آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بنگلہ دیش چین کے جدید ترین لڑاکا طیارے کیوں خرید رہا ہے اور اس سے کیا فرق پڑے گا؟
- مصنف, تفسیر بابو
- عہدہ, بی بی سی نیوز بنگلہ، ڈھاکہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 15 منٹ
بنگلہ دیش نے چین سے جو پہلا لڑاکا طیارہ خریدا تھا اس کا سرکاری نام ایف-6 تھا۔ بنگلہ دیش نے 1977 میں چین سے یہ لڑاکا طیارے خریدے تھے۔ ڈھاکہ میں وجے سمرنی سے ضیا اُدیان کی طرف جاتے ہوئے سڑک کے موڑ پر جو درمیانے سائز کا لڑاکا طیارہ نظر آتا ہے، وہ اسی قسم کا طیارہ ہے۔
طیارے کی مدتِ استعمال ختم ہونے کے بعد اسے عوامی نمائش کے لیے رکھ دیا گیا تھا۔ اگرچہ اس کا سرکاری نام ایف-6 تھا، لیکن چین میں یہ طیارہ جے-6 کے نام سے جانا جاتا تھا۔
بنگلہ دیش اب چین سے جدید ٹیکنالوجی کے جو نئے لڑاکا طیارے خریدنے جا رہا ہے، ان کا نام جے-10 سی ای ہے۔
حالیہ انڈیا-پاکستان کشیدگی کے دوران یہی طیارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا تھا، جب پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ جے-10 سی ای طیاروں کی مدد سے انڈیا کے جدید رفال جنگی طیاروں کو مار گرایا گیا۔
رفال فرانس کا تیار کردہ ایک جدید فور پوائنٹ فائیو جنریشن لڑاکا طیارہ ہے اور اس دعوے پر عالمی سطح پر خاصی بحث ہوئی تھی۔ بین الاقوامی میڈیا میں بھی جے-10 سی ای کی صلاحیتوں اور کارکردگی پر متعدد رپورٹس اور تجزیے شائع ہوئے۔
اسی لیے جب بنگلہ دیش اپنی فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے تحت نئے جنگی طیاروں کے حصول کی بات کرتا ہے تو جے-10 سی ای کی ممکنہ خریداری کو غیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس سلسلے میں بات چیت اور تیاری کا عمل کافی حد تک آگے بڑھ چکا ہے۔
تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا فضائیہ کی جدیدکاری صرف نئے لڑاکا طیارے خرید لینے سے ممکن ہو جاتی ہے؟ جدید فضائی قوت کا انحصار صرف جنگی طیاروں پر نہیں ہوتا بلکہ مؤثر فضائی دفاعی نظام، پائلٹوں کی تربیت، طیاروں کی دیکھ بھال، جدید اسلحے، تکنیکی معاونت اور مضبوط بنیادی ڈھانچے پر بھی ہوتا ہے۔ اس تناظر میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ بنگلہ دیش ان شعبوں میں کس حد تک تیار ہے اور نئے طیاروں کو مؤثر انداز میں اپنے دفاعی نظام کا حصہ بنا سکتا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ چین کا جے-10 سی ای بنگلہ دیش کی عسکری صلاحیت میں کتنی تبدیلی لا سکتا ہے، اور آیا یہ طیارہ خطے میں فضائی طاقت کے توازن پر کوئی نمایاں اثر ڈال سکے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنگلہ دیش کا پہلا لڑاکا طیارہ کس ملک کا تھا؟
یہ درست ہے کہ بنگلہ دیش نے 1977 میں چین سے ایف-6 لڑاکا طیارے حاصل کیے تھے، تاہم بنگلہ دیشی فضائیہ کا پہلا جنگی طیارہ بیڑا اس سے چند برس پہلے، 1973 اور 1974 کے دوران تشکیل پایا تھا۔
اس وقت سابق سوویت یونین نے بنگلہ دیش کو اپنی فوجی معاونت کے تحت مگ-21 لڑاکا طیارے فراہم کیے تھے، جو اس دور کے جدید ترین سپر سونک جنگی طیاروں میں شمار ہوتے تھے۔
بنگلہ دیش فضائیہ کے ریٹائرڈ ایئر کموڈور اشفاق الٰہی چودھری نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’یہ بالکل نئے طیارے تھے اور ہمیں براہِ راست فیکٹری سے ملے تھے۔ روسی فضائیہ کے بعد ہم ان طیاروں کے پہلے صارفین میں شامل تھے۔ اس وقت یہ انتہائی جدید جنگی طیارے سمجھے جاتے تھے اور انہوں نے ہماری فضائی صلاحیتوں کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا تھا۔‘
ان کے مطابق سوویت یونین نے صرف لڑاکا طیارے ہی فراہم نہیں کیے تھے بلکہ ان کے ساتھ مختلف اقسام کے میزائل، بم اور راکٹ بھی دیے گئے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہی دراصل ہماری فضائی قوت کی بنیاد تھی۔ آزادی کے بعد ہمارے پاس تقریباً کچھ بھی نہیں تھا۔ ہوائی اڈوں کی مرمت جاری تھی اور فضائیہ کو ازسرِ نو منظم کیا جا رہا تھا۔ اسی دوران افسران کے کئی دستے تربیت کے لیے سوویت یونین بھیجے گئے تاکہ وہ نئے طیاروں اور جدید فضائی جنگی نظاموں سے واقفیت حاصل کر سکیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ مگ-21 طیاروں کی شمولیت نے نہ صرف بنگلہ دیشی فضائیہ کو ابتدائی دفاعی صلاحیت فراہم کی بلکہ مستقبل میں فضائی قوت کی توسیع اور جدیدکاری کی بنیاد بھی رکھی۔
بنگلہ دیشی فضائیہ کے پاس اس وقت کیا ہے؟
بنگلہ دیشی فضائیہ کے ابتدائی دور میں سوویت یونین سے حاصل کیے گئے مگ-21 طیاروں نے مرکزی کردار ادا کیا، تاہم بعد کے عشروں میں لڑاکا طیاروں کا سب سے بڑا ذریعہ چین بن گیا۔ 1977 میں بنگلہ دیش نے چین سے ایف-6 طیارے حاصل کیے، جبکہ 1980 کی دہائی میں ایف-7 طیارے فضائیہ کا حصہ بنے اور طویل عرصے تک اس کی جنگی صلاحیتوں کی بنیاد رہے۔
فضائیہ کی جدیدکاری کے سفر میں ایک اہم موڑ 1999 میں آیا، جب بنگلہ دیش نے روس سے آٹھ مگ-29 لڑاکا طیارے خریدے۔ اُس زمانے میں مگ-29 دنیا کے بہترین فضائی دفاعی جنگی طیاروں میں شمار ہوتے تھے اور انھیں بنگلہ دیشی فضائیہ کی صلاحیت میں ایک بڑی پیش رفت سمجھا گیا۔
تاہم 2026 تک آتے آتے بنگلہ دیشی فضائیہ کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس کے بیڑے کا بڑا حصہ اب پرانا ہو چکا ہے۔ بعض طیارے پہلے ہی غیر فعال ہو چکے ہیں جبکہ دیگر اپنے استعمال کی معیاد کے اختتامی مرحلے میں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس وقت بنگلہ دیشی فضائیہ کے پاس حقیقت میں کیا موجود ہے؟
اگرچہ حکومت اس حوالے سے باقاعدہ اعداد و شمار جاری نہیں کرتی، تاہم عسکری امور پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ وار پاور بنگلہ دیش کے مطابق فضائیہ کے پاس مجموعی طور پر 212 طیارے ہیں، جن میں 44 لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
ان 44 جنگی طیاروں میں روس کے آٹھ مگ-29 اور چین کے تیار کردہ 36 ایف-7 شامل ہیں۔ دفاعی ماہرین کے نزدیک یہ دونوں ماڈل اب اپنی معیاد کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، اگرچہ مگ-29 اب بھی محدود حد تک مؤثر صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ فضائیہ کے پاس 14 یاک-130 طیارے بھی ہیں۔ یہ بنیادی طور پر جدید تربیتی طیارے ہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر ہلکے حملوں کے لیے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش نے یہ طیارے روس سے حاصل کیے تھے۔
فضائیہ کے بیڑے میں چین کے ایف ٹی-7 تربیتی لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں، جبکہ امریکہ کی لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کے تیار کردہ ٹیکٹیکل ٹرانسپورٹ طیارے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وار پاور بنگلہ دیش کے مطابق فضائیہ کے پاس 73 ہیلی کاپٹر بھی ہیں۔ ان میں روس کے ایم آئی سیریز کے 36 ہیلی کاپٹر شامل ہیں، جبکہ امریکہ میں تیار ہونے والے سیسنا اور بیل کمپنی کے مختلف ماڈلوں کے 24 ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ فرانس، اٹلی اور جمہوریہ چیک سے حاصل کیے گئے تربیتی طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی فضائی بیڑے کا حصہ ہیں۔
ڈرون صلاحیت کے حوالے سے بھی بنگلہ دیش نے حالیہ برسوں میں پیش رفت کی ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق اس وقت 44 ڈرون مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان میں 36 سلووینیا کے تیار کردہ ’برامر سی فور آئی‘ ڈرون شامل ہیں، جبکہ ترکی کے مشہور بیرقدار ٹی بی-2 ڈرونز کی تعداد چھ ہے، جو گذشتہ سال بیڑے میں شامل کیے گئے تھے۔
بنگلہ دیشی فضائیہ کے سابق ایئر وائس مارشل ایم ابوال بشار کے مطابق اگرچہ مگ-29 نسبتاً جدید طیارے ہیں، لیکن موجودہ دور کے معیار کے مطابق وہ بھی اب پرانے شمار ہوتے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی بنگلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’بنگلہ دیش کے مگ-29 نسبتاً جدید ہیں، لیکن آج کی فضائی جنگوں کے تناظر میں وہ بھی پرانی نسل کے طیارے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے باقی تمام لڑاکا طیارے تھری۔جی ٹیکنالوجی سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ دنیا فور پوائنٹ فائیو جنریشن اور یہاں تک کہ ففتھ جنریشن سٹیلتھ طیاروں کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اسی لیے فضائی بیڑے کی جدیدکاری ناگزیر ہو گئی تھی۔ چین سے جو نئے طیارے حاصل کیے جا رہے ہیں وہ فور پوائنٹ فائیو جنریشن ٹیکنالوجی کے حامل ہیں، اس لیے اسے ایک مثبت اور بروقت فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔‘
ان کے بقول جے-10 سی ای جیسے جدید طیاروں کی شمولیت بنگلہ دیشی فضائیہ کو صرف نئے جنگی پلیٹ فارم ہی فراہم نہیں کرے گی بلکہ اسے خطے میں بدلتے ہوئے فضائی جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا موقع بھی دے گی۔
کیا صرف لڑاکا طیارے خرید لینا کافی ہے؟
بنگلہ دیش اپنی فضائیہ کی جدیدکاری کے منصوبے کے تحت چین سے 20 جدید لڑاکا طیارے خریدنے جا رہا ہے۔ یہ ملٹی رول فائٹر جیٹ ہیں، یعنی ایسے طیارے جو ایک ہی وقت میں مختلف نوعیت کے جنگی اور دفاعی فرائض انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان طیاروں کے اہم کرداروں میں فضائی حدود میں دشمن کے جنگی طیاروں کا مقابلہ کرنا (ایئر ٹو ایئر)، زمینی اہداف کو نشانہ بنانا (ایئر ٹو گراؤنڈ)، بری فوج کی کارروائیوں میں فضائی مدد فراہم کرنا (کلوز ایئر سپورٹ) اور سمندری علاقوں میں بحریہ کی معاونت کرنا (میری ٹائم ایئر سپورٹ) شامل ہیں۔
بنگلہ دیشی فضائیہ کے سابق ایئر وائس مارشل ایم ابوال بشار کے مطابق، ’یہ ایسا طیارہ ہے جو اکیلا ہی متعدد قسم کے مشن انجام دے سکتا ہے اور اسی خصوصیت کی وجہ سے ہم اسے حاصل کرنے جا رہے ہیں۔‘
تاہم ان کے مطابق جدید جنگی ماحول میں صرف جدید لڑاکا طیارے خرید لینا کافی نہیں ہوتا۔ مؤثر فضائی دفاع کے لیے جدید ریڈار نظام، الیکٹرانک جیمنگ ٹیکنالوجی، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور مختلف عسکری شعبوں کے درمیان فوری رابطہ بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگ میں کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ فضائیہ، بحریہ اور بری فوج کے ہتھیار اور نظام کس حد تک ایک دوسرے کے ساتھ حقیقی وقت میں معلومات کا تبادلہ اور ہم آہنگی قائم کر سکتے ہیں۔
ایئر وائس مارشل ابوال بشار کے مطابق بنگلہ دیش صرف طیارے نہیں خرید رہا بلکہ ان کے ساتھ ایک ’مکمل پیکج‘ بھی حاصل کیا جا رہا ہے۔
’صرف طیارہ خرید لینا کافی نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ سپیئر پارٹس، مرمت اور دیکھ بھال کی سہولتیں، تربیت اور کم از کم دس سال کے لیے لاجسٹک معاونت کا معاہدہ بھی شامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی سازوسامان بھی حاصل کیا جاتا ہے۔‘
ان کے مطابق نئے طیاروں میں جدید ریڈار اور الیکٹرانک جیمنگ نظام پہلے سے نصب ہوں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر نگرانی اور انٹیلی جنس جمع کرنے کی اضافی صلاحیتیں بھی شامل کی جا سکیں گی۔
’ان طیاروں کے لیے بیونڈ وژوئل رینج (بی وی آر) میزائل بھی دستیاب ہوں گے، جن کی مدد سے ایسے اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو پائلٹ کی براہِ راست نظر میں نہ ہوں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش نے حال ہی میں ملک گیر زمینی ریڈار نیٹ ورک کو فعال کیا ہے، جو ممکنہ فضائی حملوں کی پیشگی نشاندہی اور فضائی دفاعی نظام کی رہنمائی میں مدد دے گا۔
ان کے بقول اب ملک اس ریڈار نیٹ ورک کو نئے لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور مواصلاتی نظام کے ساتھ مربوط کرنے کی سمت میں بھی پیش رفت کر رہا ہے۔
’ہمارے پاس پہلے ہی ڈرون موجود ہیں اور اس حوالے سے چین کے ساتھ تعاون کے معاہدے بھی کیے جا چکے ہیں۔ نئے طیارے ریڈار نیٹ ورک سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ان ڈرونز کی رہنمائی کر سکیں گے اور انھیں مطلوبہ اہداف یا علاقوں کی جانب بھیج سکیں گے۔‘
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو بنگلہ دیش کی فضائیہ صرف نئے جنگی طیاروں سے ہی لیس نہیں ہوگی بلکہ ایک زیادہ مربوط اور جدید فضائی دفاعی نظام بھی حاصل کر لے گی، جس میں ریڈار، ڈرونز، مواصلاتی روابط اور جدید ہتھیار ایک دوسرے کے ساتھ مربوط انداز میں کام کر سکیں گے۔
کیا جدید ترین لڑاکا طیاروں کو چلانے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ موجود ہے؟
عسکری ماہرین کے مطابق جدید لڑاکا طیاروں کی خریداری کسی بھی فضائیہ کی صلاحیت بڑھانے کا اہم حصہ ضرور ہے، لیکن یہ اکیلا کافی نہیں ہوتا۔ ان طیاروں کی مؤثر اور محفوظ کارروائی کے لیے مناسب بنیادی ڈھانچہ، محفوظ پناہ گاہیں، متبادل رن ویز، ایندھن اور اسلحے کی ذخیرہ گاہیں، اور جدید فضائی اڈوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی جنگ کے آغاز میں ہی دشمن فضائی اڈوں، رن ویز یا پارکنگ ایریاز کو نشانہ بنا دے تو جدید ترین طیارے بھی عملی طور پر بے کار ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر کی فضائی افواج اپنے جنگی طیاروں کو محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط بنکرز، زیرِ زمین یا مضبوط پناہ گاہوں اور متبادل اڈوں کا انتظام کرتی ہیں۔
متعدد رن ویز کی موجودگی بھی اہم سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اگر ایک رن وے تباہ ہو جائے تو طیاروں کی پروازیں دوسرے رن وے سے جاری رکھی جا سکتی ہیں۔ بصورت دیگر فضائیہ کی جنگی صلاحیت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
1971 کی جنگ کے دوران مشرقی پاکستان میں پاکستانی افواج کو اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دسمبر کے آغاز میں انڈین فضائیہ کی بمباری سے تیج گاؤں ہوائی اڈے کے رن وے کو شدید نقصان پہنچا اور اس میں بڑے گڑھے اور دراڑیں پڑ گئیں۔ نتیجتاً پاکستانی طیاروں کے لیے اڑان بھرنا مشکل بلکہ بعض صورتوں میں ناممکن ہو گیا۔
رن وے کے غیر فعال ہونے کے بعد پاکستان فضائیہ کے 14ویں سکواڈرن کے صابر فائٹر جیٹ زمین پر ہی محدود ہو کر رہ گئے۔ فضائی کارروائی کی صلاحیت ختم ہونے کے باعث یہ طیارے دشمن کے لیے آسان ہدف بن گئے اور متعدد طیارے زمین پر ہی تباہ کر دیے گئے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بنگلہ دیش کے پاس اپنے جدید جنگی طیاروں کے آپریشن اور تحفظ کے لیے مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ موجود ہے؟
اس سوال کے جواب میں بنگلہ دیش فضائیہ کے ریٹائرڈ ایئر کموڈور اشفاق الٰہی چودھری کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں اب بھی کئی کمزوریاں موجود ہیں۔
انھوں نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’ہماری فضائیہ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا اپنا کوئی مکمل طور پر مخصوص ایئرفیلڈ نہیں۔ ڈھاکہ، چٹاگانگ اور جیسور سمیت جن ہوائی اڈوں سے ہم آپریشن کرتے ہیں، وہ زیادہ تر سول ایوی ایشن کے ساتھ مشترکہ طور پر استعمال ہوتے ہیں۔‘
ان کے مطابق جیسور میں شہری پروازوں کا دباؤ نسبتاً کم ہے، تاہم یہ اڈہ انڈین سرحد کے بہت قریب واقع ہے، جسے جنگی منصوبہ بندی کے نقطۂ نظر سے ایک چیلنج سمجھا جا سکتا ہے۔
انھوں نے نشاندہی کی کہ ڈھاکہ کا حضرت شاہ جلال بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی ایک مشترکہ تنصیب ہے، جہاں فوجی اور سویلین طیاروں کے علاوہ ہیلی کاپٹر بھی آپریٹ کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں جنگ یا ہنگامی حالات کے دوران فضائی آپریشنز کو مکمل طور پر فوجی ضروریات کے مطابق منظم کرنا نسبتاً مشکل ہو سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش اگر جے-10 سی ای جیسے جدید فور پوائنٹ فائیو جنریشن لڑاکا طیاروں کو مؤثر طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے تو اسے طیاروں کی خریداری کے ساتھ ساتھ فضائی اڈوں، حفاظتی تنصیبات، مواصلاتی نظام اور متبادل آپریشنل ڈھانچے پر بھی خاطر خواہ سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ کیونکہ جدید جنگوں میں کامیابی صرف جدید طیاروں سے نہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود پورے دفاعی نظام سے حاصل ہوتی ہے۔
ریٹائرڈ ایئر کموڈور اشفاق الٰہی چودھری کے مطابق بنگلہ دیش کو جدید لڑاکا طیاروں کے حصول کے ساتھ ساتھ ان کے تحفظ اور آپریشن کے لیے بنیادی ڈھانچے پر بھی بڑی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگی طیاروں کو محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط کنکریٹ سے تیار کیے گئے ہارڈنڈ ایئرکرافٹ شیلٹرز مطلوبہ تعداد میں موجود نہیں ہیں۔
’یہ بہت مہنگی تنصیبات ہوتی ہیں۔ انھیں اس طرح تعمیر کرنا پڑتا ہے کہ وہ بمباری اور میزائل حملوں کا مقابلہ کر سکیں۔ لیکن ہمیں ایسے شیلٹرز بنانا ہوں گے۔ اس کے ساتھ طیاروں کو مختلف مقامات پر پھیلا کر اور چھپا کر رکھنے کی صلاحیت بھی پیدا کرنا ہوگی۔‘
ان کے مطابق بنگلہ دیش کو کم از کم ایک ایسا فضائی اڈہ درکار ہے جو مکمل طور پر فوجی مقاصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہو۔
’ایسا اڈہ ہونا چاہیے جہاں ایک سے زیادہ رن ویز موجود ہوں تاکہ پوری فضائی کارروائی کسی ایک رن وے پر منحصر نہ رہے۔‘
اس وقت بنگلہ دیش میں جنگی طیاروں کے استعمال کے لیے 13 ایئرفیلڈز موجود ہیں، تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق ان سب کو ہر وقت مکمل آپریشنل حالت میں رکھنا آسان نہیں۔
سابق ایئر وائس مارشل ایم ابوال بشار کے مطابق فی الحال ڈھاکہ، چٹاگانگ، جیسور اور کاکس بازار کے چار بڑے ایئر بیس ایسے ہیں جہاں سے باآسانی فضائی آپریشن کیے جا سکتے ہیں۔
’اس کے علاوہ دو یا تین مزید ایئرفیلڈز بھی موجود ہیں جنھیں ہنگامی حالات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان رن ویز کو ہر وقت قابلِ استعمال حالت میں رکھا جائے۔‘
ان کے بقول صرف نئے لڑاکا طیارے خرید لینا ہی کافی نہیں، بلکہ پورے دفاعی نیٹ ورک کو مضبوط بنانا بھی ناگزیر ہے۔
’ہمارے پاس ہارڈ ایئرکرافٹ شیلٹرز ہونے چاہییں تاکہ خطرے کے وقت طیاروں کو محفوظ رکھا جا سکے یا انھیں مختلف مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ایئر بیسز پر مؤثر ابتدائی انتباہی نظام بھی ضروری ہے، تاکہ دشمن کے طیاروں یا میزائلوں کی اطلاع ملتے ہی ہمارے جنگی طیارے فوری طور پر فضا میں بلند ہو سکیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے پاس اس شعبے میں مکمل صلاحیت شاید ابھی موجود نہ ہو، تاہم فضائی دفاع کے بنیادی ڈھانچے میں خاطر خواہ پیش رفت ہو چکی ہے۔
’شاید ہمارے پاس سو فیصد صلاحیت نہ ہو، لیکن کم از کم 50 سے 60 فیصد صلاحیت ضرور موجود ہے۔‘
ماہرین کے مطابق جے-10 سی ای جیسے جدید فور پوائنٹ فائیو جنریشن لڑاکا طیاروں کی شمولیت بنگلہ دیشی فضائیہ کی صلاحیت میں بڑا اضافہ کر سکتی ہے، تاہم اس کا حقیقی فائدہ اسی صورت میں حاصل ہوگا جب فضائی اڈوں، شیلٹرز، ریڈار نیٹ ورک، مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی ڈھانچے کو بھی اسی رفتار سے جدید بنایا جائے۔
چین پر انحصار کی وجہ کیا ہے؟
بنگلہ دیش اپنی عسکری صلاحیتوں کو کثیر جہتی بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس مقصد کے لیے وہ بڑی حد تک چینی دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے۔
بحریہ کی آبدوزوں سے لے کر جنگی جہازوں، بری فوج کے ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور فضائی دفاعی نظام تک، بنگلہ دیش کے دفاعی اثاثوں کا ایک بڑا حصہ چین فراہم کرتا ہے۔
بنگلہ دیشی بحریہ کے زیرِ استعمال دونوں آبدوزیں چین میں تیار کی گئی تھیں اور 2017 میں بحری بیڑے کا حصہ بنی تھیں۔
عالمی دفاعی ڈیٹا بیس گلوبل فائر پاور کے مطابق بنگلہ دیشی بحریہ کے پاس مجموعی طور پر 117 بحری جہاز ہیں، جن میں سات فریگیٹس اور چھ کورویٹ جنگی جہاز شامل ہیں۔
کورویٹ جہازوں میں چار چین اور دو برطانیہ میں تیار کیے گئے، جبکہ سات فریگیٹس میں سے چار چینی، دو امریکی اور ایک جنوبی کوریائی ساخت کا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ چین بنگلہ دیش کے عسکری سازوسامان کا سب سے بڑا فراہم کنندہ کیسے بنا؟
ماہرین اس کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں۔
پہلی وجہ نسبتاً کم قیمت پر جدید ہتھیاروں کی دستیابی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر زاہد الرحمن نے حالیہ پریس بریفنگ میں کہا کہ یورپی یا امریکی ہم پلہ لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں چینی طیارے ’آدھی یا بعض اوقات ایک تہائی قیمت‘ پر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری وجہ خطے میں تزویراتی توازن سے جڑی ہے۔ بنگلہ دیش کے دو ہمسایہ ممالک، انڈیا اور میانمار، بڑی حد تک روسی ساختہ جنگی طیارے اور عسکری ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔ بعض دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بنگلہ دیش مختلف نوعیت کے پلیٹ فارم استعمال کرے تو اس سے اسے ایک حد تک تزویراتی برتری حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے عسکری نظام ہمسایہ ممالک کے لیے نسبتاً کم مانوس ہوں گے۔
تیسری وجہ چین اور بنگلہ دیش کے درمیان مسلسل مضبوط ہوتے دوطرفہ تعلقات ہیں، جنھوں نے دفاعی تعاون کو بھی فروغ دیا ہے۔
چوتھی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ چینی ہتھیاروں کی خریداری پر عموماً وہ سیاسی اور عملی شرائط لاگو نہیں ہوتیں جو مغربی ممالک اپنے دفاعی معاہدوں کے ساتھ منسلک کرتے ہیں۔
دفاعی امور کے ماہر اشفاق الٰہی چودھری کے مطابق، ’یورپ اور امریکہ بعض اوقات یہ شرائط عائد کرتے ہیں کہ ہتھیار کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کے زیرِ استعمال ایف-16 طیاروں کے حوالے سے بھی مختلف نوعیت کی شرائط اور نگرانی کا نظام موجود رہا ہے، جبکہ چین اپنے دفاعی برآمدی معاہدوں میں عموماً ایسی پابندیاں عائد نہیں کرتا۔‘