ہردیپ سنگھ نجر کا قتل: امریکہ، یورپ اور کینیڈا میں انڈیا کے لارنس بشنوئی اور گولڈی برار گینگ کے 24 اراکین گرفتار

لارنس بشنوئی

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنلارنس بشنوئی 2015 سے جیل میں ہیں
    • مصنف, جیسکا مرفی
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

امریکی محکمۂ انصاف نے کہا ہے کہ امریکہ ، کینیڈا اور یورپ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انڈیا سے تعکق رکھنے والے جرائم پیشہ 24 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں 11 کیلیفورنیا سے ہیں۔

ان افراد پر انڈیا میں قائم تین بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں سے تعلق رکھنے کا الزام ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں لارنس بشنوئی گینگ کے ارکان بھی شامل ہیں۔ اس گینگ کے انڈیا سے روابط بتائے جاتے ہیں۔

حکام کے مطابق ان گروہوں پر کئی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے جن میں 2023 میں کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں ایک گرودوارے کے باہر سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کی مبینہ سازش کا معاملہ بھی شامل ہے۔

لاس اینجلس میں وفاقی استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں کئی برس پر محیط ایک تفتیش کے نتیجے میں عمل میں آئیں، جس میں انڈین جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا جائزہ لیا گیا۔ ان نیٹ ورکس پر ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور منشیات کی سمگلنگ کے الزامات ہیں۔

منگل کو منظر عام پر آنے والی تین فردِ جرموں میں مجموعی طور پر 37 افراد پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان میں دو ایسے افراد بھی شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ انڈیا میں قید ہونے کے باوجود اپنے جرائم پیشہ نیٹ ورکس چلا رہے تھے۔

حکام 10 مفرور افراد کی تلاش بھی کر رہے ہیں جن میں ممکنہ طور پر سات امریکہ، دو انڈیا اور ایک یورپ میں موجود ہے۔

فرسٹ اسسٹنٹ امریکی اٹارنی بل ایسلے نے کہا کہ ’خوف، منشیات اور تشدد پھیلانے والے بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کو قانون کی پوری طاقت اور وفاقی حکومت کے مکمل اختیارات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ ’جرائم پیشہ افراد کے لیے امریکہ میں کہیں بھی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے۔‘

امریکی اٹارنی بل ایسیلے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکی اٹارنی بل ایسیلے نے کہا کہ استغاثہ ان مجرمانہ تنظیموں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایف بی آئی کے لاس اینجلس فیلڈ آفس کے انچارج اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیٹرک گرانڈی نے کہا کہ یہ کارروائی تین ایسے بین الاقوامی گروہوں کے خلاف کی گئی ہے جن پر امریکہ اور دیگر ممالک میں تشدد کے ذریعے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کا الزام ہے۔

وفاقی استغاثہ نے 33 سالہ انڈین شہری لارنس بشنوئی اور 32 سالہ ستندرجیت سنگھ، المعروف گولڈی برار، پر 45 سالہ ہردیپ سنگھ نِجر کے قتل کا حکم دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

استغاثہ کی دستاویزات میں نجار کا حوالہ ’ایچ ایس این‘ کے نام سے دیا گیا ہے۔ گولڈی برار تاحال مفرور ہیں جبکہ لارنس بشنوئی 2015 سے انڈیا کی ایک جیل میں قید ہیں۔

منگل کے روز لاس اینجلس پولیس کے سربراہ جم میکڈونل نے کہا کہ یہ کارروائی منظم جرائم کے خلاف مقامی، وفاقی اور بین الاقوامی اداروں کے مشترکہ تعاون کی عکاس ہے۔

رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے کمشنر مائیک دوہیم نے اس حوالے سے کہا کہ بین الاقوامی جرائم سے نمٹنے کا مؤثر طریقہ مختلف اداروں کا مشترکہ تعاون ہے۔

ان کے مطابق اس کارروائی کے ذریعے ایسے جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیاں متاثر کی گئی ہیں جو قتل، تشدد اور خوف کے ذریعے لوگوں کو اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔

2023 میں قتل ہونے والے ہردیپ سنگھ نِجر کا پس منظر

 ہردیپ سنگھ ننجر

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشن2023 میں ہردیپ سنگھ ننجر کے قتل کے بعد ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے

45 سالہ ہردیپ سنگھ نِجر انڈیا کو کئی کیسوں میں مطلوب تھے کیونکہ وہ انڈیا کی مغربی ریاست پنجاب میں ایک علیحدہ سکھ ریاست کے حامی تھے اور وہ دنیا بھر میں اس کی حمایت میں آن لائن ریفرینڈم میں پیش پیش رہتے تھے۔

نجر کو تین سال قبل دو نقاب پوش حملہ آوروں نے وینکوور سے تقریباً 30 کلومیٹر مشرق میں سرے کے گرو نانک سکھ گوردوارے کی مصروف پارکنگ میں انھی کی کار میں گولی مار کرہلاک کیا گیا تھا۔

نجر نے ایک آزاد سکھ ریاست خالصتان کے لیے تحریک چلائی تھی اور جولائی سنہ 2020 میں انڈیا نے انھیں 'دہشت گرد' قرار دیا تھا اور ان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے کی انعامی رقم رکھی گئی تھی۔

انڈیا کے ان الزامات کو نِجر نے مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے کینیڈا میں پلمبنگ کا کام کرتے ہیں لیکن انھیں وہاں لوگ سکھ رہنما کے طور پر دیکھتے تھے۔

کینیڈا کی ورلڈ سکھ آرگنائزیشن کے مطابق انھیں ’ٹارگٹڈ شوٹنگ میں قتل‘ کيا گيا۔

ہردیپ سنگھ نِجر کا تعلق انڈین ریاست پنجاب کے جالندھر ضلع کے گاؤں بھرا سنگھ پورہ سے تھا۔ انڈین حکومت کے مطابق نِجر علیحدگی پسند تنظیم خالصتان ٹائیگر فورس کے سربراہ تھے اور خالصتان ٹائیگر فورس کے ماڈیول ارکان کو آپریشن، نیٹ ورکنگ، تربیت اور مالی مدد فراہم کرنے میں سرگرم تھے۔

پنجاب حکومت کے مطابق نیشنل انوسٹیگشن ایجنسی (این آئی اے) نے جالندھر کے پھیلور سب ڈویژن میں ان کے آبائی گاؤں بھرا سنگھ پورہ میں واقع نجر کی کل 11 کنال 13.5 مرلہ اراضی میں ضبط کر لی تھی۔

نجر سنہ 1997 میں کینیڈا چلے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کینیڈا آنے کے بعد کبھی انڈیا واپس نہیں گئے لیکن ان کے والدین کووڈ 19 لاک ڈاؤن سے پہلے آبائی گاؤں ضرور آئے تھے۔

انڈیا کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے الزام عائد کیا تھا کہ نجر مبینہ طور پر سنہ 2013-14 میں خالصتان ٹائيگر فورس (کے ٹی ایف) کے سربراہ جگتار سنگھ تارا سے ملنے کے لیے پاکستان گئے تھے۔

دوسری جانب لارنس بشنوئی پر جہاں پنجابی سنگر سدھو موسے والا کے قتل کا الزام ہے وہیں 2024 کے اپریل میں بالی وڈ اداکار سلمان خان کے گھر پر فائرنگ کے معاملے میں ممبئی پولیس نے جو چارج شیٹ جمع کروائی تھی میں لارنس بشنوئی کا نام بھی شامل ہے۔

لارنس بشنوئی کی تاریخِ پیدائش کے بارے میں ابہام موجود ہے تاہم اس وقت لارنس کی عمراندازاً 34 سال کے قریب ہے۔

لارنس بشنوئی ضلع فاضلکہ کے علاقے ابوہر کے رہائشی ہیں۔ لارنس بشنوئی نے سنہ 2011-2012 میں طلبا تنظیم 'پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹ آرگنائزیشن' بنائی۔ اور اسی سال ان کے خلاف پہلا مقدمہ درج کیا گیا۔

طلبہ سیاست میں شکست کے بعد لارنس کے ساتھی طلبہ نے ایک مخالف طلبہ رہنما پر فائرنگ کر دی۔ اس واقعے کے بعد درج ہونے مقدمے میں پہلی بار لارنس کا نام کسی پولیس ایف آئی آر میں آیا تھا۔

لارنس بشنوئی کو پہلی بار 2014 میں راجستھان سے گرفتار کیا گیا۔ انھیں گرفتاری کے بعد بھرت پور جیل بھیج دیا گیا۔

تاہم جب انھیں پیشی کے لیے موہالی (پنجاب) لے جایا جا رہا تھا تو وہ پولیس کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

انھیں دوسری مرتبہ سنہ 2016 میں گرفتار کیا گیا۔ سنہ 2021 میں انھیں مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ کے تحت سیکورٹی وجوہات کی بنا پر تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔

تہاڑ لائے جانے سے پہلے لارنس بشنوئی پنجاب کی بھٹنڈہ جیل میں قید تھے۔ سال 2022 میں، پنجاب پولیس نے انھیں جیل سے ہی سدھو موسے والا کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا۔

سال 2022 میں کچ میں پاکستانی جہاز سے منشیات کی ایک بڑی کھیپ پکڑے جانے کے بعد گجرات اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ نے لارنس بشنوئی کو منشیات کی سمگلنگ کے کیس میں نامزد کر دیا۔

اس کے بعد لارنس کو 23 اگست 2023 کو دہلی جیل سے گجرات کی سابرمتی جیل منتقل کردیا گیا۔

گولڈی برار جنھیں لارنس بشنوئی کے قریب جانا جاتا ہے

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق بشنوئی گروپ کے تقریباً 700 ارکان ہیں۔ اس گروپ میں پروفیشنل نشانے باز قاتل شامل ہیں اور یہ پنجاب، ہریانہ، دہلی، راجستھان اور ہماچل سمیت کئی علاقوں میں سرگرم ہے۔ اس گروپ کے اثرات دوسرے ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں جن میں کینیڈا بھی شامل ہے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق ستیندر سنگھ عرف گولڈی برار کو گینگسٹر لارنس بشنوئی کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔

گولڈی برارنے فیس بک کے ذریعے موسی والا کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس سے قبل فرید کوٹ کی ضلعی عدالت نے گولڈی کے خلاف یوتھ کانگریس لیڈر گرلال سنگھ پہلوان کے قتل کے سلسلے میں ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے۔

گولڈی کو گروگرام میں دوہرے قتل کیس میں بھی نامزد کیا گیا تھا۔