آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ٹرمپ کا مذاکرات کے کسی نتیجے پر پہنچنے تک جنگ بندی میں توسیع اور ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ہمیں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے کو اس وقت تک روک دیے جائیں جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔‘ تاہم ایکس پر ہی جاری بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کرنا جنگ کے مترادف ہے اور اسی طرح یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی ہے۔‘

خلاصہ

  • پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے ایران کے جواب کا منتظر ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
  • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس مذاکراتی وفد پاکستان بھیجنے کے سوا کوئی راستہ نہیں اور یہ کہ وہ جنگ بندی میں توسیع نہیں کرنا چاہتے
  • صدر ٹرمپ کا 'اچھے اتحادی' امارات کی مالی مدد اور کرنسی کے تبادلے کا عندیہ
  • پاکستان کی امریکہ اور ایران کو جنگ بندی میں توسیع کی تجویز
  • امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے۔ جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق تاحال کوئی بھی وفد پاکستان روانہ نہیں ہوا
  • اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی تیاریاں کی جا رہی ہے لیکن پھر بھی ابہام موجود ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کو جنگ بندی میں توسیع کی تجویز دی ہے

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ٹرمپ کا مذاکرات کے کسی نتیجے پر پہنچنے تک جنگ بندی میں توسیع اور ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کی حکومت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے جو کہ غیر متوقع نہیں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ہمیں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے کو اس وقت تک روک دیے جائیں جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔‘

    امریکی صدر کا مزید کہنا ہے کہ ’لہٰذا میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام پہلوؤں سے تیار اور مستعد رہا جائے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس لیے جنگ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کی تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہوں۔‘

  2. جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں اسرائیل پر حملہ کیا گیا: حزب اللہ

    حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں شمالی اسرائیل پر راکٹ داغے ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے منگل کی شام ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ ’حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں مصروف ان کی فورسز پر متعدد راکٹ داغے۔‘

    اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ ’ان کی جانب سے جوابی کارروائی میں حزب اللہ کے لانچر کو نشانہ بنایا جہاں سے یہ راکٹ فائر کیے گئے تھے۔‘

    امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یحییل لائٹر نے کہا ہے کہ ’حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ان کے خلاف اپنا دفاع کریں گے جو نقصان پہنچانے، قتل کرنے اور امن کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

  3. جے ڈی وینس کے بعد سٹیور وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی وائٹ ہاؤس پہنچ گئے, برنڈ ڈیبسمین جونیئر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس

    اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے صورتِ حال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔

    تقریباً 45 منٹ قبل صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر کو ٹی وی کیمروں نے وائٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔

    ان کی وائٹ ہاؤس قابلِ توجہ ہے۔ اس سے قبل ہمیں معلوم پڑا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس وائٹ ہاؤس میں اجلاس میں کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی تھی کہ وینس، وٹکوف اور کشنر تینوں کی ایران کے ساتھ ممکنہ بات چیت کے لیے اسلام آباد جانے والی ٹیم کا حصہ ہیں۔

    وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسِتھ کو بھی عمارت میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے جبکہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی وہاں موجود ہیں۔

    آج وائٹ ہاؤس اور نائب صدر کے دفتر کی جانب سے غیر معمولی طور پر خاموشی رہی ہے، نہ تو اس دورے کے حوالے سے کوئی واضح تصدیق سامنے آئی ہے اور نہ ہی اس بات کا کوئی باضابطہ اشارہ دیا گیا ہے کہ یہ دورہ کب ہو گا—یا آیا ہو گا بھی یا نہیں۔

  4. اگر ہمسایہ ممالک سے حملہ ہوا تو مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداوار متاثر ہوگی: پاسدارانِ انقلاب

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایرو سپیس کمانڈر میجر جنرل مجید موسوی نے منگل کے روز ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ایک بیان میں ایران کے جنوبی ہمسایہ ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ان کی سرزمین یا تنصیبات ایران کے خلاف استعمال ہوئیں تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایران کے جنوبی ہمسایہ ممالک کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ان کی سرزمین یا تنصیبات کو ایرانی قوم کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کیا گیا تو انھیں مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداوار بُری طرح متاثر ہوگی۔‘

    موسوی نے مزید کہا کہ ’اگر اب کے بعد دشمن نے ذرا سی بھی غلطی کی‘ اور ایران پر حملہ کیا تو ’جہاں آپ یعنی ایرانی عوام کہیں گے وہی ہمارا ہدف ہوگا۔‘

  5. تہران کو ایسے اشارے ملے ہیں کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار ہے: اقوامِ متحدہ میں ایرانی سفیر, ندا توفیق، نیو یارک

    اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے کچھ دیر قبل مجھ سمیت چند صحافیوں کو بتایا ہے کہ تہران کو ایسے اشارے ملے ہیں کہ امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی یہ ہوتا ہے، مذاکرات کے اگلے دور کا انعقاد اسلام آباد میں ہو گا۔

    میں نے ان سے جے ڈی وینس کا دورہ ’موخر‘ کیے جانے کے متعلق سوال کیا، تاہم انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے ان کے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔ انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کی شرط یہ ہے کہ بات چیت کے دوبارہ آغاز سے پہلے امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ سیاسی حل چاہتا ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے، اور اگر وہ جنگ چاہتا ہے تو ایران اس کے لیے بھی تیار ہے۔

  6. بندرگاہوں کا محاصرہ کرنا جنگ کے مترادف اور جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے: عباس عراقچی

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کرنا جنگ کے مترادف ہے اور اسی طرح یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔‘

    ایکس پر جاری ایک بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’کسی تجارتی جہاز پر حملہ کرنا اور اس کے عملے کو یرغمال بنانا اس سے بھی بڑی خلاف ورزی ہے۔‘

    اُن کا اپنے پیُام میں مزید کہنا تھا کہ ’ایران جانتا ہے کہ پابندیوں کو کیسے بے اثر کرنا ہے، اپنے مفادات کا کیسے دفاع کرنا ہے اور دباؤ کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔‘

    واضح رہے کہ ایران کی جانب سے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں شمولیت کے حوالے سے کوئی واضح اشارہ نہیں ملا ہے۔

    تاہم دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پاکستان ایرانی حکام کی جانب سے تاحال جواب کا منتظر ہے۔‘

    ایکس پر اپنے پیغام میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’بطور ثالث پاکستان سفارتکاری اور بات چیت جاری رکھنے کے لیے ایرانیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔‘

  7. ایرانی مذاکرات کار رہبرِ اعلیٰ کی ہدایات کے مطابق کام کر رہے ہیں: سینئر ایرانی عہدیدار, غنچہ حبیبزاد، بی بی سی فارسی

    ایرانی حکومت کے سینئر عہدیدار الیاس حضراتی کا کہنا ہے کہ ’ایرانی مذاکرات کار ’اجتماعی طور پر فیصلے کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں‘ ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے تحت سر انجام دیتے ہیں۔‘

    مارچ کے اوائل میں اپنے والد کی جگہ یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای ابھی تک عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے اور نہ ہی ان کی کوئی حالیہ ویڈیوز یا تصاویر سامنے آئی ہیں۔

    اب تک صرف ایرانی ذرائع ابلاغ پر ان سے منسوب تحریری پیغامات ہی سامنے آئے ہیں۔

    ان تحریری پیغامات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے مذاکرات کا براہِ راست ذکر نہیں کیا البتہ بعض پیغامات میں انھوں نے امریکہ پر تنقید ضرور کی ہے۔

    ان سے منسوب 18 اپریل کو شائع ہونے والے ایک پیغام میں خامنہ ای نے ایرانی فوج کی تعریف کی کہ وہ ’کفر اور عالمی طاقتوں کی صفِ اوّل میں موجود دو افواج‘ یعنی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف لڑ رہی ہے۔

    تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ ایران کے نمائندے اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

  8. ’جے ڈی وینس نہ تو اس وقت اسلام آباد روانہ ہو رہے ہیں اور نہ ہی ہوائی اڈے پر موجود ہیں‘, برنڈ ڈیبسمین جونیئر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس

    آج واشنگٹن میں ایک اور الجھن بھرا دن رہا۔ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی مذاکراتی ٹیم کے دیگر اراکین ایرانی مذاکراتکاروں کے ساتھ بات چیت کے لیے اسلام آباد کب روانہ ہوں گے اور آیا روانہ ہوں گے بھی یا نہیں۔

    تقریباً آدھے گھنٹے قبل نیو یارک ٹائمز نے صورتِ حال سے واقف ایک نامعلوم ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی مذاکراتی مؤقف پر کوئی جواب نہ دیے جانے کے بعد جے ڈی وینس کا دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔

    بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا مذاکراتی ٹیم کی اسلام آباد روانہ ہونے کی توقع ہے یا یہ دورہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    تاہم جو بات ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ جے ڈی وینس نہ تو اس وقت روانہ ہو رہے ہیں اور نہ ہی ہوائی اڈے پر موجود ہیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ کے عملے نے متعدد خبر رساں اداروں کو اس کی تصدیق کی ہے کہ وینس اس وقت وائٹ ہاؤس میں پالیسی اجلاسوں میں شریک ہیں۔ باہر ٹی وی کے لیے لائیو رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے کچھ دیر قبل ان کے قافلے کو وائٹ ہاؤس پہنچتے ہوئے بھی دیکھا۔

    ادھر یہ بھی خاصی الجھن پائی جاتی ہے کہ جنگ بندی کس وقت ختم ہو گی۔ پاکستان نے آج کہا تھا کہ جنگ بندی کی میعاد پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ یہ اس سے تقریباً 24 گھنٹے بعد ختم ہو گی۔

    یہ واضح نہیں کہ آیا امریکہ نے جنگ بندی کے خاتمے کا کوئی مخصوص وقت مقرر کیا ہے یا نہیں، کیوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف اتنا کہا ہے کہ یہ بدھ کی شام ختم ہو گی۔

    یہ بھی ممکن ہے کہ جنگ بندی میں توسیع سے متعلق کوئی سرکاری اعلان ٹروتھ سوشل کے ذریعے سامنے آئے یا پھر ایران پر حملوں کی اطلاعات کے ساتھ اس بارے میں ہمیں پتا چلے۔

  9. حزب اللہ نے لبنان میں آئی ڈی ایف کے اہلکاروں پر راکٹ داغے: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں مصروف اس کی فورسز پر متعدد راکٹ داغے ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے اُس مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے کہ جہاں سے آئی ڈی ایف کے اہلکاروں پر راکٹ داغے گئے تھے، جبکہ حزب اللہ کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    آئی ڈی ایف نے آج شام ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ ’اُن کی افواج اور فضائیہ نے سوموار اور منگل کو لبنان کے علاقے القصیر میں دفاعی لائن عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ’شدت پسندوں‘ کو نشانہ بنایا اور انھیں ہلاک کر دیا جو ان کے بقول جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

    اس وقت اسرائیل اور لبنان کے درمیان حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین چھ ہفتوں کی جھڑپوں کے بعد دس روزہ جنگ بندی نافذ ہے۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق لبنانی اور اسرائیلی نمائندے جمعرات کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ملاقات کریں گے۔

  10. ایران-امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں، ریڈ زون کی بندش، اسلام آباد ہائیکورٹ بدھ کو بھی بند رہے گی

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے دارالحکومت اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    گو کہ ابھی امریکہ اور ایران کا کوئی وفد اسلام آباد نہیں پہنچا، تاہم بدھ کو مسلسل تیسرے روز وفاقی سیکریٹریٹ بند ہو گا اور ملازمین کو گھروں سے کام کی ہدایت کی گئی ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ بھی بدھ کو بند رہے گی اور جوڈیشل ورک نہیں ہو گا۔

    اس سے قبل منگل کی دوپہر اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مشترکہ گرینڈ کومبنگ سرچ آپریشنز کیے گئے۔

    شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر موثر چیکنگ کے لیے خصوصی چیکنگ پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں جبکہ تمام پیٹرولنگ یونٹس اورخصوصی سکواڈ شہر بھر میں گشت کر رہے ہیں۔

  11. امریکہ اور ایران کے درمیان جو تھوڑا بہت باہمی اعتماد تھا وہ بھی ختم ہوتا جا رہا ہے, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ملاقات ہو بھی جاتی ہے تو دونوں ممالک کے درمیان جو تھوڑا بہت اعتماد پایا جاتا تھا اب وہ بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کا مقصد تھا کہ اس پر اتنا معاشی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ امریکہ کی شرطوں پر معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔

    لیکن اس کا الٹا ہی اثر پڑا۔ ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کے موقف میں مزید سختی آ گئی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ معاہدے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔

    دو ہفتے کی جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہو رہی ہے۔ صدر ترمپ کا کہنا ہے کہ اس میں توسیع کا امکان بہت کم ہے۔

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اشارہ دیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں ایران کے پاس جنگ کے لیے کچھ نئی حکمتِ عملی ہے۔

  12. امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کی میعاد کب ختم ہو رہی ہے اور اس کے بعد کیا ہو گا؟

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے آٹھ اپریل کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران دو ہفتے کے لیے جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں اور لبنان بھی اس میں شامل ہے۔

    شہباز شریف نے دونوں ممالک کے وفود کو اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت دی تھی۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے جو 12 اپریل کی صبح تک جاری رہے، تاہم دونوں ممالک کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔

    اب مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے امریکہ نے اپنا وفد پاکستان بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے، لیکن ایران کی جانب سے تاحال کوئی بھی وفد اسلام آباد بھیجنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

    ایسے میں پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر لکھا ہے کہ جنگ بندی کی میعاد بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے اور اس سے قبل ایران کی جانب سے اپنا مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ بہت اہم ہو گا۔

    دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو بلوم برگ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ جنگ بندی بدھ کی شام ختم ہو جائے گی جس کے بعد ایران پر بمباری کی جائے گی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کا امکان بہت کم ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں ترمپ کا کہنا تھا کہ جب تک معاہدہ نہیں ہوتا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

    دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے پی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو گئی تو ’بہت سارے بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے۔‘

    یاد رہے کہ رواں ماہ آٹھ تاریخ کو ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ہوئی تھی۔

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے پیر کو ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ٹرمپ ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہم ان دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو قبول نہی کرتے اور گذشتہ دو ہفتوں میں ہم نے میدان جنگ میں نئے کارڈز سامنے لانے کی تیاری کی ہے۔

  13. ایران نے وفد اسلام آباد بھیجنے سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا: ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی, لیز ڈوسیٹ، بی بی سی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایرانی وفد کے اس ہفتے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے لیے اسلام آباد کا سفر کرنے کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

    اُنھوں نے اپنی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لینے کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

    اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’ہم نیک نیتی اور سنجیدگی کے احساس کے ساتھ اس گفت و شنید میں گئے تھے، لیکن ایک مذاکراتی فریق ہے جس میں سنجیدگی اور نیک نیتی کی کمی ہے، وہ بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کر رہے ہیں اور جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘

    لیکن اسماعیل بقائی نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے کون سی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس پر مشاورت جاری ہے۔

    بی بی سی سمجھتا ہے کہ بدھ کو جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے سے پہلے مذاکرات کی بحالی کے لیے حالات پیدا کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

  14. پاکستان پہلی مرتبہ یہ تسلیم کر رہا ہے کہ گیند اب ایران کے کورٹ میں ہے, غنچہ حبیب زادہ

    پاکستان جو ایک اہم ثالث ہے، اب کھلے عام تسلیم کر چکا ہے کہ گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایک اپ ڈیٹ میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ’ایرانی قیادت کو مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے قائل کرنے کی مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور یہ کوششیں جاری ہیں۔‘

    یہ جاننے کے لیے کہ آیا ممکنہ امن مذاکرات ہوں گے یا نہیں، کئی دنوں کے انتظار کے بعد پاکستان کی طرف سے یہ پہلا باضابطہ اعتراف ہے کہ ایران کی شرکت کی ضمانت نہیں ہے۔

  15. پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے ایران کے جواب کا منتظر ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان میں امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پاکستان ایرانی حکام کی جانب سے تاحال جواب کا منتظر ہے۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بطور ثالث پاکستان سفارتکاری اور بات چیت جاری رکھنے کے لیے ایرانیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پاکستانی وقت کے مطابق جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے۔ لہذا ایران کی جانب سے اس سے قبل بات چیت میں شمولیت کا فیصلہ بہت اہم ہے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے ایرانی قیادت کو قائل کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔

  16. صدر ٹرمپ کا ’اچھے اتحادی‘ امارات کی مالی مدد اور کرنسی کے تبادلے کا عندیہ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے دوران قابلِ اعتماد خلیجی ممالک کی مالی امداد یا کرنسی کے تبادلے کی پیشکش کر سکتے ہیں۔

    اس ہفتے کے شروع میں امریکی جریدے ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ اماراتی حکام نے ایران جنگ کی وجہ سے ممکنہ اقتصادی بحران کی صورت میں امریکہ سے تعاون طلب کرنے پر بات چیت شروع کر دی ہے۔

    سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ کرنسی کا تبادلہ ’زیرِ غور‘ ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ امارات ان غیر معمولی حالات میں ہمارا بہت اچھا اتحادی رہا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ ایک امیر ملک کی مالی معاونت کرنے سے امریکہ کے اندر ردعمل ہو سکتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب اس وقت ہم سے کچھ نہیں مانگ رہا، اُنھوں نے بطور اتحادی سعودی عرب کی تعریف بھی کی۔

    صدر کا کہنا تھا کہ ’وہ لڑ رہے ہیں، وہ ہماری مدد کر رہے ہیں، وہ آبنائے پر ہماری مدد کر رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے ایک بار پھر یورپی اتحادیوں اور نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جو مدد نہیں کر رہے، وہ نیتو ہیں۔ ہمیں ان کی کبھی ضرورت نہیں ہو گی۔ درحقیقت انھیں ہماری ضرورت ہو گی۔ کیونکہ وہ کاغذی شیر ہیں۔‘

  17. پاکستانی ثالثی کا کڑا امتحان, پال ایڈمز، سفارتی امور کے نامہ نگار/بی بی سی

    اسلام آباد کے سیل کردہ ریڈ زون کے اندر ایک علامتی دروازہ ہے جس پر ’امریکہ ایران معاہدہ‘ لکھا ہے۔ اس دروازے کو کھولے قدرے پریشان پاکستان کی حکومت کھڑی ہے جو اس بات سے آگاہ ہے کہ ثالث کے طور پر اس کی نئی شناخت کڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔

    منظرنامہ تیار ہے لیکن مہمان ابھی تک نہیں پہنچے۔

    گذشتہ 48 گھنٹے کسی حد تک اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہے۔ امریکی اور ایرانی سفیروں نے پاکستانی حکومتی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

    نور خان ایئر بیس پر بڑے امریکی سی 17 طیارے اترتے رہے ہیں۔ سیرینا ہوٹل، جہاں مذاکرات کا پچھلا دور ہوا تھا، کے اطراف کی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ قریبی عمارتوں پر سنائپرز کی تعیناتی کی باتیں بھی گردش کر رہی ہیں۔

    کیا ایک بار پھر وینس اور قالیباف آئیں گے؟ یا پھر جیسا کہ صدر ٹرمپ نے خود سوشل میڈیا پر عندیہ دیا تھا کہ وہ خود آئیں گے؟

    بظاہر حالات موافق نہیں دکھائی دیتے لیکن دونوں فریقین یہ بھی نہیں چاہتے کہ اسلام آباد آ کر یہ نازک سفارتی عمل بکھر جائے۔

    جاری رابطوں کی غیر معمولی شدت سے اندازہ ہوتا ہے کہ پردے کے پیچھے کسی نہ کسی معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ایسا معاہدہ جس میں دونوں جانب سے کچھ رعایتیں ہوں لیکن جسے دونوں اپنی اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں۔

    دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کو ختم ہو رہی ہے۔ ایسے میں کوئی معاہدہ کم از کم مذاکرات کے لیے مزید وقت فراہم کر سکتا ہے۔

    کیا ایران اور امریکہ کی بحری ناکہ بندیوں کے باہمی خاتمے کی طرف پیش رفت ہو سکتی ہے؟ یہ ایک اہم آغاز ہو گا۔

  18. ممکنہ مذاکرات کے دوران تہران کی اُنگلی ٹریگر پر ہو گی: حکومتی ترجمان

    ایرانی حکومت کی ایک ترجمان نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا ہے کہ ممکنہ مذاکرات کے دوران تہران کی ’انگلی ٹریگر پر‘ اور دفاعی فورسز ’مکمل تیاری کی حالت میں‘ ہوں گی۔

    فاطمہ مہاجرانی نے اس بات کی نہ تو واضح تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی کہ آیا ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے سامنے دو حکمتِ عملیاں ہیں۔ پہلی جنگ کی حکمتِ عملی اور دوسری سفارت کاری کی حکمتِ عملی۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم ’قومی مفادات پر معمولی سمجھوتہ بھی نہیں کرے گی۔‘

  19. ’ایران، امریکہ کی صلح ہو تو شکر ہم ادا کریں گے‘

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے جو شخصیات اسلام آباد پہنچ رہی ہیں، ان کے طیارے نور خان ایئربیس کے رن وے کا استعمال کر رہے ہیں۔

    اسی وجہ سے علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ تاہم ان علاقوں کے بند کیے جانے کے باعث یہاں کی بزنس کمیونٹی کو تشویش کا سامنا ہے کیونکہ ان کے کاروبار اس سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

  20. پاکستان کی امریکہ اور ایران کو جنگ بندی میں توسیع کی تجویز

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالث پاکستان نے دونوں فریقین کو جنگ بندی میں توسیع پر غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکہ کی قائم مقام ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے آج پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں ’خطے کی حالیہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔‘

    بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے ’چیلنجز سے نمٹنے اور خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے حصول کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو واحد قابلِ عمل راستہ قرار دینے کے پاکستان کے مستقل مؤقف کو اجاگر کیا۔‘

    انھوں نے ’امریکہ اور ایران کے درمیان روابط کی ضرورت پر زور دیا، دونوں فریقین سے جنگ بندی میں توسیع پر غور کرنے اور مکالمے اور سفارت کاری کو موقع دینے کی اپیل کی۔‘

    پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق بیکر نے ’خطے میں امن کے فروغ اور بات چیت میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے تعمیری اور مثبت کردار پر امریکہ کی جانب سے قدردانی کا اظہار کیا۔‘