’اسرائیل میں خوش آمدید، ہم مالک ہیں‘: سعد ایدھی سمیت غزہ فلوٹیلا میں شامل 430 کارکنوں کی گرفتاری پر اسرائیلی وزیر تنقید کی زد میں

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
- مصنف, ڈیوڈ گرٹن
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
اسرائیلی بحریہ کی جانب سے غزہ جانے والی کشتیوں کے امدادی قافلے (فلوٹیلا) کو روکے جانے کے بعد اس میں سوار فلسطین کے حامی کارکنوں کے ساتھ اسرائیل کے برتاؤ پر بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔
انتہا پسند اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے ایسے کارکنوں کو طعنے دیتے دکھائی دیتے ہیں، جن کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے۔
پاکستان، امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا نے اس پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
بن گویر کے اس اقدام پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ ’اسرائیل کی اقدار کے مطابق نہیں‘۔
گلوبل صمود فلوٹیلا میں 40 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے 430 افراد شامل ہیں۔
پاکستان کی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے سعد ایدھی بھی ان کشتیوں پر سوار تھے جنھوں نے غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی توڑ کر وہاں امداد پہنچانے کی کوشش کی۔
فلوٹیلا کا مقصد جنگ زدہ غزہ میں فلسطینیوں کے مشکل حالات کو اجاگر کرنا تھا جبکہ اسرائیل نے اسے ’حماس کے مفاد میں ایک تشہیری حربہ‘ قرار دیا۔
گذشتہ جمعرات گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) میں شامل 50 سے زیادہ کشتیاں ترکی سے روانہ ہوئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پیر کی صبح اسرائیلی بحری کمانڈوز نے قبرص کے مغرب میں بین الاقوامی پانیوں میں، غزہ کے ساحل سے تقریباً 460 کلومیٹر دور، اس بیڑے کو روکنا شروع کیا۔ اس علاقے پر اسرائیل کی بحری ناکہ بندی ہے۔
جی ایس ایف کے منتظمین نے کہا کہ منگل کی شام تک تمام کشتیوں کو روک لیا گیا تھا، تاہم ایک کشتی فلسطینی علاقے سے 80 ناٹیکل میل کے فاصلے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔
انھوں نے اسرائیل پر ’سمندر میں غیر قانونی جارحیت‘ کا الزام لگایا اور کہا کہ اسرائیلی کمانڈوز نے چھ کشتیوں پر فائرنگ کی، واٹر کینن استعمال کیا اور ایک جہاز کو جان بوجھ کر ٹکر ماری۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا کہ کوئی حقیقی گولہ بارود استعمال نہیں کیا گیا اور اصرار کیا کہ وہ ’غزہ پر قانونی بحری ناکہ بندی کی کسی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
وزارت نے مزید کہا کہ تمام کارکنوں کو اسرائیلی جہازوں میں منتقل کر دیا گیا اور اسرائیل پہنچنے کے بعد انھیں اپنے قونصلر نمائندوں سے ملنے کی اجازت دی جائے گی۔
بدھ کی صبح اسرائیل میں انسانی حقوق کے گروہ عدالہ نے کہا کہ کارکنوں کو ’ان کی مرضی کے بالکل خلاف اسرائیلی علاقے میں لے جایا جا رہا ہے‘ اور انھیں اشدود بندرگاہ پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGlobal Sumud Flotilla/Handout via Reuters
گروہ نے مزید کہا کہ ’اس حراست کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا جائے گا اور فلوٹیلا پر سوار تمام شرکا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔‘
بن گویر ایک شدت پسند قوم پرست ہیں اور وزیر قومی سلامتی کے طور پر اسرائیلی پولیس کے نگران بھی۔ دوپہر میں انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس کے ساتھ کیپشن تھا ’اسرائیل میں خوش آمدید۔‘
اس ویڈیو میں انھیں اشدود بندرگاہ کے اس حراستی مرکز کا دورہ کرتے دکھایا گیا جہاں کارکنوں کو رکھا گیا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکیورٹی اہلکار ’فلسطین کو آزاد کرو‘ کے نعرے لگاتی ایک خاتون کارکن کو نیچے دھکیلتے ہیں اور بن گویر ان اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
بعد ازاں بن گویر کو ایک بڑے اسرائیلی پرچم کے ساتھ دکھایا جاتا ہے جبکہ درجنوں کارکن زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھے ہیں اور ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں۔ وہ عبرانی زبان میں ان سے کہتے ہیں کہ ’اسرائیل میں خوش آمدید۔ ہم مالک ہیں۔‘
دیگر کارکنوں کو بھی ایک جہاز کے عرشے پر گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھایا گیا اور وہاں اسرائیل کا قومی ترانہ بجایا جا رہا تھا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ’گلوبل صمود فلوٹیلا پر سوار انسانی کارکنوں کی غیر قانونی حراست اور بد سلوکی‘ کی مذمت کی گئی ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ’اطلاعات کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے فلاحی کارکن سعد ایدھی بھی شامل ہیں۔‘
پاکستان نے حراست میں لیے گئے تمام کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وزارت خارجہ خطے میں موجود پاکستانی سفارتی مشنز کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی زیر حراست پاکستانی شہری کی بحفاظت وطن واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بن گویر کے اقدامات کو ’قابل نفرت‘ قرار دیا۔
جبکہ امریکہ میں تعینات اسرائیلی سفیر نے ایکس پر بیان میں لکھا کہ ’اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ واضح کر چکے کہ بن گویر کی غیر ذمہ دارانہ حرکت حکومتی پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’بن گویر کی حرکات ہماری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔‘
برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا کہ اس ویڈیو میں ’انتہائی شرمناک مناظر‘ دکھائے گئے ہیں اور مزید کہا کہ انھوں نے اسرائیلی سفارت خانے کو طلبی نوٹس بھیجا ہے تاکہ ’فوری وضاحت‘ طلب کی جا سکے۔
انھوں نے پہلے کہا تھا کہ حکومت ’متعدد برطانوی شہریوں کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے تاکہ انھیں قونصلر مدد فراہم کی جا سکے۔‘
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کارکنوں کے ساتھ اسرائیل کے برتاؤ کو ’قابل نفرت‘ قرار دیا اور کہا کہ انھوں نے حکام کو اسرائیلی سفیر کو طلب کرنے کی ہدایت دی ہے۔
انھوں نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’شہریوں کا تحفظ اور انسانی وقار کا احترام ہر جگہ اور ہر وقت برقرار رکھا جانا چاہیے۔‘
آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے بھی بن گویر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکام کے اقدامات ’توہین آمیز‘ ہیں۔
سپین میں برطانوی سفارت خانے کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا گیا کہ ’اسرائیلی وزیر بن گویر کی جانب سے غزہ کی حمایت میں آنے والے فلوٹیلا کے ارکان کی تضحیک ناقابل قبول ہے۔ اس اسرائیلی وزیر کے سپین میں داخلے پر پابندی ہے۔ ہم اس پابندی کو پوری یورپی یونین تک وسعت دینے کے لیے کوشش کریں گے۔‘
آسٹریلیا، اٹلی، فرانس، نیدرلینڈز، بیلجیم اور سپین نے کہا کہ بن گویر کے اقدامات ’ناقابل قبول‘ ہیں اور انھوں نے اپنے اپنے ممالک میں تعینات اسرائیلی سفیروں کو طلب کیا۔
آئرلینڈ کی وزیر خارجہ ہیلن مک اینٹی کے مطابق ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے شرکا (جن میں آئرش شہری بھی شامل ہیں) کے ساتھ مناسب عزت اور احترام والا برتاؤ نہیں کیا جا رہا۔‘
امریکی سینیٹر کرس وین ہولن نے ایکس پر بیان میں بن گویر کے طرز عمل کو مکروہ قرار دیا۔
برطانوی صحافی اور ٹی وی میزبان پیئرس مورگن نے ایکس پوسٹ میں اسرائیلی وزیر کو ’نفسیاتی مریض‘ لکھا۔
عدالہ نے کہا کہ یہ ویڈیو ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل ’کارکنوں کے خلاف بد سلوکی اور تضحیک کی مجرمانہ پالیسی‘ اختیار کیے ہوئے ہے۔
ایک غیر معمولی بات یہ ہوئی ہے کہ اسرائیل کے وزیر خارجہ بھی اپنے کابینہ کے ساتھی پر تنقید میں شامل ہو گئے۔
ایکس پر بن گویر کو مخاطب کرتے ہوئے گیڈیون سار نے لکھا کہ ’آپ نے جان بوجھ کر اس شرمناک مظاہرے کے ذریعے ہماری ریاست کو نقصان پہنچایا اور یہ پہلی بار نہیں۔‘
بن گویر نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’وزیر خارجہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سمجھ جائیں اب اسرائیل کمزور نہیں رہا۔‘
بعد ازاں نیتن یاہو نے بھی اپنی تنبیہ جاری کی۔
ایک بیان میں کہا گیا کہ ’اسرائیل کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ دہشت گرد حماس کے حامیوں کے فلوٹیلاز کو غزہ تک پہنچنے سے روکے تاہم وزیر بن گویر جس انداز میں فلوٹیلا کارکنوں سے پیش آئے، وہ اسرائیل کی اقدار اور اصولوں کے مطابق نہیں۔‘
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ انھوں نے اسرائیلی حکام کو ہدایت دی ہے کہ ’اشتعال انگیزی کرنے والوں کو جلد از جلد ملک بدر کیا جائے۔‘
جی ایس ایف کے مطابق کشتیوں میں سوار کارکن غزہ کے فلسطینیوں کے لیے خوراک، بچوں کا دودھ اور طبی امداد لے کر جا رہے تھے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں تو ’امداد کا سیلاب‘ ہے اور گذشتہ سات ماہ کے دوران 15 لاکھ ٹن سے زیادہ امداد اور ہزاروں ٹن طبی سامان علاقے میں داخل کیا گیا۔
اقوام متحدہ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ غزہ میں بہت سے بے گھر خاندانوں کو اب بھی محفوظ متبادل نہ ہونے کی وجہ سے بھیڑ بھاڑ والے خیموں یا شدید متاثرہ ڈھانچوں میں رہنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
اقوام متحدہ نے مزید کہا کہ بنیادی سہولیات تک رسائی محدود ہے، صاف پانی کی فراہمی مستقل نہیں اور کچرا ٹھکانے لگانے کا انتظام بھی متاثر نہیں۔ جس کی وجہ سے صحت عامہ کے مسائل سے نمٹنا مشکل ہو رہا ہے، کیڑے مکوڑے اور چوہے بھی ایک مسئلہ ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق انسانی امدادی کارروائیاں اہم پرزہ جات، بیک اپ جنریٹرز اور دیگر آلات کی درآمد پر عائد پابندیوں اور ایندھن جیسے بنیادی وسائل کی کمی کے باعث متاثر ہو رہی ہیں۔
ادارے نے نشاندہی کی کہ اپریل میں غزہ داخلے کے لیے اسرائیلی حکام کی جانب سے منظور کردہ انسانی امداد میں سے صرف 86 فیصد ہی سرحدی گزرگاہوں پر اتاری جا سکی، جبکہ باقی سامان کو واپس بھیج دیا گیا۔
غزہ جنگ کا آغاز سات اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد ہوا تھا، جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے اور 251 دیگر کو یرغمال بنا لیا گیا۔
اسرائیل نے اس کے جواب میں غزہ میں فوجی کارروائی شروع کی، جس کے دوران حماس کی زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق 72 ہزار 770 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔


























