ورلڈ کپ سیمی فائنلز کی دوڑ: میسی اور ایمباپے جیسے بڑے کھلاڑی آمنے سامنے اور انگلینڈ کے لیے ارجنٹینا سے پُرانا حساب چکانے کا موقع

    • مصنف, ادویدھ راجن
    • عہدہ, بی بی سی سپورٹ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

ورلڈ کپ میں مسلسل ڈرامائی اور ناقابلِ فراموش لمحات سامنے آ رہے ہیں اور اب سیمی فائنلز کی جانب بڑھتے ہوئے میدان صرف چار ٹیموں تک محدود رہ گیا ہے۔

فرانس، سپین، انگلینڈ اور ارجنٹینا اب عالمی ٹائٹل سے صرف دو فتوحات دور ہیں اور فائنل میں جگہ داؤ پر لگی ہونے کے باعث غلطی کی گنجائش تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

تو ان چار بہترین ٹیموں کے درمیان اِن دو سیمی فائنلز میں کیا توقع کی جا سکتی ہے؟

ایمباپے بمقابلہ یامال: یورپی سٹارز آمنے سامنے

یورپ کی دو سب سے مضبوط ٹیموں کے درمیان یہ مقابلہ (یعنی فرانس بمقابلہ سپین) ورلڈ کپ کے بہترین میچز کی فہرست میں شامل ہونے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

فرانس نے مراکش کو دو صفر سے شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تو کیلین ایمباپے ایک بار پھر سرخیوں میں رہے۔ ٹورنامنٹ میں ان کے گولز کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے اور وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بننے کی دوڑ میں لیونل میسی سے صرف ایک گول پیچھے ہیں۔

لیکن فرانس کی سب سے بڑی طاقت میدان بھر میں موجود ان کے معیاری کھلاڑیوں کی بھرمار ہے، جیسے عثمان ڈیمبیلے جنھوں نے کوارٹر فائنل میں فتح کو یقینی بنایا اور ان کے گولز کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔

جبکہ مائیکل اولیسے پانچ اسسٹس کے ساتھ اس ورلڈ کپ میں سرِفہرست ہیں۔

اِن سٹارز سے بھرپور فرانس کی ٹیم سپین کے خلاف فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ سپین نے 2024 میں یورپی چیمپیئن شپ جیتنے کے سفر میں سیمی فائنل میں انھیں دو صفر سے شکست دی تھی۔

یہ احساس موجود ہے کہ سپین کی طرف بہترین کھیل پیش ہونا ابھی باقی ہے۔

ان کے سٹار کھلاڑی لامین یامال ابھی تک ورلڈ کپ میں حقیقی معنوں میں اپنی موجودگی کا احساس نہیں دلا سکے۔

بارسلونا کے ونگر نے صرف ایک گول کیا ہے جو گروپ مرحلے میں سعودی عرب کے خلاف تھا۔

چار گول کرنے والے میکیل اویارزابال گذشتہ دو میچوں میں گول کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس لیے لوئس دے لا فوئنٹے کی ٹیم کو ناک آؤٹ مرحلے میں پرتگال اور بیلجیئم دونوں کے خلاف متبادل کھلاڑی میکیل میرینو کی آخری لمحات کی مداخلت کی ضرورت پڑی۔

2010 میں ورلڈ کپ جیتنے والا سپین امید کرے گا کہ یامال، جو میچ سے ایک دن قبل 19 برس کے ہو جائیں گے، سیمی فائنل میں ایسی کارکردگی دکھائیں جو ان کی صلاحیتوں کا حق ادا کرے۔

فرانس اپنا آٹھواں ورلڈ کپ سیمی فائنل کھیلے گا اور اس طرح برازیل کی برابری کرے گا جبکہ صرف جرمنی (12) نے اس سے زیادہ سیمی فائنلز میں شرکت کی ہے۔

سپین اپنی تاریخ کی طویل ترین ناقابلِ شکست دوڑ پر ہے اور مارچ 2024 میں کولمبیا کے خلاف 0-1 کی شکست کے بعد سے مسلسل 36 میچوں میں ناکامی سے بچا ہوا ہے۔

اس عرصے میں اس نے 27 میچ جیتے ہیں اور نو برابر کیے ہیں۔

ورلڈ کپ میں یہ دونوں ٹیموں کے درمیان صرف دوسرا مقابلہ ہوگا۔

2006 میں آخری 16 کے مرحلے میں فرانس نے سپین کے خلاف ابتدائی نقصان کے بعد تین، ایک سے کامیابی حاصل کی تھی۔

ورلڈ کپ میں پرانے حریف ارجنٹینا اور انگلینڈ

2018 کے بعد یہ انگلینڈ کا دوسرا ورلڈ کپ سیمی فائنل ہوگا، لیکن دفاعی چیمپیئن ارجنٹینا 60 برس میں پہلی بار فائنل تک رسائی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

یہ جذبے اور رقابت سے بھرپور مقابلہ ہے جو میکسیکو میں ڈیگو میراڈونا کی جانب سے تقریباً تنِ تنہا انگلینڈ کو کوارٹر فائنل سے باہر کرنے کے 40 برس بعد ہو رہا ہے۔

اس بار ارجنٹینا کے پاس بھی ایک سپر سٹار نمبر 10 موجود ہے۔

لیونل میسی نے کبھی انگلینڈ کا سامنا نہیں کیا اور پہلی بار ایسا کرنے کے لیے ورلڈ کپ سیمی فائنل سے بڑا موقع اور کیا ہو سکتا ہے۔

میسی، جو اس ٹورنامنٹ میں ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے، اس وقت فرانس کے کلیین ایمباپے کے ساتھ آٹھ، آٹھ گول کر کے گولڈن بوٹ کی دوڑ میں سرفہرست ہیں۔

لیکن انگلینڈ کے پاس بھی اپنا مشہور نمبر 10 جوڈ بیلنگھم موجود ہے، جنھوں نے گذشتہ دونوں ناک آؤٹ میچوں میں دو، دو گول کیے ہیں۔

1986 میں میراڈونا کے بعد وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے کھلاڑی ہیں۔ جبکہ کپتان ہیری کین اس موسمِ گرما میں اب تک چھ گولوں کے ساتھ اپنے ساتھی کھلاڑی کے برابر ہیں۔

اس ورلڈ کپ میں اب تک دونوں ممالک واقعی اپنا بہترین کھیل پیش نہیں کر سکے۔ وہ ناک آؤٹ مرحلے میں جدوجہد کرتے ہوئے فتوحات حاصل کر کے یہاں تک پہنچے ہیں۔

اگر بدھ کا مقابلہ بھی کسی جنگ میں تبدیل ہو جائے تو یہ حیران کن نہیں ہوگا۔ انگلینڈ کے مینیجر تھامس ٹوخل نے اپنی ٹیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ناروے کے خلاف کوارٹر فائنل کی فتح کے مقابلے میں زیادہ معیار کا مظاہرہ کرے۔

انگلینڈ 2018 کے بعد چار بڑے ٹورنامنٹس کے سیمی فائنل میں پہنچ چکا ہے۔ 2018 کے ورلڈ کپ سے قبل یہ کل چار بار بڑے ایونٹس کے فائنل میں پہنچا تھا۔

انگلینڈ نے مسلسل چار ورلڈ کپ میچ جیتے ہیں جو 1966 کے بعد کسی ایک ایڈیشن میں ان کی طویل ترین فتوحات کی لڑی ہے۔

ٹوخل انگلینڈ کے صرف دوسرے منیجر ہیں جو ورلڈ کپ میں اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پہلے چھ میچوں میں ناقابلِ شکست رہے ہیں۔ اس سے پہلے 1966 میں الف رمزی نے چھ میچوں کے بعد بالکل یہی ریکارڈ بنایا تھا (پانچ فتوحات، ایک ڈرا)۔

ارجنٹینا گذشتہ چار ایڈیشنز میں تیسری بار ورلڈ کپ کے آخری چار مرحلے میں پہنچا ہے — 2014، 2022، 2026۔

2014 سے پہلے وہ 1990 کے بعد سیمی فائنل تک نہیں پہنچ سکے تھے۔