آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین کی ’ٹی پاٹ‘ ریفائنریاں جو پابندی کا شکار ایرانی تیل خرید کر منافع کماتی ہیں
- مصنف, کرسٹینا جے اورگاز
- عہدہ, بی بی سی نیوز منڈو
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
تیل کی ایک ایسی منڈی موجود ہے جو عالمی پابندیوں، اوپیک جیسے بین الاقوامی اداروں اور عالمی بینکاری نظام سے باہر کام کرتی ہے۔ یہ چین کی ’ٹی پاٹ ریفائنریز‘ ہیں جو صوبہ شانڈونگ میں بڑی تعداد میں قائم ہیں اور رعایتی قیمت پر دستیاب پابندی کا شکار خام تیل کو موقع پر خریدنے والے خریدار کے طور پر کام کرتی ہیں۔
ان کے بغیر روس، ایران اور وینزویلا سے آنے والے رعایتی بیرلز کو عالمی منڈی تک پہنچانا بہت مشکل ہو جاتا۔
یہ چھوٹی، بنیادی نوعیت کی تنصیبات چین کی سرکاری تیل کمپنیوں ’دی بگ تھری‘ سے الگ ہیں۔ ان میں نسبتاً زیادہ منافعے کا امکان ہوتا ہے اور بیورو کریسی سے آزاد ہیں۔
درحقیقت ’ٹی پاٹ‘ کی اصطلاح 1990 کی دہائی میں نجی ریفائنریز کے لیے استعمال ہونے لگی، جو پرانی ٹیکنالوجی پر چلتی تھیں اور ان کی پروسیسنگ صلاحیت بہت محدود تھی۔ بنیادی طور پر یہ بڑی سرکاری ریفائنریز کے مقابلے میں چھوٹے ’پریشر کُکرز‘ جیسی تھیں۔
کئی دہائیوں تک یہ ایندھن کے فضلات کو پراسیس کر کے اور قانونی سائے میں کام کرتے ہوئے زندہ رہیں۔ 2015 میں سب کچھ بدل گیا، جب چینی حکومت نے ایک سٹریٹیجک فیصلے کے تحت انھیں براہِ راست خام تیل درآمد کرنے کے لائسنس دے دیے۔
دیکھتے ہی دیکھتے ’ٹی پاٹس‘ ریفائنریز چین کی آئل ریفائنری کی صنعت کا 20 فیصد انھی کے پاس ہے۔
سنہ 2025 میں ایران کی جانب سے برآمد کیا جانے والا 90 فیصد تیل چین نے خریدا تھا۔
سنہ 2016 کے آخر تک 19 ریفائنریز کو مجموعی طور پر یومیہ 14 لاکھ 80 ہزار بیرل کے کوٹے مل چکے تھے، جو سپین جیسے ملک کی تیل درآمدات سے بھی زیادہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کولمبیا یونیورسٹی کے ’سینٹر آن گلوبل انرجی پالیسی‘ کی محقق ایریکا ڈاؤنس کہتی ہیں کہ چینی حکومت نے دو دہائیوں تک ان تنصیبات کو بند کرنے کی کوششوں کے بعد کئی سٹریٹجک وجوہات کی بنا پر انھیں باضابطہ طور پر نظام میں ضم کیا۔
رپورٹ کے مطابق بنیادی وجہ یہ تھی کہ صدر شی جن پنگ بڑی سرکاری تیل کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانا چاہتے تھے، اس لیے اُنھوں نے مقامی منڈی میں مسابقت بڑھائی۔
ایس اینڈ پی گلوبل کے اعداد و شمار کے مطابق، یہ چھوٹی آزاد ریفائنریز یومیہ 40 ہزار سے دو لاکھ 14 ہزار بیرل تک ریفائننگ صلاحیت رکھتی ہیں۔
پابندی کا شکار خام تیل اور اس کا کاروبار
وینزویلا یا ایران کے لیے پابندیوں کے تحت تیل فروخت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ چونکہ بہت کم خریدار اسے خریدنے کی ہمت کرتے ہیں، اس لیے انھیں یورپ میں حوالہ جاتی قیمت برینٹ کے مقابلے میں فی بیرل 30 امریکی ڈالر تک کی بھاری رعایت دینا پڑتی ہے۔
’ایس اینڈ پی گلوبل کموڈیٹی انسائٹس‘ کے مطابق سنہ 2023 میں چھوٹی آزاد ریفائنریز کی خام مال کی درآمدات کا 98 فیصد روس، وینزویلا اور ایران سے آیا۔
اس خام تیل کے استعمال سے ان ریفائنریز کو اسی برس مارچ میں 1500 یوان فی ٹن (28 ڈالر فی بیرل) تک منافع حاصل ہوا۔
ڈاؤنس کہتی ہیں کہ ’ٹی پاٹ ریفائنریز کو ملنے والی رعایتیں ہی وہ عنصر تھیں جنھوں نے انھیں پابندی کے شکار خام تیل کا سب سے بڑا خریدار بنا دیا۔ یہ انھیں اپنا منافع بڑھانے کی اجازت دیتی ہیں۔‘
ان میں سے بڑی تعداد نجی پائپ لائنوں کے ذریعے آپس میں جڑی ہوئی ہے اور لاجسٹکس شیئر کرتی ہے جس سے اخراجات بھی کم ہوتے ہیں۔
امریکی کانگریس کے نزدیک ’ٹی پاٹ ریفائنریز‘ جغرافیائی سیاسی اوزار ہیں جو چین کو سستی توانائی کی فراہمی یقینی بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
ڈاؤنس کہتی ہیں کہ یہ چینی سرکاری تیل کمپنیوں کے مقابلے میں خطرے کو زیادہ برداشت کرتی ہیں، کیونکہ ڈالر پر مبنی امریکی مالیاتی نظام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
امریکی کانگریس کی یو ایس-چائنا اکنامک اینڈ سکیورٹی ریویو کمیشن کی گذشتہ مارچ کی رپورٹ کے مطابق، ٹی پاٹ ریفائنریز جان بوجھ کر عالمی مالیاتی نظام سے الگ رکھی گئی ہیں تاکہ واشنگٹن کی جانب سے ایران، وینزویلا یا روس پر عائد پابندیوں کی زد میں نہ آئیں۔
اس سے انھیں چینی بڑے بینکوں کو خطرے میں ڈالے بغیر ’ممنوعہ‘ خام تیل پراسیس کرنے کی سہولت ملتی ہے۔
ڈالر بینکاری نظام سے اخراج
ڈاؤنس کہتی ہیں کہ چین کی بڑی تیل کمپنیاں ایرانی خام تیل درآمد نہیں کرتیں، کیونکہ اس سے پابندیوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ تاہم چھوٹی کمپنیاں اس میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں اور اس طرح یہ ایک ’سیفٹی وال‘ کے طور پر کام کرتی ہیں جنھیں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
چین کی بڑی آئل کمپنیاں ’سی این او او سی‘، ’پیٹرو چائنا‘ اور ’سائنو پیک‘ کے دُنیا میں کاروبار ہیں اور یہ سٹاک مارکیٹ میں درج ہیں اور عالمی مالیاتی نظام استعمال کرتی ہیں۔ اس لیے انھیں امریکی پابندیوں کا خوف رہتا ہے۔
اگر وہ پابندی کا شکار تیل خریدیں تو ڈالر پر چلنے والے بینکاری نظام سے نکالے جانے کا خطرہ مول لیتی ہیں۔
اس کے برعکس ٹی پاٹس مقامی، نجی کمپنیاں ہیں جن کی بین الاقوامی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے امریکہ میں اثاثے نہیں اور نہ ہی انھیں مغربی بینکوں کی ضرورت ہے اور اسی لیے یہ ایرانی تیل کی بہترین منزل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی کسٹمز حکام ان درآمدات کو سرکاری طور پر ایرانی ظاہر نہیں کرتے، بلکہ انھیں غلط طور پر ملائیشیا، عمان یا متحدہ عرب امارات جیسے ممالک سے منسوب کر دیتے ہیں۔ وینزویلا یا روس سے روانہ ہونے والے جہازوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔
امریکی کانگریس کے مطابق ’ترسیل پرانے آئل ٹینکروں کے ذریعے ہوتی ہے جو خفیہ طور پر کام کرتے ہیں، اپنے شناختی نظام (AIS) بند کر دیتے ہیں اور سمندر میں تیل منتقل کرتے ہیں تاکہ اپنا سراغ چھپا سکیں۔‘
وینزویلا سے ایران تک
تیل کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے کچھ مغربی حکومتوں کا خیال ہے کہ روس یوکرین کی جنگ کی مالی اعانت جاری رکھے ہوئے ہے، وینزویلا کو اپنی معیشت کو گرنے سے بچانے کے لیے مالی آکسیجن ملتی ہے اور ایران یورینیم افزودگی کے لیے اپنا جوہری پروگرام جاری رکھتا ہے۔
لیکن وینزویلا میں نکولس مادورو کی گرفتاری اور ایران جنگ نے چینی ریفائنریز کے لیے منظرنامہ بدل دیا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے سینٹر آن گلوبل انرجی پالیسی کی محقق لوئیسا پالا سیوس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وینزویلا میں امریکی مداخلت کے بعد چھوٹی ریفائنریز نے زیادہ ایرانی خام تیل، بالخصوص بھاری ایرانی خام تیل خریدنا شروع کیا، جو وینزویلا کے تیل سے ملتا جلتا ہے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے آغاز کے بعد روسی بیرلز پر رعایتیں ختم ہو گئیں اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کا مطلب یہ ہے کہ اب چھوٹی ریفائنریز کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
’ٹی پاٹس‘ اس بات کی ضمانت دیتی ہیں کہ چین کا صنعتی انجن کبھی ایندھن کے بغیر نہ رہے۔
ان کے لیے مسئلہ دوہرا ہے، کیونکہ بیجنگ بھی دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ پیداوار بند نہ کریں، خواہ سستے خام تیل سے ہو یا معمول کی قیمت پر کیونکہ اس سے تیل کی فراہمی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ڈاؤنس کے اندازے کے مطابق، ’ٹی پاٹ ریفائنریز نہ صرف خام تیل کی بلند قیمتوں اور کم مارجنز کی وجہ سے مشکل میں ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ بیجنگ نے چینی ریفائنڈ مصنوعات کی طلب پوری کرنے کے لیے ان پر پیداوار کم نہ کرنے کا دباؤ ڈالا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ بیجنگ نہیں چاہتا کہ یہ ریفائنریز پیداوار گھٹائیں، اس لیے غالب امکان ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز سے تیل آزادانہ طور پر نہ بہے وہ انھیں بند بھی نہیں ہونے دینا چاہے گا۔
بقا کی حکمتِ عملی
یہ صورتِ حال ایک بار پھر ’ٹی پاٹس‘ کو متبادل حکمتِ عملی کی طرف مجبور کرتی ہے۔
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کی اکنامک ڈپلومیسی انیشی ایٹو کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر مائیا نیکولادزے کہتی ہیں کہ ’گذشتہ سال ان میں سے کئی ریفائنریز پر عائد پابندیوں کے بعد انھیں خام تیل وصول کرنے میں مشکلات پیش آئیں اور اُنھوں نے اپنی مصنوعات مختلف ناموں سے فروخت کرنا شروع کر دیا۔‘
نیکولادزے کے مطابق ’بین الاقوامی موجودگی رکھنے والے چینی ادارے امریکی پابندیوں کی پابندی کریں گے، جبکہ چھوٹے یا داخلی منڈی پر مرکوز اداروں کے متبادل حل کے ذریعے تجارت جاری رکھنے کا امکان زیادہ ہے۔‘
ابتدائی کامیابی کے باوجود آزاد ریفائنریز کو اب زیادہ مشکل ماحول کا سامنا ہے اور کسی بھی منڈی کی طرح، اس بات کے آثار ہیں کہ اگلی دہائی میں آزاد ریفائنریز کی تعداد کم ہو جائے گی۔ بڑی اور زیادہ جدید تنصیبات برقرار رہ سکیں گی، جبکہ چھوٹی اور کم مؤثر یا تو ختم ہو جائیں گی یا خرید لی جائیں گی۔
سوال یہ ہے کہ کیا چین اس عمل کو ہونے دے گا یا اپنی معیشت کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے درکار تیل کی فراہمی یقینی بنانے کو مداخلت کرے گا۔