امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی تیل
کو دنیا کا ’سب سے بہترین اور سب سے میٹھا‘ قرار دیا اور کہا کہ ’خالی جہاز تیل
بھرنے کے لیے امریکہ کی طرف دوڑے چلے آ رہے ہیں‘۔ لیکن ان دعوؤں کی حقیقت کیا ہے؟
یہ درست ہے کہ امریکہ دنیا میں تیل کی
پیداوار میں سب سے بڑا ملک ہے۔ شماریاتی ادارے اینرڈیٹا کے مطابق امریکہ روزانہ ایک
کروڑ 30 لاکھ سے لے کر دو کروڑ 10 لاکھ بیرل تک تیل نکالتا ہے۔
روس اور سعودی عرب بالترتیب دوسرے
اور تیسرے بڑے پیداوار ہیں جہاں دونوں کی مجموعی پیداوار روزانہ تقریباً ایک کروڑ
90 لاکھ سے 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل کے درمیان ہے۔
تاہم یہ دعویٰ کہ امریکہ کے پاس ’اگلے
دو بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ملا کر بھی اس سے زیادہ تیل ہے‘، حقیقت کو
بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔
جہاں تک ’بہتر معیار‘ کے دعوے کا
تعلق ہے تو یہ بات درست ہے کہ امریکی شیل آئل نسبتاً ہلکا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے
اسے پیٹرول اور ڈیزل میں تبدیل کرنا قدرے آسان ہوتا ہے۔ اسی سبب اس کی عالمی منڈی
میں خاصی مانگ ہے لیکن یہ بات پہلے ہی عام ہے۔
صدر ٹرمپ کی پوسٹ کے ذریعے بظاہر تیل کے خریداروں کو دعوت دی جا رہی ہے۔
امریکہ اس وقت روزانہ تقریباً 40
لاکھ بیرل خام تیل برآمد کرتا ہے جو اس کی مجموعی پیداوار کا لگ بھگ ایک چوتھائی
بنتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ برطانیہ اپنی یومیہ تیل کی ضروریات کا تقریباً 20
فیصد امریکہ سے درآمد کرتا ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ کے پاس تقریباً
40 کروڑ بیرل پر مشتمل سٹریٹیجک ذخائر بھی موجود ہیں جو موجودہ کھپت کی شرح کے
مطابق کسی ہنگامی صورتِ حال میں ملک کو تقریباً 19 دن تک چلا سکتے ہیں۔
اسی لیے یہ بات بحث طلب ہے کہ صدر
ٹرمپ ان ذخائر میں سے کتنا تیل حقیقتاً برآمد کرنے پر آمادہ ہوں گے۔