ڈیانا کی موت کی خبر سن کر چارلس ’اتنے خوش‘ سنائی دیے جیسے ان کی ’لاٹری نکل آئی ہو‘، شہزادی کے بھائی کا دعویٰ

    • مصنف, پیٹرک جیکسن
    • مصنف, شان کفلن
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

ویلز کی شہزادی ڈیانا کے بھائی ارل سپینسر نے دعویٰ کیا ہے کہ 1997 میں اپنی بہن کی موت کے بعد جب ان کی کنگ چارلس سے فون پر بات ہوئی تو وہ ’حد درجہ خوش‘ لگ رہے تھے۔ ڈیانا کے بارے میں شائع ہونے والی ایک متنازع کتاب میں سپینسر نے الزام عائد کیا ہے کہ اُس وقت کے پرنس چارلس خبر سنانے کے بعد ایسے لگ رہے تھے جیسے کسی شخص کی ’لاٹری نکل آئی ہو‘۔

بدھ کے روز بکنگھم پیلس نے کتاب کی ساکھ پر سخت اعتراض کیا۔ کتاب کے ایک ابتدائی اقتباس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ چارلس نے ڈیانا کے بارے میں کہا تھا کہ ’ہم جلد ہی اُسے بھول جائیں گے۔‘

محل کے ترجمان نے کہا کہ ’اگرچہ ہم اصولی طور پر کتابوں پر تبصرہ نہیں کرتے، تاہم شاہ چارلس اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ بہن یا بھائی کے بچھڑ جانے کا غم انسان کی یادداشت، سوچ اور فیصلوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ ایسے صدمے کے برسوں بعد بھی واقعات کی یاد مختلف انداز میں ذہن میں نقش رہ سکتی ہے، جسے دوسرے لوگ ضروری نہیں کہ اسی طرح محسوس کریں۔‘

تازہ الزامات کو کنگ چارلس اور شاہی خاندان پر ایک اور نہایت ذاتی نوعیت کا حملہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں ان کے طرزِ عمل اور محرکات کی سخت انداز میں تشریح کی گئی ہے۔

یہ دعوے بنیادی طور پر ارل سپینسر کی اپنی یادداشتوں پر مبنی ہیں، جو تقریباً 30 برس قبل اپنی بہن کی وفات کے بعد کے جذباتی اور ہنگامہ خیز دنوں میں ہونے والی گفتگوؤں سے متعلق ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام ان الزامات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ آیا وہ اس کتاب کو سپینسر خاندان کے مؤقف کی ایک نئی جھلک سمجھ کر قبول کرتے ہیں یا پھر اسے نجی خاندانی اختلافات کو دوبارہ عوامی سطح پر لانے کی ایک نامناسب کوشش قرار دیتے ہیں۔

دوسری جانب پرنس ہیری کے نمائندوں نے کہا ہے کہ وہ اس کتاب پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے، جبکہ بکنگھم پیلس اپنے سابقہ بیان پر قائم ہے، جس میں پیرس میں ڈیانا کی موت کے بعد پرنس چارلس سے متعلق بیان کیے گئے واقعات کو مسترد کیا گیا تھا۔

ڈیلی میل میں شائع ہونے والی ارل سپینسر کی یادداشتوں کے اقتباسات کے مطابق، وہ لکھتے ہیں کہ 31 اگست 1997 کی رات جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں اپنے گھر پر اُنھیں اپنی بہن جین کا فون آیا جس کے ذریعے اُنھیں کار حادثے کی اطلاع ملی۔

وہ لکھتے ہیں کہ بعد میں ہونے والی فون کالز کے دوران، جن سے موت کی تصدیق ہوئی، اُس وقت کے پرنس چارلس نے اُنھیں فون کیا۔

کتاب میں الزام عائد گیا ہے کہ ’میرے دوسرے تمام فون کرنے والوں کے برعکس، جو صدمے میں تھے اور بمشکل تعزیت یا مدد کی پیشکش کر پا رہے تھے، وہ غیر معمولی طور پر بے حد خوش محسوس ہو رہے تھے۔ مجھے اُس وقت یوں لگا جیسے کوئی شخص لاٹری جیت گیا ہو۔‘

ارل سپینسر کے مطابق، چارلس نے اُنھیں بتایا کہ اُنھوں نے اسی صبح بالمورل میں ولیم اور ہیری کو اُن کے کمروں میں جا کر سب سے پہلے اُن کی والدہ کی موت کی خبر دی تھی۔

شاہی جوڑے کی طلاق اگست 1996 میں ہوئی تھی۔ کتاب ’سوان سانگ: ڈیانا، مائی سسٹر‘ آئندہ ہفتے شائع ہونے والی ہے۔

بی بی سی نیوز نے کتاب کی مکمل کاپی نہیں دیکھی۔

یادداشتوں میں ارل سپینسر اپنی بہن کی مشکلات سے بھرپور ازدواجی زندگی کا ذکر کرتے ہیں۔

اُن کا دعویٰ ہے کہ ڈیانا کی ایک دوست نے اُنھیں بتایا تھا کہ جولائی 1981 میں شادی سے ایک روز قبل پرنس چارلس نے ڈیانا سے کہا تھا کہ وہ ’اُن سے شادی کر کے بہت خوش ہیں، لیکن درحقیقت اُن سے محبت نہیں کرتے۔‘

ارل سپینسر لکھتے ہیں کہ ازدواجی زندگی کے آغاز ہی میں حالات ’بہت زیادہ مشکل‘ ہو گئے تھے، اور اُنھیں یقین ہے کہ ’بعض اوقات دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے مایوس ہو جاتے تھے۔‘

اب اُن کا خیال ہے کہ اُن کی بہن اے ڈی ایچ ڈی کا شکار تھیں اور اپنی اس کیفیت کے باعث رد کیے جانے یا تنقید کو انتہائی شدت سے محسوس کرنے والی نفسیاتی کیفیت کا بھی سامنا کر رہی تھیں، جسے وہ ’دوسروں کی طرف سے مسترد کیے جانے یا تنقید کی صورت میں شدید جذباتی تکلیف‘ قرار دیتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ اپنی زندگی کے آخری برسوں میں شہزادی ڈیانا نے ایک سے زیادہ مرتبہ خودکشی پر غور کیا، لیکن اپنے بیٹوں سے محبت نے ’اُنھیں اس سے روک لیا۔‘

ملکہ الزبتھ دوم کے سابق پریس سیکریٹری نے ڈیلی میل میں شائع ہونے والے تازہ دعوؤں، جن میں کہا گیا کہ چارلس ’حد درجہ مسرور‘ محسوس ہو رہے تھے، کو ’بکواس‘ قرار دیا۔

ڈکی آربیٹر، جو شہزادی ڈیانا کی وفات اور آخری رسومات کے وقت مرحوم ملکہ کے پریس سیکریٹری تھے، نے بی بی سی نیوز نائٹ سے گفتگو میں کہا کہ چارلس اُس وقت ’شدید صدمے میں تھے‘ اور یہ ’اُن کی شخصیت کے مطابق نہیں۔‘

اُنھوں نے مزید کہا، ’کوئی امکان ہی نہیں کہ وہ ایسی بات کہہ سکتے تھے۔ چارلس سپینسر محض بکواس کر رہے ہیں۔‘ جب اُن سے پوچھا گیا کہ یہ الزامات بادشاہ پر کیا اثر ڈالیں گے تو آربیٹر نے کہا، ’وہ شاید جھنجھلاہٹ محسوس کریں گے لیکن اپنا کام جاری رکھیں گے۔‘

’یہ اُنھیں پریشان ضرور کرے گا کیونکہ یہ کتاب شائع ہونے والی ہے، اس کے اقتباسات بھی سامنے آ رہے ہیں، اور ابھی نہ جانے مزید کیا انکشافات ہوں گے۔‘

شاہی تنازع کے درمیان، ڈیوک آف سسیکس پرنس ہیری نے جمعرات کی شام گرینچ میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی۔

برطانیہ واپس منتقل ہونے کے بعد اپنی پہلی عوامی تقریب میں پرنس ہیری نے میڈیا کے لیے تصاویر بنوائیں، سابق فوجیوں کے ساتھ سیلفیاں لیں اور پھر خطاب کیا۔

انھوں نے مہمانوں کو بتایا کہ وہ ایوارڈ جیتنے والوں اور نامزد امیدواروں سے ملاقات کے لیے بے حد پُرجوش ہیں، کیونکہ وہ ڈچس آف سسیکس میگھن مارکل کے ساتھ مل کر ان ایوارڈز کے ججنگ پینل کا حصہ رہے ہیں۔

یہ ایوارڈز استقامت، بین الاقوامی کھیلوں میں نمایاں شرکت، بحالی کے عمل اور فلاحی خدمات کو سراہنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔ تاہم، ان کی اہلیہ میگھن اس تقریب میں شریک نہیں ہوئیں۔

جمعرات کو شاہی خاندان کے دیگر سینیئر ارکان بھی اپنی اپنی عوامی مصروفیات میں مصروف رہے۔

کنگ چارلس نے آئرشائر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق ایک اجلاس کی میزبانی کی، جہاں انھوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی گئی تو اس سے ’خطرات‘ جنم لے سکتے ہیں۔

اس اجلاس میں این ویڈیا، اوپن اے آئی اور انتھروپک سمیت مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ نمایاں شخصیات اور کمپنیوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ضابطہ سازی اور نگرانی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب ان کے بیٹے پرنس ولیم اور پرنسز آف ویلز کیتھرین نے سکاٹ لینڈ کے آئل آف بیوٹ کے دورے کے دوران ساحل کی صفائی کی ایک سرگرمی میں حصہ لیا۔

دورے کے دوران شاہی جوڑے نے درجنوں مقامی افراد سے ملاقات کی، ان کے مسائل اور تجربات سنے، جبکہ جزیرے کے روایتی اور مقبول کھیل شنٹی میں بھی حصہ لے کر مقامی ثقافت سے دلچسپی کا اظہار کیا۔