پشاور کے قریب فیڈرل کانسٹبلری کی ایک چوکی پر مسلح افراد کے حملے میں چھ اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے سینیئر پولیس حکام نے اس حملے کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چھ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب سکیورٹی ذرائع نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ چوکی میں تعینات اہلکاروں نے حملے پر فوری جوابی کارروائی کی، جس میں چار حملہ آوروں کے مارے جانے کی اطلاع ہے لیکن فرار ہوتے مسلح شدت پسند لاشیں ساتھ لے گئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور ایف سی کے چھ اہلکاروں کو بھی ساتھ لے گئے ہیں اور اس وقت علاقے میں آپریشن جاری ہے۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے نام سے ایک پوسٹ بھی سامنے آئی، جس میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی۔
یہ واقعہ پشاورکے قریب حسن خیل کے علاقے میں رات ایک سے دو بجے کے درمیان پیش آیا۔
حسن خیل کا علاقہ نیم قبائلی علاقہ درہ آدم خیل کے قریب واقع ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر ہونے والے حملے میں ہلاک اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
یاد رہے کہ حسن خیل میں ماضی میں بھی مسلح شدت پسندوں کی موجودگی پرسکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کی ہیں۔ اکتوبر 2025 میں حسن خیل پولیس سٹیشن پر حملہ ہوا جس میں حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان شدید فائرنگ ہوئی اور دو حملہ آور مارے گئے تھے۔
اسی طرح مئی 2024 میں حسن خیل میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران پانچ شدت پسند مارے گئے تھے جبکہ ایک کیپٹن اور ایک حوالدار مارے گئے تھے۔
اپریل 2026 میں بھی حسن خیل کے نواح میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا تھا جس میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔