حوثیوں کی برق رفتار پیش قدمی اور بڑھتی ہوئی عسکری طاقت سعودی عرب کے لیے ’بھیانک خواب‘ کیوں؟

    • مصنف, فراس کیلانی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز عربی، خصوصی نامہ نگار
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ستمبر کے آغاز میں چند ہی دنوں کے اندر سعودی عرب کی ایک دہائی سے زیادہ عرصے پر محیط فوجی، سفارتی اور معاشی کوششیں اس وقت بظاہر بکھرتی دکھائی دیں، جب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی افواج تیز رفتار حوثی پیش قدمی کے سامنے پسپا ہونے پر مجبور ہو گئیں۔

انصار اللہ تحریک نے یمن کے مغربی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا، اور باب المندب تک پیش قدمی کرنے میں کامیاب رہے جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان سٹریٹجک دروازہ سمجھا جاتا ہے اور فروری کے آخر میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمدات اور تجارت کا سب سے اہم راستہ بن چکا ہے۔

یہ پیش قدمی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے صرف چند ہفتوں بعد ہوئی۔

اس کے بعد سعودی شہروں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون حملے ہوئے جن میں سے چند کی ذمہ داری ایرانی حمایت یافتہ عراقی عسکری گروہوں نے قبول کی۔

ریاض میں گلف انٹرنیشنل فورم کے ڈاکٹر عزیز الغشیان کے لیے یہ صورتحال ’ایک بھیانک خواب کی تعبیر‘ جیسی ہے۔

وہ بی بی سی نیوز کو بتاتے ہیں کہ ’سعودی عرب کی معاشی زندگی کی شہ رگ، یعنی تیل کی برآمدات، شدید طور پر متاثر ہو رہی ہیں۔‘ ان کے مطابق ’اس سے زیادہ سنگین کسی چیز کا تصور کرنا مشکل ہے۔‘

آبنائے ہرمز پر پابندیوں کے بعد سعودی عرب تیل کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچانے کے لیے مشرق۔مغرب خام تیل پائپ لائن پر انحصار کر رہا ہے۔ پیٹرولیم برآمد کنندہ ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے مطابق سعودی خام تیل کی برآمدات کا 80 فیصد تک ایشیائی منڈیوں کے لیے مختص ہے، جس سے باب المندب کی سٹریٹجک اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔

لیکن گذشتہ دو ہفتوں میں حوثی افواج نے مخا اور ذباب میں حکومتی پوزیشنوں پر قبضہ کر لیا اور آبی گزرگاہ کے وسط میں واقع سٹریٹجک جزیرے پیرم پر بھی اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا۔

حوثی پہلے ہی سعودی سرحد کے ساتھ یمن کے شمالی حصے کے بیشتر علاقوں پر قابض تھے، جہاں ان کی انتظامیہ دارالحکومت صنعا سے کام کرتی ہے۔

2015 میں سعودی عرب نے یمن میں حکومت کی بحالی کے لیے ایک اتحاد قائم کیا تھا۔

جس کے بعد اقوام متحدہ کے مطابق سعودی قیادت میں قائم ہونے والے اس اتحاد نے ہزاروں فضائی حملے کیے، جن میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہوئے، اور اس پر وسیع پیمانے پر تنقید کی گئی۔

اور 2021 میں امریکی صدر جو بائیڈن نے یمن میں جارحانہ کارروائیوں کے لیے امریکی حمایت، بشمول اس سے متعلقہ اسلحہ کی فروخت روک دی تھی۔

رپورٹس کے مطابق اس لڑائی میں اب تک 150,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک انسانی بحران نے جنم لیا ہے، جس کے نتیجے میں 48 لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور ایک کروڑ 95 لاکھ افراد، یعنی آبادی کا نصف، کسی نہ کسی شکل میں امداد کے محتاج ہیں۔

2022 کی جنگ بندی کے بعد کچھ سال پرسکون رہے لیکن حالیہ حوثی پیش قدمی اس گروہ کی بڑھتی ہوئی فوجی اور تنظیمی صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کی ڈاکٹر الزبتھ کینڈل بی بی سی نیوز کو بتاتی ہیں کہ ’آج ہم صرف ایک ایسی تحریک نہیں دیکھ رہے جو تجربہ کار، منظم اور نظم و ضبط کی حامل ہے، بلکہ ایسی تحریک بھی دیکھ رہے ہیں جو پیغام رسانی اور اہداف کے تعین دونوں میں مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے۔‘

سعودی اور امریکی حکام نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حوثیوں کو ڈرون، کروز اور بیلسٹک میزائل جیسے ہتھیار سمگل کر رہا ہے۔

ایران حوثیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ صرف سیاسی حمایت فراہم کرتا ہے۔

تاہم اطالوی انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل پولیٹیکل سٹڈیز کے مطابق ایران نے یمن میں ڈرون تیار کرنے کے لیے فیکٹریاں قائم کرنے میں حوثیوں کی مدد کی ہے۔

امریکی فوجی اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ کے کمبیٹنگ ٹیررازم سینٹر کے مطابق حوثیوں کو لبنانی حزب اللہ کی معاونت بھی حاصل ہوئی ہے۔

خود حوثی اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ وہ ایرانی ایجنڈے کی پیروی کر رہے ہیں۔

چیتھم ہاؤس، رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے فاریع المسلمی کہتے ہیں کہ باب المندب تک پیش قدمی نے تہران کی علاقائی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایران اب امریکہ کے ساتھ معاملات میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ اثر و رسوخ رکھتا ہے۔‘

لیکن کینڈل بی بی سی نیوز کو بتاتی ہیں کہ ’ایرانی حمایت کے بغیر بھی میں توقع کروں گی کہ حوثی وہی کرتے رہیں گے جو وہ کر رہے ہیں۔ ان کے اپنے محرکات اور مقاصد ہیں۔ اس وقت یہ محرکات بظاہر پیسے، اثر و رسوخ اور بالآخر سیاسی طور پر تسلیم کیے جانے کے گرد گھومتے ہیں۔‘

’حوثی ایرانی اسلحے، تربیت اور انٹیلی جنس کے بغیر اس سطح پر کام نہیں کر سکتے تھے، لیکن یہ واضح نہیں کہ ایران کا حوثیوں پر براہِ راست کمان اور کنٹرول موجود ہے۔‘

حوثیوں کا الزام ہے کہ سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں یمن میں اہداف کے خلاف درجنوں فضائی حملے کیے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ نے جنوری 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد حوثیوں کو امریکہ کی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے ہٹا دیا تھا۔

22 جنوری 2025 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ درجہ دوبارہ بحال کر دیا۔

تاہم نائب صدر جے ڈی وینس نے حال ہی میں انکشاف کیا کہ واشنگٹن نے یمن کی تازہ صورتحال پر حوثیوں کے ساتھ براہِ راست بات چیت کی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو جزیرہ پیریم پر گروہ کے قبضے پر تشویش ہے اور وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

وینس کے یہ ریمارکس ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آئے کہ حوثیوں نے واشنگٹن سے کہا ہے کہ وہ یمن میں مداخلت نہ کرے اور اصرار کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی فوجی تصادم کے خواہش مند نہیں۔

14 ستمبر کو امریکی سینٹرل کمان کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر سعودی عرب گئے اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔

سی این این نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے دو مرتبہ بات کی اور ان سے حوثیوں کے خلاف فوجی حملوں کی منظوری مانگی، جسے ٹرمپ نے مسترد کر دیا۔

الغشیان بی بی سی نیوز کو بتاتے ہیں کہ ’یہ امریکہ کے ساتھ سکیورٹی تعلقات کے حوالے سے سعودی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔‘ ان کے مطابق ’سعودی حکام سمجھتے ہیں کہ وہ صرف امریکہ پر انحصار نہیں کر سکتے۔‘

حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے کہا ہے کہ ان کی حالیہ کارروائیاں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کے لیے خطرہ نہیں ہیں اور جیسے ہی یمن پر عائد، ان کے بقول، سعودی ناکہ بندی ختم ہوگی اور ملک پر حملے بند ہوں گے، یہ کارروائیاں بھی رک جائیں گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں بین الاقوامی جہاز رانی اور تجارت محفوظ ہے۔

کینڈل بی بی سی نیوز کو بتاتی ہیں کہ ’حوثیوں نے اپنی پیغام رسانی میں بہت احتیاط برتی ہے کیونکہ وہ اپنے خلاف کسی مربوط بین الاقوامی فوجی مہم کو دعوت نہیں دینا چاہتے۔ فی الحال وہ اپنی زیادہ تر دشمنی سعودی عرب کی طرف مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔‘

یاد رہے کہ امریکہ۔اسرائیل اور ایران جنگ کے دوران سعودی عرب پر درجنوں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے گئے۔

جنگ بندی کے بعد بھی سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حملے جاری رہے، جن میں عراقی سرزمین سے کام کرنے والے ایران نواز عسکری گروہ اور حوثی شامل ہیں۔

11 ستمبر کو سعودی وزارت توانائی نے عارضی طور پر اپنی سرگرمیاں معطل کر دیں، جب یہ خیال کیا گیا کہ جنوبی عراق سے چھوڑے گئے ڈرونز نے مشرق۔مغرب خام تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا۔

اب سعودی عرب کو ایک انتہائی پیچیدہ معاملے کا سامنا ہے۔ حوثیوں کے خلاف فوجی ردعمل میں کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں، کیونکہ 2015 سے 2022 کے تنازعے کا تجربہ سامنے ہے۔

اس کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی حمایت درکار ہوگی جو اس وقت موجود نہیں، اور اس میں خاصے خطرات شامل ہو سکتے ہیں، خصوصاً اس وجہ سے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ حوثیوں کے پاس جدید میزائل اور ڈرون صلاحیتیں موجود ہیں۔

المسلمی بی بی سی نیوز کو بتاتے ہیں کہ ’یمن کا جغرافیہ، اس کی سماجی خصوصیات، بھاری اسلحہ، ریاستی اداروں کی کمزوری اور کسی مضبوط اور غالب داخلی اتحادی کی عدم موجودگی، یہ سب کسی بھی فوجی مشن کو یمن میں مشکل بلکہ تقریباً ناممکن بنا دیتے ہیں، خواہ وہ سعودی عرب کرے یا کوئی اور۔‘

لیکن جواب نہ دینا سعودی عرب کو مستقبل میں عسکری گروہوں اور علاقائی قوتوں کے دباؤ یا حملوں کے سامنے کمزور چھوڑ سکتا ہے۔

الغشیان بی بی سی نیوز کو بتاتے ہیں کہ ’سعودی خود کو تنہا اور حد سے زیادہ بوجھ تلے دبا ہوا محسوس کرتے ہیں۔‘

’ہم ایک ایسے خطے کا حصہ ہیں جو بیک وقت متعدد بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ کئی محاذوں پر آگ لگی ہوئی ہے، اور ان سب سے ایک ساتھ نمٹنا انتہائی مشکل ہے۔‘

اب جبکہ سعودی سفارت کاری بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، انصار اللہ کے جنگجو بحیرہ احمر کے دروازے پر اپنی پوزیشن مضبوط کرتے جا رہے ہیں۔

ریاض کے لیے تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ آج کارروائی میں تاخیر کل کارروائی کو ناممکن بنا سکتی ہے۔