’سامان باندھو اور نکل جاؤ‘: کینیا کے صدر نے انڈین کمپنی ٹاٹا کیمیکلز کو ملک چھوڑنے کا حکم کیوں دیا؟

    • مصنف, نکیتا یادیو
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

کینیا کی حکومت نے انڈیا کی بڑی کیمیکل کمپنی ٹاٹا کیمیکلز کو ملک چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ اپنا سامان سمیٹ کر ملک سے نکل جائیں۔‘

کینیا کی حکومت کا مؤقف ہے کہ کمپنی مقامی صنعت اور روزگار کے فروغ میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کر سکی۔

کینیا کے صدر ولیم روٹو کے مطابق کمپنی سوڈا ایش کو مقامی سطح پر پراسیس کر کے شیشہ اور دیگر کیمیکل بنانے کے بجائے اسے برآمد کر رہی تھی۔

صدر روٹو کے مطابق ’حکومت نے کمپنی کی جگہ لینے کے لیے نئے سرمایہ کار ڈھونڈ لیے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے کینیا میں روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے اور سرمایہ کاری بڑھے گی۔‘

دوسری جانب ٹاٹا کیمیکلز نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے اور باقی معاملات کے حل کے لیے ’مناسب قانونی اور ریگولیٹری طریقہ کار کے تحت تعمیری رابطے‘ کے لیے پُرعزم ہے۔‘

صدر روٹو نے یہ تبصرے کاجیادو کاؤنٹی کے دورے کے دوران کیے، جہاں ٹاٹا کیمیکلز مگاڈی کا پلانٹ واقع ہے۔

یہ کمپنی جو انڈین کاروباری گروپ ٹاٹا گروپ کا حصہ ہے، جھیل مگاڈی پر کام کرتی ہے جو کینیا کے دارالحکومت نیروبی سے تقریباً 120 کلومیٹر (75 میل) جنوب مغرب میں واقع ہے۔

کمپنی سالانہ ساڑھے تین لاکھ ٹن سے زیادہ سوڈا ایش برآمد کرتی ہے جسے انڈیا، جنوب مشرقی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے دیگر حصوں سمیت مختلف منڈیوں میں بھیجا جاتا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق کینیا قدرتی سوڈا ایش (سوڈیم کاربونیٹ) پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے اور عالمی پیداوار میں اس کا حصہ ایک فیصد ہے۔

سوڈا ایش زیادہ تر قدرتی نمکیاتی ذخائر یا ٹرونا نامی معدنیات سے حاصل کی جاتی ہے اور اسے شیشے، کیمیکلز، بیٹریوں اور دیگر صنعتی مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ٹاٹا کیمیکلز کینیا کے سب سے بڑے معدنی برآمد کنندگان میں سے ایک ہے اور افریقہ میں سوڈا ایش کا سب سے بڑا پیدا کنندہ بھی ہے۔

کمپنی جھیل مگاڈی سے ٹرونا نکالتی ہے اور اسے سوڈا ایش میں تبدیل کرتی ہے۔ یہ شیشہ سازی میں استعمال ہونے والا ایک اہم جزو ہے، جبکہ اسے ڈٹرجنٹس، کیمیکلز، پانی کی صفائی، ٹیکسٹائل اور کاغذ کی صنعت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

کمپنی کے 2024 کے مالیاتی حسابات کے مطابق اس نے تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار ٹن سوڈا ایش فروخت کی جبکہ اس کا کاروباری حجم 7 کروڑ 87 لاکھ ڈالر رہا۔

کینیا میں موجود ٹاٹا کمپنی میں تقریباً 500 افراد ملازمت کرتے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ مگاڈی کے اطراف میں اس کے سماجی منصوبوں سے لگ بھگ 30 ہزار افراد مستفید ہوتے ہیں۔ ان منصوبوں میں پانی، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور دیگر سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔

تاہم صدر ولیم روٹو کا کہنا ہے کہ کمپنی کینیا کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کر رہی اور انھوں نے اس پر ملک کے وسائل بیرون ملک لے جانے کا الزام عائد کیا ہے۔

انھوں نے کینیا کی مقامی زبان سواحلی میں کہا کہ ’ٹاٹا کیمیکلز مگاڈی کے پاس 100 سال سے معاہدہ ہے، لیکن انھوں نے کچھ نہیں کیا۔ میں نے چند روز پہلے انھیں کہا تھا کہ اپنا سامان سمیٹیں اور یہاں سے چلے جائیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’انھوں نے کاجیادو میں کچھ تعمیر نہیں کیا، نہ ہی کاجیادو میں کوئی فیکٹری قائم کی ہے۔‘

دوسری جانب اپنے ایک بیان میں ٹاٹا کیمیکلز نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2005 میں مگاڈی میں موجود پلانٹ کے حصول کے بعد سے ’اس نے کینیا کی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ ہمارے کاروبار کا ایک لازمی حصہ بنا ہوا ہے۔‘

صدر روٹو کے یہ تبصرے اس کے پانچ ہفتے بعد سامنے آئے ہیں جب کینیا کے وزیرِ کان کنی نے ٹاٹا کیمیکلز مگاڈی کو اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ رائلٹی کی ادائیگی نہ کرنا اور دیگر ضابطہ جاتی تقاضوں کو پورا نہ کرنا تھی۔

کمپنی نے کہا کہ اس نے ’وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے معاملات پر ایک جامع جواب فراہم کیا ہے، جس میں قابلِ اطلاق ضابطہ جاتی تقاضوں کی تعمیل سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔‘

کمپنی نے کہا کہ اب وہ اپنی جمع کرائی گئی دستاویزات کے جائزے اور مزید ہدایات کی منتظر ہے۔

جھیل مگاڈی میں قائم اس فیکٹری کی تاریخ ایک صدی سے بھی زیادہ پرانی ہے اور اس کا آغاز 1911 میں ہوا تھا۔ بعد ازاں 1928 میں کینیا کی حکومت کے ساتھ کان کنی کے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

ٹاٹا کیمیکلز نے 2005 میں اس منصوبے کا کنٹرول حاصل کیا، جب اس نے برطانیہ کی کمپنی برونر مونڈ گروپ کو خرید لیا تھا۔