بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کا قتل: ’ہم نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟‘

،تصویر کا ذریعہFamily sources
- مصنف, احتشام شامی
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
صوبہ بلوچستان میں شدت پسندوں کی فائرنگ کے ایک واقعے میں جن پانچ مزدوروں کی ہلاکت ہوئی ان کا تعلق صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا۔
20 سالہ محمد بلال کا تعلق رحیم یار خان کی تحصیل خانپور کے نواحی علاقہ فلڈ کالونی سے تھا اور وہ بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں مزدوری کرتے تھے۔
بلال کے بھائی محمد اصغر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’کسے معلوم تھا کہ پیسے کمانے کے لیے بلوچستان جا کر مزدوری کرنے والا بلال سہرا سجانے سے پہلے منوں مٹی تلے جا سوئے گا۔‘
تاحال کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم بلوچستان کے وزیر اعلی سرفراز بگٹی نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ماشکیل میں ’نہتے اور بے گناہ مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔‘
’یہ بلوچوں نے پنجابیوں کو نہیں، دہشت گردوں نے پاکستانیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملہ پاکستان کی وحدت اور قومی یکجہتی پر حملہ ہے۔‘
سرفراز بگٹی نے مزید کہا ہے کہ ’آزادی کا جھوٹا لبادہ اوڑھنے والے دہشت گرد ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔ ریاست ہر دہشت گرد اور اس کے سہولت کار کو انجام تک پہنچائے گی۔ پاکستان دہشت گردی کے سامنے نہ کبھی جھکا ہے اور نہ کبھی جھکے گا۔‘
دریں اثنا ڈپٹی کمشنر واشک مجید سرپرہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ذمہ دار افراد کی ’نشاندہی اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔‘
واشک پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ماشکیل میں دکانوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پانچوں مزدور موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ فائرنگ کے فوراً بعد حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کا مزید کہنا تھا کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز فوری طور پر علاقے میں پہنچ گئیں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔
مقتولین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے آبائی اضلاع سیالکوٹ، نارووال اور رحیم یار خان روانہ کی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFamily sources
’بلال نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
محمد بلال کے بھائی اصغر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے والد کافی سال پہلے وفات پا گئے تھے۔ ہم دیہاڑی دار محنت مزدوری کرنے والے لوگ ہیں۔ بلال ہمارا سب سے چھوٹا بھائی ہے، جس کی ہم نے شادی بھی کرنی تھی۔‘
وہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’ہم نے بلال کو کہا تھا کہ مزدوری کر کے پیسے اکٹھے کر لو تو ہم تمھاری شادی کر دیں گے۔ لیکن کسے پتا تھا کہ پیسے کمانے کے لیے بلوچستان جا کر مزدوری کرنے والا بلال سہرا سجانے سے پہلے منوں مٹی تلے جا سوئے گا۔‘
مقتول محمد بلال کے ماموں محمد اشرف کہتے ہیں کہ رحیم یار خان میں گرمی بہت زیادہ پڑتی ہے تو بلال ’اکثر کہا کرتا تھا کہ وہ مزدوری سے نہیں گھبراتا لیکن اس سے گرمی برداشت نہیں ہوتی۔‘
’قریبی گاؤں کے ایک ٹھیکے دار نے جب کہا کہ وہ کچھ مزدوروں کو بلوچستان لے کر جا رہا ہے جہاں ان کو آٹھ سو روپے دیہاڑی ملے گی، تو بلال نے کہا کہ یہ اچھا موقع ہے، ایک تو مستقل کام بھی مل گیا اور دوسرا بلوچستان کا موسم بھی ٹھنڈا ہوتا ہے، تو کام کا مزہ آئے گا۔‘
محمد اشرف نے فون پر بات چیت کرتے ہوئے مزید بتایا کہ بلال ’انتہائی شریف اور کم گو لڑکا تھا۔ پانچ وقت کا نمازی تھا اور بلا ضرورت دوستیاں کرنے کا قائل نہیں تھا۔ بزرگوں سے ادب سے ملتا تھا۔‘
’بلال کو بلوچستان گئے تقریبا 13 مہینے ہی ہوئے تھے اور سب کو یہی پتا تھا کہ وہ اپنی شادی کے لیے پیسے جمع کر رہا ہے۔ ہمارا یہی ارادہ تھا کہ جب چار، پانچ سال میں وہ اچھی خاصی رقم بنا لے گا تو اس کی شادی کر دیں گے۔‘
محمد اشرف بتاتے ہیں کہ اتوار کی شام جب وہ گھر واپس آئے تو ان کے بیٹے نے گھبرائے ہوئے انھیں بتایا کہ ’محلے کے کچھ لوگ بتا رہے تھے کہ بلال بھائی اور دوسرے لوگوں پر فائرنگ ہوئی ہے اور وہ فوت ہوگئے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ میں فوری طور پر خانپور شہر کی طرف بھاگا تاکہ ٹھیکے دار کے گھر والوں سے پتا کر سکوں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’وہاں پہنچا تو کسی کے پاس کوئی مصدقہ خبر نہ تھی۔ کچھ ہی دیر میں مقتول بلال کے بھائی اصغر کو بلوچستان سے ایک سرکاری ملازم کی کال آ گئی کہ ہم آپ کے بھائی کی لاش لے کر آ رہے ہیں۔‘
وہ سوال کرتے ہیں کہ بلال نے ’کسی کا کیا بگاڑا تھا؟ وہ تو چڑیا کو بھی نہیں مار سکتا تھا۔ وہ معصوم لڑکا تھا جو کہ اپنی شادی کا خواب لیے محنت مزدوری کرنے بلوچستان گیا تھا۔‘
’لیکن اس کی لاش کو ایمبولینس میں گھر واپس بھجوا دیا گیا۔ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔ ہمارا جوان ناحق مارا گیا۔ اس کے قاتلوں کو پکڑ کر سزا دیں تاکہ ہمیں سکون مل سکے۔‘

،تصویر کا ذریعہCourtesy Muhammad Imran
’کال جاری تھی جب فائرنگ کی آواز آئی‘
بلوچستان کے علاقے واشک میں شدت پسندوں کی فائرنگ میں قتل ہونے والے 18 سالہ محسن رضا کا تعلق پنجاب کے ضلع نارووال کے علاقے غازیوال کالونی سے تھا۔
محسن کے ماموں محمد عمران نے بتایا کہ محسن اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔
’وہ اپنے محنت کش باپ کا سہارہ بننا چاہتا تھا، وہ کام سیکھنے کے لیے تین ہفتے پہلے ہی بلوچستان اپنے کزنز کے پاس گیا تھا تاکہ روزگار کمائے اور گھر کے حالات بدلیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’جہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا یہ اس کے کزن کی دکان نہیں تھی، بلکہ وہ ایک دوسری دکان پر گپ شپ کرنے کے لیے گیا تھا، جہاں اچانک دہشت گردوں نے حملہ کیا۔‘
عمران بتاتے ہیں کہ بلوچستان کی تحصیل ماشکیل میں ان کے کئی رشتہ دار رہتے ہیں جن کے ذاتی کام اور دکانیں ہیں۔ ’اسی وجہ سے ہم نے محسن کو وہاں بھجوایا تھا تاکہ اپنوں میں رہے گا تو کام سیکھ جائے گا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ حملے کے وقت محسن گھر والوں سے کال پر بات کر رہے تھے۔ ’کال جاری تھی کہ اس دوران فائرنگ کی آواز آئی اور یہ وہی فائرنگ تھی جس میں محسن مارا گیا تھا۔‘
’وہ کہتے تھے کہ بلوچستان میں جان کو خطرہ ہے‘
بستی جٹکی کے رہائشی عبدالغنی کے بیٹے 40 سالہ بلال غنی بھی اسی واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ وہ گذشتہ 14، 15 برسوں سے بلوچستان میں محنت مزدوری کر رہے تھے جہاں ماشکیل کے علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں بلال ایک سال سے مزدوری کر رہا تھا۔
عبدالغنی بتاتے ہیں کہ ان کا بیٹا نائی کی دکان پر شیو کروا رہے تھے کہ جب ان پر حملہ ہوا۔
وہ کہتے ہیں کہ 'بلال تین، چار مہینوں سے کہہ رہا تھا کہ اب یہاں (بلوچستان کے) حالات ٹھیک نہیں اور پنجابیوں کی جان کو خطرہ رہتا ہے تو اس نے اپنے ٹھیکے دار کو کہہ رکھا تھا کہ وہ پنجاب واپس جانا چاہتا ہے اس لیے اس کا حساب کتاب کلیئر کر دیا جائے اور اس کی مزدوری کی رقم ادا کردی جائے۔
’اگر بلال کو بروقت اس کی مزدوری کے بقایا جات مل جاتے تو اس نے واپس آ جانا تھا۔‘
عبدالغنی کہتے ہیں کہ ’میں خود بوڑھا آدمی ہوں، اس بڑھاپے میں جوان بیٹے کا صدمہ صرف وہی جان سکتا ہے جو اس سے گزرا ہو اور دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالی کسی کو ایسا صدمہ نہ دکھائے۔‘
























