اٹلی میں پاکستانی لڑکی کا ’جبری شادی‘ سے انکار پر قتل، والدین سمیت پانچوں مجرمان کی سزائیں برقرار

،تصویر کا ذریعہ@GiorgiaMeloni
اٹلی کی سپریم کورٹ نے پانچ سال قبل ’ارینجڈ میرج‘ سے انکار کرنے پر پاکستانی نژاد لڑکی کے قتل کے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے مقتولہ کے والدین سمیت پانچ رشتہ داروں کو دی گئی سزاؤں کو برقرار رکھا ہے۔
اٹلی میں رہنے والی پاکستانی نژاد 18 سالہ ثمن عباس کو 2021 میں نوویلارا کے علاقے میں اُن کے خاندان نے قتل کر دیا تھا جس کی وجہ ثمن کا پاکستان میں طے کی گئی شادی سے انکار تھا۔
دسمبر 2023 میں اٹلی کی ایک عدالت نے ثمن کے والدین کو اپنی 18 سالہ بیٹی کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی تھی اور اب اٹلی میں اعلیٰ ترین اپیل عدالت، سپریم کورٹ آف کیسیشن، نے ثمن کے والدین نازیہ شاہین اور شبّر عباس، اُن کے کزن اعجاز اکرام اور نعمان الحق کو قتل کے جرم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے عمرقید کی سزا برقرار رکھی ہے۔
عدالت نے مقتولہ کے چچا دانش حسنین کی 22 سال قید کی سزا بھی برقرار رکھی ہے۔
ثمن عباس نے 2020 میں پاکستان میں ان کی اپنے ایک کزن سے شادی کے منصوبے کی مخالفت کی تھی۔ اس وقت ثمن عباس نابالغ تھیں اور اُنھوں نے اٹلی میں سوشل سروسز ڈپارٹمنٹ سے مدد مانگی تھی جس کے بعد نومبر 2020 میں اُنھیں ایک پناہ گاہ بھیج دیا گیا تھا۔
اُنھوں نے اپنے والدین کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کروائی تھی لیکن 11 اپریل 2021 کو وہ دوبارہ اپنے خاندان کے پاس واپس آ گئی تھیں۔
پانچ مئی 2021 کو پولیس نے اُن کی تلاش شروع کی تھی اور جب اہلکار اُن کے گھر پہنچے اور وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔
اس کے بعد مقدمے کی تفتیش شروع کی گئی۔ تفتیش کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ ثمن کے والدین اُنھیں چھوڑ کر پاکستان چلے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ان کے مکان کے قریب نصب ایک سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج دیکھنے کے بعد پولیس کو کسی ناخوشگوار واقعے کا شبہ ہوا۔ 29 اپریل 2021 کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں پانچ افراد گھر سے بیلچے، لوہے کی سلاخیں اور ایک بالٹی لے جاتے ہوئے دکھائی دیے اور تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد واپس آئے۔
قتل کے بعد ثمن کے والدین پاکستان فرار ہو گئے تھے۔ ثمن کے والد شبر عباس کو اگست 2023 میں پاکستانی حکام نے گرفتار کر کے اٹلی کے حوالے کیا تھا جبکہ ان کی والدہ نازیہ شاہین کو ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی تھی اور انھیں جون 2024 میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے حراست میں لے کر اطالوی حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اٹلی کی وزیرِاعظم نے کیا کہا؟
اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے بدھ کے روز عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’تکلیف دہ عدالتی عمل‘ اب اختتام کو پہنچ گیا ہے۔
میلونی نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا ’ثمن عباس کے قتل کے مقدمے میں حتمی فیصلہ آنے کے ساتھ ہی ایک تکلیف دہ عدالتی جدوجہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ثمن عباس کو اُن کے والدین اور بعض رشتہ داروں نے اس لیے قتل کر دیا تھا کیونکہ اُنھوں نے جبری شادی کی مخالفت کی اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق پر زور دیا اور ’عدالت کا کوئی بھی فیصلہ اُن کی زندگی واپس نہیں لا سکتا، لیکن یہ ضروری تھا کہ اس سفاک جرم کے مجرموں کو آخرکار قانون کے تحت حتمی سزا ملے۔‘
اطالوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’اٹلی میں اُن لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے جو مبینہ ثقافتی یا مذہبی وجوہات کا حوالہ دے کر کسی عورت کی آزادی، وقار اور زندگی کے حق سے انکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایسے بنیادی اصول ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور جن سے ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہCarabinieri
پورا معاملہ کیا تھا؟
اپریل 2021 کے آخر میں ثمن عباس کے ’غیرت کے نام پر قتل‘ نے پورے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اُن کے لاپتہ ہونے کے بعد اٹلی میں اسلامی برادریوں کی تنظیم نے جبری شادی کے خلاف ایک فتویٰ بھی جاری کیا تھا۔
ثمن عباس کی لاش اُن کے لاپتہ ہونے کے تقریباً 18 ماہ بعد، نومبر 2022 میں شمالی اٹلی کے ایک فارم ہاؤس سے برآمد ہوئی تھی۔
اطالوی میڈیا کے مطابق، ثمن 2016 میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان سے اٹلی کے قصبے نوویلارا منتقل ہوئی تھیں۔
ان کا ایک پاکستانی نژاد نوجوان کے ساتھ تعلق تھا اور بولونیا شہر کی ایک سڑک پر دونوں کی ایک دوسرے کو بوسہ دینے کی تصویر سامنے آنے کے بعد ثمن کے والدین مبینہ طور پر ان سے ناراض ہو گئے تھے۔
اطالوی تفتیش کاروں کے مطابق، 2020 میں ثمن کے والدین اُنھیں ایک طے شدہ شادی کے لیے پاکستان بھیجنا چاہتے تھے، لیکن ثمن نے واضح طور پر انکار کر دیا تھا۔
مہینوں بعد لاش برآمد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس کے بعد اکتوبر 2020 سے وہ کئی ماہ تک سوشل سروسز ڈپارٹمنٹ کے تحفظ میں رہیں۔
تاہم خاندان کے مسلسل پیغامات ملنے کے بعد اپریل 2021 کے آخر میں وہ نوویلارا میں اپنے گھر واپس آ گئیں۔
استغاثہ کا کہنا تھا کہ اُنھیں دھوکے سے گھر واپس بلایا گیا اور پھر وہیں سے وہ پراسرار طور پر غائب ہو گئیں۔
بالآخر نومبر 2022 میں اُن کے چچا کی نشاندہی پر خاندانی گھر سے کچھ فاصلے پر واقع ایک فارم ہاؤس کے قریب زمین میں دفن اُن کی لاش برآمد کر لی گئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں معلوم ہوا کہ اُن کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ گلا گھونٹے جانے کے باعث ہوا ہو گا۔
ثمن کے لاپتہ ہونے کے فوراً بعد اُن کے والدین پاکستان فرار ہو گئے تھے جبکہ اُن کے چچا دانش حسنین اور دو کزن فرانس اور سپین چلے گئے تھے۔
دانش حسنین کو 2021 میں پیرس میں جبکہ اُن کے والد شبّر عباس کو 2022 میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا اور اسی سال 31 اگست کو اٹلی کے حوالے کر دیا گیا۔
نازیہ شاہین کی عدم موجودگی میں شمالی شہر ریگیو ایمیلیا کی عدالت نے دونوں والدین کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔
ثمن کے چچا دانش حسنین کو قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ اُن کے دو کزن بری کر دیے گئے تھے۔
اس مقدمے میں نامزد ملزم اور ثمن کے والد شبّر عباس کو پاکستان میں گرفتار کیا گیا اور مقدمے کے دوران انھوں نے عدالت سے جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا ’میں نے اپنی زندگی میں کبھی اپنی بیٹی کو قتل کرنے کے بارے میں نہیں سوچا۔‘
شبر عباس نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ اور ان کی اہلیہ صرف اسی رات اپنی بیٹی کا پیچھا کر رہے تھے جس رات وہ غائب ہوئی تھیں کیونکہ وہ ناخوش تھے کہ اتنی دیر ہو چکی تھی اور وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ کہاں جا رہی ہیں۔
























