بارہ سال تک اولاد نہ ہونے پر ’طعنے‘ اور پھر بیک وقت پانچ بچوں کی پیدائش، ایتھوپیا کی بدریہ کی کہانی

،تصویر کا ذریعہHiwot Fana Specialised Hospital
- مصنف, مائیکل ٹیفری
- عہدہ, بی بی سی افریقہ
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
افریقی ملک ایتھوپیا کی ہاراری ریجنل سٹیٹ میں ایک خاتون نے 12 سال تک بچے کی خواہش کے بعد نایاب کوئنٹوپلٹس (پانچ بچوں) کو جنم دیا ہے۔
بدریہ آدم نے کہا کہ وہ اور ان کے شوہر ایک ہی وقت میں پانچ بچوں کی نعمت ملنے پر ’بے حد خوش‘ ہیں۔
ایک ساتھ پانچ بچوں کی پیدائش کو میڈیکل سائنس کی زبان میں کوئنٹوپلٹس (Quintuplets) یا کوئنٹ کہا جاتا ہے۔
قدرتی طور پر کوئنٹو پلٹس پیدا ہونے کا امکان تقریباً پانچ کروڑ 50 لاکھ میں ایک ہوتا ہے۔
35 سالہ بدریہ نے ہیووت فانہ سپیشلائزڈ ہسپتال میں چار بیٹوں اور ایک بیٹی کو جنم دیا اور ہسپتال کے مطابق تمام بچے ’مکمل صحت مند‘ ہیں۔
اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں اپنی خوشی الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی، دعاؤں کی قبولیت سے پہلے میں افسردگی اور دکھ‘ میں مبتلا رہی۔
ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد نور نے کہا کہ ماں اور بچے ہسپتال میں طبی نگہداشت میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHiwot Fana Specialised Hospital
اُنھوں نے بتایا کہ بچوں کا وزن 1.3 سے 1.4 کلوگرام (تقریباً 3 پاؤنڈ) کے درمیان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک کلو گرام سے زیادہ وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کے زندہ رہنے اور صحت مند نشوونما کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
اُنھوں نے مزید بتایا کہ بدریہ کا حمل قدرتی طور پر ٹھہرا تھا اور اس میں اِن وِٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) کی مدد نہیں لی گئی، جو ہسپتال میں دستیاب نہیں۔
’آئی وی ایف‘ میں اگر ایک سے زیادہ ایمبریو منتقل کیے جائیں تو متعدد بچوں کی پیدائش کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ڈاکٹر نے بتایا کہ بچوں کی پیدائش منگل کی شام آپریشن کے ذریعے ہوئی۔
ڈاکٹر محمد نور کا کہنا تھا کہ بدریہ کو حمل کے دوران باقاعدہ طبی نگہداشت ملی اور انھیں پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ وہ ایک سے زائد بچوں کی ماں بننے والی ہیں۔ پورے عرصے میں انھیں مکمل اور مناسب طبی سہولت فراہم کی گئی۔
بدریہ نے بتایا کہ ابتدا میں انھیں کہا گیا تھا کہ وہ چار بچوں کی ماں بنیں گی لیکن پیدائش کے وقت ایک بچہ اور بھی تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ ’میں نے صرف ایک بچے کے لیے دعا کی تھی اور اللہ نے مجھے پانچ عطا کیے۔ اُنھوں نے اپنے طویل انتظار کے احساسات بھی بیان کیے۔
پہلی بار ماں بننے والی بدریہ نے کہا کہ ان کے شوہر کی ایک اور شادی سے پہلے سے ایک اولاد ہے جو ان کے ساتھ رہتے ہیں۔
بدریہ کہتی ہیں کہ ’میرے شوہر اولاد نہ ہونے پر مجھَے کہتے تھے کہ ہمارے گھر میں پہلے سے ہی بچے موجود ہیں، لہذا مجھے فکر کرنے کی ضرورت نہیں لیکن اندر ہی اندر پورا گاؤں میری اولاد نہ ہونے پر سوال اُٹھاتا تھا جس سے میں نفسیاتی طور پر اذیت میں تھی۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ماضی میں جو کچھ میں نے جھیلا، اب وہ خواب جیسا لگتا ہے، جسے میں یاد بھی نہیں کرنا چاہتی۔
اُن کے بقول میں نے 12 سال دُکھ میں گزارے، خود کو چھپائے رکھا اور مسلسل اولاد کے لیے دُعا کرتی رہی۔ آخر کار اللہ نے میری سنی۔
بدریہ نے بتایا کہ وہ بطور کسان کام کرتی ہیں اور بمشکل گزارہ ہوتا ہے، نہیں پتہ کہ وہ اپنے خاندان کی ضروریات کیسے پوری کریں گی۔
لیکن ساتھ ہی اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ اللہ میرے لیے راستہ نکالے گا، میری برادری اور حکومت میری مدد کرے گی۔‘
بدریہ نے اپنے بچوں کے نام انصر، نائف، عمار، منظر اور نذیرہ رکھے ہیں۔

























