آبنائے ہرمز کو ’بائی پاس‘ کرنے والی فجیرہ بندرگاہ پر حملہ جو تیل کی عالمی منڈیوں میں تشویش کا باعث بنا

،تصویر کا ذریعہReuters
جب متحدہ عرب امارات نے پیر کو تصدیق کی کہ تیل کی برآمد کے لیے استعمال ہونے والی اس کی اہم بندرگاہ فجیرہ پر ایک ایرانی حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی ہے تو عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت پانچ فیصد اضافے کے ساتھ 115 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔
متحدہ عرب امارات میں تیل کے انفراسٹرکچر پر حملے کے بعد نہ صرف اماراتی حکام کی طرف سے سخت ردعمل دیا گیا ہے بلکہ عالمی سطح پر کئی ممالک بشمول پاکستان نے اس کی مذمت کی۔
فجیرہ آئل انڈسٹری مشرقِ وسطیٰ میں تیل ذخیرہ کرنے کی سب سے بڑی تنصیبات میں شامل ہے، جہاں تقریباً سات کروڑ بیرل تیل ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں روزانہ 10 کروڑ بیرل سے زائد تیل استعمال ہوتا ہے۔
خلیج عمان میں متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع فجیرہ بندرگاہ آبنائے ہرمز سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ ابو ظہبی کی بعض تیل کی تنصیبات سے بذریعہ پائپ لائن خام تیل فجیرہ سے ٹینکروں پر لاد دیا جاتا ہے اور عالمی منڈی میں اس کی ترسیل اسی بندرگاہ کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور حالیہ کشیدگی کے دوران جہاں تیل کی عالمی تجارت رکاوٹوں کا شکار رہی ہے تو وہیں فجیرہ بندرگاہ کی مدد سے تناؤ کے باوجود خام تیل کو ٹینکروں کے ذریعے کئی ملکوں کے لیے روانہ کیا جاتا رہا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ’پراجیکٹ فریڈم‘ کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد متحدہ عرب امارات اور جنوبی کوریا نے اپنے جہازوں پر حملوں کی اطلاعات دیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ واضح طور پر ’سیاسی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں۔‘
انھوں نے پراجیک فریڈم کو ’پراجیکٹ ڈیڈ لاک‘ قرار دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا متحدہ عرب امارات نے اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے 12 بیلسٹک میزائل، تین کروز میزائل اور چار ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اماراتی حکام کے مطابق فجیرہ بندرگاہ پر ایک حملے کے بعد آگ بھڑکنے سے تین افراد زخمی ہوئے۔ انڈین وزارت خارجہ کے مطابق یہ تین افراد انڈین شہری ہیں اور یہ کہ فجیرہ پر حملہ ’ناقابل قبول‘ ہے۔
ابو ظہبی نے ان حملوں کو ’خطرناک کشیدگی‘ سے تشبیہ دی اور کہا کہ اس کے پاس جوابی کارروائی کا حق ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے ایک فوجی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ ایران کا ’متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تیل کی عالمی منڈیاں فجیرہ بندرگاہ پر کتنا انحصار کرتی ہیں؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق فجیرہ نے گذشتہ سال اوسطاً یومیہ 17 لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل اور ریفائن شدہ ایندھن برآمد کیا جو عالمی یومیہ طلب کا تقریباً 1.7 فیصد بنتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی عملاً بندش کے بعد سے متبادل راستے محدود رہے ہیں۔ کپلر کے مطابق سعودی عرب میں بحیرۂ احمر کی طرف واقع ینبع بندرگاہ یومیہ 40 سے 45 لاکھ بیرل برآمد کر رہی ہے جبکہ فجیرہ سے تقریباً 15 لاکھ بیرل یومیہ برآمد کیے جا رہے ہیں۔
مگر اندازوں کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے یومیہ 80 لاکھ بیرل کی ترسیل نہیں ہو پا رہی۔
فجیرہ بندرگاہ خلیجِ عمان پر واقع ہے اور آبنائے ہرمز سے تقریباً 70 سمندری میل کے فاصلے پر ہے۔ چونکہ آبنائے ہرمز ایران جنگ کے باعث عملاً بند ہے، تو اس صورتحال میں عالمی منڈی کے لیے فجیرہ سے ہونے والی ترسیلات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
سنہ 2025 میں یہاں 74 لاکھ مکعب میٹر بحری ایندھن فروخت ہوا۔ یعنی یہ اس کے لیے سنگاپور، روٹرڈیم اور چین کے ژوشان کے بعد دنیا کی چوتھی بڑی بندرگاہ ہے۔
متحدہ عرب امارات جنگ سے قبل یومیہ 34 لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل پیدا کرتا تھا۔ اس کے پاس 15 لاکھ بیرل یومیہ صلاحیت کی پائپ لائن ہے، جو کچھ مقدار میں خام تیل کو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے منتقل کر سکتی ہے۔
ابوظہبی میں تیل کی تنصیبات سے خام تیل کو فجیرہ تک ابوظبی کروڈ آئل پائپ لائن (اے ڈی سی او پی) کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے جسے حبشان–فجیرہ پائپ لائن بھی کہا جاتا ہے۔
اس بندرگاہ سے یو اے ای گریڈ کا خام تیل ’مربان‘ مختلف ٹینکروں میں لوڈ کیا جاتا ہے اور یہ ٹینکر زیادہ تر ایشیائی ملکوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔
چونکہ آبنائے ہرمز کے راستے برآمدات بڑی حد تک بند ہیں اس لیے اگر فجیرہ میں بڑی سطح پر خلل پیدا ہوتا ہے تو اس سے متحدہ عرب امارات کی تیل کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
فجیرہ بندرگاہ میں ایک کروڑ 80 لاکھ مکعب میٹر ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ یعنی یہ خام تیل اور ایندھن کے ذخیرے کے ساتھ ساتھ بلینڈنگ کے لیے دنیا کے بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔
تیل کی صنعت میں بلینڈنگ سے مراد مختلف پیٹرولیئم مصنوعات جیسے پیٹرول یا بنکر فیول بنانے کے لیے معیار کے مطابق مختلف اجزا کو ملایا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں آئل سٹوریج کی بڑی کمپنیاں جیسے وی ٹی ٹی آئی، ویٹول، ادنوک اور ووپیک اس بندرگاہ پر کام کرتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کے لیے فجیرہ آئل انڈسٹری میں سب سے زیادہ کمرشل سٹوریج کی صلاحیت ہے۔
بدھ کو آئل سٹوریج کی کمپنی ووپیک نے کہا کہ فجیرہ میں آگ لگنے کے بعد جہازوں پر لوڈنگ کے آپریشنز کو معطل کیا جا رہا ہے جبکہ اس کا ٹرمینل آپریشنل ہے۔ جبکہ منگل کو وی ٹی ٹی آئی نے کہا کہ اس کے ٹرمینل پر آپریشنز معطل ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTASNIM
پاسداران انقلاب کا نیا نقشہ اور فجیرہ آئل انڈسٹری پر حملہ کیا ظاہر کرتے ہیں؟
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس کی جانب سے برآمدات کے راستے کھلنے پر ابو ظہبی میں تیل کی پیداوار بڑھائی جا سکے۔
متحدہ عرب امارات تیل کی پائپ لائن کے انفراسٹرکچر کو بھی وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ اس کے پاس برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز کے متبادل راستے ہوں۔
مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر اور جرمن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ سکیورٹی افیئرز سے وابستہ حامد رضا عزیزی نے اخبار والسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ اس حملے کا مقصد ’برآمدات کے متبادل راستوں پر خطرہ برقرار رکھنا، تیل کی قیمتوں کو بڑھانا اور اس تاثر کو رد کرنا ہے کہ حالات معمول پر آ چکے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ پیغام یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کھولنے کے مشن کی ’قیمت چکانی پڑے گی۔‘
اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ فجیرہ آئل انڈسٹری میں کس ٹرمینل کو نشانہ بنایا گیا تاہم بلومبرگ کے مطابق یہ حملہ وی ٹی ٹی آئی کی تنصیبات پر ہوا جبکہ کمپنی کی طرف سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے 4 مئی کو آبنائے ہرمز کا ایک نقشہ جاری کیا تھا، جس میں اس کے بقول ایرانی فورسز کے زیرِ کنٹرول علاقے ظاہر کیے گئے ہیں۔
اس نقشے میں ایران میں واقع کوہ مبارک سے لے کر متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کے جنوب تک ایک لکیر کھینچی گئی ہے اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ سمندری حدود ایرانی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔ جبکہ آبنائے ہرمز کے دوسری جانب ایران میں واقع جزیرہ قاسم سے متحدہ عرب امارات کے شہر ساحلی شہر ام القیوین تک لکیر کھینچی گئی ہے۔
اس ایرانی نقشے میں متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں فجیرہ اور خورفکان کی شمولیت نے تشویش کی نئی لہر پیدا کی ہے۔ اگر ایران ان بندرگاہوں پر اپنا کنٹرول نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو یہ متحدہ عرب امارات خلیج کا سمندری محاصرہ تصور کیا جائے گا۔
عرب لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل حسام زکی نے بی بی سی ریڈیو فور سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فجیرہ آئل پورٹ پر حملہ ’انتہائی افسوسناک پیش رفت‘ ہے۔ ان کے مطابق ایران کا یہ اقدام ’نازک جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈالنے‘ کے مترادف ہے۔
جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار ہے تو وہیں حسام زکی نے کہا کہ عرب ریاستوں کا اتحاد ان مذاکرات کے ذریعے ایسا حل چاہتا ہے جس کے ذریعے آبنائے سے گزرنے والے تمام جہاز محفوظ رہیں۔
فجیرہ بندرگاہ کی پاکستان کے لیے کیا اہمیت ہے؟
پاکستان میں تیل اور گیس کے شعبے سے وابستہ اسامہ قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب بھی آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل رکاوٹوں کا شکار ہو تو فجیرہ بندرگاہ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کیونکہ اسی متبادل راستے سے پاکستان کے لیے کئی کارگو لوڈ ہوتے رہے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان حالیہ بحران کے دوران خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے لیے متحدہ عرب امارات میں فجیرہ اور سعودی عرب میں ینبیع بندرگاہوں پر انحصار کر رہا ہے۔
ان کے مطابق ان دونوں میں سے فجیرہ بندرگاہ پاکستان کے لیے ’قدرے تیز راستہ ہے‘ جہاں سے کارگو کراچی تک پہنچنے میں ’صرف تین دن لگتے ہیں۔‘
جبکہ بحیرۂ احمر میں واقع ینبیع سے کراچی تک کارگو پہنچنے میں اس سے زیادہ دن درکار ہوتے ہیں۔
گذشتہ ہفتے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تیل و گیس شعبے کے ماہر زاہد میر نے بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بعد اگر فجیرہ اور ینبیع بندرگاہوں پر تناؤ بڑھتا ہے تو پاکستان کے لیے خام تیل درآمد کرنا مزید مشکل ہو جائے گا کیونکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستانی ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے طویل مدتی معاہدے ہیں۔
انھوں نے بتایا تھا کہ ان بندرگاہوں کی بندش کی صورت میں پاکستان کو عالمی منڈیوں سے خام تیل خریدنا پڑے گا جو نہ صرف مہنگا ہو گا بلکہ اس میں وقت میں بھی کہیں زیادہ لگے گا۔

























