’دیسی بلنگ‘: دبئی میں انڈین ارب پتی کی پاکستانی نژاد بیوی، جنھیں شوہر کے خواتین کے ساتھ پارٹیوں میں جانے پر اعتراض نہیں

،تصویر کا ذریعہNETFLIX
- مصنف, وندانا
- عہدہ, نیوز ایڈیٹر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
’جب سے میں اپنے شوہر ستیش کے ساتھ ہوں ہر صبح ان کے پاؤں کا مساج کرتی ہوں۔ وہ کسی شہزادے کی طرح سو کر اُٹھتے ہیں۔ بطور ہندو وہ یہ مانتے ہیں کہ اگر بیوی ہر صبح اپنی شوہر کے پاؤں چھوتی ہے تو اس سے گھر میں لکشمی آتی ہے۔‘
یہ سین نیٹ فلکس کے نئے ریئلیٹی شو ’دیسی بلنگ‘ کے تقریباً شروع میں ہی دیکھنے والوں کے سامنے آتا ہے، جس میں دبئی میں مقیم انڈین ارب پتی کاروباری شخصیت ستیش سنپال صبح اپنی بیوی تابندہ کے ہاتھوں پاؤں کے مساج سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
یہی ابتدائی منظر ہے جو کہ دیکھنے والوں کی توجہ اس شو پر مرکوز کرواتا ہے۔ ’دیسی بلنگ‘ نامی ریئلٹی شو دبئی میں مقیم مالدار انڈین شہریوں کی پرتعیش زندگیوں، رشتوں، کاروبار، پارٹیوں، سیاست اور پیچیدگیوں کا احاطہ کرتا ہے۔
اس شو کے کرداروں میں ٹی وی سٹارز تیجسوی پرکاش اور کرن کندرا اورجبل پور سے تعلق رکھنے والے ستیش سنپال اور ان کی اہلیہ تابندہ بھی شامل ہیں۔
تابندہ ایک پاکستانی برطانوی خاتون ہیں، جن کی متعدد شناختیں رکھتی ہیں۔ کچھ لوگ انھیں ایک مالدار کاروباری شخِِصیت کی اہلیہ کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ دیگر لوگ انھیں ایک کامیاب کاروباری خاتون سمجھتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر کچھ لوگ انھیں ایک معروف سوشلائٹ کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جبکہ جبکہ دیگر افراد نے شو میں دیے گئے ان کے بیانات کو قابلِ اعتراض اور پدرشاہی سوچ سے بھرپور قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNETFLIX
ریئلٹی شو میں جب تابندہ کی دوستیں انھیں بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر متعدد لڑکیوں کے ساتھ نظر آئے تھے تو وہ بہت پُرسکون نظر آئیں۔
تابندہ اس موقع پر کہتی ہیں کہ ’ستیش خواتین کے ساتھ وقت گزار کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ میں کبھی کبھار جلن کا شکار ہوتی ہوں لیکن مجھے ان پر پورا بھروسہ ہے۔ مجھے اس بات کا برا نہیں لگتا کہ وہ ہر پارٹی میں مختلف خواتین کے ساتھ جاتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اگر وہ ایک ہی لڑکی کے ساتھ بار بار نظر آئیں گے، ایک ہی شخص کے ساتھ بار بار نظر آئیں گے تو آپ محبت میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔‘
تابندہ ایسے ہی بیانات کے سبب وائرل ہو گئی ہیں۔
’تابندہ کو خود پر اعتماد نہیں‘
سائیکولوجسٹ نِشا کھنہ ماضی میں ریئلٹی شو میں حصہ لینے والے افراد کے ساتھ کام کر چکی ہیں اور شادی شدہ جوڑوں کی کونسلنگ بھی کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ تابندہ کو خود پر اعتماد نہیں۔ انھوں نے پدرشاہی کی حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے۔ کیا یہ سوال تابندہ کے شوہر سے کیا گیا کہ اگر تابندہ ایسے پارٹیوں میں جاتی ہیں اور لڑکوں سے ملتی ہیں، تو کیا وہ اسے قبول کرلیں گے؟‘
اس معاملے پر فلم میکر لکشمی ائیر نے بھی سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ’میں نے ایک ریئلٹی شو میں دیکھا کہ ایک بیوی کو اپنے شوہر کے چیٹنگ کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس وقت تک جب تک وہ الگ الگ لڑکیوں کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔‘
’اس بکواس کو رُکنا چاہیے۔ وفاداری اور ایمانداری اب بھی کشش رکھنے والی خصوصیات ہیں۔ سوچیے کہ معیار کتنا گر چکا ہے کہ اس طرح کا مواد اب او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر قابلِ قبول ہے۔‘
جہاں ’دیسی بلنگ‘ پر لوگ تنقید کر رہے ہیں، وہیں اسے پسند کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔
دبئی میں مقیم انیل بریجل فیس بُک پر لکھتے ہیں کہ ’میں اس شو سے لطف اندوز ہوا ہوں۔ اس میں بہت ڈرامہ تھا، ہر کوئی ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کر رہا تھا۔ اس کا دوسرا سیزن جلد آنا چاہیے۔‘
انٹرٹینمنٹ بلاگر ماریا موٹس نے فیس بک پر لکھا کہ یہ پروگرام ایسا ہے جسے آپ آخر تک دیکھے بغیر نہیں رہ سکتے۔
ریئلٹی شو دیکھنے کے بعد سائیکولوجسٹ نشا کھنہ کہتی ہیں کہ ’دیسی بلنگ ایک ایسا شو ہے جس میں پدر شاہی، خاندانی سیاست اور رشتے دکھائے گئے ہیں، جو کہ صرف مالی فوائد اور ذاتی فائدے کے لیے بنائے گئے ہیں۔‘
’لیکن یہ شو تفریح سے بھرپور ہے۔ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ایسے رئیس لوگ کیسے رہتے ہیں کیا پہنتے ہیں اور ان کی پارٹیاں کیسی ہوتی ہیں، تو لوگ تو اسے دیکھیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہNETFLIX
’گولڈ کوئین‘ یا ’گولڈ ڈِگر‘؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
’دیسی بلنگ‘ میں جہاں خواتین کے کرداروں پر بحث ہو رہی ہے وہیں مرد کرداروں پر بھی سوالات اُٹھ رہے ہیں۔
مثال کے طور پر جب تابندہ کرن کو بتاتی ہیں کہ تیجسوی ان کے لیے درست پارٹنر نہیں ہیں، تو کرن تابندہ کے پیٹھ پیچھے کہتے ہیں ’میں صرف ان لوگوں سے مشورے لیتا ہوں جنھوں نے اپنی زندگی میں کچھ حاصل کیا ہوا۔ تابندہ بھابی صرف ستیش کی اہلیہ ہیں۔‘
کرن کے اس بیان پر آپ ضرور یہ سوچتے ہیں کہ تابندہ نے اتنا بڑا کاروبار کھڑا کرنے میں اپنے شوہر کی مدد کی ہے، وہ اپنی کمپنی چلاتی ہیں اور اپنے گھر اور بیٹی کا بھی خیال رکھتی ہیں۔ تو کیا یہ ایک اچیومنٹ نہیں ہے؟ ریئلٹی شو میں حصہ لینے والے دیگر کردار بھی تیجسوی کی مخالفت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، لیکن کرن ان کے ساتھ ہی کھڑے رہتے ہیں۔
تابندہ، جنھیں اس شو میں بندہ بھی کہا جاتا ہے، سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والے کرداروں میں ہیں۔ ویسے ہی جیسے ’فیبولیس وائیوز ورسز بالی وڈ وائیوز‘ ریئلٹی شو کے بعد شالینی پسی مشہور ہوئی تھیں۔
’دیسی بلنگ‘ میں زیادہ تر تابندہ کو کاروباری شخصیت کی بیوی کے طور پر دکھایا گیا ہے جو پارٹیوں میں جاتی ہیں اور بغیر ہچکچاہٹ کے اپنی امیری کا دکھاوا کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہProdip Guha/Getty Images
اپنی پہلی ملاقات میں تابندہ تیجسوی پرکاش کو بتاتی ہیں کہ ’تم یقین نہیں کرو گی میرے پاس 40 کلو سونا ہے۔ میری بیٹی کی پیدائش سے قبل ہی میرے شوہر نے اس کے لیے سونے کے برتن بنوائے تھے۔ اس کے پاس سونے کی پلیٹ، سونے کا چمچ اور ایک سونے کا گلاس ہے۔‘
’وہ دبئی کی سب سے امیر بچی ہے۔ اپنی پہلی سالگرہ پر اس نے 24 قیراط سونے کا لباس پہنا تھا۔ ستیش ہر برس میرے لیے تین کلو سونا خریدتے ہیں۔‘
تابندہ کے شوہر انھیں ’گولڈ کوئین‘ جبکہ کچھ لوگ انھیں ’گولڈ ڈگر‘ کہتے ہیں۔
تابندہ کون ہیں؟
اگر آپ سوشل میڈیا دیکھیں تو آپ کو دیسی بلنگ سے ایک بہت مختلف تابندہ نظر آئیں گی۔
لنکڈاِن پر وہ اینکس کیپیٹل فنانشل مارکیٹس کی بانی اور ڈائریکٹر کے طور پر نظر آئیں گی۔
سنہ 2025 میں ان کی فرم کو سب سے زیادہ پھیلتی ہوئی کمپنی قرار دیا گیا تھا۔ وہ بزنس لیڈرشپ اور چھوٹے کاروباروں پر بھی بات کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
انسٹاگرام پر وہ اپنا تعارف ایک ماں، کاروباری شخصیت اور ایک ویژنری لیڈر کے طور پر کرواتی ہیں۔
تاہم سائیکولوجسٹ نشا کھنہ کہتی ہیں کہ تابندہ بہت سی جگہوں پر پدرشاہی ذہنیت کو فروغ دیتی ہوئی نظر آتی ہیں جبکہ وہ خود بھی اس کی متاثرہ ہیں۔
ریئلٹی شو میں تابندہ نے اپنی مشکلات کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ پہلے آٹھ برس تک ماں نہیں بن پائیں گی۔
تابندہ کہتی ہیں کہ ’بچے کے بغیر زندگی مشکل ہوتی ہے۔ آپ کو معلوم ہے نہ کہ انڈین خاندان کیسے ہیں؟‘
تابندہ نے لندن میں اپنا جنین محفوظ کر رکھا ہے اور وہ آئی وی ایف کے عمل کے ذریعے دوبارہ ماں بھی بننا چاہتی ہیں۔
لیکن کیا دوبارہ ماں بننا تابندہ کی اپنے شوہر کا دل ایک بار پھر جیتنے کی کوشش ہے؟
جیسا کہ وہ بار بار کہتی ہیں اگر ایک اور لڑکا یا لڑکی ہماری زندگی میں آ جائے تو شاید ستیش پارٹیوں میں جانا چھوڑ دیں اور ہمارے مسائل حل ہو جائیں۔
اگر ہم پورے شو کی بات کریں تو ’دیسی بلنگ‘ دیکھنے کے بعد آنکھیں چندھیا جانا کوئی بڑی بات نہیں، بے پناہ دولت، بڑی گاڑیاں، عالیشان گھر، گلیمر اور دبئی کی پارٹیاں۔
پرتعیش برانڈز ان کے گھروں میں ایسے آ رہے ہوتے ہیں جیسے پیاز اور آلو۔
بلنگ کا مطلب ہی چمکدار اور مہنگی اشیا ہیں۔
’دیسی بلنگ‘ میں صرف گلیمر ہی نہیں دکھایا گیا بلکہ تنہائی، خلا اور نامکمل پن بھی دکھایا گیا ہے، جسے عیش و عشرت کی اشیا، زیورات اور قیمتی پتھروں سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔
یہ بیک وقت تفریح بھی ہے اور دیکھا جائے تو سبق آموز بھی ہے۔ کونسی چیز ’دیسی بلنگ‘ کے طور پر نمائشی ہے اور کون سی واقعی قیمتی ہے، اس کا فیصلہ ناظرین پر منحصر ہے۔
جیسا کہ ستیش سنپال کہتے ہیں ’میں زیادہ تر ہندی میں بات کرتا ہوں کیونکہ میں انگریزی بولنا نہیں جانتا لیکن میرا پیسا بولتا ہے۔‘




























