ماجد ستی کے قتل کے مقدمے میں فرخ کھوکھر سمیت تین افراد کو عمر قید کی سزا

فرخ کھوکھر

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی ایک عدالت نے کاروباری شخصیت ماجد ستی کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما فرخ امتیاز کھوکھر سمیت تین ملزمان کو عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

منگل کو سزا سنائے جانے کے بعد فرخ کھوکھر کو کمرۂ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا۔ جبکہ دیگر دو سزا یافتہ ملزمان کو اڈیالہ جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج افشاں اعجاز صوفی نے سنایا جس میں عدالت نے فرخ امتیاز کھوکھر، امیر حمزہ اور حیدر علی عرف علی جوگی کو تعزیراتِ پاکستان کی قتل دفعات 302، 148 اور 149 کے تحت عمر قید کی سزائیں سنائیں۔ جبکہ شریک ملزم وسیم کو شواہد ناکافی ہونے پر بری کرنے کا حکم دیا گیا۔

فرخ کھوکھر اور ان کے شریک مجرم ساتھیوں پر قتل کا یہ مقدمہ 23 اگست 2022 کو راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد میں درج کیا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر درج مقدمے میں فرخ کھوکھر کا نام شامل نہیں تھا۔ تاہم پولیس کی تفتیش میں مدعی نے فرخ کھوکھر کو نامزد کیا تھا جس کے بعد پولیس نے فرخ کھوکھر کا نام ضمنیوں میں درج کیا تھا۔

پولیس کے مطابق اس عداوت کی وجہ ماجد ستی کی جانب سے فرخ کھوکھر کے مخالفین کا ساتھ دینا تھی۔

دریں اثنا اس مقدمے میں مبینہ شوٹر اور تین ملزمان ابھی بھی اشتہاری ہیں۔

فرخ کھوکھر کے خاندان نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرخ کھوکھر کے وکلا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان کے موکل بے گناہ ہیں اور اس فیصلے کے خلاف وہ ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عدالتی دستاویزات کے مطابق سزا یافتہ ہر مجرم مقتول ماجد ستی کے قانونی ورثا کو 10 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرے گا۔ ’اگر کوئی مجرم معاوضے کی رقم ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو یہ رقم قانون کے مطابق بقایاجاتِ سرکار کی طرح وصول کی جائے گی۔‘

عدالت نے سزا یافتہ ملزمان کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382 بی کا فائدہ بھی دیا، جس کے تحت دورانِ حراست گزارا گیا عرصہ سزا میں شمار ہوگا۔

فیصلے کے بعد عدالت نے جیل اڈیالہ حکام کو حکم دیا کہ مجرموں کو تحویل میں لے کر سزا پر عملدرآمد کیا جائے۔

عدالت نے شریک ملزم وسیم کو استغاثہ کی جانب سے جرم ثابت نہ کیے جانے پر بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

فیصلہ سنائے جانے کے وقت مقتول ماجد ستی کے ورثا اور لواحقین کی بڑی تعداد جوڈیشل کمپلیکس میں موجود تھی۔ دوسری جانب فرخ کھوکھر اور دیگر ملزمان کے حامی بھی بڑی تعداد میں عدالت پہنچے تھے۔

ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر جوڈیشل کمپلیکس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ مسلح افراد اور گاڑیوں کے عدالتی احاطے میں داخلے پر پابندی عائد رہی، جبکہ عدالت میں داخل ہونے والے تمام افراد کی تلاشی لی گئی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق مقدمہ ایف آئی آر نمبر 2349 کے تحت 23 اگست 2022 کو تھانہ صادق آباد، راولپنڈی میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 109، 148، 149 اور 114 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ تقریباً چار سال تک مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت نے 14 جولائی 2026 کو فیصلہ سنایا۔

پنجاب پولیس، راولپنڈی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماجد ستی کا قتل کیسے ہوا تھا؟

ماجد ستی قتل کیس کا مقدمہ تھانہ صادق آباد میں درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کے مدعی مقتول کے چچا حاجی محمد ارشد محمود تھے۔

درج مقدمے میں حاجی محمد ارشد نے کہا تھا کہ ’میں راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں موبائل پلازہ کی تعمیر کا کام کر رہا تھا۔ اس موقع پر میرے ساتھ میرا بھائی ناصر محمود، بھتیجا ماجد ذوالفقار (ماجد ستی) اور ملازم عالم زیب موجود تھے۔ شام کے وقت ہم اپنا دفتر بند کرکے جا رہے تھے۔ اسی دوران ماجد ستی کو اس کے جاننے والے قاسم شاہ کا فون آیا تو ماجد ستی نے کہا کہ مجھے قاسم شاہ نے بلایا ہے، میں اس کی بات سن لوں، آپ بھی باہر آئیں، پھر نکلتے ہیں۔‘

درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’میں، ناصر محمود اور عالم زیب تھوڑی دیر بعد روڈ پر باہر نکلے تو روڈ پر گاڑی کھڑی تھی، جس میں قاسم شاہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا جبکہ ماجد ستی قاسم شاہ کے ساتھ والی سیٹ پر موجود تھا۔ اس دوران ایک نامعلوم موٹر سائیکل سوار گاڑی سے ٹکرایا اور آگے نکل گیا۔‘

حاجی محمد ارشد کی جانب سے مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’قاسم شاہ نیچے اتر کر گاڑی کو دیکھنے لگا اور ماجد ستی بھی گاڑی سے باہر نکل آیا۔ تو دو اشخاص، جو کہ ہنڈا موٹر سائیکل پر تھے، سامنے آئے۔ ان میں ایک شخص، جو موٹر سائیکل چلا رہا تھا، اس کی عمر تقریباً تیس سال تھی اور وہ گندمی رنگت کے پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا۔ دوسرا شخص لمبا، گورا، پتلے جسم کا تھا اور شلوار قمیض پہنے ہوئے تھا۔‘

درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ دونوں نے ’پستول نکالے اور ماجد کا نام لے کر اس پر یکے بعد دیگرے تین فائر کیے، جن کو سامنے آنے پر شناخت کر سکتے ہیں۔ میں اور میرا بھائی ناصر زخمی ماجد کو لے کر ہسپتال گئے، جہاں پر وہ زخموں کی تاب نہ لا سکا۔‘

درج مقدمے میں حاجی محمد ارشد نے کہا ہے کہ ’واقعے سے پہلے مجھے میرے بھتیجے نے بتایا تھا کہ کچھ لوگ اس کا پیچھا کر رہے ہیں۔ یہ ٹارگٹ کلنگ ہے۔‘

درج مقدمے میں وجہ عناد کا ذکر کرتے ہوئے حاجی محمد ارشد نے بتایا کہ ’غوری ٹاؤن کے مکان کے ایک کیس میں میرے بھتیجے نے عبدالرحمن نامی شخص کو گرفتاری سے بچایا تھا، جس کا فریق مخالف کو شدید رنج تھا۔ نامعلوم ملزمان نے سوشل کام کی وجہ سے میرے بھتیجے کو قتل کروایا ہے۔‘

شوٹر اور تین دیگر ملزمان ابھی بھی اشتہاری ہیں۔

ماجد ستی کی جانب سے عدالت میں پیروی کرنے والے فخر حیات اعوان ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی مقدمے کے بعد، جس میں ان کے مؤکل نے کسی کو بھی نامزد نہیں کیا تھا، بعد ازاں پولیس کی تفتیش میں ٹھوس شواہد پیش کیے گئے، جس کے نتیجے میں تین مجرموں کو مقدمے میں نامزد کیا گیا، جبکہ اسی مقدمے میں چار لوگ، جن میں شوٹر بھی شامل ہے، ابھی تک مفرور ہیں اور ان کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔

فخر حیات اعوان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی سماعت چار سال تک جاری رہی تھی۔ ’اس دوران ہم نے 27 گواہیاں عدالت میں پیش کی تھیں، جن میں موقع کے گواہوں کے علاوہ فارنزک رپورٹ، جیو فارنزک، مجرموں کی ٹریول ہسٹری سمیت ڈیجیٹل گواہیاں شامل تھیں۔ ان کی گواہی کے بعد ان پر جرح ہوتی رہی اور ایک لمبی مدت تک یہ ٹرائل جاری رہا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس میں ہم نے اپنا کیس ثابت کیا ہے، جس میں مجرم فرخ کھوکھر پر ثابت ہوا کہ اس نے یہ وقوعہ کروایا تھا، جبکہ باقی لوگ استعمال ہوئے ہیں۔ جس نے سب سے پہلے موٹر سائیکل سوار نے ٹکر ماری تھی، وہ حیدر علی تھا۔ اس کے بعد دوسرے موٹر سائیکل سواروں میں سے پیچھے بیٹھے ہوئے ایک ملزم نے فائرنگ کی، وہ ابھی تک مفرور ہے، جبکہ موٹر سائیکل چلانے والا امیر حمزہ اس وقت جیل میں ہے۔‘

فخر حیات اعوان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ’اس وقوعے میں ابھی شوٹر اور دیگر تین ملزمان اشتہاری ہیں۔ یہ وہ تین ملزمان ہیں جنھوں نے مجرم فرخ کھوکھر کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی تھی اور اس کے لیے وسائل سمیت دیگر سہولتیں فراہم کی تھیں۔‘

کھوکھر خاندان کئی دہائیوں تک پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہا۔ تاہم جولائی 2025 میں فرخ کھوکھر نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شمولیت اختیار کی، جہاں ان کا استقبال مولانا فضل الرحمٰن نے کیا

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

،تصویر کا کیپشنکھوکھر خاندان کئی دہائیوں تک پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہا۔ تاہم جولائی 2025 میں فرخ کھوکھر نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شمولیت اختیار کی، جہاں ان کا استقبال مولانا فضل الرحمٰن نے کیا

فرخ کھوکھر کون ہیں؟

فرخ امتیاز کھوکھر کا تعلق راولپنڈی اور اسلام آباد کے بااثر سمجھے جانے والے کھوکھر خاندان سے ہے۔ وہ امتیاز عرف تاجی کھوکھر کے صاحبزادے، سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی حاجی نواز کھوکھر کے بھتیجے اور سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کے چچا زاد بھائی ہیں۔

ان کے والد امتیاز عرف تاجی کھوکھر راولپنڈی اور اسلام آباد کی ایک بااثر مگر متنازع شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ ان کے خلاف مختلف ادوار میں قتل، زمینوں پر قبضے، بھتہ خوری، اسلحہ، وائلڈ لائف قوانین کی مبینہ خلاف ورزی اور دیگر مقدمات درج ہوئے۔ متعدد مقدمات میں عدالتی کارروائیاں ہوئیں، جبکہ بعض میں وہ بری بھی ہوئے یا مقدمات مختلف مراحل میں ختم ہوئے۔

کھوکھر خاندان کئی دہائیوں تک پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہا۔ تاہم جولائی 2025 میں فرخ کھوکھر نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شمولیت اختیار کی، جہاں ان کا استقبال مولانا فضل الرحمٰن نے کیا۔

فرخ کھوکھر کاروباری اور سماجی سرگرمیوں میں بھی متحرک رہے ہیں۔ وہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں مستحق افراد کے لیے لنگر، راشن کی تقسیم، فری میڈیکل کیمپس، خون عطیہ مہم اور دیگر فلاحی سرگرمیوں سے وابستہ رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کی تصاویر اور ویڈیوز وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی شیئر کرتے رہے ہیں۔

وہ سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک، فیس بک اور انسٹاگرام پر کافی متحرک ہیں، جہاں ان کے لاکھوں فالوورز ہیں۔ ان کے اکاؤنٹس پر سیاسی سرگرمیوں، عوامی ملاقاتوں، فلاحی کاموں اور ذاتی زندگی سے متعلق مواد بھی شائع ہوتا رہتا ہے۔

2012 میں راولپنڈی کے ایک قتل کے مقدمے میں ان کا نام سامنے آیا۔ ستمبر 2013 میں انھوں نے گرفتاری دی، جبکہ دسمبر 2013 میں اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کے دوران مسلح افراد نے پولیس وین پر حملہ کرکے انھیں چھڑا لیا۔ دو روز بعد انھوں نے دوبارہ پولیس کے سامنے سرنڈر کر دیا۔

اکتوبر 2020 میں پولیس نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت فورتھ شیڈول کی مبینہ خلاف ورزی کے مقدمے میں فرخ کھوکھر کو گرفتار کیا۔ بعد ازاں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے اس مقدمے میں انھیں ریلیف دیا۔

اکتوبر 2023 میں ان کی اہلیہ رمشا کی گھر میں موت کے بعد ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ اسی عرصے میں وہ ماجد ستی قتل کیس میں بھی ملزم نامزد رہے۔

جنوری 2023 میں لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے ماجد ستی قتل کیس میں ان کی قبل از گرفتاری ضمانت مسترد کی، جس کے بعد انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔

14 جولائی 2026 کو راولپنڈی کی ایک عدالت نے ماجد ستی قتل کیس میں فرخ کھوکھر سمیت تین ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی، جبکہ ایک ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا تھا۔