لائیو, ایران اور امریکہ کی تکنیکی ماہرین کی سطح پر بات چیت، آبنائے ہرمز سے ’بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام شروع‘

پاکستان کے سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے دور میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد اب تکنیکی ماہرین کی سطح پر بات چیت جاری ہے۔ ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا آغاز کر دیا ہے۔

خلاصہ

  • اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں مذاکرات جاری ہیں
  • ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان آمنے سامنے سہ فریقی مذاکرات ہو رہے ہیں، یہ ایک تاریخی واقعہ ہے جس میں پاکستان نے ثالثی کی ہے۔ یہ 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کے آمنے سامنے مذاکرات ہیں۔
  • مذاکرات کے پہلے دور میں دونوں فریقین نے سربراہان کی سطح پر بات چیت کی جبکہ دوسرے دور میں تکنیکی ماہرین بات چیت کر رہے ہیں
  • امریکی اور ایرانی وفود کی پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں
  • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میڈیا کو یہ کہنا پسند ہے کہ ایران جیت رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ بری طرح ہار رہا ہے
  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود ایران کا اعلیٰ سطح کا وفد پوری قوت کے ساتھ ایرانی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے

لائیو کوریج

  1. امریکہ نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام شروع کر دیا ہے: امریکی سینٹرل کمانڈ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہX/@CENTCOM

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا آغاز کر دیا ہے۔

    سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں امریکی بحریہ کے میزائلوں سے لیس دو ڈسٹرائر تعینات کیے گئے ہیں جو اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ آبی گزرگاہ محفوظ رہے۔

    سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ’آج ہم نے ایک نیا راستہ قائم کرنے کا عمل شروع کیا اور ہم جلد ہی اس محفوظ راستے کا سمندری صنعت کے ساتھ اشتراک کریں گے تاکہ تجارت کے آزادانہ بہاؤ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔‘

  2. اسلام آباد میں جاری سہ فریقی مذاکرات، سنیچر کو دن بھر کیا ہوتا رہا؟

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ’ماہرین کی سطح پر‘ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات کے اس مرحلے میں دونوں فریقین کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کے ’تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔‘

    اس سے قبل دونوں فریقین کے درمیان پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں سربراہان کی سطح پر بات چیت ہوئی تھی۔

    دن بھر کی کوریج کے اہم نکات

    • وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے ساتھ امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان سہ فریقی مذاکرات جاری ہیں۔ پاکستان کے سرکاری ذرائع نے قبل ازیں بی بی سی کو بھی یہی بتایا تھا۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے جس میں پاکستان نے ثالثی کی ہے۔ یہ 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کے آمنے سامنے مذاکرات ہیں۔
    • امریکی اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر مذاکراتی عمل میں شریک ہوئے۔
    • مذاکرات کے پہلے دور میں دونوں فریقین نے سربراہان کی سطح پر بات چیت کی جبکہ دوسرے دور میں تکنیکی ماہرین بات چیت کر رہے ہیں۔
    • مذاکرات سے قبل امریکی اور ایرانی وفود نے الگ الگ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق ’تعمیری انداز‘ میں آگے بڑھیں گے۔
    • امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان آنے والے وفد میں شامل ایران کے مرکزی بینک کے گورنر ڈاکٹر ناصر ہمتی نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی ہے۔
    • اسلام آباد میں جاری بات چیت مکمل طور پر بند دروازوں کے پیچھے ہو رہی ہے، اور صحافیوں کو بہت محدود معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی دارالحکومت میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے۔
    • امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوریج کے لیے دونوں ممالک کے وفود کے علاوہ دنیا بھر سے صحافی بھی اسلام آباد پہنچے ہیں جن کے لیے جناح کنونشن سینٹر میں مرکز بنایا گیا ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران ’بُری طرح ہار رہا ہے‘ اور یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز جلد کھل جائے گی۔
    • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ایکس پر لکھا کہ پاکستان میں موجود ایران کا اعلیٰ سطح کا وفد پوری قوت کے ساتھ ایرانی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے اور اس سلسلے میں جرأت مندی کے ساتھ مصروف رہے گا۔
    • لبنان میں کشیدگی برقرار اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گذشتہ 24 گھنٹوں میں 200 سے زائد حزب اللہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق جنوبی لبنان میں چھ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
  3. ’خالی جہاز آ رہے ہیں‘: ٹرمپ کے امریکی تیل کی مانگ میں اضافے کے دعوے کی حقیقت کیا ہے؟, مارک ایشڈاؤن، بزنس رپورٹر/بی بی سی نیوز

    امریکی تیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی تیل کو دنیا کا ’سب سے بہترین اور سب سے میٹھا‘ قرار دیا اور کہا کہ ’خالی جہاز تیل بھرنے کے لیے امریکہ کی طرف دوڑے چلے آ رہے ہیں‘۔ لیکن ان دعوؤں کی حقیقت کیا ہے؟

    یہ درست ہے کہ امریکہ دنیا میں تیل کی پیداوار میں سب سے بڑا ملک ہے۔ شماریاتی ادارے اینرڈیٹا کے مطابق امریکہ روزانہ ایک کروڑ 30 لاکھ سے لے کر دو کروڑ 10 لاکھ بیرل تک تیل نکالتا ہے۔

    روس اور سعودی عرب بالترتیب دوسرے اور تیسرے بڑے پیداوار ہیں جہاں دونوں کی مجموعی پیداوار روزانہ تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ سے 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل کے درمیان ہے۔

    تاہم یہ دعویٰ کہ امریکہ کے پاس ’اگلے دو بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ملا کر بھی اس سے زیادہ تیل ہے‘، حقیقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔

    جہاں تک ’بہتر معیار‘ کے دعوے کا تعلق ہے تو یہ بات درست ہے کہ امریکی شیل آئل نسبتاً ہلکا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے اسے پیٹرول اور ڈیزل میں تبدیل کرنا قدرے آسان ہوتا ہے۔ اسی سبب اس کی عالمی منڈی میں خاصی مانگ ہے لیکن یہ بات پہلے ہی عام ہے۔

    صدر ٹرمپ کی پوسٹ کے ذریعے بظاہر تیل کے خریداروں کو دعوت دی جا رہی ہے۔

    امریکہ اس وقت روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کرتا ہے جو اس کی مجموعی پیداوار کا لگ بھگ ایک چوتھائی بنتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ برطانیہ اپنی یومیہ تیل کی ضروریات کا تقریباً 20 فیصد امریکہ سے درآمد کرتا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکہ کے پاس تقریباً 40 کروڑ بیرل پر مشتمل سٹریٹیجک ذخائر بھی موجود ہیں جو موجودہ کھپت کی شرح کے مطابق کسی ہنگامی صورتِ حال میں ملک کو تقریباً 19 دن تک چلا سکتے ہیں۔

    اسی لیے یہ بات بحث طلب ہے کہ صدر ٹرمپ ان ذخائر میں سے کتنا تیل حقیقتاً برآمد کرنے پر آمادہ ہوں گے۔

  4. آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی: صدر ٹرمپ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد مذاکرات کے دوران ایک اور بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا دعویٰ دہرایا کہ امریکہ نے ایران کی فوج کو تباہ کر دیا ہے، جس میں اُن کی بحریہ اور نیوی سمیت سب کچھ شامل ہے۔

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ خالی آئل ٹینکرز تیل کی لوڈنگ کے لیے امریکہ کی طرف آ رہے ہیں، کیونکہ امریکی تیل، دُنیا میں سب سے بہترین ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کی یقین دہانی پر ایران میں بمباری روکی تھی۔

  5. کویت کی فضائی حدود میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ’کسی خطرہ کی اطلاع موصول نہیں ہوئی‘

    کویت کے محکمۂ اطلاعات کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کی فضائی حدود کو لاحق کسی قسم کے ’خطرات یا خطرے کی اطلاعات‘ نہیں ملیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہوئے ہیں۔

    بدھ کی صبح کویت نے اطلاع دی تھی کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں بجلی اور پانی کے پلانٹس کے ساتھ ساتھ تیل کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

  6. مذاکراتی عمل میں کون کون سے امریکی رہنما شامل ہوئے؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے ساتھ امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان سہ فریقی مذاکرات جاری ہیں۔ پاکستان کے سرکاری ذرائع نے قبل ازیں بی بی سی کو بھی یہی بتایا تھا۔

    امریکی اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر مذاکراتی عمل میں شریک ہوئے۔

    سینئر اہلکار کے مطابق امریکی وفد میں قومی سلامتی کے مشیر اینڈریو بیکر اور ایشیائی امور کے مشیر مائیکل وینس شامل ہیں۔

    عہدے دار کے مطابق واشنگٹن ڈی سی سے معاونت کرنے والے دیگر ماہرین کے ساتھ مختلف معاملات پر امریکی ماہرین کی ٹیم بھی اسلام آباد میں موجود ہے۔

  7. بریکنگ, ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع، تکنیکی ماہرین کی سطح پر بات چیت, روحان احمد، بی بی سی اردو

    پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ’ماہرین کی سطح پر‘ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔

    ان کے مطابق مذاکرات کے اس مرحلے میں دونوں فریقین کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کے ’تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔‘

    اس سے قبل دونوں فریقین کے درمیان پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں سربراہان کی سطح پر بات چیت ہوئی تھی۔

    دو سرکاری عہدیداروں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ابتدائی بات چیت ’مثبت‘ رہی ہے۔

    وائٹ ہاؤس پریس پول کی رپورٹ میں وائٹ ہاؤس کے اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان مذاکرات میں امریکہ کی طرف سے ’مختلف امور کے تکنیکی ماہرین اسلام آباد میں موجود ہیں۔ واشنگٹن سے اضافی ماہرین کی حمایت حاصل ہے۔‘

    جبکہ اسلام آباد آنے والے ایرانی مذاکراتی وفد میں بھی ایران کے مرکزی بینک کے گورنر ڈاکٹر ناصر ہمتی سمیت تکنیکی ماہرین موجود ہیں۔

  8. پاکستان میں موجود ہمارا اعلیٰ سطحی وفد پوری قوت کے ساتھ ’ایرانی مفادات‘ کا تحفظ کر رہا ہے: صدر مسعود پزشکیان

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود ایران کا اعلیٰ سطح کا وفد پوری قوت کے ساتھ ایرانی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے اور اس سلسلے میں جرأت مندی کے ساتھ مصروف رہے گا۔

    ایکس پر اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت میں عوام کی خدمت کا سلسلہ نہیں رُکے گا اور مذاکرات کا جو بھی نتیجہ نکلے حکومت عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

  9. اسرائیل کا 24 گھنٹوں کے دوران لبنان میں 200 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں جاری براہ راست کے دوران اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لبنان میں 200 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیل کی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں مزید کارروائیوں کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کے لیے زمینی افواج کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے مطابق وہ اُن لانچرز کو نشانہ بنا رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کی جانب راکٹ داغے جاتے ہیں۔

    دوسری جانب لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں چھ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

  10. ایران کے مرکزی بینک کے گورنر کی اسحاق ڈار سے ملاقات

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہFO

    امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان آنے والے وفد میں شامل ایران کے مرکزی بینک کے گورنر ڈاکٹر ناصر ہمتی نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے فریقین نے پائیدار مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ خطے میں امن و استحکام اقتصادی تعاون اور مشترکہ پیش رفت کے لیے ضروری ہے۔

  11. ’امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات بہت بڑی بات ہے‘, ُآزادہ مشیری، بی بی سی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ذرائع نے ہمیں بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان آمنے سامنے سہ فریقی مذاکرات ہو رہے ہیں، یہ ایک تاریخی واقعہ ہے جس میں پاکستان نے ثالثی کی ہے۔

    یہ 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کے آمنے سامنے مذاکرات ہیں۔

    اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ یہ مذاکرات کیسے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایسا لگتا ہے کہ امریکیوں اور ایرانیوں نے اپنی اپنی تجاویز میں ایسے نکات دیکھے ہیں جن کے خیال میں وہ پیش رفت کر سکتے ہیں۔

    اس جنگ نے تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ کیا، مشرق وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، اور ہزاروں لوگ مارے گئے۔

    اگر جنگ بندی میں توسیع اور حتمی امن معاہدہ ہو جاتا ہے تو بہت سے لوگ سکھ کا سانس لیں گے۔

    ایرانی جو برسوں کی پابندیوں سے گزر رہے ہیں امید کر سکتے ہیں کہ معیشت کو مہلت ملے گی۔ لیکن کچھ ایرانیوں سے جن سے میں نے ملک کے اندر بات کی ہے، یہاں تک کہ وہ لوگ جو خوف کے مارے اپنے گھر چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، ایسے ایران سے خوفزدہ ہیں جس کی قیادت حکومت کے نئے رہنما کر رہے ہیں، جو ان کے بقول پہلے سے زیادہ سخت گیر ہیں۔

  12. پاکستانی حکام کی موجودگی میں ڈھائی گھنٹے طویل مذاکرات کا پہلا دور ختم, روحان احمد، بی بی سی اردو اسلام آباد

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوگیا ہے۔ دو سرکاری عہدیداروں نے بی بی سی اردو کو تصدیق کی ہے کہ ڈھائی گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں پاکستانی ثالث بھی موجود تھے۔

    ایک ذریعے کے مطابق ابتدائی بات چیت ’مثبت‘ رہی ہے۔ اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ مختصر وقفے کے بعد سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔

  13. سفارتکاری ایک جاری عمل ہے، جلد نتیجے کی اُمید رکھنا غلطی ہے: اقوام متحدہ میں سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ اور امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کے معاملے پر ہمیں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

    ایکس پر اپنی پوسٹ میں ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ ’یہ مذاکرات ابھی شروع ہوئے ہیں، سفارتکاری ایک جاری رہنے والا عمل ہے، کوئی ایک تقریب نہیں ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ یہ عمل فوری طور پر نتیجہ خیز ہو گا تو وہ غلطی پر ہے۔ کسی کو اسے پیش رفت یا ناکامی کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔‘

  14. بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات جاری، پاکستانی حکام بھی شریک

    پاکستان کے سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے اور یہ بات بلاواسطہ طور پر ہو رہی ہے۔

    حکام کے مطابق یہ ایک سہ فریقی مذاکرات ہیں اور اس بات چیت میں پاکستانی حکام بھی موجود ہیں۔

  15. مذاکرات سرینا میں، صحافی کنونشن سینٹر میں

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوریج کے لیے دونوں ممالک کے وفود کے علاوہ دنیا بھر سے صحافی بھی اسلام آباد پہنچے ہیں جن کے لیے جناح کنونشن سینٹر میں مرکز بنایا گیا ہے۔ وہاں کیا ہو رہا ہے جانیے اس ویڈیو میں۔

    ،ویڈیو کیپشنمذاکرات سرینا میں، صحافی کنونشن سینٹر میں
  16. میڈیا کو یہ کہنا پسند ہے کہ ایران جیت رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ بری طرح ہار رہا ہے: صدر ٹرمپ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا بہت نقصان ہو رہا ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنی طویل پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میڈیا کے ارکان کو یہ کہنا پسند ہے کہ ایران ’جیت رہا ہے جب حقیقت میں ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ ہار رہے ہیں اور بُری طرح ہار رہے ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے دعوؤں کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ ختم ہو چکی ہے اور ان کا فضائی دفاعی نظام بھی مفلوج ہو چکا ہے۔ ریڈار تباہ ہو گئے ہیں۔

    اُنھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’ایران کے میزائل پروگرام، ڈرون فیکٹریاں اور ڈرونز کو ختم کر دیا گیا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے بڑے رہنما مارے جا چکے ہیں۔‘

    ایران کی جانب سمندر میں بارودی سرنگیں بچھائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اب دُنیا بھر کے ممالک کے حق میں آبنائے ہرمز کو صاف کرنا شروع کر رہا ہے۔‘

  17. پاکستانی ثالثوں کی مدد سے ایران امریکہ مذاکرات جاری

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں پاکستانی حکام کے ذریعے شروع ہو گئے ہیں۔ ان مذاکرات کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    ،ویڈیو کیپشنپاکستانی ثالثوں کی مدد سے ایران امریکہ مذاکرات جاری
  18. بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کا آغاز

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے وفود کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔

    سرکاری ذرائع نے بی بی سی اُردو کے روحان احمد کو بتایا ہے کہ یہ بات چیت سنیچر کی شام شروع ہوئی اور یہ براہِ راست بات چیت نہیں ہے اور فی الحال دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستانی حکام کے ذریعے ہو رہا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مثبت پیش رفت ہونے کی صورت میں مذاکرات براہ راست بھی ہو سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ ایرانی وفد نے مطالبہ کیا تھا کہ جب تک لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثے بحال نہیں ہو جاتے، اُس وقت تک مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی یہ پیشگی شرائط منظور ہوئی ہیں یا نہیں۔

    ان مذاکرات کے لیے ایرانی وفد جمعے کی شب اسلام آباد پہنچا تھا جس کی قیادت سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ امریکی وفد سنیچر کی صبح نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اسلام آباد آیا۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران اور امریکہ کو اس بات چیت کی دعوت پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے دی تھی۔

    خیال رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ اپریل کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ میں 'پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر میں دو ہفتوں کی مدت کے لیے ایران پر بمباری اور حملوں کو معطل کرتا ہوں۔'

    اس حوالے سے شہباز شریف نے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ 'انتہائی عاجزی کے ساتھ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکہ، اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہر جگہ بشمول لبنان فوری طور پر جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔'

    انھوں نے کہا کہ 'میں اس دانشمندانہ فیصلے کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ساتھ ہی میں ان کی مذاکراتی ٹیموں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جمعہ، 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد تشریف لائیں، تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید بات چیت کی جا سکے۔

  19. جنوبی لبنان میں اسرائیلی بمباری سے تین افراد ہلاک

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ہلاکتیں کب ہوئی ہیں، تاہم روئٹرز کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سنیچر کو ایک حملے کے بعد دھواں اُٹھ رہا ہے۔

    جمعے کو اسرائیلی فوج نے بتایا تھا کہ اس نے جنوبی لبنان میں 40 مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

  20. ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کی نوعیت کیا ہو گی؟, روحان احمد، بی بی سی اُردو اسلام آباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے وفود موجود ہیں، تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کیسے ہوں گے اور ان کا آغاز کب ہو گا۔

    سرکاری طور پر اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا تاہم سرکاری ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ پاکستانی حکام کی کوشش ہے کہ ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان براہ راست بات چیت کروائی جائے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستانی حکام کے ذریعے ہی ہو گا اور مثبت پیش رفت ہونے کی صورت میں مذاکرات براہ راست بھی ہو سکتے ہیں۔