جب ویٹرس کے طور پر کام کرنے والی دو سہیلیوں کو پتا چلا کہ وہ آپس میں بہنیں ہیں

Cassandra Madison (L) and Julia Tinetti (R) at an airport. Both women, in the foreground, wear green sweaters. Cassandra has long brown hair in braids, Julia's hair is short and a darker shade of brown. In the blurred background there are people and yellow signs.

،تصویر کا ذریعہJulia Tinetti

،تصویر کا کیپشنجب کیسانڈرا میڈیسن (بائیں) اور جولیا ٹینیٹی (دائیں) پہلی بار ملیں تو ان کے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ وہ بہنیں ہیں
    • مصنف, بی بی سی ورلڈ سروس
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

جولیا ٹینیٹی اور کیسانڈرا میڈیسن میں بہت کچھ مشترک تھا اور ایک ہی بار میں کام شروع کرنے کے فوراً بعد وہ قریبی سہیلیاں بن گئیں۔ اس وقت کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ حقیقت میں ایک دوسرے سے کتنی قریب ہیں۔

ٹینیٹی اور میڈیسن دونوں نے 1990 کی دہائی میں امریکی ریاست کنیٹیکٹ میں پرورش پائی۔ اگرچہ بچپن میں وہ ایک دوسرے کو نہیں جانتی تھیں تاہم ان کے گھروں کے درمیان فاصلہ صرف تقریباً 15 منٹ کا تھا اور دونوں کو گود لیا گیا تھا۔

بچپن میں میڈیسن اکثر اپنی اصل والدہ کے بارے میں سوچا کرتی تھیں اور ایک دن ان سے ملنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ وہ سوچتی تھیں کہ کیا انھیں اپنی مسکراہٹ یا آنکھیں وراثت میں ملی ہوں گی۔ انھیں معلوم تھا کہ ان کا خاندان کیریبین میں واقع ڈومینیکن ریپبلک سے آیا تھا۔

میڈیسن کہتی ہیں کہ ’انھوں نے مجھے گود دینے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ بہت غریب تھے اور وہ میرا خرچ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔‘

جب وہ جوان ہوئیں تو میڈیسن نے اپنے اصل خاندان کو تلاش کرنے کی کوشش شروع کی لیکن ان کے پاس پیدائش کا سرٹیفکیٹ نہیں تھا اور تمام کوششیں ناکام رہیں۔

Cassandra Madison (L) and Julia Tinetti (R) as babies. Cassandra is in yellow, and Julia is wearing pink. They both have similar dark brown eyes.

،تصویر کا ذریعہCassandra Madison and Julia Tinetti

،تصویر کا کیپشنمیڈیسن (بائیں) اور ٹینیٹی (دائیں) دونوں کو بچپن میں ڈومینیکن ریپبلک سے گود لیا گیا تھا

19 برس کی عمر میں میڈیسن نے اپنے بازو پر ڈومینیکن ریپبلک کے پرچم کا ٹیٹو بنوایا تاکہ اپنی وراثت کی یاد تازہ رکھ سکیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ڈومینیکن ہونا میرے لیے فخر کی بات ہے۔‘

پانچ برس بعد میڈیسن نے ایک بار میں بطور ویٹریس کام شروع کیا۔ وہیں ان کی ملاقات ٹینیٹی سے ہوئی جنھوں نے میڈیسن کے بازو پر بنا پرچم دیکھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ٹینیٹی کے جسم پر بھی ڈومینیکن ریپبلک کے پرچم کا ٹیٹو تھا۔ مگر یہ ٹیٹو ان کی کمر پر بنا ہوا تھا۔

ٹینیٹی نے یہ ٹیٹو 22 برس کی عمر میں بنوایا تھا تاکہ اس جگہ کی یاد رہے جہاں وہ بھی پیدا ہوئی تھیں۔ جلد ہی دونوں کو احساس ہوا کہ ان دونوں کو گود لیا گیا تھا۔

ٹینیٹی بتاتی ہیں کہ ’میں نے کچھ یوں کہا کہ ہاں، میں یہاں سے گود لی گئی ہوں۔

’اس نے کہا ’رُکیں! میں بھی یہیں سے گود لی گئی ہوں‘۔ یہ سن کر میں بالکل ساکت ہو گئی۔‘

ٹینیٹی یاد کرتی ہیں ہیں کہ ہم ’لوگوں سے پوچھنے لگ گئے کہ ’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک جیسی نظر آتی ہیں؟‘ اور لوگ کہنے لگے ’ہاں، آپ دونوں ایک جیسی لگتی ہیں‘۔‘

کچھ ہی دیر میں وہ مزاح میں لوگوں کو بتانے لگیں کہ وہ بہنیں ہیں۔ میڈیسن نے تو یہ بھی تجویز دی کہ وہ ایک جیسے کپڑے پہنیں تاکہ اور زیادہ ملتی جلتی لگیں۔

Julia Tinetti hugs her dad as she meets him for the first time. She is wearing a black top and jeans and her back is to the photo. Her father is wearing a white top and jeans and hugging her tightly.

،تصویر کا ذریعہJulia Tinetti

،تصویر کا کیپشنہوائی اڈے پر ملاقات کے موقع پر جذباتی مناظر تھے کیونکہ پورا خاندان بہنوں سے ملنے آیا تھا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ سب مذاق میں ہو رہا تھا لیکن ایک موقع پر انھیں لگا کہ شاید وہ آپس میں رشتہ دار ہوں۔

انھوں نے گود لیے جانے کے کاغذات کا موازنہ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن وہاں ایسا کچھ نہیں تھا جو ثابت کرے کہ وہ بہنیں ہیں۔ کاغذات کے مطابق ان کی پیدائش مختلف مقامات پر ہوئی تھی اور ان کی اصل ماؤں کے خاندانی نام بھی مختلف تھے۔

کچھ عرصے بعد دونوں نے نئی ملازمتیں اختیار کر لیں اور الگ الگ شہروں میں منتقل ہو گئیں۔ ٹینیٹی کنیٹیکٹ میں رہ گئیں جبکہ میڈیسن نے ورجینیا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ رابطہ برقرار رہا لیکن فاصلے کی وجہ سے وہ پہلے جیسی قریبی دوست نہیں رہیں۔

پھر برسوں بعد میڈیسن کو کرسمس پر ایک جینیاتی ٹیسٹنگ کٹ تحفے میں ملی۔ اس کے ذریعے انھیں ایک کزن کا پتا چلا جس نے بتایا کہ ان کی بیالوجیکل والدہ 2015 میں وفات پا چکی ہیں۔ یہ خبر انتہائی دل خراش تھی لیکن کزن نے ان کی مدد سے خاندان کے کئی دوسرے افراد کا بھی پتا لگایا جن میں ان کے والد بھی شامل تھے۔

میڈیسن کی کزن نے بتایا کہ جب وہ بچی تھیں تو ان کے والدین کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ اس نے ان کی اپنے حقیقی والد آدریانو لونا کولادو سے فون پر بات کروائی جنھوں نے بتایا کہ گود دینے کے وقت کیا حالات تھے۔

انھوں نے کہا کہ خاندان اس قدر غریب تھا کہ مٹی کے فرش پر سونا پڑتا تھا۔ جب میڈیسن کی والدہ ان کے ساتھ حاملہ تھیں تو ان کا بڑا بھائی بھی شدید بیمار تھا اور والد نے فیصلہ کیا کہ خاندان کے لیے واحد راستہ یہی ہے کہ میڈیسن کو گود دے دیا جائے۔

جلد ہی میڈیسن نے ڈومینیکن ریپبلک جانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا پورا خاندان ہوائی اڈے پر ان کا منتظر تھا اور سب نے ایسی شرٹس پہن رکھی تھیں جن پر میڈیسن کی تصویر تھی۔ میڈیسن نے اپنے والد کو گلے لگایا اور دونوں آبدیدہ ہو گئے۔

یہ سفر شاندار تھا لیکن وطن واپسی پر کہانی میں ایک نیا موڑ آیا جب مولی نامی ایک خاتون نے ان سے رابطہ کیا۔

وہ بچپن میں ٹینیٹی کی بہترین دوست رہی تھیں۔ ان کے والدین نے امریکہ سے ڈومینیکن ریپبلک کا سفر اکٹھا کر کے اپنے بچوں کو گود لیا تھا۔

مولی کو یقین تھا کہ وہ میڈیسن کی بہن ہیں کیونکہ دونوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹس پر ماں کا نام ایک جیسا تھا۔ لیکن ڈی این اے ٹیسٹ سے پتا چلا کہ وہ بہنیں نہیں بلکہ دور کی کزنز ہیں اور پیدائشی سرٹیفکیٹ پر دیا گیا نام غلط تھا۔

تاہم مولی کے پاس میڈیسن کی والدہ کی ایک تصویر تھی جو ان کے بقول ٹینیٹی سے بالکل مشابہ تھیں۔ اس لیے وہ بضد تھیں کہ اصل بہنیں میڈیسن اور ٹینیٹی ہی ہیں۔

Madison and Tinetti sit with their father and a young child, Madison's daughter. They are sitting in a row in front of some greenery and smiling at the camera.

،تصویر کا ذریعہJulia Tinetti

،تصویر کا کیپشنمیڈیسن اور ٹینیٹی اپنے والد اور میڈیسن کی کم عمر بیٹی کے ساتھ۔ انھیں ایک ایسا خاندان ملا جس کے وجود کا انھیں پہلے علم نہیں تھا

میڈیسن نے اپنے والد کو ویڈیو کال پر فون کر کے پوچھا کہ کیا انھوں نے کبھی کسی اور بچے کو بھی گود دیا تھا۔ میڈیشن کہتی ہیں کہ ’وہ ایسے لگے جیسے کسی نے ان کی ساری طاقت چھین لی ہو۔ انھوں نے کہا ہاں، میں نے دیا تھا۔ اور میں نے کہا ’اے خدا! آپ نے مجھے کبھی یہ نہیں بتایا‘۔‘

اس انکشاف کے بعد میڈیسن کو لگا کہ وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں۔ جیسے ہی ممکن ہوا انھوں نے ایک اور جینیاتی ٹیسٹنگ کٹ حاصل کی اور برفانی طوفان میں آٹھ گھنٹے کا سفر کر کے ٹینیٹی کے شہر پہنچیں۔

نتائج آنے میں ڈھائی ہفتے لگے۔ یہ انتظار دونوں کے لیے اذیت ناک تھا اور وہ کام پر توجہ نہیں دے پا رہی تھیں۔ آخرکار جب نتائج آئے تو ٹینیٹی نے اسے کھولا اور وہاں سب لکھا تھا۔ وہ اور میڈیسن واقعی بہنیں تھیں۔

ٹینیٹی کہتی ہیں کہ ’یہ سچ میں ناقابل یقین ہے۔ ہم اس سارے وقت بہنیں ہی تھیں اور ہمیں پتا ہی نہیں تھا۔‘

میڈیسن یہ جان کر رو پڑیں۔ انھوں نے اپنے والد کو بتایا جو بے حد خوش ہوئے اور فوری طور پر ٹینیٹی سے ملنا چاہتے تھے۔ چنانچہ دونوں بہنوں نے مل کر ڈومینیکن ریپبلک جانے کا منصوبہ بنایا۔

وہاں پہنچنے پر ایک بار پھر پورا خاندان ہوائی اڈے پر موجود تھا، اس بار ایسی شرٹس پہنے ہوئے جن پر دونوں بہنوں کی تصاویر تھیں۔

ان کے والد ٹینیٹی کی طرف بڑھے، انھیں زور سے گلے لگایا اور ہسپانوی زبان میں کہا ’می ایہا‘ یعنی ’میری بیٹی‘۔

Cassandra Madison (L) and Julia Tinetti (R) wearing matching T-shirts, black shorts and sunglasses (check positioning of sisters)

،تصویر کا ذریعہJulia Tinetti

،تصویر کا کیپشنمیڈیسن اور ٹینیٹی کا استقبال کرتے ہوئے ان کے خاندان نے ایسی شرٹس پہنی ہوئی تھیں جن پر لکھا تھا کہ ’اپنے خاندان میں خوش آمدید‘

بہنوں کے طور پر یہ پہلا مشترکہ سفر خوشی، موسیقی اور رقص سے بھرپور تھا۔ ان کے والد کولادو کا کہنا ہے کہ اپنی بیٹیوں سے دوبارہ ملنا ان کے لیے ’خدا کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میں بہت خوش ہوں، واقعی بہت خوش۔ جب بھی وہ مجھ سے ملنے آتی ہیں تو میرے دل کو راحت پہنچتی ہیں۔ ہم انھیں محبت اور خلوص سے خوش آمدید کہتے ہیں، جیسے تمام خاندانوں کو کرنا چاہیے۔

’یہ ایک خوبصورت کہانی ہے۔ ہر کسی کو ایسی کہانی سنانے کا موقع نہیں ملتا۔‘

یہ تحریر بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام آؤٹ لک کی ایک قسط پر مبنی ہے۔