آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
راج پال یادو: بالی وڈ اداکار کو چیک باؤنس کیس میں تین ماہ قید اور کروڑوں روپے کی ادائیگی کا حکم
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
دلی ہائیکورٹ نے بالی ووڈ اداکار راج پال یادو کو چیک باؤنس ہونے سے متعلق کیس میں تین ماہ قید کی سزا سُنا دی ہے۔
راج پال یادو کے خلاف یہ کیس دائر کرنے والی کمپنی کے وکیل کے مطابق ’دلی ہائیکورٹ کی جج جسٹس سورنا کانتا نے چیک باؤنس کیس میں ماتحت عدالتوں کی جانب سے راج پال یادو کو اس معاملے میں قصور وار قرار دینے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے انھیں حکم دیا ہے کہ وہ شکایت کنندہ کو رقم کی ادائیگی کریں۔‘
اس کیس میں راج پال یادو کی اہلیہ رادھا یادو بھی شریک ملزم ہیں اور عدالت نے انھیں بھی رقم کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 2010 میں راج پال یادو نے اپنی ایک فلم ’اتا، پتا، لاپتہ‘ کے لیے ’مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ نامی ایک پرائیوٹ کمپنی سے تقریباً پانچ کروڑ کا قرض لیا تھا۔
تاہم یہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی اور مبینہ طور پر اداکار کی سرمایہ کاری ڈوب گئی، جس کی وجہ سے وہ کمپنی کو رقم واپس کرنے میں ناکام رہے۔
ماضی میں ہونے والی عدالتی کارروائی کے مطابق راجپال یادو نے بار بار پیسوں کی واپسی کی یقین دہانی کروائی مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے، اس دوران عدالتیں بھی اُن کے خلاف احکامات جاری کرتی رہیں مگر انھوں نے بروقت ان احکامات پر عمل نہ کیا۔
بعدازاں راجپال یادو کی طرف سے کمپنی کو دیے گئے سات چیکس باؤنس ہوئے، جس کے بعد اُن کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا تھا اور سنہ 2018 میں پہلی بار دہلی کی ایک عدالت نے انھیں اس کیس میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔
اس کے اگلے برس یہ مقدمہ دہلی ہائیکورٹ گیا، جہاں عدالت نے اُن کی سزا پر حکم امتناع جاری کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ برسوں کے دوران عدالتوں نے راجپال یادو کی رقم واپسی سے متعلق یاد دہانیوں کی بنیاد پر متعدد مرتبہ اُن کی سزا کے خلاف حکم امتناع جاری کیا لیکن راجپال یادو اس رقم کی ادائیگی نہ کر سکے جس کے بعد رواں برس فروری میں عدالت نے انھیں جیل حکام کے سامنے سرینڈر کرنے کا حکم دیا۔
راج پال فروری 2026 میں کچھ دن جیل میں بھی رہے اور پھر اُن کی جانب سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی ایک قسط جمع کروانے پر عبوری ریلیف ملا اور پھر یقین دہانی اُن کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی۔ تاہم اس کے بعد وہ عدالت میں دی گئی یقین دہانی پر عمل نہ کر سکے۔
عدالت نے کیا فیصلہ دیا اور وکلا کا کیا کہنا ہے؟
عدالت عالیہ نے راجپال یادو کو سزا کے حالیہ فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کے لیے دو مہینے کا وقت دیا ہے۔
عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں وضاحت کی ہے کہ اداکار راج پال یادونے جو دو کروڑ 25 لاکھ کی رقم پہلے کمپنی کو ادا کی ہے، وہ مجموعی رقم سے کم کر دی جائے گی۔
شکایت کنندہ مرلی پروجکٹس کمپنی کے وکیل اوینیش سکہ نے فیصلے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کے آخری روز راج پال یادو کے اس بیان کو اپنے حتمی فیصلے میں ریکارڈ کیا ہے جس میں انھوں کہا تھا کہ وہ پانچ بار جیل جانے کے لیے تیار ہیں لیکن ایک پیسہ نہیں دیں گے۔
راج پال یادو کے وکیل بھاسکر اوپادھیائے نے کہا ہے کہ راج پال یادو نے عدالت میں کہا تھا کہ ایک جرم کے لیے انھیں کتنی بار سزا دی جائے گی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہائیکورٹ میں مقدمہ آنے سے پہلے ہم ساڑھے چار کروڑ روپے جمع کر چکے ہیں۔ لیکن اتنے کیسز ہیں، کسی میں بقایا رقم ساڑھے 11 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ سول ججمنٹ میں ساڑھے دس کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ اب تک اس کورٹ میں جو پیسے جمع کیے گئے ہیں وہی ایڈجسٹ ہوں گے۔ ہم نے اس کورٹ میں دو کروڑ 25 لاکھ روپے چمع کیے ہیں، صرف وہی ایڈجسٹ کیے جائیں گے ۔ یعنی جو ساڑھے چار کروڑ روپے، ہم نے ہائیکورٹ آنے سے پہلے ادا کیے وہ واپس زیرو ہو گئے ہیں۔‘
بھاسکر اپادھیائے نے مزید کہا کہ ’ابھی ہم نے فیصلے کی تفصیل نہیں دیکھی ہے۔ ہمیں اِن سارے پہلوؤں کا جائزہ لینا ہو گا۔ ابھی ہمارے پاس اپیل کے لیے دو مہینے کا وقت ہے۔ ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔‘