پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے آٹھ اپریل کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران دو ہفتے کے لیے جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں اور لبنان بھی اس میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے دونوں ممالک کے وفود کو اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت دی تھی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے جو 12 اپریل کی صبح تک جاری رہے، تاہم دونوں ممالک کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔
اب مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے امریکہ نے اپنا وفد پاکستان بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے، لیکن ایران کی جانب سے تاحال کوئی بھی وفد اسلام آباد بھیجنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
ایسے میں پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر لکھا ہے کہ جنگ بندی کی میعاد بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے اور اس سے قبل ایران کی جانب سے اپنا مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ بہت اہم ہو گا۔
دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو بلوم برگ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ جنگ بندی بدھ کی شام ختم ہو جائے گی جس کے بعد ایران پر بمباری کی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کا امکان بہت کم ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں ترمپ کا کہنا تھا کہ جب تک معاہدہ نہیں ہوتا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے پی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو گئی تو ’بہت سارے بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے۔‘
یاد رہے کہ رواں ماہ آٹھ تاریخ کو ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ہوئی تھی۔
ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے پیر کو ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ٹرمپ ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم ان دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو قبول نہی کرتے اور گذشتہ دو ہفتوں میں ہم نے میدان جنگ میں نئے کارڈز سامنے لانے کی تیاری کی ہے۔