ایران پر حملے کے فوراً بعد ’موساد‘ کی جاری کردہ خفیہ آپریشن کی ویڈیو اور سینکڑوں ایرانیوں کی گرفتاری کا معمہ

A view of a video attributed to Mossad that was released during the 12-Day War.
،تصویر کا کیپشنموساد کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو سے لی گئی ایک تصویر
    • مصنف, رضا ثابتی
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

13 جون 2025 کی صبح جب اسرائیل نے ایران پر ابتدائی حملے شروع کیے، تو اس کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ کے سرکاری لوگو کے ساتھ ایک ویڈیو بھی جاری ہوئی جس میں بظاہر موساد کے مبینہ اہلکاروں کو ایرانی سرزمین پر فوجی ساز و سامان تیار اور نصب کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

یہ ویڈیو ریلیز کرتے وقت اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کارروائی ایران کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے لیے ایران کی سرزمین پر موساد کے ایجنٹوں نے کی تھی۔

کسی بھی جنگ کے ابتدائی چند گھنٹوں کے دوران کسی حملہ آور فوج کے خفیہ ادارے کی سرگرمیوں پر مبنی ویڈیو جاری کیے جانا ایک غیر معمولی اقدام سمجھا گیا تھا۔

اب 12 روزہ اسرائیل، ایران جنگ کے خاتمے کے لگ بھگ 16 ماہ بعد موساد کے سابق موساد سربراہ ڈیوڈ برنیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی ایجنسی نے یہ ویڈیو اور تصاویر جان بوجھ کر جاری کی تھیں، تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سکیورٹی ادارے مبینہ اسرائیلی ایجنٹوں کی تلاش کے دوران بڑی تعداد میں اپنے ہی لوگوں کو گرفتار کریں اور یوں جنگ کے دوران حقیقی موساد ایجنٹوں کی شناخت مشکل تر ہو جائے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، سابق موساد سربراہ برنیا نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہی وجہ تھی کہ ایران میں جنگ کے آغاز کے دوسرے ہی روز 21 ہزار افراد کو گرفتار کیا۔

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’موساد کے 99.9 فیصد ایجنٹوں کی کبھی شناخت نہیں ہو سکی‘ اور یہ کہ اُس آپریشن میں شامل بعض ایجنٹ آج بھی تہران میں موجود ہیں۔

روایتی طور پر معلوماتی جنگ اور خفیہ کارروائیوں کے اصولوں کے مطابق کسی آپریشن کی کامیابی کا انحصار رازداری اور ایجنٹوں کی شناخت پوشیدہ رکھنے پر ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موساد اپنی خفیہ سرگرمیوں کا ایک حصہ جان بوجھ کر منظرِ عام پر کیوں لایا؟

برطانیہ کی ایبرسٹوِتھ یونیورسٹی میں انٹیلیجنس اداروں کی تاریخ کی محقق اویوا گٹمین نے بی بی سی فارسی سے گفتگو میں کہا کہ اُن کے خیال میں اس ویڈیو اور تصاویر کا جاری کیے جانا ’قوت کے اظہار‘ اور جنگ کے بیانیے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش تھا۔

اُن کے مطابق اس اقدام سے ایک طرف اسرائیلی عوام کے حوصلے بلند ہو سکتے تھے، جبکہ دوسری جانب ایرانی سکیورٹی اداروں کے اندر شک و شبہ اور بداعتمادی کو بھی فروغ مل سکتا تھا۔

گٹمین اس حکمتِ عملی کو سوشل میڈیا پر پائے جانے والے ایک رجحان، جسے ’ٹائم لائن وارفیئر‘ یا ’بیانیاتی جنگ‘ کہا جاتا ہے، کے تناظر میں دیکھتی ہیں۔ اُن کے مطابق انٹیلیجنس ادارے اب پہلے سے کہیں زیادہ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی کامیابیوں کو فوری طور پر عوام کے سامنے لایا جائے اور واقعات سے متعلق عوامی تاثر پر اثر انداز ہوا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’موساد چاہتا ہے کہ وہ جنگ کے بیانیے کو اپنے کنٹرول میں رکھے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی کارروائی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایک کامیابی کے طور پر دیکھا جائے۔‘

سابق موساد سربراہ ڈیوڈ برنیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں موجود 'موساد کے 99.9 فیصد ایجنٹوں کی کبھی شناخت نہیں ہو سکی'۔
،تصویر کا کیپشنموساد کے سابق سربراہ ڈیوڈ برنیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں موجود ’موساد کے 99.9 فیصد ایجنٹوں کی کبھی شناخت نہیں ہو سکی‘

’کسی پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جون 2025 کی 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی سکیورٹی اداروں نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کے شبے میں متعدد افراد کی گرفتاریوں کا اعلان کیا تھا اور شہریوں سے مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دینے کی بھی اپیل کی تھی۔ اس دوران مختلف شہروں میں سڑکوں پر چیک پوائنٹس قائم کیے گئے جبکہ عدالتی حکام نے بھی جاسوسی کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی بات کی تھی۔

11 اگست 2025 کو اسلامی جمہوریہ ایران کی سکیورٹی کمانڈ کے ترجمان سعید منتظرالمہدی نے اعلان کیا تھا کہ جنگ کے دوران تقریباً 21 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ یہی تعداد اب سابق موساد سربراہ ڈیوڈ برنیا کی جانب سے موساد کے آپریشن کی کامیابی کی وضاحت میں بھی سامنے آئی ہے۔

برنیا کے مطابق یہ گرفتاریاں جنگ کے دوسرے دن ہوئیں، جبکہ ایرانی پولیس اس تعداد کو پوری 12 روزہ جنگ کے دوران ہونے والی گرفتاریوں سے جوڑتی ہے۔ سابق موساد سربراہ برنیا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’گرفتار کیے گئے تمام افراد‘ بعد میں رہا کر دیے گئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’ایران میں اسرائیلی انٹیلیجنس کے ساتھ تعاون کے الزام میں گرفتار یا سزائے موت پانے والے بعض افراد کا موساد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

20 جون 2025 کو، یعنی جنگ کے دوران، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کے الزامات پر گرفتار افراد کی من مانی حراستوں، تشدد اور ممکنہ سزائے موت کے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ تنظیم نے ایرانی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ زیرِ حراست افراد کے حقوق کا احترام یقینی بنائیں۔

برطانیہ کی ایبرسٹوِتھ یونیورسٹی میں انٹیلیجنس اداروں کی تاریخ کی محقق اویوا گٹمین کے مطابق موساد ابتدا ہی سے یہ تاثر پیدا کرنا چاہتا تھا کہ اس کے ایجنٹ 'ہر جگہ' موجود ہیں۔ اُن کے بقول اس حکمت عملی کا مقصد ایرانی سکیورٹی نظام کے اندر شکوک و شبہات اور الجھن پیدا کرنا اور حکومتی اداروں کے درمیان اعتماد کو کمزور کرنا تھا، کیونکہ جب ’ہر شخص ایک ممکنہ اسرائیلی ایجنٹ سمجھا جانے لگے تو پھر کسی پر بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔‘

گٹمین کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ برنیا اب ان واقعات کو ایک ایسی کامیاب کارروائی کے طور پر پیش کر رہے ہیں جس نے، ان کے دعوے کے مطابق، اسرائیلی ایجنٹوں کو تحفظ فراہم کیا۔

اُن کے بقول ایرانی سکیورٹی ادارے مشتبہ افراد کی بڑی تعداد میں الجھ کر رہ گئے، جس کے نتیجے میں حقیقی موساد ایجنٹ شناخت اور گرفتاری سے بچنے میں کامیاب رہے۔

کوئی خفیہ ادارہ اپنی کارروائیاں عوام کے سامنے کیوں لائے گا؟

اویوا گٹمین کے مطابق خفیہ اداروں کی کارروائیوں کی تصاویر یا ویڈیوز جاری کرنا صرف موساد تک محدود نہیں۔ وہ روسی فوجی تنصیبات پر یوکرین کے ڈرون حملوں کی ویڈیوز اور داعش کے خلاف بعض امریکی حملوں کی تصاویر کے اجرا کی مثالیں دیتی ہیں۔

اُن کے خیال میں ایسے اقدامات کا مقصد ایک جانب اندرونِ ملک فوجی اور عوامی حوصلہ بلند کرنا اور دوسری جانب مخالف فریق کے حوصلے پست کرنا ہوتا ہے۔

وہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہیں کہ خفیہ رہنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ موبائل فون کیمروں، نگرانی کے جدید نظاموں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی نے راز داری برقرار رکھنے کی صلاحیت کو مزید محدود کر دیا ہے۔

گٹمین کے مطابق انٹیلیجنس ادارے بعض اوقات 'کمزوری کو طاقت میں بدل دیتے ہیں'۔ اُن کے بقول معلومات کے افشا کو محض ایک خطرے کے طور پر دیکھنے کے بجائے وہ خود ہی اپنی بعض کارروائیوں کے بارے میں معلومات جاری کرتے ہیں تاکہ واقعات کے بیانیے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکیں۔

بی بی سی فارسی کے اس سوال کے جواب میں کہ خفیہ کارروائیوں سے متعلق معلومات منظرِ عام پر لانے سے موساد کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ گٹمین نے کہا کہ 'میرا خیال ہے کہ اس کے خطرات بہت محدود ہیں۔ ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ موساد صرف اسی وقت معلومات جاری کرتا ہے جب اسے یقین ہو کہ اس کے ایجنٹوں کی شناخت تک نہیں پہنچا جا سکے گا۔ اسی طرح وہ کسی کارروائی کے بارے میں معلومات بھی اسی وقت جاری کرے گا جب وہ مزید خفیہ آپریشنز میں خلل ڈالنے کے لیے استعمال نہ کی جا سکیں۔'

کینیڈا کی سائمن فریزر یونیورسٹی میں شعبۂ ابلاغ کے پروفیسر اور ڈس انفارمیشن کے محقق احمد الراوی نے بی بی سی فارسی سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات کا مقصد 'غالب طاقت' کا تاثر پیدا کرنا ہوتا ہے۔

Black September
،تصویر کا کیپشنمیونخ اولمپک ولیج پر حملے میں اسرائیلی کھلاڑی ہلاک ہوئے تھے

اُن کے بقول یہ تاثر نہ صرف معلومات جمع کرنے کی صلاحیت اور اثر و رسوخ کے دائرے سے متعلق ہوتا ہے بلکہ سب سے بڑھ کر ان کارروائیوں کے نفسیاتی اثرات سے جڑا ہوتا ہے۔

الراوی کے مطابق فریب پر مبنی کارروائیاں جنگ کی قدیم ترین حکمتِ عملیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) بھی اپنی انٹیلیجنس سرگرمیوں اور ذرائع کی بھرتی کے لیے اسی نوعیت کے میڈیا حربے استعمال کرتی ہے۔

12 روزہ اسرائیل، ایران جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے براہِ راست ایرانی عوام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ 18 جون 2025 کو فوج کے فارسی زبان کے ایکس اکاؤنٹ نے ان ایرانیوں کو، جو اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے، موساد کی ویب سائٹ کے ذریعے رابطہ کرنے کی ترغیب دی۔

اس پیغام میں ان افراد کا بھی حوالہ دیا گیا تھا جنھوں نے اسرائیلی فوج کے مطابق خود کو اسلامی جمہوریہ ایران کے سکیورٹی اداروں کا رکن ظاہر کیا تھا۔

اس وقت دی ٹائمز آف اسرائیل نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا اس اقدام کا مقصد انٹیلیجنس ذرائع کو اپنی جانب راغب کرنا تھا، یا نفسیاتی جنگ کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش، یا پھر دونوں مقاصد بیک وقت حاصل کرنا تھے۔

گمراہ کن معلومات پھیلانے میں موساد کی تاریخ

Image of a billboard in Tehran during the 12-Day War of 1404

اطلاعات کے ذریعے تاثر سازی اور عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کی کوشش موساد کی کارروائیوں میں کوئی نئی بات نہیں۔ اویوا گٹمین نے سنہ 2024 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں آرکائیول دستاویزات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دکھایا کہ 1970 کی دہائی میں موساد بعض اوقات دوست ممالک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی شکوک و شبہات کا رُخ موڑنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔

اس تحقیق کا موضوع 'آپریشن ریتھ آف گاڈ' تھا، جو سنہ 1972 کے میونخ اولمپکس میں 11 اسرائیلی کھلاڑیوں کے قتل کے بعد اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی ایک خفیہ مہم تھی۔ اس مہم کے تحت فلسطینی مسلح گروہوں، خصوصاً 'بلیک ستمبر' سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

اگرچہ میونخ حملہ بلیک ستمبر کے ارکان نے کیا تھا، لیکن موساد کی کارروائیوں میں ہدف بننے والے تمام افراد کا اس حملے سے براہِ راست تعلق نہیں تھا۔

زیرِ مطالعہ دستاویزات کے مطابق اپریل 1973 میں موساد نے خفیہ معلومات کے تبادلے کے نیٹ ورک کے ذریعے یورپی سکیورٹی اداروں کو خبردار کیا تھا کہ فلسطینی گروہ کار بم دھماکوں کا سہارا لے سکتے ہیں۔ تقریباً دو ماہ بعد موساد کے ایجنٹس نے اسی نوعیت کی کارروائی کرتے ہوئے روم میں دو فلسطینیوں کو نشانہ بنایا جبکہ پیرس میں فلسطین نواز ایک الجزائری کارکن کو قتل کر دیا۔

گٹمین کے مطابق موساد کی جانب سے پہلے سے دی گئی یہ وارننگز بعد میں ہونے والی ان ہلاکتوں کے اصل ذمہ داروں کے بارے میں شکوک و شبہات کا رخ اسرائیل سے ہٹانے میں مددگار ثابت ہو سکتی تھیں۔ ان کے بقول موساد درست اور قابلِ اعتماد معلومات کے بڑے ذخیرے میں گمراہ کن معلومات شامل کرتا ہے تاکہ وہ زیادہ قابلِ یقین محسوس ہوں۔

اس حکمت عملی کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ یورپی انٹیلیجنس ادارے موساد کے ساتھ تعاون جاری رکھ سکتے تھے، بغیر اس کے کہ وہ ان کارروائیوں میں اسرائیل کے ممکنہ کردار سے متعلق کسی علم کا اعتراف کریں۔

اس دور میں موساد معلومات افشا کر کے اپنے نشانات چھپانے کی کوشش کرتا تھا، جبکہ ایران کے ساتھ 2025 کی جنگ کے دوران، ڈیوڈ برنیا کے مطابق، ویڈیوز اور تصاویر جاری کرنے کا مقصد اسرائیل سے وابستہ عناصر کی موجودگی کو نمایاں کرنا تھا۔

اگرچہ دونوں طریقہ کار میں واضح فرق تھا، لیکن ان کا مشترکہ مقصد ایک ہی تھا: موساد کی فراہم کردہ معلومات کے ذریعے ہدف بنائے گئے افراد کے تاثر اور طرزِ عمل پر اثرانداز ہونا۔

کیا برنیا کے حالیہ بیانات بھی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں؟

بی بی سی فارسی کے سوال پر کہ آیا ڈیوڈ برنیا کے حالیہ بیانات کو ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے؟ اویوا گٹمین نے اس امکان سے اتفاق کیا۔

ان کے مطابق موساد اب بھی اس آپریشن کے بیانیے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اسے ایک نمایاں انٹیلیجنس کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

احمد الراوی بھی اس رائے سے متفق ہیں کہ برنیا کے بیانات سے ایک ایسی حکومت کا تاثر ابھر سکتا ہے جو کمزور، غیر مستحکم اور وسیع پیمانے پر خفیہ اداروں کے اثر و رسوخ کا شکار ہو۔

ان کے مطابق ایران میں اسرائیلی ایجنٹوں کی بڑی تعداد کی موجودگی سے متعلق دعوے اسلامی جمہوریہ کے سکیورٹی اداروں کو ایسے جاسوسوں کی تلاش میں اپنے وسائل صرف کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں جو شاید حقیقت میں موجود ہی نہ ہوں۔

جہاں تک سابق موساد سربراہ کے اس مخصوص دعوے کا تعلق ہے کہ تصاویر اور ویڈیوز جاری کرنے سے موساد کے ایجنٹوں کو تحفظ ملا، احمد الراوی کا کہنا ہے کہ 'اس دعوے کا درست انداز میں جائزہ لینے یا اس کی تصدیق کرنے کا کوئی قابلِ اعتماد طریقہ موجود نہیں۔'

انھوں نے کہا کہ جنگ کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کو مختلف محاذوں پر مسلسل اور وسیع حملوں کا سامنا تھا، اس لیے یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ موساد کی تصاویر جاری کیے جانے سے ایرانی سکیورٹی نظام میں پیدا ہونے والی مبینہ الجھن میں کس حد تک اضافہ ہوا یا اس میں اس اقدام کا کتنا کردار تھا۔