امریکہ میں لارنس بشنوئی پر مقدمہ: کیا انڈیا اپنی جیلوں میں قید ملزمان کو امریکہ کے حوالے کر سکتا ہے؟

    • مصنف, برندر سنگھ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

امریکہ نے بشنوئی گینگ سمیت تین منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے 24 مشتبہ افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔ امریکی تحقیقاتی اداروں کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی منظم جرائم، منشیات کی سمگلنگ، بھتہ خوری، قتل اور خالصتانی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سمیت متعدد مقدمات کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی ہے۔

امریکی وفاقی وکلا کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد پر الزام ہے کہ وہ انڈیا میں سرگرم تین جرائم پیشہ تنظیموں، جن میں بشنوئی گینگ بھی شامل ہے، سے منسلک ہیں۔ یہ گرفتاریاں امریکہ، کینیڈا اور یورپ کے مختلف علاقوں میں کی گئی ہیں۔ اس کارروائی کی تفصیلات امریکی ریاست کیلیفورنیا کے اٹارنی آفس کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔

تاہم اس پیش رفت کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں کئی اہم سوالات زیرِ بحث ہیں۔ مثلاً کیا انڈیا کی جیل میں قید کسی مجرم کو امریکہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے؟

جب ہردیپ سنگھ نجر کا قتل کینیڈا میں ہوا تھا تو امریکی عدالتیں اس معاملے میں کس بنیاد پر کارروائی کر سکتی ہیں؟

کیا اس کارروائی کے اثرات انڈیا اور امریکہ کے سفارتی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں؟

اس رپورٹ میں ہم انہی سوالات کا جائزہ لیتے ہوئے قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی تعاون کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

کیا انڈین جیلوں میں بند مجرم کو امریکہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے؟

اس مقدمے سے متعلق امریکی عدالت میں دائر تین الگ الگ چارج شیٹس میں مجموعی طور پر 37 ملزمان پر مختلف نوعیت کے سنگین جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان ملزمان میں دو ایسے افراد بھی شامل ہیں جن پر یہ الزام ہے کہ وہ انڈیا کی جیلوں میں قید ہونے کے باوجود اپنے مبینہ بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرتے رہے۔

امریکی استغاثہ کے مطابق پنجاب سے تعلق رکھنے والے لارنس بشنوئی اور ستھیندرجیت سنگھ عرف گولڈی برار پر خالصتانی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی سازش اور اس کے لیے ہدایات جاری کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ لارنس بشنوئی اس وقت گجرات کے شہر احمد آباد میں واقع سابرمتی جیل میں قید ہیں، جبکہ گولڈی برار کو انڈین اور کینیڈین حکام پہلے ہی مختلف مقدمات میں مطلوب قرار دے چکے ہیں۔

25 جون کو وفاقی گرینڈ جیوری کی جانب سے جاری کی جانے والی سات نکاتی فردِ جرم میں 17 ملزمان پر ایک ایسے مجرمانہ نیٹ ورک کو چلانے کا الزام لگایا گیا ہے جو مبینہ طور پر امریکہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں قتل کی وارداتوں، منشیات کی سمگلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، اسلحہ کی غیر قانونی ترسیل اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے۔

امریکی فردِ جرم میں جن افراد کے نام بین الاقوامی منظم جرائم، منشیات کی سمگلنگ، بھتہ خوری، قتل اور ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سمیت مختلف مقدمات کے سلسلے میں سامنے آئے ہیں، ان میں دو نمایاں نام لارنس بشنوئی اور جگگو بھگوان پوریا کے ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ گروہ سرحدوں سے ماورا جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث رہے اور مختلف ممالک میں اپنے مبینہ اثر و رسوخ کے ذریعے جرائم کے نیٹ ورک چلاتے رہے۔

ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد یہ سوال مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اگر کسی ملزم پر امریکہ میں فردِ جرم عائد ہو اور وہ کسی دوسرے ملک، خصوصاً انڈین کی جیل میں قید ہو، تو کیا اسے امریکی عدالتوں میں پیش کرنے کے لیے حوالگی ممکن ہے یا نہیں۔ اسی طرح یہ معاملہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کہ نجر کا قتل کینیڈا میں ہوا تھا، جبکہ اس کی تحقیقات اور مبینہ سازش سے متعلق عناصر اب امریکی عدالتی دستاویزات میں بھی شامل ہو رہے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انڈیا کی جیلوں میں بند ملزمان کو امریکہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے؟

مختصر جواب یہ ہے کہ ہاں، ایسا ممکن ہے، لیکن اس کا قانونی عمل عموماً طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے۔

انڈیا اور امریکہ کے درمیان سنہ 1997 میں حوالگیِ ملزمان کا معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق کسی شخص کی حوالگی اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے جب اس پر عائد کیا گیا جرم دونوں ممالک کے قوانین کے تحت قابلِ سزا ہو اور اس کی زیادہ سے زیادہ سزا کم از کم ایک سال یا اس سے زیادہ ہو۔

حوالگی کی درخواست براہِ راست نہیں بلکہ سفارتی ذرائع کے ذریعے متعلقہ حکومت کو بھیجی جاتی ہے۔ اس عمل کے دوران درخواست گزار ملک کو متعدد قانونی دستاویزات فراہم کرنا ہوتی ہیں، جن میں فردِ جرم، گرفتاری کے وارنٹ، جرم کی تفصیلات، متعلقہ قانونی دفعات، ممکنہ سزاؤں کی معلومات اور ایسے شواہد شامل ہوتے ہیں جو مقدمے کی بنیاد کو تقویت دیتے ہوں۔

اگر متعلقہ شخص پہلے ہی کسی عدالت سے مجرم قرار دیا جا چکا ہو تو حوالگی کی درخواست کے ساتھ عدالتی فیصلے کی مصدقہ نقل یا کسی مجاز عدالتی افسر کا بیان بھی شامل کرنا ضروری ہوتا ہے، جس سے ثابت ہو کہ ملزم کو سزا سنائی جا چکی ہے۔

فوجداری مقدمات کے ماہر وکیل ایڈووکیٹ نکھل سراف نے اس معاملے پر بی بی سی پنجابی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان حوالگی کا باضابطہ معاہدہ موجود ہے، جس کے تحت امریکہ کسی بھی مطلوب شخص کی حوالگی کے لیے انڈیا سے درخواست کر سکتا ہے۔ بعد ازاں انڈین عدالتیں اور انڈین حکومت قانون کے مطابق اس درخواست کا جائزہ لیتی ہیں۔

نکھل سراف کے مطابق یہ ایک پیچیدہ اور وقت طلب عمل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی رفتار کا انحصار بڑی حد تک حکومتی مؤقف اور ترجیحات پر ہوتا ہے۔ اگر دونوں حکومتیں کسی معاملے کو آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہوں تو قانونی کارروائی نسبتاً تیز ہو سکتی ہے، لیکن اگر اس حوالے سے تحفظات یا اختلافات موجود ہوں تو مقدمات کئی برس تک عدالتوں میں زیرِ سماعت رہ سکتے ہیں۔

ان کے بقول، ’یہ کہنا مشکل ہے کہ کسی بھی ملزم کی حوالگی کتنے عرصے میں مکمل ہوگی، تاہم ایک بات واضح ہے کہ حوالگی کا عمل عموماً فوری نہیں ہوتا اور اس میں قانونی و سفارتی مراحل طے کرنا پڑتے ہیں۔‘

اگر قتل کینیڈا میں ہوا تو امریکہ میں مقدمہ کیسے درج ہو سکتا ہے؟

امریکی وفاقی استغاثہ اور فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) نے ’آپریشن ہارڈبال‘ کے تحت بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف تین الگ الگ فردِ جرمیں دائر کی ہیں۔ یہ کارروائی امریکہ، کینیڈا اور یورپ کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے باہمی تعاون سے کی گئی ایک بڑی مشترکہ مہم کا حصہ ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ان مقدمات میں خالصتان کے حامی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ نجر کینیڈا میں مقیم تھے اور 18 جون 2023 کو برٹش کولمبیا کے شہر سرّی میں ایک گوردوارے سے باہر نکلتے وقت نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی فردِ جرم میں لارنس بشنوئی اور گولڈی برار پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے نجر کے قتل کا حکم دیا تھا۔ استغاثہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ بشنوئی گینگ نے ممتاز مذہبی اور سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا، جبکہ مختلف ممالک میں کمیونٹی کے افراد سے مبینہ طور پر بھتہ وصول کرنے کی کوشش کی۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق بشنوئی، برار اور دیگر ملزمان پر کیلیفورنیا میں بھی متاثرین سے بھتہ طلب کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ہردیپ سنگھ نجر کا قتل کینیڈا میں ہوا تو امریکی عدالتیں اس معاملے میں کس بنیاد پر کارروائی کر سکتی ہیں؟

قانونی ماہرین کے مطابق اس کا مختصر جواب ہاں میں ہے۔

امریکی فردِ جرم کے مطابق متعلقہ گروہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کی مبینہ سرگرمیوں میں امریکہ کے اندر بھتہ خوری، منشیات کی سمگلنگ اور دیگر منظم جرائم بھی شامل تھے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ نجر کا قتل اسی وسیع تر مجرمانہ نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا حصہ تھا، لہٰذا اسے مجموعی مقدمے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکی قانون کے تحت یہ ضروری نہیں کہ ہر جرم امریکی سرزمین پر ہی سرزد ہوا ہو۔ اگر کسی منظم جرائم پیشہ تنظیم کی سرگرمیوں کا امریکہ سے براہِ راست تعلق ہو یا ان کے اثرات امریکی حدود تک پہنچتے ہوں، مثلاً لاس اینجلس میں مبینہ بھتہ خوری، امریکہ میں مالی لین دین یا امریکہ۔کینیڈا سرحد کے ساتھ منشیات کی سمگلنگ، تو بعض حالات میں امریکی عدالتیں بیرونِ ملک انجام دی گئی کارروائیوں کو بھی اپنے دائرۂ اختیار میں شامل کر سکتی ہیں۔

اسی بنیاد پر امریکی استغاثہ کا مؤقف ہے کہ اگر کسی بین الاقوامی مجرمانہ تنظیم کی مختلف سرگرمیاں ایک ہی نیٹ ورک کا حصہ ہوں تو اس نیٹ ورک سے منسلک بیرونِ ملک جرائم بھی امریکی مقدمات میں بطور ثبوت یا الزامات شامل کیے جا سکتے ہیں، خواہ ان میں سے بعض واقعات امریکہ سے باہر ہی کیوں نہ پیش آئے ہوں۔

امریکہ نے بیرونِ ملک موجود گینگ رہنماؤں پر الزامات کیوں عائد کیے؟

اس فردِ جرم میں ملزمان پر متعدد سنگین جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں دھوکہ دہی کی سازش، ہوبز ایکٹ کے تحت بھتہ خوری کی کوشش، ممنوعہ منشیات کی تقسیم اور تقسیم کی نیت سے رکھنے کی سازش، کوکین کی ترسیل، بغیر لائسنس اسلحے کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کی سازش اور مشین گن رکھنے جیسے الزامات شامل ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزمان نے امریکی سرزمین پر منظم مجرمانہ سرگرمیاں چلائیں، جبکہ ان گروہوں کے متعدد ارکان امریکہ میں موجود رہے اور مبینہ طور پر مختلف جرائم میں ملوث تھے۔

ایف بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ لارنس بشنوئی جیل میں قید ہونے کے باوجود اپنے سیل سے دنیا بھر میں پھیلے مجرمانہ نیٹ ورک کی قیادت کرتا رہا۔ امریکی حکام کے مطابق وہ جیل میں سمگل کیے گئے غیر قانونی موبائل فونز اور وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول آلات کے ذریعے اپنے ساتھیوں سے رابطے میں رہتا تھا اور مبینہ طور پر جرائم پیشہ سرگرمیوں کی نگرانی کرتا تھا۔

امریکی وفاقی وکلا کا کہنا ہے کہ ملزمان کو صرف کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے متعلق الزامات کی بنیاد پر نامزد نہیں کیا گیا، بلکہ امریکہ کے اندر مبینہ طور پر کیے گئے سنگین جرائم کو بھی فردِ جرم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

فردِ جرم کے مطابق اگرچہ بعض گینگ رہنما امریکہ سے باہر موجود تھے، تاہم ان کے روابط امریکہ کے اندر سرگرم افراد سے تھے اور ان گروہوں کے متعدد مبینہ ساتھی وہاں اپنی مجرمانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو صرف ایک ملک تک محدود جرائم کے بجائے ایک بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورک کے طور پر دیکھا گیا۔

اسی تناظر میں امریکہ نے کینیڈا اور یورپ سمیت مختلف ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کارروائی کی۔ حکام کے مطابق اس مشترکہ آپریشن کا مقصد سرحدوں سے ماورا پھیلے ایسے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا تھا جو مختلف ممالک میں بیک وقت سرگرم تھے۔

یونائیٹڈ سٹیٹس اٹارنی آفس کی ویب سائٹ کے مطابق رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے کمشنر مائیک ڈوہیم نے کہا کہ ’بین الاقوامی جرائم سے نمٹنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے مختلف ادارے مل کر مجرموں کو وہاں نشانہ بنائیں جہاں سے وہ اپنے آپریشن چلا رہے ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے مشترکہ کارروائی کے ذریعے منظم جرائم پیشہ عناصر کی ان سرگرمیوں کو ناکام بنایا ہے جن کے ذریعے کینیڈا اور امریکہ میں لوگوں سے بھتہ وصول کیا جاتا تھا اور انہیں خوف و ہراس میں رکھنے کے لیے قتل، تشدد اور دھمکیوں کا سہارا لیا جاتا تھا۔ ہم کینیڈا، امریکہ اور دنیا بھر میں عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔‘

انڈیا-امریکہ کے تزویراتی تعلقات پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟

اس سوال پر بی بی سی کے معاون رویندر سنگھ رابن نے گرو نانک دیو یونیورسٹی کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ ڈاکٹر راجیش کمار سے خصوصی گفتگو کی۔

ڈاکٹر راجیش کمار کے مطابق اگر اس معاملے میں انڈیا امریکہ کی حوالگی کی درخواست پر عمل کرتا ہے تو اس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا اور امریکہ کے درمیان حوالگیِ ملزمان کا باضابطہ معاہدہ موجود ہے، اس لیے دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ قانونی تعاون کے پابند ہیں۔ امریکی انتظامیہ بھی یہ جانتی ہے کہ ایسے معاملات انڈیا کے لیے حساس نوعیت رکھتے ہیں۔‘

ان کے مطابق اس نوعیت کے معاملات میں سیاسی اور سفارتی پہلو بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

’اگر کوئی ملک ایسے عناصر کے خلاف کارروائی نہ کرے تو اندرونِ ملک سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض حلقے یہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ امریکہ انڈیا کے داخلی معاملات میں اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم دوسری جانب دونوں ممالک کو اپنے دوطرفہ معاہدوں اور قانونی ذمہ داریوں کا بھی احترام کرنا ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر راجیش کمار کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی امریکہ اور انڈیا کے درمیان سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کی مثالیں موجود ہیں۔ ان کے مطابق ڈیوڈ ہیڈلی کا معاملہ اس تناظر میں ایک اہم حوالہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ڈیوڈ ہیڈلی کے کیس میں امریکہ نے انڈیا کے ساتھ تعاون کیا تھا۔ ایسے سابقہ تجربات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے اگر موجودہ کیس میں بھی قانونی تعاون آگے بڑھتا ہے تو اسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔‘

تاہم یہاں ایک اہم حقیقت کا ذکر ضروری ہے کہ 2008 کے ممبئی حملوں کے مرکزی ملزمان میں شامل ڈیوڈ ہیڈلی کو امریکہ نے انڈیا کے حوالے نہیں کیا تھا۔ ہیڈلی نے امریکی حکام کے ساتھ ایک پلی بارگین معاہدہ کیا تھا، جس کے بعد وہ امریکہ ہی میں قید رہا۔ البتہ اس نے امریکی جیل سے تفتیش اور عدالتی کارروائیوں کے دوران انڈین تحقیقاتی اداروں کو معلومات فراہم کیں اور مختلف مقدمات میں تعاون بھی کیا۔

اسی لیے قانونی ماہرین کے مطابق ڈیوڈ ہیڈلی کا کیس مکمل حوالگی کی مثال نہیں، بلکہ اسے امریکہ اور انڈیا کے درمیان عدالتی اور تحقیقاتی تعاون کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔