آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایرانی سفارت خانوں نے دورانِ جنگ ’ایکس‘ کو ہتھیار کیسے بنایا؟
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی سے قبل ایک ایسا وقت تھا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران پر معاہدے کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ملک میں موجود پُلوں اور پاور سٹیشنز پر حملے کیے جائیں گے۔
امریکی صدر کی ڈیڈ لائن پر تبصرہ کرتے ہوئے زمبابوے میں ایرانی سفارتخانے نے لکھا: 'آٹھ بجے کا وقت مناسب نہیں۔ کیا اسے ایک یا دو بجے کیا جا سکتا ہے، یا پھر رات ایک یا دو بجے کے درمیان؟'
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے دوران ایکس پر ایرانی سفارتی اکاؤنٹس تہران کے پیغامات نشر کرنے اور اپنی ڈیجیٹل موجودگی کو مضبوط بنانے کا ایک مرکزی ذریعہ بن گئے۔
انھوں نے ایک غیر روایتی طرزِ عمل اپنایا، جس میں میمز، طنز اور مربوط جوابی پیغامات شامل تھے، تاکہ ایرانی بیانیے کو آگے بڑھایا جا سکے اور امریکی حکام کے بیانات کا توڑ کیا جا سکے۔
10 اپریل کو صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ 'ایرانی لڑائی سے زیادہ جعلی خبریں پھیلانے اور پبلک ریلیشنز کے ماہر ہیں' اور یہاں ان کا اشارہ ایران کی مؤثر آن لائن مہم کی طرف تھا۔
جنگ کی ابتدا کے بعد ایرانی سفارتخانوں کے اکاؤنٹس روایتی سفارتی زبان ترک کرتے ہوئے نظر آئے اور اس کے بجائے انھوں نے تنقید کا جواب دینے کے لیے طنز و مزاح اور جنگ مخالف بیانات کا سہارا لیا اور موجودہ بیانیے کو چیلنج کرنے کی کوشش کی۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ حکمتِ عملی ایران کی بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے اپنائی گئی ہو، جو جنوری میں ایران کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد متاثر ہوا تھا۔
جنگ کے دوران کونسے ایرانی سفارتی خانے متحرک تھے؟
اس دوران سوشل میڈیا پر جنوبی افریقہ، زمبابوے، انڈیا اور جاپان میں ایران کے سفارتی مشنز بہت متحرک نظر آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایکس پر ایران کی وزارتِ خارجہ 130 سفارتخانوں اور قونصل خانوں کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے، جن میں سے زیادہ تر اکاونٹس نے بیک وقت ایک جیسے پیغامات سوشل میڈیا پر جاری کیے۔
اس مہم میں جنوبی افریقہ میں ایران کے سفارتی مشن نے نمایاں حیثیت حاصل کی، جہاں سے طنزیہ مواد کی بار بار اشاعت اور امریکی پالیسیوں پر تنقید اور تمسخر اُڑانے والی ویڈیوز کی پوسٹ کی گئیں جنھیں خاصی توجہ بھی ملی۔
یہ ان پہلے اکاؤنٹس میں بھی شامل تھا جنھوں نے اس طرزِ عمل کو اپنایا۔
ان پیغامات کا ہدف کون تھا؟
یہ پیغامات بظاہر بنیادی طور پر ایران سے باہر بیٹھے افراد کے لیے تھے، نہ کہ ایرانی عوام کے لیے۔
ایران میں دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ ایکس پر بھی پابندی عائد ہے۔
28 فروری کو اس جنگ کی شروعات کے بعد ہی ایرانی عوام کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا تھا کیونکہ ملک میں اس وقت بھی انٹرنیٹ پر جزوی بندش برقرار ہے۔
ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے شائع کیے جانے والے پیغامات انگریزی زبان میں لکھے گئے تھے اور ان کی توجہ کا مرکز امریکہ خارجہ پالیسی کی مخالفت، جنگ کی مخالف کرنے والے گروہ اور امریکی معاشرے کے کچھ حلقے تھے۔
ان پیغامات کا لب و لہجہ طنز و مزاح اور جذبات کو بھڑکانے والا تھا، جس کا مقصد بظاہر ان نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنا تھا جو بنیادی طور پر امریکی پالیسیوں کے ناقد ہیں۔
پوسٹ کیے گئے مواد کی نوعیت کیا تھی؟
ایرانی سفارتخانوں کے اکاؤنٹس نے طنز و مزاح اور جذبات سے بھرپور مواد شائع کیا، جن میں مصنوع ذہانت سے بنائی گئی چیزیں بھی شامل تھیں۔
ان پیغامات میں امریکی حکام کا تمسخر اڑایا جا رہا تھا اور خصوصاً امریکی صدر ٹرمپ کا بدلتا ہوا مؤقف ان کے نشانے پر تھا۔
ان اکاونٹس سے شائع ہونے والے نمایاں جملوں میں سے ایک امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے دی جانے والی ایک دھمکی سے متعلق تھا، جس پر سفارتی اکاؤنٹس نے مربوط طنزیہ انداز میں ردِعمل دیا جو کہ آبی گزرگاہ کی 'چابیاں کھو دینے' کے حوالے سے تھا۔
اس کے برعکس کچھ مواد کی تیاری میں سنجیدہ لب و لہجہ استعمال کیا گیا تھا، مصنوعی ذہانت کا سہارا لے کر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے متاثرین کی کہانیاں سنائی گئی تھیں اور ایک جذباتی بیانیہ بنانے اور جنگ کے اثرات دکھانے کی کوشش کی گئی تھی۔
ان پیغامات میں امریکی حکام کو بھی نشانہ بنایا، خاص طور پر اس وقت جب ایران کو 'پتھر کے زمانے' کو زمانے میں بھیجنے کی دھمکیوں کا سامنا تھا۔ اس کے جواب میں ایرانی سفارتخانوں اور قونصل خانوں کے اکاؤنٹس نے ایران کی قدیم تہذیب کو اجاگر کرنے والے تاریخی حوالہ جات پیش کیے۔
جیسے جیسے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی آگے بڑھی، ایرانی بیانیہ ملک کی مضبوطی اور فتح کو اجاگر کرنے کی طرف منتقل ہوتا گیا، جہاں پوسٹس میں بین الاقوامی سطح پر ایران کے مقام اور طاقت پر زور دیا گیا۔
نمایاں ترین مواد میں انڈیا میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے شائع کی گئی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک تصویر شامل تھی، جس کے ساتھ لکھا تھا: 'ایرانی تہذیب کے سامنے جھک جاؤ۔'
اس نوعیت کے مواد میں بار بار سامنے آنے والا ایک اور موضوع ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کے درمیان مبینہ روابط کا حوالہ ہے، جو ایپسٹین کیس سے متعلق ایک وسیع تر تناظر میں پیش کیا جاتا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک حالیہ پوسٹ جس میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر میں انھیں مسیحا کے روپ میں ایک ہسپتال میں مریض کا علاج کرتے ہوئے دکھایا گیا، شدید تنقید کی زد میں آئی۔ اس پیش رفت کے بعد بعض ایرانی اکاؤنٹس نے فوری ردِعمل ظاہر کیا۔
تاجکستان میں ایران کے سفارت خانے کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں اس تصویر کو متحرک انداز میں دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مسیح کو ٹرمپ کے پیچھے اترتے ہوئے اور پھر انھیں ضرب لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس پوسٹ کو اب تک 24.2 ملین سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔
اسی دوران امریکہ میں معاشی مسائل بھی ان پیغامات کا حصہ رہے، جہاں امریکی عوام کے لیے جاری بعض مواد میں ممکنہ جنگ کی قیمت کو اجاگر کیا گیا، جن میں خاص طور پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے جیسے خدشات پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اس مہم میں اور کون شامل تھا؟
سرکاری چینلز کے علاوہ اس ڈیجیٹل سرگرمی میں بعض ایرانی شخصیات اور غیر سرکاری مواد تخلیق کرنے والے (کنٹینٹ کریئیٹرز) بھی نمایاں طور پر سامنے آئے۔
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف ان اہم حکومتی شخصیات میں شامل تھے جنھوں نے انگریزی زبان میں پیغامات جاری کیے۔ ابتدا میں انھوں نے سخت لہجہ اپنایا اور ’میمز‘ کا سہارا لیا، تاہم بعد ازاں مذاکرات کے دوران اور ان کے بعد ان کا انداز نسبتاً زیادہ رسمی ہو گیا۔ واضح رہے کہ قالیباف جنگ کے دوران اہم فیصلہ سازوں میں شامل رہے اور بعد میں امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں مرکزی مذاکرات کار کے طور پر سامنے آئے۔
اسی تناظر میں، لیگو طرز کی اینی میٹڈ ویڈیوز نے بھی ڈیجیٹل منظرنامے میں خاصی توجہ حاصل کی۔ یہ ویڈیوز پلیٹ فارم ایکس اور انسٹاگرام پر وسیع پیمانے پر وائرل ہوئیں، جن میں سادہ کہانی اور موسیقی کے ذریعے جنگ اور امریکہ مخالف پیغامات پیش کیے گئے۔
یہ ویڈیوز ایک کمپنی ایکسپلوسِو میڈیا نے تیار کیں، جو خود کو ایک آزاد ادارہ قرار دیتی ہے تاہم اس کے مواد میں ایرانی بیانیے سے غیر معمولی مماثلت دکھائی دیتی ہے۔
یہ تمام مواد بظاہر خاص طور پر امریکی عوام کو مخاطب کرتا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہپ ہاپ موسیقی اور براہِ راست، اشتعال انگیز پیغامات شامل ہیں۔ ان پیغامات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو منفی انداز میں پیش کیا گیا، انھیں تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، جبکہ امریکی حکومت پر بدعنوانی اور اسرائیل کے زیرِ اثر ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
اگرچہ امریکہ کے اندر اس ڈیجیٹل مہم کے اثرات کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ بعض مواقع پر یہ مہم انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ نمایاں آوازوں میں سے ایک، یعنی ڈونلڈ ٹرمپ، کی توجہ کو چیلنج کرنے میں کامیاب رہی۔