اسرائیل کی عرب اقلیت کیا ہے اور وہ حکومت سازی میں ’کِنگ میکر‘ کا کردار کیسے ادا کر سکتی ہے؟

Arab Israel
،تصویر کا کیپشنجزوی نتائج کے مطابق عرب قیادت والی جماعتیں تقریباً 19 نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 11 منٹ

اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور انتخابات کے نتائج تیزی سے موصول ہو رہے ہیں، لیکن وزارت عظمی حاصل کرنے کے خواہشمند دونوں بڑے سیاسی اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔

یشار پارٹی کے سربراہ اور سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ ’تبدیلی کے اتحاد‘ کی نمایاں شخصیت ہیں، تاہم اسرائیل کے تجربہ کار وزیرِاعظم نیتن یاہو نے بھی توقعات سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے اور اُن کی جماعت ’لیکود‘ سب سے بڑی واحد جماعت بن کر اُبھر رہی ہے۔

انتہائی قدامت پسند اور قوم پرست یہودی جماعتوں کے ساتھ نیتن یاہو کا موجودہ اتحاد اسرائیل کی 120 رُکنی پارلیمان میں سادہ اکثریت یعنی 61 نشستوں کے حصول سے کچھ فاصلے پر دکھائی دے رہا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ تیزی سے سامنے آتے نتائج کے پیش نظر صورتحال کسی حد تک بدل بھی سکتی ہے کیونکہ ووٹوں کی ابتدائی گنتی اُن علاقوں میں ہوئی جو اسرائیل میں دائیں بازو کی مضبوط حمایت کے لیے جانے جاتے ہیں۔

حالیہ انتخابات میں ٹرن آؤٹ ریکارڈ 77 فیصد سے زیادہ رہا، تاہم اس کے باوجود ایک ڈرامائی سیاسی تعطل کی پیش گوئی وسیع پیمانے پر کی جا رہی تھی۔

جزوی نتائج کے مطابق عرب قیادت والی جماعتیں تقریباً 19 نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جو انھیں پارلیمان میں طاقت کے توازن کا اہم عنصر بنا سکتی ہیں۔

اسرائیل کے منقسم سیاسی نظام سے اشارے مل رہے ہیں کہ نیتن یاہو کے اہم ترین حریف اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کے لیے اسرائیل کی عرب اقلیت کی قیادت والی جماعتوں کے بغیر پارلیمانی اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو گا۔

جزوی نتائج کے مطابق ان عرب جماعتوں نے اپنی گذشتہ ریکارڈ تعداد کے برابر یا اس سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انتخابی مہم کے دوران زیادہ تر یہودی اپوزیشن جماعتوں نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ عرب اکثریتی جماعتوں کے ساتھ کام (اتحاد) نہیں کریں گی اور اس کی وجہ مشترکہ اقدار کا فقدان بتایا گیا تھا۔ تاہم اگر دیگر جماعتیں ان کے ساتھ اتحاد بنانے پر آمادہ ہوئیں تو عرب قیادت والی جماعتیں حکومت سازی میں ’کنگ میکر‘ یا فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

اس انتخابات میں عرب اسرائیلی، جو اکثر خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری قرار دیتے ہیں اور ملک کی آبادی کا پانچواں حصہ ہیں، غیر معمولی تعداد میں ووٹ ڈالتے دکھائی دیے۔

عرب ووٹ میں اضافہ ان جماعتوں کی نشستوں میں اضافے کی اہم وجہ سمجھا جا رہا ہے، جس نے انھیں ممکنہ حکومت سازی کے عمل میں پہلے سے زیادہ بااثر بنا دیا ہے۔

بہت سے لوگ اسے ایسا فیصلہ کن انتخاب قرار دے رہے ہیں جس میں اسرائیل کی اب تک کی سب سے زیادہ دائیں بازو کی ایسی حکومت کو شکست دینا مقصود ہے، جس پر نسل پرستی اور نفرت کو ہوا دینے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

موجودہ تجزیے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ ابھی تک ہزاروں کی تعداد میں وہ پوسٹل ووٹ شمار نہیں کیے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر اسرائیلی فوجیوں کے ووٹ شامل ہیں، اس لیے حتمی نتائج کی واضح تصویر ایک یا دو دن بعد ہی سامنے آنے کی توقع ہے۔

Arab Israel
،تصویر کا کیپشناسرائیل کی موجودہ حکومت عرب جماعتوں کو 'ریاست کی یہودی شناخت کے لیے خطرہ' قرار دیتی ہے

انتخابات سے پہلے ہی رائے عامہ کے جائزوں میں یہ سامنے آیا تھا کہ اسرائیل کی عرب جماعتیں طاقت کے توازن میں ایک اہم اور فیصلہ کن حیثیت اختیار کر سکتی ہیں۔

عرب اسرائیلیوں میں سیاسی بددلی ماضی میں اس کمیونٹی کے کم ٹرن آؤٹ کا سبب بنتی رہی ہے، حالانکہ وہ آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں اور اکثر خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری قرار دیتے ہیں۔

لیکن اس بار ایک مضبوط مہم چلائی گئی ہے تاکہ ملک کی تاریخ کی سب سے دائیں بازو کی حکمران اتحادی حکومت کو اقتدار سے باہر کیا جا سکے، جو تجربہ کار وزیرِاعظم نیتن یاہو، انتہائی دائیں بازو اور انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے۔

انتخابات سے قبل ہماری ملاقات 23 سالہ ارکان بدران سے ہوئی جو طلبہ کے ساتھ پمفلٹ تقسیم کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا: ’میں سمجھتا ہوں کہ اس انتہا پسند حکومت کو گرانا ہماری ذمہ داری ہے۔ وہ ہمارے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں تمام نوجوان مردوں اور خواتین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عرب جماعتوں کو ووٹ دیں، جو ہماری نمائندگی کرتی ہیں، کیونکہ یہ ہمارا مستقبل ہے۔‘

حالیہ نتائج نے یہ واضح کر دیا ہے کہ نہ نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کے پاس اور نہ ہی گادی آئزنکوٹ کی قیادت والے ’تبدیلی بلاک‘ کے پاس پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کا کوئی واضح راستہ ہے۔

اب نیتن یاہو مخالف جماعتوں کو حکومت بنانے کے لیے یا تو اپنے وعدے سے پیچھے ہٹنا پڑے گا کہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ کام نہیں کریں گی، یا عرب اکثریتی جماعتوں کے ساتھ معاہدہ کرنا ہو گا۔

اہم رکاوٹ یہ ہے کہ آئزنکوٹ اب تک عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کے امکان کو مشترکہ اقدار کے فقدان کی وجہ سے مسترد کرتے رہے ہیں۔

عرب اسرائیلی کون ہیں؟

A billboard in Nazareth urging Israel Arabs to vote for parties that would join a coalition government
،تصویر کا کیپشنتقریباً تمام بڑی یہودی جماعتوں نے عرب جماعتوں کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے

عرب اسرائیلیوں کی اکثریت اُن فلسطینیوں کی نسل سے تعلق رکھتی ہے جو سنہ 1948 کی جنگ کے دوران (جب اسرائیل ریاست کے طور پر وجود میں آیا) اپنے علاقوں میں رہ گئے، جبکہ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

عرب جماعتیں سنہ 2021 میں پہلی بار اسرائیلی حکومتی اتحاد کا حصہ بن چکی ہیں، جس کی وجہ سے اس بار بھی ان کے کردار پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔

اسرائیل کی موجودہ حکومت اکثر انھیں ’ریاست کی یہودی شناخت کے لیے خطرہ‘ قرار دیتی ہے۔

حال ہی میں وزیرِاعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حریف عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر ’خطرناک حکومت‘ بنانا چاہتے ہیں۔

اسی نکتے کو اجاگر کرنے کے لیے اُن کی انتخابی مہم نے بل بورڈز لگائے ہیں، جن میں ناصرت کے مرکزی داخلی راستے پر نصب ایک بل بورڈ بھی شامل ہے۔

اس پر لوگوں کے سامنے یہ انتخاب رکھا گیا تھا: ’دایاں بازو یا فلسطین۔‘

نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز بھی استعمال کی گئی ہیں جن میں ان کے مخالفین کو عرب رہنماؤں کے ساتھ گلے ملتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اس انتخاب میں داؤ بہت بڑا ہے: عرب شہری نہ صرف یہ طے کر سکتے ہیں کہ اسرائیل میں اقتدار کس کے ہاتھ میں ہو گا بلکہ وہ ووٹ کو ملک میں اپنے مستقبل کے لیے بھی فیصلہ کن سمجھتے ہیں۔

Mohammed Magdali holds a microphone
،تصویر کا کیپشنمحمد مغدلی: ’وہ ہر وقت عرب جماعتوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ عرب ہیں، فلسطینی ہیں‘

عربی زبان کے ریڈیو سٹیشن ’ریڈیو ناس‘ میں ہماری ملاقات نیوز اینکر محمد مغدلی سے ہوئی جو اسرائیل کے چینل 12 کے تجزیہ کار بھی ہیں۔

ان کے والد، غالب مغدلی، سنہ 2007 سے سنہ 2009 کے درمیان اسرائیل کے پہلے مسلمان وزیر رہے تھے اور لیبر پارٹی کی نمائندگی کرتے تھے۔

ہم نے محمد مغدلی سے پوچھا کہ وہ تبدیلی بلاک کی قیادت کی جانب سے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد سے انکار کو کیسے دیکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ایک لفظ میں کہا جائے تو یہ نسل پرستی ہے۔ لیکن اگر اس کی وضاحت کرنی ہو تو اس کی وجہ بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مفادات ہیں۔‘

’وہ ہر وقت عرب جماعتوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ عرب ہیں، فلسطینی ہیں۔ اس کا اثر اسرائیل کی اکثریتی یہودی جماعتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔‘

یاد رہے کہ عرب اکثریتی جماعتوں کو اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق 19 نشستیں مل چکی ہیں۔ ان میں جوائنٹ عرب لسٹ بھی شامل ہے، جو حداش، بلد اور تعال کا اتحاد ہے، جبکہ چھوٹی یونائیٹڈ عرب لسٹ منصور عباس کی قیادت میں ایک اسلام پسند جماعت ہے۔

Israeli Arab member of parliament Mansour Abbas, head of the United Arab List, or Raam
،تصویر کا کیپشنیونائیٹڈ عرب لسٹ کے سربراہ منصور عباس

اگرچہ عباس کی جماعت ابتدا میں اسرائیل کی اسلامی تحریک کے حصے کے طور پر قائم ہوئی تھی، جو سماجی طور پر قدامت پسند اقدار رکھتی ہے، مگر وہ اب یہودی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے معروف ہو چکے ہیں۔

وہ عرب اسرائیلیوں کے مسائل حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینیوں کے بارے میں نسبتاً کم بات کرتے ہیں۔

عباس کو اقتدار کا تجربہ بھی حاصل ہے۔

سنہ 2021 میں وہ نفتالی بینیٹ کی مختصر مدت والی اسرائیلی حکومت میں وزیر بنے تھے، جو اب آئزنکوٹ کے اتحاد میں شامل ایک دائیں بازو کے رہنما ہیں۔

اس انتخاب میں انھوں نے غیر متوقع طور پر اپنی فہرست میں دوسرے نمبر پر ایک یہودی سابق پولیس افسر اور اعتدال پسند رکنِ پارلیمان یوآف سگالووِٹز کو جگہ دی ہے۔

عباس کا خیال ہے کہ انتخاب کے بعد آئزنکوٹ اور دوسرے رہنما ان کی جماعت کے ساتھ اتحاد کے لیے زیادہ آمادہ ہوں گے، اور وہ اصرار کرتے ہیں کہ وہ اگلی حکومت میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صرف پارلیمانی نمائندگی عرب معاشرے کی خدمت کے لیے کافی نہیں۔ ہم نے ذمہ داری لینے، اپنے مسائل کے حل کا حصہ بننے اور عربوں اور یہودیوں دونوں کو امید دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

’اسی لیے ہماری حکمتِ عملی محض نمائندگی نہیں بلکہ اثر و رسوخ کی پوزیشن حاصل کرنے کی خواہش سے چلتی ہے۔‘

A woman sits near an election campaign banner featuring leaders of the Joint List, in Nazareth, Israel (10 October 2026)
،تصویر کا کیپشناسرائیل کے شہر ناصرت میں جوائنٹ لسٹ کے رہنماؤں پر مشتمل انتخابی بینر کے قریب بیٹھی ایک خاتون

دوسری جانب جوائنٹ لسٹ، جو سیکولر جماعتوں پر مشتمل ہے اور عرب اسرائیلیوں کے مساوی حقوق، فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی فوجی قبضے کے خاتمے اور دو ریاستی حل کی حامی ہے، اپوزیشن کے اندر اثر و رسوخ کی پوزیشن حاصل کرنا چاہتی ہے۔

وہ اس امکان کا ذکر کرتی ہے کہ نیتن یاہو حکومت کو تبدیل کرنے والی قوتوں کو اہم پالیسی امور پر حمایت کے بدلے انتخابی ’حفاظتی جال‘ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

اس انتخاب میں عرب اسرائیلیوں کے لیے ایک اہم مسئلہ جرائم پیشہ گروہوں کی بے قابو سرگرمیاں ہیں۔

ستمبر میں اسرائیل ڈیموکریسی انسٹیٹیوٹ کے ایک جائزے کے مطابق 53.5 فیصد عرب شہریوں کے لیے ووٹ کے وقت سب سے اہم معاملہ یہی تھا۔

ابراہم انیشی ایٹو نامی یہودی۔عرب تنظیم کے مطابق، جو باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے، گذشتہ برس عرب برادری میں قتل کے واقعات کی تعداد ریکارڈ 252 تک پہنچ گئی، جو قتل ہونے والے یہودی اسرائیلیوں کی تعداد سے تقریباً پانچ گنا زیادہ تھی۔

Israeli Arab women sit on a bench at the seafront in Jaffa
،تصویر کا کیپشنیافا کے ساحلی علاقے میں بینچ پر بیٹھی عرب اسرائیلی خواتین

یافا میں، جو عرب۔یہودی آبادی والا علاقہ ہے اور اب تل ابیب سے ملا ہوا ہے، زیاد سمعونی نے ہمیں وہ جگہ دکھائی ہیں جہاں ان کے بیٹے حسین کو گذشتہ نومبر اپنے گھر کے قریب موٹرسائیکل سوار دو مسلح افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

اس کیس میں اب تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔

کیسوں کے حل کی شرح کم ہونے کے باعث عرب اسرائیلی حکومت پر غیرفعال رہنے کا الزام لگاتے ہیں۔

سمعونی کہتے ہیں: ’ایسا لگتا ہے کہ ان کی دلچسپی اس بات میں ہے کہ قاتل کبھی پکڑا نہ جائے، تاکہ عرب معاشرے میں عرب ایک دوسرے کو مارتے رہیں۔‘

اسرائیلی پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ حسین کے قتل کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں اور وہ ’تشدد اور جرم کے ہر معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہے۔‘

سمعونی کہتے ہیں: ’ایک باپ کے طور پر جس نے اپنا بیٹا کھو دیا ہو، میں یقیناً چاہتا ہوں کہ یہ خونریزی ختم ہو۔‘

ان کا ماننا ہے کہ تبدیلی ووٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

Ziad Samouni (C) with his son Hussein (2nd L) and four children
،تصویر کا کیپشنزیاد سمعونی کے بیٹے حسین کو گذشتہ نومبر قتل کر دیا گیا تھا لیکن اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا

ناصرت میں واقع موسیٰ سینٹر کی سہا سلمان موسیٰ، جو عرب شہریوں کے مساوی حقوق کے لیے کام کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ ’سات اکتوبر کے بعد ہمارے ساتھ اس ملک کے دشمنوں جیسا سلوک کیا گیا۔‘

’اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے جگہ سکڑ گئی تھی۔ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں، اور لوگوں کو صرف اس وجہ سے ملازمتوں سے نکال دیا گیا کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر کچھ لکھا یا غزہ کی جنگ کے خلاف آواز اٹھائی۔‘

سلمان موسیٰ عرب اسرائیلیوں کے خلاف منظم امتیاز اور اشتعال انگیزی کا الزام عائد کرتی ہیں۔

شہری معاشرتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عرب آبادیوں کے لیے مختص بجٹ میں غیر متناسب کمی کی گئی ہے۔

Suha Salman Mousa, executive director of the Mossawa Center
،تصویر کا کیپشنموسیٰ سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، سہا سلمان موسیٰ عرب اسرائیلیوں کے خلاف 'منظم امتیاز اور اشتعال انگیزی' کا الزام عائد کرتی ہیں

حکومت کا کہنا ہے کہ دفاعی اور سکیورٹی اخراجات میں جنگی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ کٹوتیاں ناگزیر ہیں۔

عرب ڈاکٹروں کے خلاف، جو اسرائیلی ہسپتالوں میں کام کرتے ہیں، سیاسی نوعیت کی مہمات بھی چلائی گئی ہیں، جبکہ یہودی اسرائیلیوں کی جانب سے عرب بس ڈرائیوروں پر نسلی بنیادوں پر حملے بھی ہوئے ہیں۔

کچھ انتخابی مہمات نے سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے شمالی گلیلی اور جنوبی نیگیو کے ان علاقوں کو ’یہودی بنانے‘ کا وعدہ کیا ہے جہاں زیادہ تر عرب رہتے ہیں، اور اس اقدام کو مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے پھیلاؤ سے تشبیہ دی ہے۔