آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور ختم، معاہدہ ہونے یا نہ ہونے سے ٹرمپ کو ’فرق نہیں پڑتا‘

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کا ایک اور دور ختم ہو گیا ہے۔ اس دوران تکنیکی ماہرین کی سطح پر بھی بات چیت ہوئی ہے جبکہ تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو نہ ہو ’مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘ امریکی سینٹکام نے کہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم ایرانی فوج کے بقول آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار ہے۔

خلاصہ

  • اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں رات گئے تک جاری ہیں
  • امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم ایرانی فوج کے بقول آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار ہے
  • ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان آمنے سامنے سہ فریقی مذاکرات ہو رہے ہیں، یہ ایک تاریخی واقعہ ہے جس میں پاکستان نے ثالثی کی ہے۔ یہ 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کے آمنے سامنے مذاکرات ہیں۔
  • مذاکرات کے پہلے دور میں دونوں فریقین نے سربراہان کی سطح پر بات چیت کی جبکہ دوسرے دور میں تکنیکی ماہرین نے تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا
  • امریکی اور ایرانی وفود کی پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں
  • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میڈیا کو یہ کہنا پسند ہے کہ ایران جیت رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ بری طرح ہار رہا ہے
  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود ایران کا اعلیٰ سطح کا وفد پوری قوت کے ساتھ ایرانی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, پاکستان کی تجویز پر مذاکرات اتوار کو بھی جاری رکھنے کا فیصلہ: ایرانی میڈیا

    ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کے اختتام کے بعد اتوار کو بات چیت مزید چند گھنٹوں تک جاری رہے گی۔

    اس کے مطابق پاکستانی ثالثوں کی تجویز پر دونوں فریقین نے رضامندی ظاہر کی اور مذاکرات کا ایک اور دور اتوار کو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اس نے تسنیم کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان بعض سنگین اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

  2. اسلام آباد مذاکرات کے دوران معلومات پر سخت کنٹرول رہا, آزادے مشیری، بی بی سی نیوز

    رات کے تین بجنے کے بعد بھی دونوں فریق مذاکرات میں الجھے ہوئے ہیں۔ سنیچر سے پہلے یہ بھی واضح نہیں تھا کہ امریکہ اور ایران کے وفود آمنے سامنے آ بھی پائیں گے یا نہیں۔

    یہ اس بات کی علامت ہے کہ خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔

    ایسے نکات بھی ہیں جن پر مزید کام کرنا باقی ہے۔ لیکن کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جن پر اتفاق مشکل دکھائی دیتا ہے۔

    دن بھر معلومات پر سخت کنٹرول رہا۔ تاہم مختلف ذرائع سے کچھ خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ وفود وقفہ لے کر بات چیت کے دوسرے دن کے لیے واپس آئیں گے یا نہیں۔

    ایک اور سوال یہ ہے کہ واپسی پر اعلیٰ حکام اپنے اپنے ممالک کیا لے کر جائیں گے۔

    جنگ کے دوران امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران دونوں طاقت کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں حقیقت اور سیاسی بیان بازی میں فرق کرنا مشکل رہا ہے۔

    فی الحال وہ دن، جس کے ہونے پر ہی شک تھا، رات گزر جانے کے بعد بھی طویل ہوتا جا رہا ہے۔ ہم جیسے صحافی اب یہ سوچ رہے ہیں کہ چند گھنٹے سونے کا مناسب وقت کب ہوگا اور پھر معلومات کے نئے سلسلے کا انتظار کب شروع کیا جائے۔

  3. بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور ختم: ایرانی میڈیا

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان سہ فریقی مذاکرات اختتام پذیر ہو گئے ہیں۔

    ارنا کے مطابق ایران، امریکہ اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات پاکستان میں مقامی وقت کے مطابق اتوار کی صبح تین بج کر بارہ منٹ پر ختم ہوئے۔

    ارنا کے مطابق ایرانی اور امریکی مذاکراتی وفود کے درمیان بالمشافہ بات چیت کے ایک اور دور کے اختتام کے بعد تکنیکی ماہرین کی ٹیموں نے تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا۔

    یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کئی گھنٹوں تک مذاکرات جاری رہے۔

    بعض ایرانی میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ اور چند دیگر امور بدستور شدید اختلاف کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ مذاکرات اتوار کو دوبارہ شروع ہوں گے یا کسی اور وقت کے لیے ملتوی کر دیے جائیں گے۔

  4. بریکنگ, اسلام آباد مذاکرات سے متعلق پریس بریفنگ کی تیاریاں, روحان احمد، بی بی سی اردو/اسلام آباد

    پاکستان کی وزارت خارجہ اور اطلاعات کے اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات سے متعلق ایک پریس بریفنگ کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

    ان کے مطابق یہ پریس بریفنگ امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہ راست مذاکراتی دور کے خاتمے کے بعد شروع ہو گی اور اسے چار بجے کے قریب مقامی چینلوں پر نشر کیا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس پریس پول میں موجود صحافیوں نے بھی بتایا ہے کہ انھیں امریکی حکام کی جانب سے الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے۔

    تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس بریفنگ میں کن تفصیلات کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

  5. ایران کے ساتھ معاہدہ ہو یا نہ ہو، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا: ٹرمپ

    پاکستان میں جاری مذاکرات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ انھیں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات سے متعلق ’کئی رپورٹس‘ موصول ہو رہی ہیں۔ ان کے بقول یہ بات چیت کئی گھنٹوں سے جاری ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اس سے قطع نظر کہ آگے کیا ہوتا ہے، ہم جیتیں گے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے اس ملک کو مکمل طور پر شکست دے دی ہے۔‘

    ٹرمپ نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے صحافیوں سے کہا کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو نہ ہو ’مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

    انھوں نے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ امریکہ ایران کی فضائیہ، بحریہ اور قیادت کو نشانہ بنا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب امریکہ آبنائے ہرمز کھولنے پر کام کر رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق یہ کام امریکہ ان ممالک کی جانب سے کر رہا ہے جو ’یا تو خوفزدہ ہیں اور یا کمزور ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’نیٹو نے ہماری مدد نہیں کی۔‘

    مذاکرات کی طرف واپس آتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ لیکن میرے نقطۂ نظر سے مجھے اس کی پروا نہیں۔‘

  6. تین ایرانی طیاروں کی پاکستان آمد

    اطلاعات ہیں کہ تہران سے آنے والے کم از کم تین طیارے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کے دوران نور خان ایئربیس پر اترے ہیں۔ گذشتہ شب اسی ہوائی اڈے پر ایرانی اور امریکی وفود کی آمد ہوئی تھی۔

    ان ایرانی طیاروں نے مہرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پرواز کی اور یہ کارگو ایئرلائن پویا ایئر کے ہیں جسے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وہ ہوائی اڈہ ہے جسے حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

    اس سے قبل ایرانی حکومت کی انفارمیشن کونسل کے ترجمان محمد گلزاری نے بتایا تھا کہ ایران کے ساتھ تکنیکی نوعیت کے مذاکرات کے دوران ایرانی وفد کی خصوصی کمیٹیوں کے بعض ارکان بھی مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے ایران سے روانہ ہوئے ہیں۔

  7. مذاکرات کا ایک نیا دور شروع جو مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کا آخری موقع ہے: ایرانی میڈیا

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاکستانی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔

    تسنیم کی رپورٹ میں اسلام آباد میں موجود اس کے نمائندے نے بتایا ہے کہ سہ فریقی بات چیت کا نیا دور کچھ منٹ پہلے شروع ہوا ہے جو ان کے بقول ’امریکہ کے ساتھ کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کا آخری موقع دکھائی دیتا ہے۔‘

    اس کے مطابق مذاکرات میں ایران کی طرف سے محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور علی باقری شریک ہیں جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر امریکہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

  8. اسرائیل لبنان کے ساتھ دیرپا امن کے لیے معاہدہ چاہتا ہے: نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انھوں نے لبنان کے ساتھ امن مذاکرات کی ’منظوری‘ دے دی ہے۔

    ان کے مطابق گذشتہ ایک ماہ کے دوران لبنان کی جانب سے متعدد بار براہِ راست بات چیت شروع کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے فراہم کردہ ترجمے کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ ’میں نے اپنی منظوری دے دی ہے۔ لیکن دو شرائط کے ساتھ: ہم حزب اللہ کے ہتھیاروں کو ختم کیے جانے کے خواہاں ہیں اور ہم ایک ایسا حقیقی امن معاہدہ چاہتے ہیں جو نسلوں تک قائم رہے۔‘

    دوسری جانب لبنان کی صدارت نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے امریکہ میں تعینات سفیروں نے منگل کو واشنگٹن میں ملاقات پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد جنگ بندی کے اعلان کی راہ ہموار کرنا ہے۔

    لبنان کے نائب وزیر اعظم کا ’بامعنی‘ بات چیت پر زور

    ادھر لبنان کے نائب وزیرِ اعظم نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر ان مذاکرات کو ’بامعنی‘ بنانا ہے تو اسرائیل کو لبنان پر اپنے حملے روکنے ہوں گے۔

    طارق متری نے کہا کہ ’میں لفظ مشروط استعمال نہیں کر رہا مگر میرا خیال ہے کہ اگر ان ملاقاتوں کو بامعنی بنانا ہے تو کسی نہ کسی نوعیت کی لڑائی کی روک تھام ضروری ہے، چاہے وہ عارضی ہی کیوں نہ ہو۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’آپ بامعنی بات چیت کیسے کر سکتے ہیں، تمام معاملات پر حقیقی مذاکرات کی تیاری کیسے کر سکتے ہیں، جب درجنوں اور سینکڑوں لوگ مارے جا رہے ہوں یا زخمی ہو رہے ہوں؟‘

    ’اس عمل کو روکنا ہوگا، اسے وقتی طور پر معطل کرنا ہوگا تاکہ تعمیری گفتگو ممکن ہو سکے۔‘

  9. آبنائے ہرمز پر اب بھی ایران کا کنٹرول برقرار ہے: ایرانی فوج

    ایران نے امریکہ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ امریکی بحریہ کے دو ڈسٹرائر آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا کہ ’سینٹکام کے کمانڈر کی جانب سے امریکی جہازوں کے آبنائے ہرمز کے قریب پہنچنے اور اس میں داخل ہونے کا دعویٰ سختی سے مسترد کیا جاتا ہے۔‘

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’کسی بھی جہاز کی آمد و رفت کا اختیار ایران کی مسلح افواج کے پاس ہے۔‘

    اس سے قبل سینٹکام نے کہا تھا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا آغاز کر دیا ہے۔ سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں امریکی بحریہ کے میزائلوں سے لیس دو ڈسٹرائر تعینات کیے گئے ہیں جو اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ آبی گزرگاہ محفوظ رہے۔

  10. تقریباً نصف صدی سے جاری تناؤ کے بعد امریکہ اور ایران آمنے سامنے بیٹھ گئے, لیز ڈوسیٹ، بین الاقوامی امور کی چیف نامہ نگار

    تقریباً نصف صدی پر مبنی محیط کشیدگی اور دو برسوں میں دو جنگوں کے بعد ایران اور امریکہ کئی گھنٹوں سے آمنے سامنے مذاکرات کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ اب تک تھما نہیں ہے۔

    تکنیکی ماہرین کے درمیان ہونے والی ملاقات بھی بدستور جاری ہے۔

    یہ ایک نمایاں پیش رفت ہے جو صرف اسی لیے ممکن ہو سکی کہ دونوں وفود اعلیٰ سطح کے ہیں۔ انھیں مذاکرات کا اختیار حاصل ہے اور واشنگٹن اور تہران دونوں کی جانب سے بات چیت پر آمادگی دکھائی دیتی ہے۔

    ایران نے اسلام آباد آنے سے پہلے امریکہ پر عدم اعتماد ظاہر کیا تھا کیونکہ گذشتہ برس اور رواں برس امریکہ کے ساتھ مذاکرات جنگ کی نذر ہوئے تھے۔

    اسی وجہ سے ایران نے اصرار کیا تھا کہ وہ صرف کسی زیادہ سینیئر امریکی عہدے دار سے بات کرے گا اور بالخصوص نائب صدر جے ڈی وینس سے جنھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم میں مہنگی فوجی مداخلتوں کا سب سے بڑا مخالف سمجھا جاتا ہے۔

    2015 میں جب ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پایا تھا تو اس میں کامیابیاں اور ناکامیاں آتے جاتے 18 ماہ لگے تھے۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ فوری کامیابیوں کو ترجیح دینے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

    آج کا دن محض ایک آغاز ہے۔ لیکن ایک ایسی جنگ میں جو پہلے ہی نہایت خطرناک ہے اور جس میں ایک اور شدید کشیدگی کا خدشہ موجود ہے، وہاں صرف آغاز کا ہونا بھی اپنی جگہ بہت معنی رکھتا ہے۔

  11. ایران، امریکہ مذاکرات: اسلام آباد میں سنیچر کو کیا ہوتا رہا؟, روحان احمد، بی بی سی اردو/اسلام آباد

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب اسلام آباد پہنچا تھا جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف، جارڈ کشنر سمیت دیگر امریکی حکام سنیچر کو صبح پاکستانی دارالحکومت آئے۔

    دونوں وفود نے علیحدہ علیحدہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں۔

    ان ملاقاتوں کے بعد پاکستانی حکومت کی جانب سے بیانات جاری کیے گئے جن میں کہا گیا کہ پاکستان بطور ثالث اپنا کردار نبھاتا رہے گا اور اسے امید ہے کہ سنیچر کو ہونے والے مذاکرات تنازع کے حل کی طرف ایک قدم ثابت ہوں گے۔

    پاکستانی حکام نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پہلے پاکستان کے ذریعے ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا جس کے بعد مہمان وفود نے پاکستانی حکام کی موجودگی میں ڈھائی گھنٹے تک بات چیت کی۔

    اس کے بعد ایک گھنٹے کا وقفہ لیا گیا اور ایرانی اور امریکی ماہرین کے درمیان پیش کیے گئے مطالبات پر تکنیکی پہلوؤں پر بات چیت کی گئی۔

    پاکستانی حکام کے مطابق تکنیکی پہلوؤں پر پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔ یہ مذاکرات اب کئی گھنٹوں سے جاری ہیں۔

    پاکستانی حکام نے سرکاری طور پر یہ نہیں بتایا ہے کہ معاملات کہاں تک پہنچے ہیں۔ تاہم وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’امید ہے (اتوار کی) الاصبح تک یہ مذاکرات ختم ہو جائیں گے۔‘

  12. کشیدگی میں کمی کے لیے موقع سے فائدہ اٹھائیں، میکخواں کا ایرانی صدر کو پیغام

    فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے ایرانی ہم منصب سے کہا ہے کہ وہ ’اس موقع سے فائدہ اٹھائیں‘ تاکہ ’کشیدگی میں پائیدار کمی کی راہ ہموار کی جا سکے۔‘

    صدر میکخواں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ ان کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بات ہوئی جس میں انھوں نے تمام متعلقہ ممالک کی شمولیت کے ساتھ علاقائی سلامتی کی ضمانتوں پر مشتمل ایک معاہدے پر زور دیا ہے۔

    میکخواں کے مطابق انھوں نے ایران پر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جبکہ لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ بندی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

  13. اسلام آباد مذاکرات میں ’توقعات سے زیادہ پیشرفت‘

    بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کے دوران بھی اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

    پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ’سہ فریقی مذاکرات‘ کئی گھنٹوں سے جاری ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے نامہ نگار کسریٰ ناجی کے خیال میں بظاہر مذاکرات میں توقعات سے زیادہ پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم بعض معاملات پر اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے معاملے پر۔

  14. امید ہے کہ اتوار کی صبح تک مذاکرات ختم ہو جائیں گے: پاکستانی اہلکار, روحان احمد، بی بی سی اردو

    امریکہ اور ایران کے تکنیکی ماہرین کے درمیان مذاکرات کس سطح پر ہیں، اس کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

    لیکن پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کو امید ہے کہ مذاکرات کا اختتام ’اتوار کی صبح تک ہو جائے گا۔‘

    ایرانی، امریکی یا پاکستانی حکام نے تاحال سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔

  15. لبنان میں ہلاکتیں دو ہزار سے تجاوز کر گئیں: وزارت صحت

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے آغاز سے اب تک ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 2,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق وزارتِ صحت کے ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے بتایا ہے کہ دو مارچ سے اب تک 2,020 افراد ہلاک جبکہ 6,436 زخمی ہو چکے ہیں۔

    یہ اعداد و شمار اس کے بعد جاری کیے گئے جب وزارتِ صحت نے بتایا کہ جنوبی لبنان کے قصبے طفاحتہ پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے، جن میں سے پانچ کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

  16. ایرانی اور امریکی ماہرین کے درمیان ’تحریری مسودوں کا تبادلہ جاری‘

    ایرانی حکومت کی انفارمیشن کونسل کے ترجمان محمد گلزاری کا کہنا ہے کہ پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں ایرانی اور امریکی ماہرین کے درمیان زیرِ بحث امور پر تحریری مسودوں کا تبادلہ جاری ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح سے ’مختلف ایرانی کمیٹیوں نے متعدد اجلاس منعقد کیے، مختلف مؤقف کا جائزہ لیا اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے لیے تیاری کا اعلان کیا۔

    ’صورتحال میں پیش رفت اور بیروت پر حملوں کی بندش کی تصدیق کے حوالے سے لبنان میں ایرانی سفیر کے ساتھ مسلسل رابطوں، جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات پر سخت انتباہ اور ہمارے ملک کے منجمد اثاثوں کی رہائی کے معاملے کے پس منظر میں بالآخر سہ فریقی مذاکرات کا آغاز ہو گیا۔‘

    ’جیسے جیسے سہ فریقی مذاکرات کا ماحول سنجیدہ ہوتا گیا، بات چیت ماہرین کے مرحلے میں داخل ہو گئی جس کے بعد ایرانی وفد کی خصوصی کمیٹیوں کے بعض ارکان بھی مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے روانہ ہو گئے۔ یہ عمل تاحال جاری ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’جیسا کہ صدر نے زور دیا ہے، اعلیٰ سطحی وفد پوری قوت کے ساتھ ایران کے مفادات کا نگہبان ہے، اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ایران کے قومی مفادات کے محافظوں کی سنجیدگی سے حمایت کریں۔‘

    ارنا کی رپورٹ کے مطابق ’اطلاعات ہیں کہ بالمشافہ بات چیت کے اختتام کے بعد ایرانی اور امریکی ماہرین کی ٹیمیں اس وقت زیرِ بحث امور پر تحریری مسودوں کا تبادلہ کر رہی ہیں۔‘

  17. امریکہ نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام شروع کر دیا ہے: امریکی سینٹرل کمانڈ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا آغاز کر دیا ہے۔

    سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں امریکی بحریہ کے میزائلوں سے لیس دو ڈسٹرائر تعینات کیے گئے ہیں جو اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ آبی گزرگاہ محفوظ رہے۔

    سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ’آج ہم نے ایک نیا راستہ قائم کرنے کا عمل شروع کیا اور ہم جلد ہی اس محفوظ راستے کا سمندری صنعت کے ساتھ اشتراک کریں گے تاکہ تجارت کے آزادانہ بہاؤ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔‘

  18. اسلام آباد میں جاری سہ فریقی مذاکرات، سنیچر کو دن بھر کیا ہوتا رہا؟

    پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ’ماہرین کی سطح پر‘ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات کے اس مرحلے میں دونوں فریقین کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کے ’تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔‘

    اس سے قبل دونوں فریقین کے درمیان پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں سربراہان کی سطح پر بات چیت ہوئی تھی۔

    دن بھر کی کوریج کے اہم نکات

    • وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے ساتھ امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان سہ فریقی مذاکرات جاری ہیں۔ پاکستان کے سرکاری ذرائع نے قبل ازیں بی بی سی کو بھی یہی بتایا تھا۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے جس میں پاکستان نے ثالثی کی ہے۔ یہ 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کے آمنے سامنے مذاکرات ہیں۔
    • امریکی اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر مذاکراتی عمل میں شریک ہوئے۔
    • مذاکرات کے پہلے دور میں دونوں فریقین نے سربراہان کی سطح پر بات چیت کی جبکہ دوسرے دور میں تکنیکی ماہرین بات چیت کر رہے ہیں۔
    • مذاکرات سے قبل امریکی اور ایرانی وفود نے الگ الگ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق ’تعمیری انداز‘ میں آگے بڑھیں گے۔
    • امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان آنے والے وفد میں شامل ایران کے مرکزی بینک کے گورنر ڈاکٹر ناصر ہمتی نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی ہے۔
    • اسلام آباد میں جاری بات چیت مکمل طور پر بند دروازوں کے پیچھے ہو رہی ہے، اور صحافیوں کو بہت محدود معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی دارالحکومت میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے۔
    • امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوریج کے لیے دونوں ممالک کے وفود کے علاوہ دنیا بھر سے صحافی بھی اسلام آباد پہنچے ہیں جن کے لیے جناح کنونشن سینٹر میں مرکز بنایا گیا ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران ’بُری طرح ہار رہا ہے‘ اور یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز جلد کھل جائے گی۔
    • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ایکس پر لکھا کہ پاکستان میں موجود ایران کا اعلیٰ سطح کا وفد پوری قوت کے ساتھ ایرانی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے اور اس سلسلے میں جرأت مندی کے ساتھ مصروف رہے گا۔
    • لبنان میں کشیدگی برقرار اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گذشتہ 24 گھنٹوں میں 200 سے زائد حزب اللہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق جنوبی لبنان میں چھ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
  19. ’خالی جہاز آ رہے ہیں‘: ٹرمپ کے امریکی تیل کی مانگ میں اضافے کے دعوے کی حقیقت کیا ہے؟, مارک ایشڈاؤن، بزنس رپورٹر/بی بی سی نیوز

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی تیل کو دنیا کا ’سب سے بہترین اور سب سے میٹھا‘ قرار دیا اور کہا کہ ’خالی جہاز تیل بھرنے کے لیے امریکہ کی طرف دوڑے چلے آ رہے ہیں‘۔ لیکن ان دعوؤں کی حقیقت کیا ہے؟

    یہ درست ہے کہ امریکہ دنیا میں تیل کی پیداوار میں سب سے بڑا ملک ہے۔ شماریاتی ادارے اینرڈیٹا کے مطابق امریکہ روزانہ ایک کروڑ 30 لاکھ سے لے کر دو کروڑ 10 لاکھ بیرل تک تیل نکالتا ہے۔

    روس اور سعودی عرب بالترتیب دوسرے اور تیسرے بڑے پیداوار ہیں جہاں دونوں کی مجموعی پیداوار روزانہ تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ سے 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل کے درمیان ہے۔

    تاہم یہ دعویٰ کہ امریکہ کے پاس ’اگلے دو بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ملا کر بھی اس سے زیادہ تیل ہے‘، حقیقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔

    جہاں تک ’بہتر معیار‘ کے دعوے کا تعلق ہے تو یہ بات درست ہے کہ امریکی شیل آئل نسبتاً ہلکا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے اسے پیٹرول اور ڈیزل میں تبدیل کرنا قدرے آسان ہوتا ہے۔ اسی سبب اس کی عالمی منڈی میں خاصی مانگ ہے لیکن یہ بات پہلے ہی عام ہے۔

    صدر ٹرمپ کی پوسٹ کے ذریعے بظاہر تیل کے خریداروں کو دعوت دی جا رہی ہے۔

    امریکہ اس وقت روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کرتا ہے جو اس کی مجموعی پیداوار کا لگ بھگ ایک چوتھائی بنتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ برطانیہ اپنی یومیہ تیل کی ضروریات کا تقریباً 20 فیصد امریکہ سے درآمد کرتا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکہ کے پاس تقریباً 40 کروڑ بیرل پر مشتمل سٹریٹیجک ذخائر بھی موجود ہیں جو موجودہ کھپت کی شرح کے مطابق کسی ہنگامی صورتِ حال میں ملک کو تقریباً 19 دن تک چلا سکتے ہیں۔

    اسی لیے یہ بات بحث طلب ہے کہ صدر ٹرمپ ان ذخائر میں سے کتنا تیل حقیقتاً برآمد کرنے پر آمادہ ہوں گے۔

  20. آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی: صدر ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد مذاکرات کے دوران ایک اور بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا دعویٰ دہرایا کہ امریکہ نے ایران کی فوج کو تباہ کر دیا ہے، جس میں اُن کی بحریہ اور نیوی سمیت سب کچھ شامل ہے۔

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ خالی آئل ٹینکرز تیل کی لوڈنگ کے لیے امریکہ کی طرف آ رہے ہیں، کیونکہ امریکی تیل، دُنیا میں سب سے بہترین ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کی یقین دہانی پر ایران میں بمباری روکی تھی۔