وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریستوران کے انہدام کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، معاملہ ٹرائل کورٹ کے سپرد

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کی جانب سے اسلام آباد کے سیاحتی مقام پیر سوہاوہ پر واقع مونال ریستوران گرانے سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف مونال ریستوران کی انتظامیہ کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی کی اپیل بھی اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے مسترد کردی تھی۔

تاہم بعد میں جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ کے سامنے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف میٹروپولیٹن کارپوریشن اور وفاقی ترقیاتی ادارے نے اپیلیں دائر کی تھیں، جو کہ منظور کرلی گئی ہیں۔

عدالت نے ان اپیلوں پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی ٹرائل کورٹ اس زمین کی ملکیت کا فیصلہ عدالتی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر کرے گی۔

عدالت نے ٹرائل کورٹس کو جلد از جلد اس سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس زمین سے متعلق انتظامی معاملات کا فیصلہ ریگولیٹری باڈیز کریں۔

وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی کی ان اپیلوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بہت سے نکات کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔

وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مونال سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے میں ’وہ کچھ لکھا گیا جس کا فسانہ میں ذکر نہ تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں جذباتی ہوکر فیصلے نہیں کرنے چاہیے۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مونال کے خلاف کارروائی

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سنہ 2006 میں مونال ریستوران کی تعمیر کے لیے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں جگہ لیز دی گئی اور اس علاقے میں ریستوران کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں قائم تعمیرات کے خلاف کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب 11 جنوری 2022 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس پارک میں تجارتی سرگرمیوں اور زمین کی ملکیت پر فیصلہ دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے سے متاثر ہونے والے فریق نے اس عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جس پر سپریم کورٹ نے سی ڈی اے اسلام آباد، وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اور دیگر اداروں سے ریکارڈ طلب کیا۔

21 مارچ سنہ 2024 کو سپریم کورٹ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں موجود تمام ریستورانوں کی تفصیلات، لیز ریکارڈ اور قانونی حیثیت طلب کیں اور گیارہ جون سنہ 2024 کو سپریم کورٹ نے مونال، لا مونٹانا اور دیگر تمام ریسٹورانوں کو تین ماہ کے اندر نیشنل پارک خالی کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نیشنل پارک میں تجارتی سرگرمیاں ماحولیات کے تحفظ کے منافی ہیں۔

سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے پر15 اگست سنہ 2024 کو مونال کے مالک لقمان علی افضل کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا اور عدالت نے ریمارکس دیے کہ فیصلے کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مونال ریسٹورینٹ کے مالک کے بھائی اس وقت بیورکریسی میں اعلی عہدے پر تعینات تھے

21 اگست 2024 سپریم کورٹ نے 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا اور اس فیصلے میں کہا گیا کہ ’مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا تحفظ آئینی ذمہ داری ہے اور وہاں کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

اس فیصلے کے خلاف متاثرہ فریق کی جانب سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی اپیلیں سپریم کورٹ نے ستمبر 2024 میں مسترد کرتے ہوئے فیصلہ برقرار رکھا، جس کے بعد اکتوبر 2024 کو سی ڈی اے نے سپریم کورٹ کو ایک رپورٹ میں بتایا کہ مونال، لا مونٹانا اور گلوریا جینز کی عمارتیں گرا دی گئی ہیں اور زمین واگزار کروا لی گئی ہے۔

جون 2026 میں وفاقی آئینی عدالت نے سی ڈی اے اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی درخواستوں پر سماعت کی جبکہ لوکل گورنمنٹ اسلام آباد نے مونال بند کرنے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ مونال کے ذمہ کرائے کی مد میں چھ کروڑ 39 لاکھ 55 ہزار 895 روپے واجب الادا ہیں اور مونال کی انتظامیہ کی جانب سے عدالت میں جمع کروائی گئی رقم اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کو بغیر کسی استحقاق کے دے دی گئی۔

اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ اس عدالتی فیصلے سے لوکل گورنمنٹ کو ان فنڈز سے محروم کیا گیا جو بلدیاتی خدمات کے لیے استعمال ہونے تھے۔

درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ رینٹ اور لیز کی یہ رقم مارگلہ نیشنل پارک میں واقع مقامی دیہاتوں سمیت اسلام آباد کے میونسپل ایریا میں بلدیاتی خدمات کے لیے پٹیشنر کا حق ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج اور آئینی معاملات پر نظر رکھنے والے وکیل شاہ خاور کا کہنا ہے کہ ’جس مقدمے میں نظرِثانی کی اپلیں بھی ختم ہو چکی ہوں، تو پھر ایک الگ سے اپیل دائر کرکے اس بارے میں فیصلہ دینا ان کی سمجھ سے بالا تر ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ابھی تو آئینی عدالت نے متعلقہ عدالت کو اس زمین کی ملکیت کے بارے میں فیصلہ کرنے کے بارے میں کہا ہے۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’آئینی عدالت کے بینچ نے جو فیصلہ دیا ہے اس میں ابھی تک یہ بات سامنے نہیں آئی کہ سی ڈی اے یا کسی دوسرے ادارے کو مونال ریسٹورینٹ دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جب یہ قرار دیا ہے کہ جس جگہ پر یہ مونال اور دیگر ریستوران تعمیر کیے گئے ہیں وہ جگہ نیشنل پارک کی ہے، اس لیے اب تو اس جگہ کی ملکیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ یہ جگہ ریاست کی ملکیت ہے۔‘

شاہ خاور کا کہنا تھا کہ ’مونال کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب معلوم ہوا کہ اس ہوٹل کی انتظامیہ سی ڈی اے کو کرایہ دینے کی بجائے پاکستانی فوج کے ایک ادارے کو دیتی تھی، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ اس جگہ کو فوج کے زیرِ استعمال گھوڑوں کی چراہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔‘

ماہر قانون معیز جعفری کہتے ہیں کہ ’مونال والے معاملے میں فریق نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر نہیں کی اور جب آئینی عدالت کی تشکیل ہوئی اور اس کا طریقہ کار واضح کیا گیا تو پھر اپیل دائر کی گئی جس پر آئینی عدالت نے فیصلہ دیا۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے کراچی میں واقع نسلہ ٹاور گرانے کا جو فیصلہ دیا تھا، وہ مونال والے فیصلے سے اس طرح الگ ہے کہ اس میں تمام فریقوں کی نظرثانی کی اپیلیں حتمی ہوچکی تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’نسلہ ٹاور گرانے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اس عمارت کو گرائے جانے سے جو افراد متاثر ہوں گے اس کی داد رسی بلڈرز کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’نسلہ ٹاور کے متاثرین کی شاید داد رسی ممکن نہیں ہے کیونکہ ان کی معلومات کے مطابق بلڈرز بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں۔‘

واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے چند روز قبل نسلہ ٹاور سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو اختیارات سے تجاوز قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ تجاوزات کے بارے میں فیصلہ کرنا عدالتوں کا نہیں بلکہ متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے۔