پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عام انتخابات کا اعلان مگر انتخابی گہما گہمی کیوں نہیں؟

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں کہ جب خطے میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارنگ کے اعلان کے پیش نظر خطے کی حکومت نے پاکستان کی وفاقی حکومت سے سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری طلب کی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 27 جولائی کے انتخابات میں 45 حلقوں سے 852 امیدوار حصہ لیں گے۔ 24 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے علاوہ آزاد امیدواروں کو بھی نشان الاٹ ہو چکے ہیں جبکہ ووٹرز کی کل تعداد 23 لاکھ 50 ہزار کے قریب بتائی گئی ہے۔

مگر اِن 45 حلقوں میں سے کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 حلقے ایسے ہیں جن کی مخالفت کالعدم ہونے والے گروہ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے کی جاتی ہے۔ یہ اس کے اِن مطالبات میں شامل ہے جس کے حق میں اس نے 15 جولائی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

مبصرین کی رائے ہے کہ اِن انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اور ان کے حامی ماضی کی طرح اس بار اپنی انتخابی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے آ کر پاکستان کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہونے والے مہاجرین کے لیے مختص نشستوں کا خاتمہ وہ مطالبہ ہے جسے کشمیری عوام میں بھی حمایت حاصل ہے۔

کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں میں سے آٹھ پنجاب میں ہیں۔

واضح رہے کہ کشمیر کی حیثیت متنازع ہونے کی وجہ سے پاکستان کی پارلیمنٹ میں اس خطے کو نمائندگی حاصل نہیں ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ان انتخابات سے قبل امیدواروں کی طرف سے انتخابی جلسے اور ریلیاں نکالنا تو دور کی بات کارنر میٹنگز بھی نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی بنیادی وجہ کالعدم تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی احتجاج کی کال ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری مظاہروں اور حکومتی کریک ڈاؤن میں اب تک حکام نے کم از کم 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

راولاکوٹ میں ’غذائی قلت‘ اور خطے میں سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری

راولاکوٹ میں کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں 15 جولائی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

تنظیم نے اس سے قبل 9 جون کو بھمبر سے لانگ مارچ شروع کیا تھا، تاہم راولاکوٹ پہنچنے پر انتظامیہ نے شرکا کو آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔ اس کے بعد سے لانگ مارچ کے شرکا راولاکوٹ کے نواحی علاقے دریک عیدگاہ میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

پُرتشدد واقعات سے مختلف شہریوں میں کاروباری سرگرمیاں اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسی سہولیات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

ادھر انتخابات سے قبل امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کشمیر حکومت نے وفاق سے چار ہزار اہلکاروں پر مشتمل فیڈرل کانسٹیبلری اور پاکستان رینجرز کے سات ونگز طلب کیے ہیں۔

ایک مراسلے میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کا کہنا تھا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پونچھ اور راولاکوٹ میں دھرنے دیے جا رہے ہیں۔ اس کا الزام ہے کہ گروہ سے تعلق رکھنے والے ’مسلح شرپسند افراد‘ مظفر آباد اور میرپور میں امن و امان کی صورتحال کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکومت کا یہ بھی الزام ہے کہ مظاہرین کشمیر میں خوراک لانے والے ٹرکوں کو نذر آتش کر رہے ہیں۔

پونچھ ڈویژن راولاکوٹ کی جانب سے نو جولائی کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق مسلح افراد نے ’ناکے لگا کر غذائی قلت پیدا کر رکھی ہے‘ اور ’عام آدمی تک خوراک نہیں پہنچ پا رہی۔‘

انتخابی گہما گہمی نہ ہونے کے برابر

پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں، جن میں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی شامل ہیں، کی مرکزی قیادت تو دور کی بات، اب تک ان جماعتوں کی مقامی قیادت بھی اپنے امیدواروں کے حق میں کوئی بڑی انتخابی مہم نہیں چلا سکی ہیں۔

پاکستان میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے اعلان کی بہت سی وجوہات ہیں، جن میں سے ایک وجہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کی جانب سے اس جماعت کی رجسٹریشن کی معطلی بھی شامل ہے۔

لیکن پی ٹی آئی کی قیادت یہ بیانیہ لے کر چل رہی ہے کہ انھوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کشمیری عوام کے ساتھ ان کے مطالبات کے حل کے سلسلے میں اظہار یکجتی کے طور پر کیا۔ دوسرے لفظوں میں پی ٹی آئی قیادت کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی حمایت کر رہی ہے۔

مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق انھوں نے مظفر آباد اور وادی نیلم کا دورہ کر کے وہاں پر انتخابی مہم کا جائزہ لیا لیکن ان علاقوں میں کارنر میٹنگز نہ ہونے کے برابر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امیدوار اپنے چند حمایتیوں کو ساتھ لے کر گھر گھر جا کر اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور اگر کسی کا کوئی بڑا گھر ہے، جہاں پر دو درجن سے زیادہ لوگ بیٹھ سکیں تو وہاں پر ہی لوگوں کو جمع کر کے انتخابی مہم چلائی جار ہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں جب انتخابی مہم چلتی تھی تو امیدوار گاڑیوں کی ریلیاں نکالتے تھے، خوب ہلہ گلہ ہوتا تھا اور لوگ خوشی خوشی اس انتخابی عمل کا حصہ بنتے تھے۔

فرحان طارق کے مطابق ان علاقوں میں انھوں نے اس مرتبہ ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی اور لوگوں کی ایک قابل ذکر تعداد کی اس انتخابی عمل میں عدم دلچسپی واضح ہے۔

فرحان طارق کا کہنا تھا کہ انھوں نے ان علاقوں میں امیدواروں کی جانب سے چھوٹے چھوٹے بینرز تک لگے ہوئے نہیں دیکھے اور نہ ہی امیدواروں نے انتخابی مہم کے سلسلے میں وال چاکنگ کی، البتہ امیدوار چھوٹے چھوٹے پمفلٹ چھپوا کر اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

ان کے مطابق میرپور ڈویژن کے کچھ علاقوں کے علاوہ پونچھ ڈویژن میں باغ، ہٹیاں اور حویلی میں کہیں کہیں انتخابی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں۔

انتخابی عمل سے جڑے کاروبار بھی ماند

انتخابی سرگرمیوں کی طرح اس انتخابی عمل سے جڑے کاروبار بھی ماند پڑے ہوئے ہیں۔

نوید عباسی کا پرنٹنگ کا کاروبار ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل میں لوگوں کی عدم دلچسپی اور عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کی کال کی وجہ سے ان کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں جب انتخابات ہوتے تھے تو ان سمیت اس کاروبار سے وابستہ افراد کے پاس اتنا زیادہ کام ہوتا تھا کہ وہ وقت پر آرڈر بھی نہیں دے سکتے تھے لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ وہ آرڈر آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

سردار تبریز، جن کا کیٹرنگ کا کاروبار ہے، وہ بھی انتخابی عمل میں عوامی حلقوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے پریشان ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں انتخابی مہم کے دوران ان کے اور اس کاروبار سے وابستہ دیگر افراد کو کھانوں کے اتنے زیادہ آرڈر ملتے تھے کہ بعض اوقات آرڈر منسوخ بھی کرنا پڑتے تھے۔

’کسی امیدوار کی جانب سے انتخابی مہم میں رکاوٹ ڈالنے کی شکایت موصول نہیں ہوئی‘: الیکشن کمیشن

اس انتخابی مہم کے دوران کچھ امیدواروں کو مخالف امیدواروں یا دیگر لوگوں کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کا ایک بیان سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس میں انھوں نے ایک شخص پر ان کی طرف پانی کی بوتل پھینکنے کا الزام عائد کیا۔

دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ابھی تک انھیں کسی بھی امیدوار کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنانے یا کسی مخالف امیدوار کی جانب سے انتخابی مہم میں رکاوٹ ڈالنے کی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

الیکشن کمیشن کے عہدیدار کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دس اضلاع کی انتظامیہ کی جانب سے بھی ابھی تک انھیں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

رضوان جانی کوٹلی سے مسلم کانفرنس کے امیدوار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق انتخابی مہم چلا رہے ہیں تاہم ’ابھی تک الیکشن مہم کا ماحول اس طرح نہیں بنا جس طرح کی توقع کی جارہی تھی‘ لیکن ان کے بقول ان کے حلقے کے عوام انتخابی عمل میں اپنی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔

باغ سے انتخابات میں حصہ لینے والے پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار مشتاق منہاس بھی کہتے ہیں کہ انھیں اپنے علاقے میں انتخابی مہم چلانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے انتخابی حلقے میں مہم کے دوران انھیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں اور ان سمیت تمام امیدوار اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کی مرکزی قیادت جلد ہی ان کے انتخابی حلقے کا دورہ کرے گی۔

’احتجاج کی وجہ سے عوام کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی تین ڈویژن (پونچھ، میرپور اور مظفر آباد) میں 33 سیٹیں ہیں، یعنی ہر ڈویژن میں گیارہ، گیارہ نشستیں۔

رواں برس ہونے والے ان انتخابات میں اس وقت پونچھ ڈویژن میں راولاکوٹ سب سے زیادہ حساس علاقہ قرار دیا گیا ہے، جہاں پر کالعدم تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات کے حل کے لیے گذشتہ ایک ماہ سے دھرنا دیے ہوئے ہے۔

اس عرصے کے دوران مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں میں ایک درجن سے زیادہ افراد بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ راولاکوٹ میں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی پانچ نشستیں ہیں۔

کمشنر پونچھ ڈویژن سردار وحید خان کا کہنا ہے کہ ان پانچ حلقوں میں انتخابی مہم نہیں چلائی جا رہی، جس کی بنیادی وجہ امن و امان کی خراب صورت حال ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان پانچ حلقوں میں امیدوار اپنے تئیں انتخابی مہم چلا رہے ہیں لیکن ویسی انتخابی گہما گہمی نہیں جس طرح اس ڈویژن کے دوسرے علاقوں یعنی باغ اور حویلی میں نظر آ رہی ہے۔

سردار وحید خان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی امیدوار کی جانب سے ان حلقوں میں انتخابات اس وقت تک نہ کروانے کا مطالبہ نہیں کیا گیا جب تک علاقے میں امن و امان کی صورت حال بہتر نہیں ہو جاتی۔

انھوں نے کہا کہ ’کچھ لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے عوام کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔‘

کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ دو روز قبل الیکشن کمیشن میں انتخابات کے دوران امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور اس اجلاس کے دوران کسی بھی ضلعی افسر کی طرف سے پولنگ کے دوران فوج کی تعیناتی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سنہ 2016 میں ہونے والے انتخابات فوج کی نگرانی میں ہوئے تھے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سب سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہنے والی جماعت مسلم کانفرنس کی قیادت نے اس ماہ ہونے والے انتخابات بھی فوج کی نگرانی میں کروانے کا مطالبہ کیا تھا تاہم دیگر سیاسی جماعتوں نے اس مطالبے کی حمایت نہیں کی تھی۔

’اس مرتبہ لوگ سیاسی جماعتوں کے منشور کی طرف دھیان نہیں دے رہے‘

صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کا موقف اس قدر مقبول ہو چکا ہے کہ اس کو طاقت کے ذریعے دبانے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو سیاسی جماعت کالعدم قرار دی گئی تنظیم کے موقف سے ہٹ کر اپنا بیانیہ پیش کرتے ہیں اس کو عوام میں پذیرائی نہیں مل رہی۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ لوگ سیاسی جماعتوں کے منشور کی طرف دھیان ہی نہیں دے رہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور ان کی معلومات کے مطابق اس جماعت کی قیادت کشمیر میں انتخابات نہیں چاہتی تھی، اس لیے انھوں نے امن اوامان کی صورت حال کا معاملہ سامنے رکھ کر انتخابات کے شیڈول کو آگے لے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں چونکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت ہے اور مرکز کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات بروقت ہونے چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت کا خیال تھا کہ ان کی جماعت ان حالات سے فائدہ اٹھائے گی اور ان کی جماعت اقتدار میں آ جائے گی۔‘

حامد میر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس جماعت کے امیدواروں کو ان کی اطلاعات کے مطابق عوام میں کوئی پذیرائی نہیں مل رہی بلکہ بعض امیدواروں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ یہی حالات مسلم کانفرنس کے امیدواروں کے ساتھ بھی ہیں۔

حامد میر نے یہ بھی کہا کہ جن انتخابات میں عوام کی عدم دلچسپی ہو تو ان کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے پہلے انتخابات

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عبوری آئین کے مطابق پہلے انتخابات 1975 میں ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں پاکستا ن پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تھی۔ اس کے بعد دس سال تک اس علاقے میں انتخابات نہیں ہوئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں گلگلت بلتستان میں انتخابات میں اپنی جماعت کی کامیابی کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اپنے جماعت کے امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا لیکن ابھی تک اس جماعت کی قیادت ان انتخابی حلقوں میں مہم چلانے کے لیے نہیں پہنچی۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے یہاں ہونے والے انتخابات میں اپوزیشن جماعت جمعیت علمائے اسلام سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سب سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہنے والی جماعت مسلم کانفرنس ہے، جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی پھر پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کا نمبر آتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان استحکام پارٹی پہلی مرتبہ پاکستان کے زیر انتظام کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے میدان میں اتر رہی ہے لیکن اس جماعت میں زیادہ تر تعداد مختلف جماعتوں اور بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کے ان کارکنوں کی ہے جنھیں پارٹی قیادت کی طرف سے ٹکٹ نہیں دیے گئے۔