آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کو ورلڈ کپ جتوانے والے سوریا کمار یادیو کو ٹیم سے ڈراپ کیوں کیا گیا؟
انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئر لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ٹی 20 سیریز جبکہ ایشین گیمز کے لیے شریاس ایئر کو کپتان مقرر کیا ہے جبکہ رواں برس ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو کو ڈراپ کر دیا گیا ہے۔
سنیچر کو چیف سلیکٹر اجیت اگرکر اور سیکریٹری بی سی سی آئی دیوجیت سائکیا نے انڈیا کے 15 رُکنی سکواڈ کا اعلان کیا جس میں جارح مزاج اوپننگ بلے باز 15 سالہ سوریا ونشی کو بھی شامل کیا گیا۔ سوریا ونشی نے حال ہی میں ختم ہونے والی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں سب سے زیادہ رنز بنائے تھے۔
بی سی سی آئی نے تلک ورما کو نائب کپتان مقرر کیا جبکہ آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا تینوں ایونٹس یعنی آئر لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ٹی 20 سیریز جبکہ ایشین گیمز میں ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔
سوریا کمار یادیو کی جگہ شریاس ایئر کو ٹی 20 کا کپتان بنائے جانے پر اجیت اگرکر کا کہنا تھا کہ شریاس ایئر نے گذشتہ کچھ برسوں میں مختلف فرنچائز کی قیادت کی اور ایک ٹائٹل بھی جیتا اور اب وہ انڈین ٹیم کی کپتانی کے لیے تیار ہیں۔
اجیت اگرکر کا کہنا تھا کہ شریاس ایئر رواں برس ٹی 20 ورلڈ کپ سکواڈ میں جگہ بنانے کے بہت قریب تھے لیکن سوریا کمار یادیو کی موجودگی میں ٹیم میں اُن کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ سوریا کمار یادیو کو ڈراپ کرنا مشکل فیصلہ ہے تاہم ہم نے اگلے دو برس اور اس سے آگے کی تیاری کرنی ہے۔
خیال رہے کہ سوریا کمار یادیو کی کپتانی میں انڈین ٹیم نے 52 میں سے 40 میچز میں کامیابی حاصل کی۔
اُنھوں نے سنہ 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے آخری اوور میں ڈیوڈ ملر کا شاندار کیچ تھام کر انڈیا کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 2026 کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سوریا کی قیادت میں انڈین ٹیم نے ٹائٹل کا دفاع کیا تاہم اُن کی اپنی بیٹنگ فارم اچھی نہیں تھی۔
15 سالہ سوریا ونشی کی سلیکشن
پندرہ سالہ سوریا ونشی کی ٹیم میں شمولیت پر ماہرین مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ اُنھیں بہت جلد ٹیم میں شامل کر لیا گیا جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ سوریا ونشی نے اپنی کارکردگی کے ذریعے ٹیم میں جگہ بنائی۔
خود چیف سلیکٹر اجیت اگرکر کا کہنا تھا کہ سوریا ونشی کی حالیہ کارکردگی ایسی تھی کہ اُنھیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔
سوریا ونشی نے حالیہ آئی پی ایل سیزن میں 237.30 کے سٹرائیک ریٹ سے 776 رنز بنائے۔
آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ٹی 20 سیریز سے پہلے سوریا ونشی نو سے 21 جون تک سری لنکا اور افغانستان کے خلاف سہ فریقی سیریز میں انڈیا اے ٹیم کے لیے کھیلیں گے۔
اگر سوریاونشی اپنا ڈیبو آئرلینڈ یا انگلینڈ میں کرتے ہیں تو وہ 16 سال کی عمر سے پہلے بین الاقوامی کرکٹ میں ڈیبو کرنے والے پہلے انڈین کھلاڑی بن جائیں گے۔ ٹنڈولکر نے اپنا ٹیسٹ ڈیبو 16 سال 205 دن کی عمر میں کیا تھا اور ون ڈے میں اپنا ڈیبو 16 سال اور 238 دن میں کیا تھا۔
واشنگٹن سندر انڈیا کے سب سے کم عمر ٹی 20 انٹرنیشنل ڈیبیو کرنے والے کھلاڑی ہیں، جنھوں نے اس فارمیٹ میں اپنا پہلا میچ 18 سال اور 80 دن کی عمر میں کھیلا تھا۔
انڈین ٹیم 26 اور 28 جون کو بیلفاسٹ میں آئرلینڈ کے خلاف دو ٹی 20 میچز کی سیریز کھیلے گی اور اس کے بعد یکم سے 11 جولائی کے درمیان انگلینڈ کے خلاف پانچ ٹی 20 میچز کی سیریز ہو گی۔
’ٹیم میں جگہ نہیں بنا پا رہے تو پھر کپتان کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے‘
سوریا کمار یادیو کو ڈراپ کرنے کے معاملے پر بھی سوشل میڈیا پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ انڈیا کو ورلڈ کپ جتوانے والے کپتان کو ایسے ڈراپ کرنا درست نہیں جبکہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر انفرادی کارکردگی اچھی نہ ہو تو پھر ٹیم کی قیادت کرنے کا جواز نہیں رہتا۔
انڈین سپورٹس جرنلسٹ ایاز میمن نے ایکس پر لکھا کہ ’اگر آپ ٹیم میں اپنی جگہ نہیں بنا پا رہے ہیں تو پھر آپ کو کپتان کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ سوریا کمار یادیو رنز بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے، چاہے وہ ورلڈ کپ ہو، یا اس سے پہلے اور اب آئی پی ایل میں بھی وہ اچھا نہیں کر سکے۔‘
شیری نامی پاکستانی صارف نے ایکس پر لکھا کہ انڈین کرکٹ میں بہت عجیب چیزیں ہو رہی ہیں۔ چیمپئنز ٹرافی جیتنے کے بعد روہت شرما کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا اور اب ٹی 20 ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان سوریا کمار یادیو کو برطرف کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا وائٹ بال کرکٹ میں راج کر رہا ہے۔
’پاکستان میں کرکٹرز آئی سی سی ایونٹس میں ایک اچھی کارکردگی پر کئی میچز کھیل جاتے ہیں اور انڈیا میں ٹرافیاں جیتنے والے کپتانوں کو ہٹا دیا جاتا ہے۔‘
کمنٹیٹر ہارشا بھوگلے نے ایکس پر لکھا کہ اگر وہ سلیکٹر ہوتے تو سوریا کمار یادیو کو ایک موقع اور دیتے، اُن کی کپتانی کا ریکارڈ شاندار ہے لیکن ایک بار جب سلیکٹرز نے اپنا ذہن بنا لیا تو شریاس ایئر بہترین انتخاب ہیں۔
راگھو نامی صارف نے لکھا کہ ایک ایسا کپتان جس کی کپتانی میں انڈین ٹیم کو بہت کم شکستوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بھی انھیں ہٹا دیا گیا اور اس کی وجہ ان کی اپنی خراب فارم تھی۔
سابق کرکٹر آکاش چوپڑا نے شریاس ایئر کو کپتانی ملنے پر کہا کہ ’یہ انڈین کرکٹ کے نئے دور کا آغاز ہے۔‘