آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا سعودی تیل کا بحران پاکستان سمیت دنیا بھر میں پٹرول، گیس اور خوراک کو مزید مہنگا کر سکتا ہے؟
- مصنف, بین چو
- عہدہ, بی بی سی ویریفائی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ایک بار پھر تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اب کی بار اس کی بڑی وجہ حالیہ دنوں میں یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتا ہوا تنازع ہے، جس نے تیل کی صنعت میں بے چینی اور افراتفری پیدا کر دی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ جولائی کے بعد سے برطانیہ اور یورپ میں قدرتی گیس کی قیمت تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عالمی معیشت ایک بار پھر افراطِ زر کے جھٹکے کا سامنا کرنے جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں شرحِ سود میں اضافہ ہو سکتا ہے، قرضوں (مارگیج) کی لاگت بڑھ سکتی ہے اور دکانوں میں تقریباً ہر چیز، بشمول خوراک، مہنگی ہو سکتی ہے۔
تو آخر توانائی کی مصنوعات میں تازہ اضافے کے پسِ پردہ عوامل کیا ہیں، اور عالمی معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟
پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ
جولائی سے اب تک تیل کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ عالمی منڈی میں اس وقت تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو کہ جولائی میں 70 ڈالر فی بیرل تھی۔
گذشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پانچ ستمبر کو پٹرول 345.87 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 378.05 روپے فی لیٹر تھا جو کہ 17 ستمبر کو بڑھ کر بالترتیب 391.22 اور 415.83 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔
اس ہی طرح عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں برطانیہ میں پٹرول کی اوسط قیمت 170 پنس فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے، جو 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے، جبکہ جولائی میں یہ قیمت 150 پنس فی لیٹر تھی۔
برطانیہ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں تقریباً دوگنا اضافے کے باعث توانائی کے شعبے کے ریگولیٹر آف جیم کی جانب سے مقرر کردہ گھریلو توانائی کی پرائس کیپ میں بھی آئندہ سال جنوری میں 25 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اوسط گھرانے کو سالانہ بنیاد پر تقریباً 440 پاؤنڈ اضافی خرچ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ میں اے اے اے گیس پرائسز انڈیکس کے مطابق پٹرول کے ایک گیلن (3.8 لیٹر) کی قیمت جولائی میں 3.80 ڈالر تھی جو کہ اب بڑھ کر 4.32 ڈالر ہو گئی ہے۔
امریکہ میں ڈیزل کی قیمت بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے اور ایک گیلن ڈیزل کی قیمت 6 ڈالر سے اوپر چلی کر گئی ہے۔ یہ سطح 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد دیکھی گئی قیمتوں سے بھی زیادہ ہے۔
قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجہ کیا ہے؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی رسد میں کمی ہے۔
فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ سے قبل عالمی تیل کی مصنوعات اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً 20 فیصد ترسیل آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی، جو خلیج اور بحیرۂ عرب کو ملانے والی ایک تنگ آبی گذرگاہ ہے۔
فروری کے بعد ایران کی جانب سے تجارتی جہاز رانی اور خلیج میں امریکہ کے اتحادیوں کی توانائی تنصیبات پر حملوں، نیز ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے باعث توانائی کی اس ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سعودی عرب نے اپنی ایسٹ۔ویسٹ پائپ لائن کے استعمال میں اضافہ کر دیا تاکہ آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرۂ احمر کے راستے تیل برآمد کیا جا سکے۔ میری ٹائم انٹیلی جنس فرم کپلر کے مطابق اس پائپ لائن کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر 36 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم گذشتہ ہفتے جمعہ کے روز ڈرون حملے کے بعد اس پائپ لائن کو بند کرنا پڑا۔ سعودی عرب نے اس حملے کا الزام عراق میں موجود ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر عائد کیا ہے۔
اس کے علاوہ حوثیوں نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کی متعدد تیل تنصیبات پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کیے، جن کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور بعض تنصیبات پر کام عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔
چیتھم ہاؤس کے نیل کوئلیم کے مطابق مرمت کے لیے پائپ لائن کو آٹھ ہفتوں تک بند رکھنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے منگل کو نشریاتی ادارے سی این بی سی کو بتایا کہ پائپ لائن ’بہت جلد‘ دوبارہ کھول دی جائے گی۔
اگرچہ امریکی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ایندھن کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح پر آ گئی ہے، مگر بیشتر آزاد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ آبی گذرگاہ اب بھی نمایاں طور پر متاثر ہے اور وہاں آمدورفت میں اب بھی مشکلات حائل ہیں۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق جنگ سے پہلے یومیہ تقریباً دو کروڑ 10 لاکھ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل ہوتی تھیں۔
تاہم کپلر کے اندازے کے مطابق اگست کے اختتام تک یہ حجم کم ہو کر تقریباً 86 لاکھ بیرل یومیہ رہ گیا تھا۔
گذشتہ دو ہفتوں کے دوران یمن کے حوثی سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کو پیچھے دھکیل کر آبنائے باب المندب کے نزدیکی اہم علاقے اپنے قبضے میں لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ بحیرۂ احمر کے جنوبی سرے پر واقع ایک اہم تجارتی گزرگاہ ہے جس کے ذریعے فروری سے پہلے عالمی تیل کی رسد کا تقریباً پانچ فیصد حصہ منتقل ہوتا تھا۔
عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچ فیصد حصہ نہرِ سویز اور مصر کے پار بحیرۂ روم تک جانے والی پائپ لائن کے ذریعے بحیرۂ احمر کے شمالی راستے سے بھی گزرتا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ یہ تشویش بھی ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی گروہ آبنائے ہرمز کی طرح ان بحری گزرگاہوں سے بھی تیل کی ترسیل میں مزید رکاوٹیں پیدا کر سکتے ہیں۔
یمن کے جنوب مغربی ساحل پر حالیہ پیش قدمی سے قبل حوثیوں نے جولائی میں سعودی جہازوں اور بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بحیرۂ احمر سے گذرنے والے دیگر ممالک کے جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ’دنیا بھر میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ایران نہیں بلکہ روس اور یوکرین کی جنگ ہے۔‘
یاد رہے کہ روس دنیا میں ڈیزل برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تنازع کے دوران روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرین نے ڈرون حملے بھی کیے ہیں اور اس کے نتیجے میں ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔
تاہم بیشتر ماہرین کے نزدیک حالیہ عرصے میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتا ہوا علاقائی تنازع ہے، جس نے عالمی منڈیوں میں تیل اور گیس کی رسد کے بارے میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
عالمی معیشت پر اثرات
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ عموماً اگر عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتیں برقرار رہتی ہیں تو یہ گھریلو اخراجات میں اضافے اور معاشی نمو کی سست رفتاری کا باعث بنتی ہیں۔ اس سے لوگوں کی آمدنی اور اجرتوں میں کمی بھی ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اندازے کے مطابق اگر تیل کی قیمتوں میں مسلسل 10 فیصد اضافہ رہے تو اس سے عالمی افراطِ زر میں 0.4 فیصد اضافہ اور عالمی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو میں 0.2 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔
بینک آف انگلینڈ کے مطابق عالمی تیل کی قیمت میں 10 فیصد اضافے سے قلیل مدت میں برطانیہ میں افراطِ زر کی شرح 0.5 فیصد بڑھ سکتی ہے، جبکہ برطانوی معیشت کی شرح نمو میں تقریباً 0.4 فیصد کمی آ سکتی ہے۔
جون کے بعد سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اس منظرنامے کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے جسے آئی ایم ایف اور بینک آف انگلینڈ نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اپنے اقتصادی ماڈلز میں استعمال کیا تھا۔
تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا جائے تو عالمی تیل کی قیمتیں دوبارہ نیچے آ جائیں۔
جون میں جب متحارب فریقوں کے درمیان ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے تو تیل کی قیمت، جو 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، عارضی طور پر تیزی سے گر کر جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب آ گئی تھی۔