لائیو, مذاکرات میں شرکت کے لیے تاحال ایران کے جواب کا انتظار ہے، پاکستان

ایکس پر اپنے پیغام میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بطور ثالث پاکستان سفارتکاری اور بات چیت جاری رکھنے کے لیے ایرانیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستانی وقت کے مطابق جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے۔ لہذا ایران کی جانب سے اس سے قبل بات چیت میں شمولیت کا فیصلہ بہت اہم ہو گا۔

خلاصہ

  • پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے ایران کے جواب کا منتظر ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
  • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس مذاکراتی وفد پاکستان بھیجنے کے سوا کوئی راستہ نہیں اور یہ کہ وہ جنگ بندی میں توسیع نہیں کرنا چاہتے
  • صدر ٹرمپ کا 'اچھے اتحادی' امارات کی مالی مدد اور کرنسی کے تبادلے کا عندیہ
  • پاکستان کی امریکہ اور ایران کو جنگ بندی میں توسیع کی تجویز
  • امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے۔ جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق تاحال کوئی بھی وفد پاکستان روانہ نہیں ہوا
  • اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی تیاریاں کی جا رہی ہے لیکن پھر بھی ابہام موجود ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کو جنگ بندی میں توسیع کی تجویز دی ہے

لائیو کوریج

  1. امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کی میعاد کب ختم ہو رہی ہے اور اس کے بعد کیا ہو گا؟

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے آٹھ اپریل کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران دو ہفتے کے لیے جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں اور لبنان بھی اس میں شامل ہے۔

    شہباز شریف نے دونوں ممالک کے وفود کو اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت دی تھی۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے جو 12 اپریل کی صبح تک جاری رہے، تاہم دونوں ممالک کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔

    اب مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے امریکہ نے اپنا وفد پاکستان بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے، لیکن ایران کی جانب سے تاحال کوئی بھی وفد اسلام آباد بھیجنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

    ایسے میں پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر لکھا ہے کہ جنگ بندی کی میعاد بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے اور اس سے قبل ایران کی جانب سے اپنا مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ بہت اہم ہو گا۔

    دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو بلوم برگ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ جنگ بندی بدھ کی شام ختم ہو جائے گی جس کے بعد ایران پر بمباری کی جائے گی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کا امکان بہت کم ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں ترمپ کا کہنا تھا کہ جب تک معاہدہ نہیں ہوتا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

    دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے پی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو گئی تو ’بہت سارے بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے۔‘

    یاد رہے کہ رواں ماہ آٹھ تاریخ کو ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ہوئی تھی۔

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے پیر کو ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ٹرمپ ناکہ بندی اور بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہم ان دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو قبول نہی ںکرتے اور گذشتہ دو ہفتوں میں ہم نے میدان جنگ میں نئے کارڈز سامنے لانے کی تیاری کی ہے۔

  2. ایران نے وفد اسلام آباد بھیجنے سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا: ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی, لیز ڈوسیٹ، بی بی سی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایرانی وفد کے اس ہفتے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے لیے اسلام آباد کا سفر کرنے کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

    اُنھوں نے اپنی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لینے کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

    اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’ہم نیک نیتی اور سنجیدگی کے احساس کے ساتھ اس گفت و شنید میں گئے تھے، لیکن ایک مذاکراتی فریق ہے جس میں سنجیدگی اور نیک نیتی کی کمی ہے، وہ بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کر رہے ہیں اور جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘

    لیکن اسماعیل بقائی نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے کون سی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس پر مشاورت جاری ہے۔

    بی بی سی سمجھتا ہے کہ بدھ کو جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے سے پہلے مذاکرات کی بحالی کے لیے حالات پیدا کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

  3. پاکستان پہلی مرتبہ یہ تسلیم کر رہا ہے کہ گیند اب ایران کے کورٹ میں ہے, غنچہ حبیب زادہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان جو ایک اہم ثالث ہے، اب کھلے عام تسلیم کر چکا ہے کہ گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایک اپ ڈیٹ میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ’ایرانی قیادت کو مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے قائل کرنے کی مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور یہ کوششیں جاری ہیں۔‘

    یہ جاننے کے لیے کہ آیا ممکنہ امن مذاکرات ہوں گے یا نہیں، کئی دنوں کے انتظار کے بعد پاکستان کی طرف سے یہ پہلا باضابطہ اعتراف ہے کہ ایران کی شرکت کی ضمانت نہیں ہے۔

  4. پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے ایران کے جواب کا منتظر ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان میں امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پاکستان ایرانی حکام کی جانب سے تاحال جواب کا منتظر ہے۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بطور ثالث پاکستان سفارتکاری اور بات چیت جاری رکھنے کے لیے ایرانیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پاکستانی وقت کے مطابق جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے۔ لہذا ایران کی جانب سے اس سے قبل بات چیت میں شمولیت کا فیصلہ بہت اہم ہے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے ایرانی قیادت کو قائل کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔

  5. صدر ٹرمپ کا ’اچھے اتحادی‘ امارات کی مالی مدد اور کرنسی کے تبادلے کا عندیہ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے دوران قابلِ اعتماد خلیجی ممالک کی مالی امداد یا کرنسی کے تبادلے کی پیشکش کر سکتے ہیں۔

    اس ہفتے کے شروع میں امریکی جریدے ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ اماراتی حکام نے ایران جنگ کی وجہ سے ممکنہ اقتصادی بحران کی صورت میں امریکہ سے تعاون طلب کرنے پر بات چیت شروع کر دی ہے۔

    سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ کرنسی کا تبادلہ ’زیرِ غور‘ ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ امارات ان غیر معمولی حالات میں ہمارا بہت اچھا اتحادی رہا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ ایک امیر ملک کی مالی معاونت کرنے سے امریکہ کے اندر ردعمل ہو سکتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب اس وقت ہم سے کچھ نہیں مانگ رہا، اُنھوں نے بطور اتحادی سعودی عرب کی تعریف بھی کی۔

    صدر کا کہنا تھا کہ ’وہ لڑ رہے ہیں، وہ ہماری مدد کر رہے ہیں، وہ آبنائے پر ہماری مدد کر رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے ایک بار پھر یورپی اتحادیوں اور نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جو مدد نہیں کر رہے، وہ نیتو ہیں۔ ہمیں ان کی کبھی ضرورت نہیں ہو گی۔ درحقیقت انھیں ہماری ضرورت ہو گی۔ کیونکہ وہ کاغذی شیر ہیں۔‘

  6. پاکستانی ثالثی کا کڑا امتحان, پال ایڈمز، سفارتی امور کے نامہ نگار/بی بی سی

    اسلام آباد ٹاکس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسلام آباد کے سیل کردہ ریڈ زون کے اندر ایک علامتی دروازہ ہے جس پر ’امریکہ ایران معاہدہ‘ لکھا ہے۔ اس دروازے کو کھولے قدرے پریشان پاکستان کی حکومت کھڑی ہے جو اس بات سے آگاہ ہے کہ ثالث کے طور پر اس کی نئی شناخت کڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔

    منظرنامہ تیار ہے لیکن مہمان ابھی تک نہیں پہنچے۔

    گذشتہ 48 گھنٹے کسی حد تک اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہے۔ امریکی اور ایرانی سفیروں نے پاکستانی حکومتی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

    نور خان ایئر بیس پر بڑے امریکی سی 17 طیارے اترتے رہے ہیں۔ سیرینا ہوٹل، جہاں مذاکرات کا پچھلا دور ہوا تھا، کے اطراف کی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ قریبی عمارتوں پر سنائپرز کی تعیناتی کی باتیں بھی گردش کر رہی ہیں۔

    کیا ایک بار پھر وینس اور قالیباف آئیں گے؟ یا پھر جیسا کہ صدر ٹرمپ نے خود سوشل میڈیا پر عندیہ دیا تھا کہ وہ خود آئیں گے؟

    بظاہر حالات موافق نہیں دکھائی دیتے لیکن دونوں فریقین یہ بھی نہیں چاہتے کہ اسلام آباد آ کر یہ نازک سفارتی عمل بکھر جائے۔

    جاری رابطوں کی غیر معمولی شدت سے اندازہ ہوتا ہے کہ پردے کے پیچھے کسی نہ کسی معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ایسا معاہدہ جس میں دونوں جانب سے کچھ رعایتیں ہوں لیکن جسے دونوں اپنی اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں۔

    دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کو ختم ہو رہی ہے۔ ایسے میں کوئی معاہدہ کم از کم مذاکرات کے لیے مزید وقت فراہم کر سکتا ہے۔

    کیا ایران اور امریکہ کی بحری ناکہ بندیوں کے باہمی خاتمے کی طرف پیش رفت ہو سکتی ہے؟ یہ ایک اہم آغاز ہو گا۔

  7. ممکنہ مذاکرات کے دوران تہران کی اُنگلی ٹریگر پر ہو گی: حکومتی ترجمان

    ایرانی حکومت کی ایک ترجمان نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا ہے کہ ممکنہ مذاکرات کے دوران تہران کی ’انگلی ٹریگر پر‘ اور دفاعی فورسز ’مکمل تیاری کی حالت میں‘ ہوں گی۔

    فاطمہ مہاجرانی نے اس بات کی نہ تو واضح تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی کہ آیا ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے سامنے دو حکمتِ عملیاں ہیں۔ پہلی جنگ کی حکمتِ عملی اور دوسری سفارت کاری کی حکمتِ عملی۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم ’قومی مفادات پر معمولی سمجھوتہ بھی نہیں کرے گی۔‘

  8. ’ایران، امریکہ کی صلح ہو تو شکر ہم ادا کریں گے‘

    ،ویڈیو کیپشن’ایران، امریکہ کی صلح ہو تو شکر ہم ادا کریں گے‘

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے جو شخصیات اسلام آباد پہنچ رہی ہیں، ان کے طیارے نور خان ایئربیس کے رن وے کا استعمال کر رہے ہیں۔

    اسی وجہ سے علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ تاہم ان علاقوں کے بند کیے جانے کے باعث یہاں کی بزنس کمیونٹی کو تشویش کا سامنا ہے کیونکہ ان کے کاروبار اس سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

  9. پاکستان کی امریکہ اور ایران کو جنگ بندی میں توسیع کی تجویز

    اسحاق ڈار، نیٹلی بیکر

    ،تصویر کا ذریعہPAKISTAN MOFA

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالث پاکستان نے دونوں فریقین کو جنگ بندی میں توسیع پر غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکہ کی قائم مقام ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے آج پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں ’خطے کی حالیہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔‘

    بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے ’چیلنجز سے نمٹنے اور خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے حصول کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو واحد قابلِ عمل راستہ قرار دینے کے پاکستان کے مستقل مؤقف کو اجاگر کیا۔‘

    انھوں نے ’امریکہ اور ایران کے درمیان روابط کی ضرورت پر زور دیا، دونوں فریقین سے جنگ بندی میں توسیع پر غور کرنے اور مکالمے اور سفارت کاری کو موقع دینے کی اپیل کی۔‘

    پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق بیکر نے ’خطے میں امن کے فروغ اور بات چیت میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے تعمیری اور مثبت کردار پر امریکہ کی جانب سے قدردانی کا اظہار کیا۔‘

  10. ٹرمپ معاہدے کے لیے پُرامید مگر بمباری کی بھی دھمکی, برنڈ ڈبسمین جونیئر، بی بی سی نیوز/واشنگٹن ڈی سی

    بظاہر امریکی صدر ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں پُرامید ہیں۔ انھوں نے سی این بی سی کو بتایا کہ وہ ایک ایسی عظیم ڈیل چاہتے ہیں جو امریکہ کے لیے قابل قبول ہو اور ایران کو مستقبل میں مدد دے گی۔

    لیکن ٹرمپ دراصل ایران کے خلاف ’کیرٹ اینڈ سٹک‘ کی حکمت عملی استعمال کر رہے ہیں۔ اگرچہ ڈیل ابھی بھی میز پر ہے لیکن ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دو ہفتوں تک جاری جنگ بندی کے دوران امریکہ نے خطے میں اپنی فورسز کو مضبوط کیا ہے اور وہ دوبارہ ضرورت پڑنے پر بمباری کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ان کے بیانات میں وہ سمجھوتہ شامل نہیں جو وہ کرنے کو تیار ہیں۔

    ہمیں نہیں معلوم کہ وہ ایران کے ساتھ کیسا معاہدہ چاہتے ہیں، سوائے اس مطالبے کے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے یا رکھنے کی صلاحیت نہیں ہو سکتی۔

    ابھی تک اس بات کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا نائب صدر جے ڈی وینس اور مذاکراتی ٹیم کے دیگر ارکان پاکستان کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے یہ کہہ کر ان مذاکرات پر وقت کی ایک حد عائد کر دی ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع نہیں کرنا چاہتے۔

  11. جنگ بندی میں توسیع نہیں کرنا چاہتا، ایران کو مذاکرات کرنا ہوں گے: ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس مذاکراتی وفد بھیجنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔

    سی این بی سی کو دیے انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے یہ امید ظاہر کی کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ہمارے درمیان ایک عظیم معاہدہ ہوگا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ مذاکرات کے لیے اچھی پوزیشن میں ہے اور ’ہم آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر رہے ہیں۔‘

    جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی تو ٹرمپ نے کہا کہ ’میں ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ایران کے پاس ’یہی راستہ ہے‘ اور انھیں ’مذاکرات کرنا ہوں گے۔‘

    امریکی صدر کا بھی کہنا تھا کہ اگر ایران معاہدہ کر لیتا ہے تو وہ ’دوبارہ مضبوط بن سکتا ہے اور ایک عظیم قوم بن سکتا ہے۔‘

    ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر دوبارہ بمباری شروع ہو سکتی ہے۔

    ٹرمپ سے براہِ راست پوچھا گیا کہ اگر اسلام آباد میں ہونے والے آئندہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو کیا وہ دوبارہ حملے شروع کریں گے۔

    اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’میری توقع ہے کہ بمباری ہو گی کیونکہ میرے خیال میں اسی ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھنا بہتر ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن آپ جانتے ہیں، ہم تیار ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ فوج پوری طرح تیار ہے۔‘

  12. جنگ بندی کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان کیا طے پایا تھا؟

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی کی متعدد بار خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ جبکہ ایرانی حکام بھی اس سے قبل ٹرمپ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگا چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ ایران اور امریکہ نے 8 اپریل کو دو ہفتوں پر مشتمل ایک مشروط جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا جس کی مدت بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ اس شرط پر طے پایا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا جو خلیج سے تیل اور دیگر برآمدات کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔

    تہران نے اس وقت کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کو دو ہفتوں کے لیے گزرنے کی اجازت دے گا اور ان کی آمد و رفت ایرانی فوج کے ساتھ تعاون کے ذریعے ہو گی۔

  13. ہمیں بحرِ ہند میں امریکہ کی جانب سے روکے گئے ٹینکر کے بارے میں اب تک کیا معلوم ہے؟, تھامس کوپلینڈ، بی بی سی ویریفائی

    امریکہ کی جانب سے روکے گئے ٹینکر کے بارے میں اب تک کیا معلوم ہے؟

    ،تصویر کا ذریعہMarineTraffic

    جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرِ ہند میں امریکی فوج کی جانب سے روکا گیا ایک ٹینکر آج علی الصبح تیزی سے مڑا اور اب سری لنکا کے جنوب مشرق میں تقریباً 700 کلومیٹر یعنی 430 میل کے فاصلے پر اپنی موجودہ جگہ ظاہر کر رہا ہے۔

    میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق خام تیل بردار ٹینکر ٹفانی، جس کی گنجائش تقریباً تین لاکھ ٹن ہے، اس وقت مال بردار حالت میں ہے۔

    اس ٹینکر پر امریکہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں اور اس کا تعلق ایک انڈین شپنگ کمپنی سے ہے جس پر ایران سے روابط کے باعث امریکی پابندیاں ہیں۔

    مقام سے متعلق اطلاعات کے مطابق ٹفانی نے 10 اپریل کو خلیجی خطے سے روانگی اختیار کی تھی اور 18 اپریل کو سری لنکا کی بندرگاہ گال کے قریب مختصر طور پر رکا۔ اس کے بعد اسے امریکہ نے روک لیا۔

    میرین ٹریفک کے مطابق اندازہ تھا کہ یہ اتوار کو اپنی ممکنہ منزل سنگاپور پہنچ جائے گا۔

  14. امریکی فوج کی ’پابندی زدہ‘ ٹینکر کے خلاف کارروائی

    پینٹاگون کی جانب سے ایکس پر جاری کی گئی ویڈیو سے لی گئی ایک تصویر جس میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر جہاز پر اترتا ہوا دکھائی دیتا ہے

    ،تصویر کا ذریعہUS Department of War

    ،تصویر کا کیپشنپینٹاگون کی جانب سے ایکس پر جاری کی گئی ویڈیو سے لی گئی ایک تصویر جس میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر جہاز پر اترتا ہوا دکھائی دیتا ہے

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے انڈو پیسفک خطے میں پابندی زدہ ٹینکر کے خلاف کارروائی کی ہے جس کا مقصد ’ایران کی حمایت کرنے والے غیر قانونی نیٹ ورکس میں خلل ڈالنا تھا۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں امریکی محکمۂ جنگ نے کہا کہ اس نے ’بغیر کسی واقعے کے بے وطن اور پابندی زدہ جہاز ایم ٹی ٹیفانی کی جانچ، سمندری روک تھام اور اس پر سوار ہونے کی کارروائی کی۔‘

    محکمے نے اس کارروائی سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ یہ معلومات شیئر کیں۔

    محکمے کا کہنا ہے کہ وہ ’دنیا بھر میں سمندری نفاذِ قانون کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ غیر قانونی نیٹ ورکس میں خلل ڈالا جا سکے اور ایران کو مادی معاونت فراہم کرنے والے پابندی زدہ جہازوں کو روکا جا سکے۔ وہ جہاں کہیں بھی سرگرم ہوں۔‘

    محکمے نے مزید کہا کہ ’بین الاقوامی پانی پابندی زدہ جہازوں کے لیے پناہ گاہ نہیں ہیں۔‘

  15. ٹرمپ کا ایران پر جنگ بندی کی ’کئی بار خلاف ورزی کرنے‘ کا الزام

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی کے معاہدے کی ’متعدد بار‘ خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

    یہ الزام انھوں نے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لگایا۔ تاہم اس حوالے سے انھوں نے مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی کہ وہ کس واقعے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہTRUTH SOCIAL

    خیال رہے کہ ایران نے بھی امریکہ پر ایسے ہی الزامات عائد کیے ہیں۔

    پیر کے روز ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ خلیج میں ایک تجارتی جہاز پر ’امریکی حملہ اور اس پر قبضہ‘ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

  16. اسلام آباد میں مذاکرات سے قبل تمام فریقین سے رابطے میں ہیں: قطر

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری

    ،تصویر کا ذریعہ@MofaQatar_AR

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا کہنا ہے کہ قطر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔

    ماجد الانصاری نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ’ہم امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔‘

    ’پوری دنیا ان مذاکرات کی حمایت کر رہی ہے۔ ہم بھی اس میں شامل ہیں۔ ہم پاکستان میں اپنے بھائیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔‘

    ماجد الانصاری نے مزید کہا کہ تمام خلیجی ممالک روزانہ کی بنیاد پر مختلف فریقوں سے براہ راست رابطے میں ہیں۔ ’یہ ہمارے خطے کا بحران ہے۔ اسی لیے ہمارے براہ راست رابطے ہیں۔‘

    آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز کے بحران کو حل کرنا کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اس بحران کو علاقائی سے بین الاقوامی بحران میں تبدیل کر دیتی ہے۔‘

  17. جنگ اور انٹرنیٹ کی بندش نے ایرانی عوام کو کتنا متاثر کیا؟, ژیار گل، بی بی سی/اسلام آباد

    گذشتہ ایک سال کے دوران ایران میں اشیا خورد و نوش کی قیمتوں میں دگنا اضافہ ہوا ہے

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ،تصویر کا کیپشنگذشتہ ایک سال کے دوران ایران میں اشیا خورد و نوش کی قیمتوں میں دگنا اضافہ ہوا ہے

    ایران کے اندر بہت سے لوگ، جن میں اسلامی جمہوریہ کے حامی بھی شامل ہیں، عوام سے کفایت شعاری اختیار کرنے اور مزید معاشی مشکلات کے لیے خود کو تیار رکھنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہی تو کیا ایرانی حکومت اپنے ملازمین کو تنخواہیں دے سکے گی؟ اور کیا تہران مذاکرات سے دستبردار ہونے کا متحمل ہو سکتا ہے؟

    تنازع سے پہلے ہی پابندیوں، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی نے بہت سے گھرانوں کو محض بقا کی جدوجہد تک محدود کر دیا تھا۔ خاندان صرف بنیادی ضروریات پر خرچ کر رہے تھے۔

    اب بند ہونے والے کاروبار، مسترد شدہ چیک اور پیٹروکیمیکل، فولاد اور المونیم کی صنعتوں کو پہنچنے والے نقصان نے کساد بازاری کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    گذشتہ ایک سال کے دوران اشیا خورد و نوش کی قیمتوں میں دگنا اضافہ اور برآمدات میں کمی کے ساتھ، ایران کی کرنسی ریال کو مزید کمزوری کا سامنا ہے جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

    ایرانی حکام کی جانب سے معاشی نقصان کا تخمینہ 270 ارب ڈالر اس مشکل کو بیان کرتا ہے۔

    اس کے اثرات خاص طور پر ان خواتین کے لیے شدید رہے ہیں جو چھوٹے آن لائن کاروبار چلا رہی تھیں۔ انٹرنیٹ کی بندش اور تعطل کے باعث ایسی بہت سی خواتین متاثر ہوئیں جو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے دستکاریاں فروخت کرتی تھیں۔ یوں خاندانوں کے لیے آمدنی کے اہم ذرائع راتوں رات ختم ہو گئے۔

    ان کے نقصانات ایک وسیع تر حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جنگ اور انٹرنیٹ پر پابندیاں نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ ایران کی سب سے کمزور برادریوں میں روزگار کے ذرائع کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔

  18. ایران کے ساتھ سابقہ معاہدہ طے کرنے کے لیے امریکہ کو کئی ماہ لگے تھے, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار/بی بی سی نیوز

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں اصرار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ان کا پلڑا بھاری ہے۔ ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’ہم ایران کے ساتھ جو معاہدہ کر رہے ہیں وہ جے سی پی او اے سے کہیں بہتر ہوگا۔‘ اس سے ان کی مراد وہ معاہدہ تھا جو صدر اوباما نے 2015 میں ایران کے ساتھ طے کیا تھا۔

    اس معاہدے کا مکمل نام جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن تھا جس کے تحت ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کیا گیا تھا اور اس کے بدلے اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے عائد پابندیاں ہٹا لی گئی تھیں۔

    یہ معاہدہ صدر اوباما کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا اور غالباً اسی وجہ سے صدر ٹرمپ نے اسے جلد از جلد ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے امریکہ کو اس معاہدے سے نکال کر عملی طور پر اسے ناکارہ بنا دیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے 2018 میں اعلان کیا کہ امریکہ اس معاہدے سے دستبردار ہو رہا ہے۔ انھوں نے اسے ’بوسیدہ اور گلا سڑا‘ قرار دیا اور دوبارہ ایران پر معاشی پابندیاں نافذ کر دیں۔ اس کے جواب میں ایران نے کہا کہ وہ دوبارہ یورینیم کی افزودگی شروع کرنے کی تیاری کرے گا۔

    یہ معاہدہ پی فائیو پلس ون یعنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے درمیان 18 ماہ کی بات چیت کے بعد طے پایا تھا۔ ان مذاکرات میں نہایت تجربہ کار ایرانی مذاکرات کار شامل تھے اور یہ طویل اور پیچیدہ بات چیت کا نتیجہ تھا۔

    یہ انتہائی تعلیم یافتہ اور کثیر لسانی افراد ہیں جو اپنے مؤقف پر مکمل عبور رکھتے ہیں اور ایسا معاہدہ کسی عجلت میں طے نہیں کیا جا سکتا۔

  19. ’ایران کا بیانیہ ٹرمپ کے غیر مستقل موقف کی عکاسی کرتا ہے‘

    علی واعظ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ایران پراجیکٹ کے ڈائریکٹر علی واعظ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے مؤقف میں مستقل مزاج رہی ہے جبکہ بظاہر نظر آنے والے متضاد بیانات دراصل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’غیر مستقل مؤقف‘ پر ایرانی ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔

    علی واعظ نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ٹوڈے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی اور واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایران نے ’بڑی حد تک ہم آہنگی‘ برقرار رکھی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ تہران سے آنے والے بعض متضاد اشاروں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ یہ زیادہ تر اس بات کی عکاسی ہے کہ ایرانی قیادت صدر ٹرمپ کے غیر واضح اور بدلتے مؤقف پر کس طرح ردعمل دے رہی ہے۔

    مثال کے طور پر علی واعظ کے مطابق جب ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش ختم کرنے کا اعلان کیا تو یہ اس وقت ہوا جب صدر ٹرمپ نے یہ نہیں کہا تھا کہ امریکہ اپنی ناکہ بندی برقرار رکھے گا۔

    بعد ازاں جب صدر ٹرمپ نے امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا تو ایرانی فوج نے کہا کہ وہ اپنی بندش دوبارہ قائم کرے گی۔

    اُن کے بقول یہ کسی اندرونی اختلاف کی علامت نہیں بلکہ واقعات کے تسلسل کا نتیجہ تھا۔

  20. راولپنڈی میں بس اڈوں کی سروسز بحال

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پشاور روڈ پر واقع بس سٹینڈز کی بند سروسز کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ ’پشاور روڈ پر اڈوں سے بس سروس دوبارہ بحال کر دی گئی ہے۔ شہر کے اندر اور بین الاضلاعی روٹس پر معمول کے مطابق بسیں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔‘

    خیال رہے کہ 19 اپریک کو انتظامیہ نے راولپنڈی میں ہر قسم کی پرائیویٹ، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ تا حکمِ ثانی معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا۔