الیکشن کے نتائج اسرائیلی ’معاشرے میں تقسیم‘ کی طرف اشارہ کرتے ہیں، ماہر مشرق وسطیٰ امور

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آکسفورڈ یونیورسٹی کے سینٹ اینٹونیز کالج میں مشرقِ وسطیٰ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر یوجین روگن کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج ’اس بات کی ایک جھلک ہیں کہ اسرائیلی معاشرہ کس قدر تقسیم ہو چکا ہے۔‘
بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے روگن نے کہا کہ بعض ووٹروں میں موجود ’تبدیلی کی خواہش‘، جسے گاڈی آئزنکوٹ کے اپوزیشن اتحاد نے اپنی سیاسی قوت بنایا، ایسے ووٹروں سے ٹکرا گئی ہے جو ’نیتن یاہو کی دائیں بازو کی پالیسیوں کو ہر قیمت پر برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں‘ اور انہیں اسرائیلی ریاست کی سلامتی کی ایک طرح سے ضمانت سمجھتے ہیں۔
7 اکتوبر کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں کے اثرات کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر روگن نے کہا کہ اس واقعے نے بھی اسرائیلی معاشرے کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔
انھوں نے مزہد کہا کہ ’بہت سے اسرائیلی نہ ختم ہونے والی جنگوں کی قیمت کو محسوس کر رہے ہیں، خواہ وہ اسرائیلی معیشت پر پڑنے والا دباؤ ہ، یا ان لاکھوں ریزرو فوجیوں کی تھکاوٹ جو بار بار ڈیوٹی کے لیے بلائے جا رہے ہیں، یا پھر بین الاقوامی برادری میں اسرائیل کے مقام کو پہنچنے والا نقصان۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔‘
’لیکن دوسری طرف کچھ لوگ پوری طرح قائل ہیں کہ فلسطینیوں کے ساتھ کبھی امن سے نہیں رہا جا سکتا۔ ان کے نزدیک فلسطین اور ایران دونوں ہی ان کے وجود کو لاحق خطرات ہیں اور ان خطرات کا مقابلہ کرنے والے واحد شخص نیتن یاہو ہیں۔‘
روگن کے مطابق ’اسرائیلی معاشرہ منقسم ہے۔‘























