تین ماہ میں 21 ارب ڈالر: غیر ملکی سرمایہ کار انڈیا کی سٹاک مارکیٹ سے اپنا پیسہ کیوں نکال رہے ہیں؟

भारतीय शेयर बाज़ार

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈین روپیہ ایک ڈالر کے مقابلے میں 97 کے قریب پہنچ چکا ہے
    • مصنف, راجنیش کمار
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے باعث انڈیا کی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کے باعث تین ماہ کے دوران سرمایہ کاروں نے انڈین سٹاک مارکیٹ سے لگ بھگ 21 ارب ڈالرز نکال لیے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں جب ایران پر حملہ کیا تو اس کا براہِ راست اثر انڈیا پر پڑا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ریکارڈ رفتار سے سٹاک مارکیٹ سے پیسہ نکالنا شروع کر دیا۔ دوسری طرف تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے انڈین روپیہ تاریخی گراوٹ کا شکار ہوا۔

28 فروری کو ایران پر حملے کے بعد سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے انڈین سٹاک مارکیٹ سے تقریباً 21 ارب ڈالر نکال لیے ہیں۔ ان میں صرف مارچ کے مہینے میں ہی تقریباً 13 ارب ڈالر نکلے۔

نیشنل سیکیورٹیز ڈپازٹری لمیٹڈ (این ایس ڈی ایل) کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں جتنا ایف آئی آئی (غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ) سٹاک مارکیٹ سے باہر گیا، اتنا ایک مہینے میں کبھی نہیں گیا تھا۔

سنہ 1993 میں انڈین سٹاک مارکیٹ کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھولے جانے کے بعد یہ اب تک کا بدترین سال سمجھا جا رہا ہے۔

انڈیا کے معاملے میں ایف آئی آئی وہ غیر ملکی ادارے ہوتے ہیں، جیسے میوچل فنڈ، پنشن فنڈ، انشورنس کمپنیاں، ہیج فنڈ اور سوورن ویلتھ فنڈ، جو انڈین شیئر مارکیٹ اور بانڈز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

انڈیا میں ایف آئی آئی کے لیے سیبی کے پاس رجسٹریشن کرانا ضروری ہے۔ 2014 میں سیبی نے ایف آئی آئی سب اکاؤنٹ اور کوالیفائیڈ فارن انویسٹر کو ملا کر ایک نئی کیٹیگری بنا دی تھی، فارن پورٹ فولیو انویسٹر یعنی ایف پی آئی۔ تاہم بازار کی زبان اور میڈیا میں آج بھی ایف آئی آئی ہی استعمال ہوتا ہے۔

یہ شیئرز اور بانڈز میں بڑی مقدار میں خرید و فروخت کرتے ہیں۔ ان کی روزانہ کی خرید و فروخت کا شیئر مارکیٹ پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ اگر ایف آئی آئی شیئر فروخت کرے تو مارکیٹ میں کمی آتی ہے اور اگر خریدے تو یہ پیغام جاتا ہے کہ مارکیٹ میں سرمایہ کاری فائدہ مند ہے۔

ایف آئی آئی اور ایف ڈی آئی میں کیا فرق ہے؟

शेयर बाज़ार

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن28 فروری کو ایران پر حملے کے بعد سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے انڈین سٹاک مارکیٹ سے تقریباً 21 ارب ڈالر نکال لیے ہیں۔
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایف آئی آئی پورٹ فولیو سرمایہ کاری ہے، جسے آسانی سے نکالا جا سکتا ہے، اسی لیے اسے ’ہاٹ منی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ جبکہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (ایف ڈی آئی) کسی کاروبار یا اثاثے میں طویل مدتی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔

امریکی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں انڈیا کا روپیہ گر کر 97 کے قریب پہنچ گیا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے وقت یہ تقریباً 91 کے آس پاس تھا۔

کوٹک انسٹیٹیوشنل ایکویٹیز کے چیف اکانومسٹ سووودیپ رکشت نے برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کو بتایا کہ ’جیسے ہی جنگ شروع ہوئی، پہلا ردِعمل یہی تھا کہ انڈیا دنیا کے سب سے بڑے توانائی درآمد کرنے والوں میں سے ایک ہے۔ ایسی صورت میں سرمایہ کاروں کے لیے یہ فطری سوچ بن جاتی ہے کہ یہ وہ ملک نہیں ہے جہاں وہ اپنی سرمایہ کاری برقرار رکھنا چاہیں گے۔‘

انڈیا دنیا کا تیسرا سب سے بڑا توانائی درآمد کنندہ ہے۔ یہ اپنی تیل اور گیس کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد دوسرے ممالک سے خریدتا ہے۔ 31 مارچ کو ختم ہونے والے مالی سال میں انڈیا نے توانائی درآمد پر 174 ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔ درآمد شدہ خام تیل کا تقریباً نصف اور قدرتی گیس کا دو تہائی حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے جن کی توانائی سپلائی جنگ کے باعث تقریباً متاثر ہو گئی ہے۔

تیل مہنگا ہونے کے باعث انڈیا کا روپیہ شدید دباؤ میں ہے۔ کمزور ہوتے روپے کی وجہ سے بھی ایف آئی آئی انڈیا کی کاروباری منڈیوں سے دوسرے ممالک جا رہا ہے۔

انڈیا کی اقتصادی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے والے اور معاشی تجزیہ کار وویک کول کہتے ہیں کہ ’ایف آئی آئی پر ایران جنگ کا اثر پڑا ہے لیکن ایران میں جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی غیر ملکی سرمایہ کار انڈیا سے سرمایہ نکال رہے تھے۔‘

اُن کے بقول 2025 میں بھی تقریباً 19 ارب ڈالر انڈیا سے باہر گیا تھا، ’یعنی جنگ سے پہلے بھی نکال رہے تھے لیکن اب کچھ زیادہ ہی نکال رہے ہیں۔‘

وویک کول کہتے ہیں کہ ’کوئی بھی شیئر مارکیٹ سے پیسہ تبھی نکالتا ہے جب اسے لگتا ہے کہ آگے کا وقت خراب ہو سکتا ہے۔ پیسہ نکالنے کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ مارکیٹ اس سے آگے نہیں بڑھے گی۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو لگ رہا ہے کہ یہ بازار جتنا دے سکتا تھا، دے چکا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ مارچ 2020 سے لے کر ستمبر 2024 تک انڈین سٹاک مارکیٹ میں کافی تیزی رہی۔ اس دوران انڈیا دُنیا کی بہترین سٹاک مارکیٹس میں شامل تھا۔

اُن کے بقول اس عرصے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے خوب منافع کمایا۔ اب انھیں لگ رہا ہے کہ اس مارکیٹ میں مزید کمائی نہیں ہے۔ اسی لیے انھوں نے پچھلے سال سے ہی اپنا پیسہ نکالنا شروع کر دیا تھا۔

بڑھتا ہوا عدم اعتماد

भारतीय शेयर मार्केट

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشیئر بازار سے ریٹیل سرمایہ کار بھی دور ہو رہے ہیں

معروف ماہرِ اقتصادیات اور من موہن سنگھ کی حکومت میں اقتصادی مشیر کوشک باسو کا ماننا ہے کہ انڈیا کی معیشت کی موجودہ صورتحال کے پیچھے حکومتی پالیسیوں کی خامیاں ہیں۔

باسو نے ایکس پر لکھا کہ ’اب سیاست سے آگے بڑھ کر حقیقی پالیسیوں پر توجہ دینے کا وقت ہے۔ پچھلے ایک سال میں انڈین روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 11.2 فیصد کمزور ہوا ہے۔ یہ صرف جنگ کی وجہ سے نہیں ہوا ہے۔ پچھلے 22 مہینوں میں انڈیا میں نیٹ ایف ڈی آئی تقریباً صفر کے قریب رہا ہے۔‘

بروکریج فرم جے ایم فنانشل کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈین شیئرز میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے مجموعی حصص اب کم ہو کر 14 سال کی کم ترین سطح 14.7 فیصد رہ گئے ہیں۔

نو مئی کو شائع ہونے والی گولڈمین سیکس کی رپورٹ 'Outflow Fed, But Re-entry Waits' کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اخراج کا بدترین دور ممکنہ طور پر گزر چکا ہے۔ آئندہ ایف آئی آئی کی باقی ماندہ فروخت سے ہونے والا ممکنہ نقصان تقریباً چار سے پانچ ارب ڈالر تک محدود رہ سکتا ہے۔

تاہم رپورٹ یہ بھی خبردار کرتی ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کار جلد ہی تیزی سے انڈین منڈیوں میں واپس آ جائیں گے۔

اپریل کے آغاز میں جب امریکہ-ایران جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئی، تب بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں نے انڈیا میں دوبارہ سرمایہ کاری نہیں کی۔ اس لیے یہ توقع رکھنا شاید درست نہیں ہوگا کہ مغربی ایشیا میں تناؤ کم ہونے سے غیر ملکی سرمایہ کاری دوبارہ آ جائے گی۔

’آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں انڈیا ابھی پیچھے ہے‘

शेयर बाज़ार

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

وویک کول مزید کہتے ہیں کہ ’اب اے آئی کی کہانی چل رہی ہے۔ سرمایہ کار وہاں پیسہ لگا رہے ہیں جہاں کمپنیاں اے آئی میں بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں یا جس سے فائدہ ہو رہا ہے۔ لیکن انڈیا میں اس طرح کے شیئرز نہیں ہیں۔ جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان اور چین میں ایسے شیئرز ہیں، اس لیے سرمایہ کار وہاں جا رہے ہیں۔‘

لیکن مسئلہ صرف ایف آئی آئی کے نکلنے تک محدود نہیں ہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں معاشیات کے سابق پروفیسر ارون کمار کہتے ہیں کہ ’سٹاک مارکیٹ میں فروخت صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں تک محدود نہیں۔ مارچ 2025 سے انڈین شیئرز میں ریٹیل سرمایہ کاروں کے حصص بھی 9.2 فیصد کم ہو چکے ہیں۔‘

پروفیسر ارون کمار کہتے ہیں کہ ’کمزور ہوتے روپے کے باعث بھی ایف آئی آئی انڈین منڈیوں سے نکل رہا ہے۔ ٹرمپ نے انڈیا پر جب ٹیرف لگایا تو کئی سطحوں پر انڈین معیشت کی کمزوریاں سامنے آئیں۔ جب برآمدات سے زیادہ درآمدات ہوتی ہیں تو ادائیگیوں کا توازن بگڑتا ہے، جس سے ڈالر کی کمی اور روپے کی کمزوری ہوتی ہے۔‘

پروفیسر ارون کمار بتاتے ہیں کہ ’اگر روپیہ کمزور ہوگا تو سرمایہ کاروں کو ڈالر کے اعتبار سے منافع کم ملے گا۔ اگر کوئی سرمایہ کار یہ سوچ کر سرمایہ کاری کرے کہ اسے 10 فیصد منافع ملے گا، لیکن روپیہ ہر سال پانچ فیصد گرے تو اصل منافع صرف پانچ فیصد رہ جائے گا۔ ایسے میں ایف آئی آئی کا نکلنا حیران کن نہیں ہے۔‘

اسی ماہ عالمی سرمایہ کار اور اقتصادی امور کے ماہر روچیر شرما نے روزنامہ انڈین ایکسپریس سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’اب انڈیا سے سرمایہ اس لیے نکل رہا ہے کیونکہ دنیا کی توجہ اے آئی پر مرکوز ہے۔ سرمایہ کار اس عالمی دوڑ میں دیوانے ہو چکے ہیں اور انڈیا کو اس میں کمزور کھلاڑی سمجھا جا رہا ہے۔‘

تائیوان کی طرف رُجوع

शेयर बाज़ार

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

روچیر شرما نے کہا کہ ’گذشتہ چند برسوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے انڈین شیئر بازار سے 50 ارب ڈالر نکال لیے ہیں۔ نیٹ ایف ڈی آئی بھی تقریباً صفر ہے۔ اپنی 30 سالہ سرمایہ کاری کے تجربے میں میں نے انڈیا کے بارے میں ایسا رویہ پہلے نہیں دیکھا۔‘

اُن کے بقول انڈیا تحقیق پر جی ڈی پی کا صرف 0.6 فیصد خرچ کرتا ہے جبکہ جنوبی کوریا اور تائیوان چار سے پانچ فیصد تک خرچ کرتے ہیں۔

’اس معاملے میں اسرائیل دنیا میں سب سے آگے ہے۔ ہمارا آئی ٹی سیکٹر طویل عرصے تک سستی مزدوری اور آؤٹ سورسنگ پر مبنی ماڈل پر انحصار کرتا رہا، نہ کہ جدت اور نئی ٹیکنالوجی پر۔ اب یہی کمزوری ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔‘