آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کو آئرلینڈ کے بعد انگلینڈ کے خلاف بھی شکست کا سامنا: ’آئی پی ایل اور بین الاقوامی کرکٹ میں بہت بڑا فرق ہے‘
انڈیا کی کرکٹ ٹیم آئرلینڈ کے بعد انگلینڈ کے خلاف بھی شکست سے دوچار ہوئی، جس نے انڈیا بھر میں شائقینِ کرکٹ کو سخت مایوس کیا ہے۔
مسلسل دو ٹیموں سے شکست کے بعد ٹیم کی تیاری اور حکمتِ عملی پر شدید تنقید جاری ہے اور سابق انڈین کرکٹرز کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا جا رہا ہے کہ انڈین کرکٹ ٹیم اپنی اصل صلاحیت کے مطابق کھیلنے میں ناکام رہی ہے۔
انگلینڈ کے خلاف میچ میں انڈیا کی بیٹنگ لائن اپ ایک بار پھر دباؤ میں نظر آئی۔ بڑے ناموں کے باوجود بلے باز خاطر خواہ سکور نہ بنا سکے، جبکہ انگلش بولرز نے اپنی لائن اور لینتھ اور جارحانہ انداز کے ساتھ انڈین بیٹنگ کو مکمل طور پر قابو میں رکھا۔
یہ ناکامی اس لیے زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ آئرلینڈ کے خلاف شکست کو بعض حلقے حادثاتی قرار دے رہے تھے، مگر انگلینڈ کے خلاف ٹیم کی ناکامی نے واضح کر دیا ہے کہ ٹیم کو اپنی کمزوریوں پر فوری قابو پانے کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر یہ سلسلہ مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر انڈین شائقین کا شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں ٹیم کی کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہیں کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انڈیا نے جلد اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی نہ کی تو آئندہ میچوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ انڈیا کو آئرلینڈ کے خلاف دو میچوں کی سیریز میں دو صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اسے چار صفر کی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ انڈیا کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے طویل مسلسل ناکامیوں کا سلسلہ ہے۔
انڈیا کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان شریاس آئیر کو حالیہ خراب کارکردگی کے باعث شدید تنقید کا سامنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انگلینڈ کے خلاف مسلسل ناکامی اور اس سیریز سے قبل آئرلینڈ کے ہاتھوں دو غیر متوقع ناکامیوں نے شریاس آئیر پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، جنھوں نے جون کے آغاز میں انڈیا کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت سنبھالی تھی۔
بلے بازی کے حوالے سے مضبوط سمجھی جانے والی انڈیا کی ٹیم اس پوری سیریز میں بری طرح ناکام رہی۔ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں رنز کے انبار لگانے والے انڈین بلے باز آئرلینڈ اور انگلینڈ کی پچز پر غیر مؤثر دکھائی دیے۔ وہ تیز رفتاری سے رنز بنانے کی کوشش میں بار بار بڑے شاٹس کھیلتے رہے، تاہم اس حکمتِ عملی میں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔
چوتھے میچ میں شکست کے بعد سابق انڈین وکٹ کیپر دیپ داس گپتا نے کہا تھا کہ ’انڈیا کی بیٹنگ میں کسی واضح منصوبہ بندی کا فقدان نظر آیا اور یہ سمجھنا مشکل تھا کہ ٹیم کس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔‘
دوسری جانب انڈیا کا بولنگ اٹیک بھی انگلش بلے بازوں کو قابو میں رکھنے میں ناکام رہا کیونکہ جسپریت بمراہ اور ہاردک پانڈیا کو اس سیریز کے لیے آرام دیا گیا تھا۔
سنیچر کے روز میچ میں شکست کے بعد انڈین کپتان شریاس آئیر نے کہا کہ ’ایک ساتھ کئی وکٹیں گرنا ٹیم کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہے۔‘
ساوتھمپٹن میں کھیلے گئے میچ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’یہ اس سیریز کی بہترین وکٹ تھی اور ہماری بیٹنگ کا انداز بھی مختلف تھا۔ پہلے میچ کے بعد سے حالات مسلسل بدلتے رہے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ ہم کہاں بہتر کارکردگی دکھا سکتے تھے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’فیلڈنگ میچ میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے اور ہمیں اس شعبے میں مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔‘
سوشل میڈیا پر انڈیا کی شکست کے بعد ہونے والی تنقید
بہت سے لوگ انڈیا کی شکست کا ذمہ دار آئی پی ایل کے لیے تیار کی جانے والی فلیٹ پچز کو قرار دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انڈیا اپنی ہوم کنڈیشنز میں تو کامیاب رہتا ہے، لیکن اس کے بلے باز غیر ملکی پچز پر اپنی کارکردگی برقرار رکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔
انگلینڈ کے فاسٹ بولر جوفرا آرچر نے بھی واضح طور پر کہا کہ ’انگلینڈ میں کرکٹ کھیلنا آئی پی ایل سے بالکل مختلف ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انڈین بلے بازوں کو انگلینڈ کے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہاں کی کرکٹ آئی پی ایل سے یکسر مختلف ہے۔‘
آرچر کے مطابق ’آئی پی ایل کی پچز فلیٹ ہوتی ہیں اور باؤنڈریز بھی نسبتاً چھوٹی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے بلے بازی آسان ہو جاتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس کے برعکس انگلینڈ میں کرکٹ اپنی روایتی انداز میں کھیلی جاتی ہے، جہاں بولرز کو زیادہ مدد ملتی ہے اور بلے بازوں کو زیادہ نظم و ضبط کے ساتھ بیٹنگ کرنا پڑتی ہے۔‘
دوسری جانب سابق انڈین کپتان محمد اظہرالدین کہتے ہیں کہ ’انگلینڈ میں کھیلنا مکمل طور پر مختلف تجربہ ہے۔ یہ آئی پی ایل جیسا نہیں ہے اور جتنی جلدی انڈین ٹیم اس حقیقت کو سمجھ لے گی، اتنا ہی اس کے لیے بہتر ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آئی پی ایل میں آپ تقریباً ہر گیند کو باؤنڈری سے باہر بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہاں ایسا ممکن نہیں کیونکہ گیند سوئنگ کرتی ہے، حالات مختلف ہوتے ہیں۔ انگلینڈ کے بولرز بخوبی جانتے ہیں کہ کس بلے باز کے خلاف کس انداز میں بولنگ کرنی ہے۔‘
دوسری جانب کرکٹ شائقین شریاس آئیر کی کپتانی پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں تاہم سابق انڈین کرکٹر مدن لال نے ان کا دفاع کیا ہے۔
مدن لال نے کہا کہ ’مجھے یقیناً حیرت ہوئی ہے۔ ہم نے بہت خراب کرکٹ کھیلی اور پانچ میچ ہار گئے۔ کم از کم آئرلینڈ کے خلاف ہمیں کامیابی حاصل کرنی چاہیے تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کپتان اتنا ہی اچھا ہوتا ہے جتنی اچھی اس کی ٹیم ہوتی ہے۔ آئی پی ایل اور بین الاقوامی کرکٹ میں بہت بڑا فرق ہے اور عالمی سطح پر خود کو منوانے میں وقت لگتا ہے۔ شبھمن گل، یشسوی جیسوال اور رشبھ پنت جیسے کھلاڑیوں نے بیرون ملک اچھی کارکردگی دکھائی ہے لیکن وہ اس ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔‘
مدن لال نے مزید کہا کہ ’ایک مضبوط ٹیم بنانا بہت مشکل، جبکہ اسے تباہ کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔‘
انھوں نے ویبھو سوریا ونشی کے حوالے سے کہا کہ ’اس سطح پر آپ ہر گیند پر بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش نہیں کر سکتے۔ کلب کرکٹ اور بین الاقوامی کرکٹ میں واضح فرق ہوتا ہے۔ یہ چھ اوورز کا نہیں بلکہ 20 اوورز کا کھیل ہے، اس لیے اپنی اننگز کو سمجھداری سے آگے بڑھانا ضروری ہوتا ہے۔‘
سابق انڈین آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے ایکس پر انڈین ٹیم کی بیٹنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ہمارے بلے باز ایسا ہدف دینے میں بھی ناکام رہتے ہیں جس کا دفاع کیا جا سکے، جبکہ ہدف کے تعاقب میں بھی کامیابی کے قریب نہیں پہنچ پاتے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جب گیند معمول سے کچھ زیادہ سوئنگ، سیم یا باؤنس کرتی ہے تو ہمارے بلے باز اسے کھیلنے میں مکمل ناکام رہتے ہیں۔ اگر انڈین بلے باز یہ نہیں چاہتے کہ انھیں صرف فلیٹ پچز پر کامیاب ہونے والے بلے باز کہا جائے، تو انھیں اب تک کی کارکردگی سے کہیں بہتر کھیل پیش کرنا ہوگا۔‘
معروف کرکٹ مبصر ہرشا بھوگلے نے انڈین کرکٹ ٹیم کی کارکردگی سے متعلق ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا ’انگلینڈ نے دراصل انڈیا کو اسی انداز میں شکست دی، جسے انڈین ٹیم اپنی خاص پہچان سمجھتی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر انڈین ٹیم اس شکست کو اپنی کمزوریوں کو سامنے لانے کے ایک موقع کے طور پر قبول کرے، تو اس سے مستقبل میں بہت مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔‘
آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ناکامیوں کے بعد انڈیا کی ٹیم مینجمنٹ بھی سوالوں کی زد میں آ گئی ہے۔
ٹیم کے انتخاب پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔
آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دوروں سے قبل ہی کرکٹ شائقین سلیکشن کے عمل پر کئی سوالات اٹھا رہے تھے، کیونکہ متعدد اہم کھلاڑیوں کو سکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
گذشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈیا کو ٹائٹل دلانے والے کپتان سوریا کمار یادو کو بھی اس ٹیم میں جگہ نہیں دی گئی۔
ویبھَو سوریا ونشی کو انگلینڈ کے خلاف پہلے دو میچوں میں موقع نہیں دیا گیا۔ بعد میں انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا، تاہم وہ خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔
ٹیم کے انتخاب سے قبل سابق انڈین سپنر ہربھجن سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ ’یہ افسوسناک ہے کہ رجت پاٹیدار کو انڈین ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ آخر انھیں مزید کیا کرنا چاہیے؟ انھوں نے 501 رنز بنائے ہیں اور ان کا سٹرائیک ریٹ تقریباً 200 ہے۔ یہ ناانصافی ہے۔‘
واضح رہے کہ انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹی ٹوئنٹی بارش کے باعث نتیجہ رہا، اولڈ ٹریفورڈ میں ہونے والا دوسرا ٹی ٹوئنٹی انگلینڈ نے چار وکٹوں سے جیتا۔ ٹرینٹ برج میں ہونے والے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں انگلینڈ نے 125 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ چوتھا ٹی ٹوئنٹی برسٹل میں کھیلا گیا جس میں انگلینڈ نے انڈیا کو نو وکٹوں سے شکست دی۔ جبکہ پانچویں اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں انگلینڈ نے ساوتھمپٹن میں 56 رنز سے کامیابی حاصل کی اور سیریز چار صفر سے اپنے نام کی۔