’اسلام کا ساتواں مقدس ترین شہر‘، تاریخی مخطوطات اور قدیم کتب خانے: صحرائے صحارا میں واقع موریطانیہ کی ایک نادر جھلک

،تصویر کا ذریعہJordi Busque
تقریباً مکمل طور پر صحرائے صحارا میں واقع موریطانیہ صدیوں پرانے شہروں، صحرائی نخلستانوں اور ایک ایسے وسیع ساحلی منظر کا گھر ہے جسے خلا سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس دور میں، جب دنیا کے دور دراز علاقوں کی سیر کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے، بلند ترین پہاڑوں سے لے کر سب سے دور افتادہ جزیروں تک۔۔۔ پھر بھی کچھ پورے کے پورے ممالک ایسے ہیں جہاں بہت کم مسافر پہنچتے ہیں۔ ان میں سے ایک موریطانیہ ہے۔
اپنی تقریباً 90 فیصد زمین کے صحرائے صحارا میں واقع ہونے کے باعث، موریطانیہ دنیا کے کم آبادی والے اور کم دیکھے جانے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
سیاحتی سہولیات کی کمی اور سکیورٹی سے متعلق خدشات کی وجہ سے، ہر سال اس ریت سے ڈھکے اور دھوپ سے جھلسے ہوئے ملک میں 10,000 سے بھی کم بین الاقوامی مسافر آتے ہیں، جبکہ پڑوسی ممالک الجزائر اور سینیگال میں آنے والے سیاحوں کی تعداد کئی ملین ہوتی ہے۔
تاہم، موریطانیہ میں 2011 کے بعد کوئی دہشت گرد حملہ نہیں ہوا، اور گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق یہ ملک یورپ کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں دہشت گردی سے کم متاثرہ ہے۔
حال ہی میں تین ہفتوں کے اکیلے سفر کے دوران، میں نے عوامی نقل و حمل اور کرائے پر حاصل کی گئی فور بائی فور پک اپ گاڑیوں کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے مختلف حصوں کا سفر کیا، اور ایک بار بھی خود کو غیر محفوظ محسوس نہیں کیا۔
اس سفر کے دوران میں نے افسانوی صحرائی نخلستان، مشہور شہر جو کبھی اونٹوں کے قافلوں کے ذریعے چلنے والی صحارا پار تجارتی شاہراہوں پر آباد اور خوشحال تھے، اور بحرِ اوقیانوس کے ساحل پر ایک ایسی بھرپور ماہی گیری کی ثقافت دیکھی جس کی جھلک خلا سے بھی نظر آتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہJordi Busque
کشتیوں کا سمندر
مغربی صحارا سے سرحد عبور کرنے کے بعد، موریطانیہ میں میرا سفر نواذیبو سے شروع ہوا، جو ملک کا دوسرا بڑا شہر اور اس کی سب سے اہم ماہی گیری کی بندرگاہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کینری کرنٹ کی بدولت، جو موریطانیہ کے شمالی ساحل کے ساتھ گہرے اور غذائیت سے بھرپور پانی کو سطح کے قریب لاتی ہے، یہاں سارڈینیلا مچھلی، میکریل، سیبر مچھلی اور آکٹوپس کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔
اسی وجہ سے ہزاروں ماہی گیری کی کشتیاں بندرگاہ پر لنگر انداز رہتی ہیں اور جال ڈالنے کے لیے موزوں حالات کا انتظار کرتی ہیں۔
کشتیوں کی یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اسے خلا سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہJordi Busque
صحارا سے ابھرتا ہوا دارالحکومت
نواذیبو سے سات گھنٹے کی بس کے سفر کے بعد جب میں نوواکشوط میں ایک ٹیکسی روکنے لگا تو ایک چھوٹی سیاہ کار میں بیٹھے شخص نے مجھ سے کہا ’موریطانیہ میں خوش آمدید‘۔
اس آدمی نے سفر کا کرایہ لینے سے انکار کر دیا اور پھر وضاحت کی ’میں ٹیکسی ڈرائیور نہیں ہوں۔ میں نے صرف اس لیے آپ کو بٹھایا کیونکہ آپ غیر ملکی ہیں اور میں جاننا چاہتا تھا کہ آپ میرے ملک کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔‘
موریطانیہ کی تقریباً 50 لاکھ آبادی میں سے لگ بھگ ایک تہائی اس کے ساحلی دارالحکومت نوواکشوط میں رہتی ہے۔
متحرک، پرہجوم اور زندگی سے بھرپور نوواکشوط پہلی نظر میں مجھے کئی افریقی دارالحکومتوں جیسا لگا، لیکن ایک اہم فرق کے ساتھ: یہ شہر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے جادوئی انداز میں صحرائے صحارا سے ابھر آیا ہو۔
شہر کے مرکزی حصے سے باہر، جہاں جدید سرکاری عمارتیں اور مساجد پکی سڑکوں کے کنارے موجود ہیں، زیادہ تر گلیاں اب بھی ریت سے ڈھکی ہوئی ہیں، جس سے 16 لاکھ آبادی والا یہ دارالحکومت ایک بہت بڑے اور مہمان نواز گاؤں کا سا احساس دیتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہJordi Busque
اونٹوں کی ثقافت
نوواکشوط کے جدید شہری علاقے سے مشرق کی جانب تقریباً 30 منٹ کی ٹیکسی کی مسافت پر ملک کا ایک زیادہ روایتی رخ سامنے آتا ہے۔
موریطانیہ میں تقریباً 20 لاکھ اونٹ ہیں، اور مقامی لوگ طویل عرصے سے گوشت اور دودھ کی پیداوار سے لے کر آمدورفت تک مختلف کاموں کے لیے ان پر انحصار کرتے آئے ہیں۔
موریطانیہ کی فوج کے اہلکار دور دراز صحرائی علاقوں میں سرحدی نگرانی کے لیے آج بھی اونٹوں پر سوار ہوتے ہیں۔
بیلا کا اونٹوں کا بازار افریقہ کا دوسرا بڑا اونٹ بازار ہے اور نوواکشوط سے ایک مقبول ایک روزہ سیاحتی مقام بھی ہے۔
یہاں سینکڑوں اونٹ نمائش کے لیے پیش کیے جاتے ہیں اور ممکنہ خریداروں کو دکھائے جاتے ہیں، جبکہ خریدار ایک اونٹ کے لیے ایک ہزار ڈالر سے بھی زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہJordi Busque
بس اور کیمپنگ پر مبنی ایک طویل سفر
سنہ 1970 کی دہائی سے موریطانیہ کے انتہائی مشرقی دور دراز علاقوں کو نئے دارالحکومت نوواکشوط سے بتدریج جوڑا جانے لگا، جب روٹ دے لَسپوار (امید کی سڑک) کی تعمیر شروع ہوئی۔
سنہ 1980 کی دہائی کے آغاز تک یہ سڑک صحرا کے اندر تقریباً 1,100 کلومیٹر دور واقع شہر نیما تک پہنچ چکی تھی۔
آج یہ ملک کی مشرق سے مغرب جانے والی اہم شاہراہ ہے، لیکن پھر بھی نوواکشوط سے نیما پہنچنے میں ایک دن سے زیادہ وقت لگتا ہے۔
نیما تاریخی قافلہ بردار شہر ولاتہ کا داخلی دروازہ ہے، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے اس مقام کا حصہ ہے جس میں موریطانیہ کے چار دیگر قدیم شہر بھی شامل ہیں۔
چنانچہ میں نوواکشوط سے ایک بس میں سوار ہوا اور صحرا کی طرف مشرق کا رخ کیا۔ یہ بس راستے میں بار بار رُکتی تھی تاکہ مسلمان مسافر نماز ادا کر سکیں۔
آدھی رات کے قریب ہم اچانک ویرانے میں رُک گئے اور ڈرائیور نے بتایا کہ اب سونے کا وقت ہے۔ بس میں سونے کے بجائے لوگوں نے صحرا میں اپنی چٹائیاں بچھا لیں اور ہم نے کہکشاں ملکی وے تلے رات گزاری۔

،تصویر کا ذریعہJordi Busque
صحرا کا ایک دلکش دور افتادہ شہر
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جب ہم آخرکار نیما پہنچے تو میں نے اولاتہ جانے کے لیے ایک مشترکہ فور بائی فور گاڑی میں ایک سیٹ حاصل کی۔
ڈرائیور نے صحرائی ریت میں بنے پیچیدہ راستوں سے گزرتے ہوئے سفر جاری رکھا، اور نوواکشوط سے روانہ ہونے کے 51 گھنٹے بعد میں بالآخر ولاتہ پہنچ گیا۔
وہاں میری غیر متوقع طور پر شہر کے میئر، سیدیاتی دیہ، سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ایک زمانے میں مالی اور ٹمبکٹو جانے والے سیاح بڑی تعداد میں اس شہر کا رخ کرتے تھے، لیکن چونکہ اب سرحد پار کرنا خطرناک ہو گیا ہے، اس لیے ہر سال 30 سے بھی کم بین الاقوامی مسافر اولاتہ آتے ہیں۔
اولاتہ ملک کے سب سے نمایاں مقامات میں سے ایک ہے، چاہے اس کی تاریخی اہمیت ہو یا اس کا دور افتادہ محلِ وقوع۔ یہ قصبہ اپنی سرخ مٹی سے بنی عمارتوں کے لیے مشہور ہے، جنھیں مقامی خواتین کے بنائے ہوئے خوبصورت جیومیٹریائی نقش و نگار سے سجایا جاتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ نئی نسل کے لیے یہاں معاشی مواقع زیادہ نہیں ہیں، اس لیے بہت سے لوگ نوواکشوط اور دوسرے شہروں کا رخ کر لیتے ہیں، جس کے باعث یہ شاندار پرانے گھر جزوی طور پر ویران پڑے ہیں۔
کچھ لوگ غیر رسمی روزگار پر انحصار کرتے ہیں، مثلاً گھوم پھر کر روٹی بیچتے ہیں اور لکڑی کے ایک تختے کو اپنی مکمل چلتی پھرتی دکان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہJordi Busque
قدیم مخطوطات
اولاتہ میں صحارا پار تجارتی قافلوں کے دور کے قدیم مخطوطات محفوظ رہے، لیکن یہ کسی ادارے یا باقاعدہ کتب خانے کی وجہ سے نہیں ہوا۔
ان مخطوطات یا تحریروں کو خاندانوں نے نسل در نسل اپنے گھروں میں چھپا کر اور محفوظ رکھ کر بچائے رکھا۔
آج بھی بہت سے خاندان ان دستاویزات کو اپنے پاس سنبھالے ہوئے ہیں۔
جب میں نے چند مقامی لوگوں سے پوچھا کہ کیا وہ کسی ایسے خاندان کو جانتے ہیں جس کے پاس اب بھی یہ مخطوطات موجود ہوں، تو انھوں نے مجھے ایک ایسے خاندان کے گھر کا پتا بتایا۔
اس خاندان نے میرا خیرمقدم کیا اور اپنی بیٹھک کے کمرے میں مجھے اپنے قدیم مخطوطات دکھائے۔

،تصویر کا ذریعہJordi Busque
صدیوں پرانا صحرائی شہر
اولاتہ کی طرح شنقیط بھی یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے اور افریقہ کے تاریخی قافلہ بردار شہروں میں سے ایک ہے۔
تاہم، وہاں پہنچنے کا سب سے آسان راستہ دارالحکومت سے جاتا ہے، اس لیے اولاتہ سے واپس نوواکشوط آنے کے بعد میں نے ایک فور بائی فور گاڑی میں نشست حاصل کی اور ادرار کے سطح مرتفع کی طرف روانہ ہوا۔
پھر میں ابنو درّے کی جانب بڑھا، جہاں 720 میٹر (2,362 فٹ) کی بلندی اور نسبتاً ٹھنڈا موسم میرا منتظر تھا۔ اس کے بعد پتھریلے صحرا میں اترتے ہوئے آخرکار میں نے اس شہر کو ریت سے ابھرتے ہوئے دیکھا۔
آٹھویں صدی میں قائم ہونے والا شنقیط تیرہویں صدی کے دوران ایک مضبوط تجارتی مرکز کے طور پر مشہور ہوا، جہاں سے صحارا کے قافلے نمک، سونا اور مخطوطات لے جایا کرتے تھے۔
لیکن ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد اب شنقیط کو صحارا کے پھیلتے ہوئے ریت کے ٹیلوں سے خطرہ لاحق ہے، جو آہستہ آہستہ اسے اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔
یہاں کے مکانات مقامی پتھر اور مٹی سے بنائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے پورا شہر صحرا کے منظر کا قدرتی حصہ محسوس ہوتا ہے۔ بعض متروک مکانات تو پہلے ہی آدھے ریت کے ٹیلوں میں دفن ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہJordi Busque
اسلام کا ایک اہم مرکز
شنقیط کی قدیم مسجد کا مینار دنیا میں مسلسل استعمال ہونے والے قدیم ترین اسلامی میناروں میں سے دوسرا قدیم ترین سمجھا جاتا ہے، اور اس شہر کو اکثر ’اسلام کا ساتواں مقدس ترین شہر‘ بھی کہا جاتا ہے۔
تیرہویں صدی سے یہ اسلامی تعلیم و تحقیق کا ایک بڑا مرکز بن گیا تھا، جہاں زائرین اور علما علم حاصل کرنے کے لیے آتے تھے۔
آج غیر مسلم زائرین مسجد کو صرف اس کے گرد قائم دیوار کے باہر سے ہی دیکھ سکتے ہیں اور یہ تصویر بھی اسی جگہ سے لی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہJordi Busque
قدیم کتب خانے
شنقیط میں کئی ایسے کتب خانے موجود ہیں جہاں فلکیات، جیومیٹری، طب، شاعری اور اسلامی قانون سے متعلق قدیم مخطوطات اور کتابیں محفوظ ہیں۔
ان میں سے بہت سی صدیوں پرانی تحریریں شمالی افریقہ سے آنے والے صحارا پار تجارتی قافلوں کے ذریعے یہاں پہنچیں، جبکہ بعض مقامی علما نے خود تصنیف کی تھیں۔
مقامی کتب خانے کے نگران سیف الاسلام کے مطابق، ماضی میں شنقیط میں اس سے کہیں زیادہ کتب خانے موجود تھے، لیکن وقت کے ساتھ بہت سے خاندان شہر چھوڑ گئے اور اپنی کتابیں بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
سنہ 2000 میں اہم ترین دستاویزات کو محفوظ کرنے کے لیے ایک عجائب گھر بنانے کی ناکام کوشش کے بعد، ہسپانوی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقیاتی تعاون (اے ای سی آئی ڈی) نے فیصلہ کیا کہ شنقیط کے قرونِ وسطیٰ کے قصر (فصیل بند بستی) کے اندر موجود روایتی کتب خانوں کی بحالی کی جائے تاکہ نازک اور قیمتی مخطوطات کو اسی جگہ محفوظ رکھا جا سکے جہاں وہ صدیوں سے سنبھالے جاتے رہے ہیں۔
شنقیط کی قدیم مسجد کے برعکس، یہ کتب خانے ہر شخص کے لیے کھلے ہیں۔ چونکہ یہاں بین الاقوامی سیاح بہت کم آتے ہیں، اس لیے کتب خانوں کے مالکان اکثر معمولی سی رقم کے عوض خوشی سے اپنے دروازے زائرین کے لیے کھول دیتے ہیں، انھیں مقامی تاریخ سے آگاہ کرتے ہیں اور قدیم مخطوطات بھی دکھاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہJordi Busque
صحرائی نخلستان
اتنا طویل سفر کرنے کے بعد، میں نے موریطانیہ چھوڑنے سے پہلے ایک صحرائی نخلستان میں آرام کرنے، تازہ دم ہونے اور کھجوریں کھانے کا فیصلہ کیا۔
ملک کے وسیع اندرونی علاقوں میں نخلستان، مٹیالے اور یکساں رنگوں والے اس صحرا میں ہریالی کی ایک نایاب جھلک پیش کرتے ہیں۔
کھجور کے درختوں کے گھنے جھنڈوں کے لیے مشہور یہ نخلستان بعض اوقات گہری وادیوں کے اندر واقع ہوتے ہیں، جہاں وہ سورج کی تیز شعاعوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
ایسا ہی ایک نخلستان ترجیت ہے، جو علاقائی دارالحکومت آتار سے صرف 45 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔
کئی لحاظ سے ترجیت صحارا میں زندگی کی خوبصورتی اور ثابت قدمی کی علامت ہے، اور وسیع تر معنوں میں موریطانیہ کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔
صدیوں سے، زمین کے بعض انتہائی سخت حالات کے باوجود، یہ سرزمین مسافروں، علما اور آوارہ گردوں کو اپنی طرف کھینچتی رہی ہے تاکہ وہ یہاں اپنی کہانیاں اور خیالات ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ سکیں اور اس عظیم صحرا کے ایک دور افتادہ گوشے کو دریافت کر سکیں۔

























