی سیکیورٹی اور پروٹوکول کے اہلکاروں کو لے کر کئی جہاز گذشتہ چند روز کے دوران اسلام آباد پہنچے ہیں۔
ایک حکومتی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی سی 17 مال بردار طیارہ جمعرات کے روز قطر کے امریکی العدید ایئر بیس سے اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پہنچا تھا۔
اہلکار کے مطابق ’یہ بہت بڑا طیارہ ہوتا ہے جس میں بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک وغیرہ بھی آ سکتے ہیں۔ اس جہاز میں امریکی وفد کے لیے مخصوص گاڑیاں اسلام آباد پہنچی ہیں۔‘
اہلکار کے مطابق جمعہ کے روز بھی قطر کے العدید اور پھر جرمنی میں قائم امریکی فوجی ہوائی اڈے سے اسی نوعیت کے بڑے مال بردار جہاز مخصوص گاڑیاں اور سکیورٹی اور پروٹوکول کے عملے کو لے کر پہنچے تھے۔
ان کے مطابق ’امریکی وفد کے ممبران بنیادی طور پر پاکستان میں قیام کے دوران یہ گاڑیاں استعمال کریں گے۔ یہ بنیادی طور پر نائب صدر کا ایڈوانس دستہ ہے اور ان کے پروٹوکول کی تیاری ہوتی ہے جو ان کے پہنچنے سے پہلے مکمل کر لی جاتی ہے۔‘
امریکی وفد کی پاکستان سے روانگی کے بعد یہ گاڑیاں بھی ان جہازوں کے ذریعے واپس چلی جائیں گی۔ حکام کے مطابق اسلام آباد میں قیام کے دوران امریکی نائب صدر اور ان کے وفد کے ممبران کی سیکیورٹی کی ذمہ داری پاکستان حکام کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی ٹیم بھی نبھائے گی۔
اسلام آباد میں سرکاری حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ اسی طرح ایران کے وفد کی آمد سے پہلے ان کا ایڈوانس دستہ بھی اسلام آباد پہنچ گیا تھا جس نے ان کی سیکیورٹی اور پروٹوکول کے انتظامات مکمل کر لیے تھے۔
دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں اور دنیا بھر سے ذرائع ابلاغ کے نمائندے اسلام آباد پہنچ بھی چکے ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ کے اعلان کے مطابق مذاکرات کے فریقین کے ملکوں سے آنے والے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو پاکستان پہنچنے پر ویزے فراہم کر دیے جائیں۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق ’یہ سہولت ان مخصوص دنوں کے لیے صرف ان ملکوں کے صحافیوں کے لیے مخصوص ہے جو ان ملکوں سے اسلام آباد آ رہے ہیں جو ان مذاکرات میں فریقین ہیں۔‘
امریکہ اور ایران سمیت دنیا بھر سے ذرائع ابلاغ کے نمائندے ان مذاکرات کی کوریج کرنے کے لیے آئے ہیں جن کے لیے اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں انتظامات کیے گئے ہیں۔
کنونشن سینٹر کے بڑے حال کو خاص طور اس حوالے سے تیار کیا گیا ہے جہاں صحافیوں کی کوریج میں مدد دینے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔ حال کے اندر بھی بڑی بڑی سکرینز بھی لگائی گئی ہیں۔
تاہم ریڈ زون اور اس میں واقع ہوٹلوں کے بند ہونے کی وجہ سے کئی بیرون ملک سے آئے صحافیوں کو مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ ایک امریکی نشریاتی ادارے کے ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ نئے ریڈ زون کی حدود سے قریب ترین سیکٹر ایف ایٹ کے ایک مقامی ہوٹل میں رہائش پذیر ہیں۔
’ہم نے یہاں سے لائیو کرنے کے لیے ہوٹل سے ایک لوکیشن مانگی تھی جہاں سے ہم اسلام آباد کو دکھا سکیں لیکن انھوں نے اتنے زیادہ پیسے مانگے کہ ہمیں انکار کرنا پڑا۔ انھوں نے ہم سے ایک دن کے 25 ہزار ڈالر کا تقاضا کیا ہے۔‘
امریکہ ہی سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے نشریاتی ادارے کے ایک صحافی نے بتایا کہ انھیں خاص طور پر اپنی ٹیم کے ممبران کے لیے ویزوں کا بندوبست کرکے وقت پر اسلام آباد لانے میں مشکلات کا سامنا ہوا ہے۔
’ویزوں کے حوالے سے پاکستان کی نئی آفر کے حوالے سے بہت ابہام پایا جاتا ہے۔ اور مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا فقدان نظر آتا ہے۔ اس لیے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘
ذرائع ابلاغ کے نمائندے ریڈ زون سے باہر بھی اسلام آباد کا ماحول دکھاتے نظر آ رہے ہیں۔ بظاہر ریڈ زون کے باہر اسلام آباد میں زندگی معمول کے مطابق ہے۔ تاہم بہت سے شہریوں کا سڑکوں کی بندش کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے لیے جاری کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ صحافی ریڈ زون کے ایریا میں اپنی نجی ٹرانسپورٹ استعمال نہیں کر سکیں گے جبکہ ریڈ زون کے ایریا میں فلمنگ اور ویڈیو کوریج پر بھی پابندی عائد ہو گی۔