آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
40 سال کی عُمر میں ریٹائرمنٹ: ’ہم نے اپنی جلد آزادی کے لیے باہر کے بجائے گھر کا کھانا کھایا‘
برطانیہ کے جنوبی علاقے میں رہنے والے ایلن اور کیٹی ڈونیگن ہر موسمِ سرما میں اپنے گھر کا ہیٹنگ سسٹم چلانے سے گریز کرتے تھے۔
ایلن ڈونیگن کہتے ہیں کہ ’اس کے بجائے ہم زیادہ گرم کپڑے پہنتے، گرم پانی کی بوتلیں استعمال کرتے اور اسے ایک کھیل کی شکل دے دیتے تھے۔ یہ ہمارے لیے تکلیف کا باعث نہیں بلکہ ایک حکمتِ عملی تھی۔‘
اگرچہ یہ دونوں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بہت سے لوگ ان کے پیسہ خرچ نہ کرنے کو جنون، ایک انتہا پسند سوچ یا پھر ایک پاگل پن سمجھتے تھے، تاہم ایلن کے مطابق ’ہماری پوری توجہ مالی طور پر مستحکم ہونے اور مُشکل حالات سے آزادی حاصل کرنے پر مرکوز تھی۔‘
ان کے بقول ’مالی طور پر خوش حالی اور آزادی‘ سے مراد وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ تھی اور وہ یہ ہدف سات برس قبل حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، جب ایلن کی عمر صرف 40 برس جبکہ کیٹی کی عمر 35 برس تھی تو وہ دونوں مالی طور پر مستحکم اور آزاد تھے۔
یہ جوڑا شاذ و نادر ہی باہر سے کھانا منگواتا تھا اور ہمیشہ گھر سے تیار کیا ہوا کھانا اپنے ساتھ دفتر لے جاتا تھا۔
ایلن کا کہنا ہے کہ ’صرف گھر کا کھانا ساتھ لے جانے کی اس ایک عادت کی بدولت ہم نے دس برسوں میں تقریباً 53 ہزار امریکی ڈالر کی بچت کی۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’ہم اپنے موبائل فون بھی اکثر گھر سے باہر چارج کرتے تھے اور سپر مارکیٹ کے وہ رعایتی کوپن بھی تلاش کرتے تھے جو دوسرے لوگ پھینک دیتے تھے۔ آپ چاہیں تو اسے پاگل پن کہیں یا ذہانت، لیکن ہمارے لیے یہ طریقہ کارآمد ثابت ہوا۔‘
ایلن نے پرسنل ٹریننگ اور کوچنگ کا کاروبار شروع کرنے سے پہلے لینڈ سکیپر کے طور پر کام کیا جبکہ کیٹی ایک مالیاتی ادارے میں مالی خطرات کا تجزیہ کرنے اور اندازہ لگانے کی ماہر ہوتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں کی اچھی آمدنی کے ساتھ ساتھ غیر معمولی بچت کی عادت نے انھیں کم عمری میں ریٹائر ہونے کا موقع فراہم کیا، کیونکہ وہ اپنی ممکنہ حد تک زیادہ رقم بچاتے اور مختلف جگہوں پر سرمایہ کاری کرتے رہے۔
کیٹی کہتی ہیں کہ ’ہماری جانب سے لگایا گیا ہر پاؤنڈ ہمیں اُس زندگی کے مزید قریب لے جاتا تھا جس کے ہم خواب دیکھ رہے تھے۔‘
انھوں نے اُس وقت ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کیا جب ان کی مجموعی بچت 10 لاکھ برطانوی پاؤنڈ یعنی تقریباً 13 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ چُکی تھی۔
’مالی خودمختاری اور جلد ریٹائرمنٹ‘
ایلن اور کیٹی ایک ایسی چھوٹی مگر تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی تحریک کا حصہ ہیں جسے ’مالی خودمختاری اور جلد ریٹائرمنٹ‘ یعنی ’فائر‘ فائنینشل انڈیپینڈینس، ارلی ریٹائرمنٹ کہا جاتا ہے۔
جو تصور 15 برس پہلے تک بہت کم لوگوں میں مقبول تھا، آج سوشل نیٹ ورک ریڈٹ کے مرکزی ’فائر‘ فورم پر تقریباً 10 لاکھ لوگ اس کا حصہ ہیں۔ یہاں تک کہ روایتی مالیاتی ادارے بھی اب اس موضوع پر متعدد رہنما کتابچے شائع کر رہے ہیں۔
اس تحریک کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ملازمت کے دورانیے میں انتہائی کفایت شعاری کے ساتھ زندگی گزاری جائے تاکہ ممکن ہو تو کم سے کم عمر میں کام سے ریٹائرمنٹ حاصل کی جا سکے۔
تاہم زیادہ تر لوگوں کے لیے کم عمری میں ملازمت چھوڑ دینا محض ایک خواب ہی رہتا ہے۔
موجودہ دور میں زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، آسمان کو چھوتی رہائشی قیمتوں اور طلبہ کے قرضوں کے باعث لوگوں کو کام کم نہیں بلکہ زیادہ عرصے تک کرنا پڑ رہا ہے۔ اعداد و شمار بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال برطانیہ میں ریٹائرمنٹ کی اوسط عمر ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی، جہاں مردوں کے لیے یہ 65 سال اور خواتین کے لیے 64 سال رہی۔
امریکہ میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ ایک طویل مدتی تحقیق کے مطابق 1990 کی دہائی سے مردوں اور خواتین دونوں کی اوسط ریٹائرمنٹ عمر میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جو 2025 میں بالترتیب 64 سال اور 63 سال تک پہنچ گئی۔
تاہم فائر نامی تحریک سے وابستہ افراد، جیسے 49 سالہ ایمی منکلی اپنے مقصد کے حصول کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔
امریکی ہائی سکول ٹیچر ایمی منکلی صرف 44 برس کی عمر میں ریٹائر ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔
اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے جاپان، سنگاپور، انڈیا اور تھائی لینڈ کے نجی بین الاقوامی سکولوں میں ملازمت کی۔ ان کے مطابق ان ممالک میں انھیں زیادہ آمدنی حاصل ہوئی اور اپنے آبائی علاقے ٹیکساس کے مقابلے میں زندگی گزارنے کے اخراجات بھی بہت کم تھے۔
اس کے علاوہ انھوں نے اپنے اخراجات کو ممکنہ حد تک کم رکھا۔ منکلی کہتی ہیں کہ ’مجھے عام غیر ملکی طرزِ زندگی اپنانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ ’میں نے شاذ و نادر ہی مہنگے کپڑے خریدے، الیکٹرانک آلات کو اس وقت تک استعمال کیا جب تک وہ خراب نہ ہو گئے، زیادہ تر کھانا گھر پر تیار کیا اور کسی بھی بڑی خریداری سے پہلے اچھی طرح سوچا کہ آیا انھیں ان کی ضرورت ہے بھی کہ نہیں۔‘
ان کے مطابق ’سنگاپور اور انڈیا میں رہائش شیئر کرنے سے مجھے مزید بچت کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ ان میں سے کئی ممالک میں مجھے گاڑی کی ضرورت نہیں تھی، جس سے میرے اخراجات قابو میں رہے۔‘
منکلی اس وقت بالی میں رہتی ہیں جہاں ان کے پیسے کی قدر امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
تاہم، یہ راستہ ہر شخص کے لیے موزوں نہیں ہے
کیرول شلیف کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں قائم مالیاتی مشاورتی ادارے بی ایم او پرائیویٹ ویلتھ کی چیف مارکیٹ اسٹریٹجسٹ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ فائر تحریک اب بھی بہت سے لوگوں کے لیے ایک قابلِ عمل راستہ ہے تاہم ان کے زیادہ تر گاہک جلد از جلد ریٹائر ہونے کے بجائے کام اور نجی زندگی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’لوگ اب اس کے بجائے کہ جلدی ملازمت چھوڑنے کی دوڑ میں شامل ہوں، ایسی حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں جس میں ایک بامقصد پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ اپنی مالی حیثیت کے مطابق بہتر طرزِ زندگی گزار سکیں۔
شلیف کہتی ہیں کہ ’اگر آپ جلد ریٹائر ہو جائیں لیکن آپ کے پاس دوستیاں، اچھی صحت یا زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو تو آپ نے ایک ہدف تو حاصل کر لیا، لیکن اس کے بدلے میں دوسری اہم چیزیں قربان کر دیں۔ یہ سوال کرنا ضروری ہے کہ کیا واقعی یہ اس کے قابل ہے؟‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’آج لوگ ہر معاملے میں سہولت ڈھونڈتے ہیں۔ وہ ایسے طریقے تلاش کر رہے ہیں جن سے ریٹائرمنٹ کے اہداف بھی حاصل کیے جا سکیں اور زندگی سے لطف اندوز بھی ہو سکیں۔‘
برطانوی سرمایہ کاری پلیٹ فارم اے جے بیل میں پرسنل فائنینس کی سربراہ سارہ کولز خبردار کرتی ہیں کہ ’فائر کے فلسفے پر مکمل عمل کرنا اب پہلے سے زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ زیادہ تر لوگ اس طرزِ زندگی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’فائر کے کئی اصول اب بھی مفید ہیں اور لوگوں کو نسبتاً جلد ریٹائرمنٹ حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کم عمری سے بچت شروع کرنا اور ہر تنخواہ میں اضافے کے بعد ریٹائرمنٹ کے لیے مختص رقم بڑھانا۔‘
سارہ کولز کے مطابق ’ایک متوازن راستہ آپ کو اپنی مرضی کے وقت پر ریٹائرمنٹ حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے، بغیر اس کے کہ آپ اپنی زندگی کی خوشیوں سے محروم ہو جائیں۔ اس کے لیے صرف زیادہ حقیقت پسندانہ اور سوچ سمجھ کر حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔‘
فائر کمیونٹی میں اب کچھ لوگ نسبتاً کم سخت راستہ اختیار کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اس تحریک کے اندر نئی ذیلی اقسام سامنے آئی ہیں، جن میں ’فائر بیرسٹا‘ بھی شامل ہے۔
اس طریقۂ کار کے تحت لوگ اتنی بچت کرتے ہیں کہ ان کی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی روزمرہ اخراجات کا زیادہ تر حصہ پورا کر سکے، جبکہ باقی ضروریات پوری کرنے کے لیے جز وقتی کام جاری رکھتے ہیں۔
تاہم فائر تحریک پر عمل کرنے والے بعض لوگوں کے لیے اب بھی انتہائی کفایت شعاری جلد ریٹائرمنٹ حاصل کرنے کی بنیادی حکمتِ عملی ہے اور وہ طویل مدت میں اس قربانی کو فائدہ مند سمجھتے ہیں۔
ایمی منکلی کے مطابق ’فائر کے اصول سادہ ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اپنی آمدنی سے کم خرچ کریں، بچ جانے والی رقم کو سرمایہ کاری میں لگائیں اور اپنی دولت کو بڑھنے کے لیے وقت دیں۔‘