خاتون پر بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر شوہر کو ٹوائلٹ کلینر کا انجیکشن لگا کر قتل کرنے کا الزام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, پروین شبھم
- عہدہ, بی بی سی تیلگو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انتباہ: اس تحریر میں کچھ تفصیلات بعض قارئین کے لیے باعثِ تکلیف ہو سکتی ہیں۔
’ہم نے ایک خاتون اور دیگر دو افراد کو خاتون کے شوہر کو نشہ آور چیز دے کر بالکونی سے دھکا دینے اور انجیکشن کے ذریعے ٹوائلٹ صاف کرنے والا مواد ان کی رگوں میں ڈال کر مارنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔‘
یہ کہنا ہے کہ انڈیا کی ریاست تلنگانا کے ضلع ناظم آباد کے انسپیکٹر سریش کمار کا۔ انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ خاتون اور اس کے بوائے فرینڈ کو لگتا تھا کہ حال ہی میں سعودی عرب سے واپس آنے والا خاتون کا شوہر ان کے رشتے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
انسپکٹر سریش کے مطابق اس کام میں ایک اور شخص نے ان کی مدد کی ہے۔
پولیس کا الزام ہے کہ ملزمان نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت خاتون کے شوہر کو 24 گھنٹوں کے دوران دو مرتبہ قتل کرنے کی کوشش کی۔ پرشانت کی موت 30 جون کو ہوئی تھی۔
پولیس اور مقتول کے خاندان کی جانب سے مہیا کی گئی تفصیلات کے مطابق ناظم آباد ڈسٹرکٹ سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ دیانی پرشانت کی 12 سال قبل سندھیا سے شادی ہوئی تھی۔ یہ ایک ارینج میرج تھی اور ان کا ایک نو سالہ بیٹا اور ایک سات سال کی بیٹی ہے۔
سندھیا نے شادی سے قبل نرس کی ٹریننگ حاصل کی تھی اور وہ بطور نرس ناظم آباد کے ایک نجی ہسپتال میں کام کر رہی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہgettyimages
اصل واقعہ کیا ہے؟
تفصیلات کے مطابق کچھ عرصے تک پرشانت ناظم آباد میں ہی ایک فاسٹ فوڈ کی دکان چلاتے رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پانچ سال قبل پرشانت نوکری کی غرض سے سعودی عرب چلے گئے تھے۔ اس عرصے کے دوران وہ صرف ایک مرتبہ ہی گھر واپس آئے۔
پرشانت نے کچھ ماہ قبل اپنی بیوی سندھیا کو فون کر کے بتایا کہ وہ جون میں گھر آ رہے ہیں اور سعودی عرب واپس نہیں جائیں گے۔ پھر بالآخر وہ 27 جون کو واپس آ گئے۔
مقتول کے بھتیجے راہل نے بی بی سی کو بتایا کہ سندھیا پرشانت کو لینے حیدرآباد کے راجیو گاندھی ایئرپورٹ آئیں اور انھیں اپنے ساتھ گاڑی میں لے گئیں۔
یکم جولائی کو پرشانت کی والدہ دیانی شیاملا نے موپال پولیس میں شکایت درج کی کہ ان کے بیٹے کی موت مشکوک حالات میں ہوئی ہے۔
پرشانت کی والدہ نے اپنی شکایت میں موقف اختیار کیا کہ انھیں اپنی بہو پر شک ہے۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ابتدائی طور پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پرشانت کی موت شراب کے نشے میں حادثاتی طور پر ہوئی ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ سندھیا نے دو دیگر افراد کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
انسپکٹر سریش کمار کا الزام ہے کہ کچھ عرصے سے سندھیا کے نظام آباد کے رہائشی انیل کے ساتھ غیر ازدواجی تعلقات تھے۔ ’سندھیا اور انیل نے اپنے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بننے والے پرشانت کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تاکہ ان کا رشتہ قائم رہ سکے۔‘
انھوں نے بتایا کہ 29 جون کو ملزمان نے شراب کے نشے میں دھت پرشانت کو بنٹی نامی ایک اور نوجوان کے ساتھ مل کر چھت سے دھکا دے دیا۔ پراشانت کو نظام آباد کے ایک ہسپتال میں علاج کے لیے لے جایا گیا جہاں سے سندھیا انھیں گھر واپس لے آئی۔
انسپکٹر سریش کا کہنا ہے کہ بعد ازاں پرشانت کے ہاتھ میں لگے کینولا کے ذریعے انھیں نے ہوشی کی دوا اور ٹوائلٹ کلینر کا محلول دیا گیا جس کے بعد قے اور اسہال سے وہ وفات پا گئے۔
’ملزمان نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پرشانت کی موت طبعی وجوہات یا بیماری کے باعث ہوئی ہے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ اس جرم میں نیالکل کے رہائشی وینکٹاسائی عرف بنٹی نے بھی سندھیا اور انیل کی مدد کی تھی۔
انسپکٹر سریش کے مطابق مکمل تحقیقات کے بعد عدالت میں چارج شیٹ جمع کرائی جائے گی۔
’اس معاملے میں مزید کسی شخص کے ملوث ہونے یا نہ ہونے کا تعین تفصیلی تفتیش کے بعد ہو سکے گا۔ فی الحال تین ملزمان کو گرفتار کر کے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔‘
’بنٹی پرشانت کے بچپن کا دوست تھا‘
جون کی ایک مبینہ کال ریکارڈنگ بھی سامنے آئی ہے جس میں سندھیا کو وینکٹاسائی سے اپنے شوہر کو نشے میں رکھنے کے بارے میں بات کرتے سنا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ وینکٹاسائی سے مبینہ طور پر منسوب ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں پرشانت کو پہلے نشہ آور دوا دینے اور بعد ازاں جھگڑا کے دوران پرشانت کو چھت سے نیچے گرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
بی بی سی اس آڈیو اور ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
مقتول کے بھتیجے گولاپلی راہل نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزموں میں شامل بنٹی اور پرشانت بچپن کے دوست تھے۔
’دونوں ایک ہی گلی میں رہتے تھے۔ گاؤں میں اکثر ایک ساتھ وقت گزارتے تھے۔‘
راہل کے مطابق اس قتل میں شریک دوسرا ملزم انیل ہسپتال میں سندھیا کے ساتھ کام کرتا تھا۔ ’جب سندھیا کو معلوم ہوا کہ پرشانت سعودی عرب سے واپس آ رہا ہے تو انھوں نے اپنی ملازمت چھوڑ دی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ سندھیا نے انیل کے ساتھ مل کر قتل کی منصوبہ بندی کی اور اسی منصوبے کے تحت وہ ان دونوں کے ساتھ ایئرپورٹ بھی گئی تھیں۔
راہول نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے چچا کو 27 جون سے مسلسل نشے کی حالت میں رکھا جا رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’میں اپنے بیٹے کی لاش دیکھنے کے لیے منتیں کرتی رہی‘
پرشانت کی والدہ داینی شیاملا نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ان کے شوہر نے بہت پہلے چھوڑ دیا تھا جس کے بعد انھوں نے ہوٹلوں میں کام کر کے اپنے بیٹے کی پرورش کی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے سندھیا سے اس کی شادی اس لیے کروائی کیونکہ وہ اسے پسند کرتا تھا۔ آخرکار میرا بیٹا مجھ سے چھن گیا۔‘
شیاملا کا کہنا ہے کہ ’مجھے یہ تک نہیں بتایا گیا کہ میرا بیٹا سعودی عرب سے واپس آ گیا ہے۔ اُس رات اس کی لاش کو ہسپتال میں یوں چھوڑ دیا گیا جیسے اس کا کوئی وارث ہی نہ ہو۔ میں مردہ خانے کے عملے سے منت سماجت کرتی رہی کہ مجھے اپنے بیٹے کا چہرہ دکھا دیں۔‘
’اُس رات میں بارش میں مردہ خانے کی سیڑھیوں پر سوئی۔ میرا صرف ایک ہی بیٹا ہے۔ مجھے انصاف چاہیے۔‘
سندھیا کے خاندان کے افراد نے اس واقعے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
سندھیا کے بھائی ساگر نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔
انھوں نے بتایا کہ پرشانت اور سندھیا کے بچے ان کی تحویل میں ہیں۔
دیگر دو ملزمان، وینکٹاسائی اور انیل، کے رشتہ داروں سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

























