’بانڈز پر جشن منانا شرمناک ہے‘: احسن اقبال کے بیان پر بحث کیوں؟

احسن اقبال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے ایک بیان نے ملک میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیے جانے سے چند روز قبل یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں سے قرض کے حصول کے لیے بانڈز کے اجرا پر ’جشن‘ کیوں منایا جاتا ہے۔

گذشتہ مہینوں کے دوران پاکستان نے یورو بانڈز اور پانڈا بانڈز سے بالترتیب 75 کروڑ ڈالر اور 25 کروڑ ڈالر جمع کیے، جسے وزارت خزانہ نے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کیا تھا۔

ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 46 مہینوں کی سب سے بلند سطح یعنی چار ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا۔ اس کی وجہ بڑھتی درآمدات اور سست روی کا شکار برآمدات ہیں۔

بی بی سی نے احسن اقبال کے اس بیان کے تناظر میں وزارت خزانہ کے ترجمان خرم شہزاد کو سوالات بھیجے ہیں تاہم اب تک ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

احسن اقبال نے کیا کہا؟

پیر کو سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بانڈز کا ذکر اس وقت کیا جب وہ ملکی برآمدات میں جمود پر اظہار خیال کر رہے تھے۔

پاکستان کی معیشت کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک تجارتی خسارے کا ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران 20.3 فیصد اضافے کے ساتھ 31.98 ارب ڈالر ہو گیا، جو کہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 26.59 ارب ڈالر تھا۔

اس دوران برآمدات 25.21 ارب ڈالر رہیں، جو کہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 26.89 ارب ڈالر کے مقابلے میں 6 فیصد سے زیادہ کم ہیں۔ جبکہ درآمدات 57.19 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو کہ گذشتہ سال کے اسی عرصے کے 53.48 ارب ڈالر کے مقابلے میں سات فیصد زیادہ ہیں۔

تجارتی خسارے سے متعلق اپنے خطاب میں احسن اقبال نے کہا کہ ’جب تک ہم اپنی پیداواری صلاحیت کو نہیں بڑھائیں گے، دنیا کی مسابقت کے لحاظ سے برآمدات پر توجہ نہیں دیں گے، تو ہمارے لیے معاشی خودمختاری حاصل کرنا ممکن نہیں۔‘

’ہماری معاشی خودمختاری کا سارا انحصار ہمارے وسائل کی فراہمی پر ہے۔۔۔ چاہے وہ داخلی اور ٹیکس کلیکشن کی صورت میں ہے یا خارجی، ڈالر کی ایکسپورٹ کے ذریعے کمائی کے اوپر ہے۔‘

وزیر منصوبہ بندی نے یہ بھی کہا کہ ’کسی بھی ملک کے لیے یہ نہایت شرمناک بات ہے کہ ہم کوئی بانڈ فلوٹ کریں اور اس پر جشن منائیں۔ بانڈ قرضہ ہے۔ ہم اگر ایک قرضہ لینے پر مجبور ہیں اپنی زرمبادلہ کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تو یہ جشن کا موقع نہیں بلکہ اپنے محاسبے کا لمحہ ہے۔‘

’ہمیں درحقیقت غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر برآمدات اور فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کے ذریعے پورے کرنے چاہییں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں اس کی طرف جانا ہے کہ ہم کیسے ایکسپورٹ ایمرجنسی کے ذریعے، تمام صوبے اور وفاق پاکستان کے ایکسپورٹ کو اسی جذبے کے ساتھ بڑھائیں جس طرح ہم نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کامیاب بنایا تھا۔‘

’ہمارے مستقبل کا دار و مدار صرف اس ایک پوائنٹ پر ہے کہ ہم نے اگلے 10 سالوں میں 100 ارب ڈالر کے ایکسپورٹ ٹارگٹ کو حاصل کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی فروخت بڑھانی ہو گی، ملک میں فوڈ سکیورٹی حاصل کرنی ہو گی اور نوجوانوں کو آئی ٹی اور اے آئی کی تربیت دینی ہو گی۔

محمد اورنگزیب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بانڈز کے اجرا پر ’جشن‘ کیوں؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اپریل کے دوران پاکستان کی وزارت خزانہ کے ترجمان خرم شہزاد نے بتایا تھا کہ یورو بانڈ کے ذریعے ملک نے 75 کروڑ ڈالر جمع کیے گئے ہیں اور یہ ’چار سال بعد بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس میں پاکستان کی کامیاب واپسی ہے۔‘

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس پیش رفت کو چار سالہ سفر کی تکمیل قرار دیا اور اس بات کا اشارہ دیا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔

جبکہ مئی میں وزارت خزانہ نے کہا تھا کہ چینی کیپیٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجرا سے 25 کروڑ ڈالر جمع کیے گئے ہیں۔ چینی کرنسی میں جاری والے ہونے تین سالہ پانڈا بانڈ کو چین کی آن شور کیپیٹل مارکیٹ میں پاکستان کا پہلا قدم کہا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر اکثر صارفین نے احسن اقبال کے بیان کو یورو بانڈ اور پانڈا بانڈز کے اجرا سے جوڑا ہے جسے وزارت خزانہ کی طرف سے اپنی کامیابی کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔

معاشی امور کے ماہر شہباز رانا کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی یہ بڑی ناکامی رہی ہے کہ وہ برآمدات بڑھانے کے لیے ماحول پیدا نہیں کر سکی۔ ’ایکسپورٹس کے لیے جتنے بھی اہداف رکھے گئے، وہ حاصل نہیں کیے جا سکے۔‘

وہ اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ وزیر خزانہ ’نئے قرض لینے کی تو بات کرتے ہیں لیکن برآمدات کی بات نہیں کرتے۔ اگر حکومت میں یہ واضح پالیسی نہیں کہ نیا قرض لینا ترجیح ہے یا برآمدات بڑھانا، تو اہداف کیسے حاصل ہو سکتے ہیں۔‘

اس کے برعکس معاشی امور کے ماہر علی خصر احسن اقبال کی تنقید پر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’آپ حکومت میں ہیں، آپ ایکسپورٹس پر کام کیوں نہیں کرتے۔ آپ کی موجودگی میں بھی ایکسپورٹس کیوں نہیں بڑھ رہیں؟‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ایکسپورٹ کی کوئی پالیسی نہیں تو بانڈز کے اجرا پر تنقید کرنے کا کیا جواز ہے، وہ بھی تو آپ ہی کی حکومت ہے۔ حکومت چلانے کے لیے بانڈز تو جاری کرنے پڑیں گے، ورنہ پیسے کہاں سے لائیں گے؟‘

محمد اورنگزیب پر مختلف حلقوں سے ہونے والی تنقید پر علی خضر کے بقول یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ’کیا انھیں قربانی کا بکرہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ یعنی پیداوار نہ بڑھنے کا قصوروار محض انھیں ٹھہرا دیا جائے۔‘

’برآمدات نہ بڑھنے کی ذمہ داری صرف وزارت خزانہ نہیں بلکہ پوری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اگر سرمایہ کاری وزیر اعظم، وزارت منصوبہ بندی اور ایس آئی ایف سی بھی نہیں لا سکے تو ہم اکیلے وزیر خزانہ کو ہی کیوں صرف قصوروار کہیں۔ وہ بھی اتنے ہی قصوروار ہیں جتنے یہ لوگ۔‘

’ہم نے کرنسی کی قدر کو برقرار رکھا گیا ہے، ایکسپورٹر پر دبا کر ٹیکس لگایا جاتا ہے اور اس سے مراعات چھین لی ہیں تو کیسے ایکسپورٹ بڑھے گی؟‘

’برآمدات نہ بڑھنے پر حکومت دباؤ کا شکار ہے‘

صحافی شہباز رانا کا خیال ہے کہ پاکستان کی سفارتی کامیابیاں معاشی کامیابی میں تبدیل نہیں ہو رہی جس پر حکومت دباؤ کا شکار ہے۔ ’احسن اقبال کا بیان اسی چیز کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت کے اندر مایوسی ہے جس پر بلیم گیم شروع ہو گئی ہے کہ کون اس موجودہ صورتحال کا ذمہ داری ہے۔‘

’احسن اقبال یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ہو گا جو قرض لینے کو کامیابی ظاہر کرتا ہے۔۔۔ یورو بانڈز اور پانڈا بانڈز کو پاکستان کی شاندار کامیابی قرار دیا گیا۔ اس تناظر میں اس بیان کی وجہ سمجھ آتی ہے۔‘

مگر علی خصر کا کہنا ہے کہ پاکستان پیداواری صلاحیت کیسے بڑھا سکے گا ’جب اس کے لیے نہ پالیسی ہے اور نہ سرمایہ کاری آ رہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری آئے گی تو پیداوار ہو گی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اپنے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر نہیں جس کی وجہ سے یہی دو راستے ہیں کہ یا تو بانڈز جاری کیے جائیں یا دوست ممالک اور کسی اور سے قرض لیا جائے۔ ’اس کے بغیر ہمارا گزارا نہیں کیونکہ ہماری ایکسپورٹس نہیں ہیں۔۔۔ ہمیں سطحی باتوں کی بجائے مسئلے کی تہہ میں جانا ہو گا۔‘

علی خضر کی رائے میں برآمدات نہ بڑھنے کی وجہ ٹیکس کے نظام میں کوتاہیاں ہیں جبکہ سرمایہ کاری نہیں آ رہی۔ ’بجلی بہت مہنگی کر دی گئی ہے۔ شرح سود زیادہ رہی ہے۔ مگر ان سب چیزوں کے پیچھے حکومت کی ناکامی ہے۔ ایکسپورٹر کو نقصان ہو گا جب آپ کرنسی کو نہیں چھیڑنے دیں گے۔ پاکستان کا ایکسپورٹر 40 سے 50 فیصد انکم ٹیکس ادا کر رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش میں یہ تناسب 10 سے 15 فیصد ہے۔ پاکستان میں جی ایس ٹی اور ڈیوٹیز بھی بہت زیادہ ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پوری حکومت ایک صفحے پر ہے تو آج ملک میں سرمایہ کاری سب سے کم کیوں ہے؟‘

اس سوال پر کہ قلیل مدت میں اخراجات اٹھانے کے لیے بانڈز کے اجرا میں کیا قباہت ہے، شہباز رانا کا کہنا تھا کہ ’قلیل مدت کی کیا تعریف ہے؟ کیا قلیل مدت سے مراد پانچ سال ہے یا 10 سال۔‘

’یہ کوئی بہانہ نہیں ہے کہ ہمیں قلیل مدت میں قرض لینے پڑتے ہیں۔ یہ بات وہ لوگ کر سکتے ہیں جن کا اقتدار میں پہلا سال ہو۔‘