’آپریشن سندور‘ میں حصہ لینے والے سابق انڈین ایئر مارشل رام مندر ٹرسٹ کے پہلے سربراہ تعینات

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

ایودھیا کے رام مندر میں چندے کی چوری کے الزامات کے بعد رام مندر ٹرسٹ نے انڈین فضائیہ کے سابق ایئر مارشل جیتندر مشرا کو چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) تعینات کیا ہے۔

جیتندر مشرا اسی سال مئی میں مغربی فضائی کمان کے کمانڈر اِن چیف کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ رام مندر ٹرسٹ کے سیکریٹری جنرل کرشن موہن نے ٹرسٹ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں اس فیصلے کی اطلاع دی۔

گذشتہ سال پہلگام حملے کے بعد مئی میں جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی تصادم ہوا تھا تو اس وقت جیتندر مشرا مغربی فضائی کمان کے سربراہ تھے۔

ٹرسٹ نے بورڈ میں تین نئے اراکین کو بھی شامل کیا ہے۔ ان میں ایودھیا سے مدن موہن پانڈے، دہلی سے مہیش بھاگ چندکا اور شکوہ آباد سے نرملا یادو شامل ہیں۔

مندر کے چندے سے چوری کے بعد 27 جون کو ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

اس کے بعد 6 جولائی کو ٹرسٹ کا اجلاس ہوا تھا۔

اس اجلاس میں ٹرسٹ کے سیکریٹری جنرل اور رکن انیل مشرا کا استعفیٰ قبول کر لیا گیا تھا۔

ان کی جگہ کرشن موہن کو عبوری سیکریٹری جنرل بنایا گیا تھا۔

بدھ کو ٹرسٹ کے فیصلوں کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کرشن موہن نے یہ بھی بتایا کہ رام مندر ٹرسٹ کے خزانچی سوامی گووند دیو گری مہاراج کو اب سیکریٹری جنرل بنا دیا گیا ہے۔

جبکہ مہیش بھاگ چندکا کو خزانچی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

کرشن موہن نے بتایا کہ یکم اگست 2026 کو سی ای او کے انتخاب کی کمیٹی نے ٹرسٹ کے سامنے تین نام پیش کیے تھے۔

ان تینوں ناموں پر بدھ کو ٹرسٹ کے اجلاس میں غور کیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ یہ تینوں افراد مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

ان میں ریٹائرڈ ایئر مارشل جیتندر مشرا کے نام کا انتخاب کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جیتندر مشرا ضلع دیوریا سے تعلق رکھتے ہیں اور متوسط طبقے کے خاندان سے ہیں۔

جیتندر مشرا کون ہیں اور آپریشن سندور میں ان کا کیا کردار تھا؟

انڈین پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کے مطابق ریٹائرڈ ایئر مارشل جیتندر مشرا نے یکم جنوری 2025 کو انڈین فضائیہ کی مغربی فضائی کمان کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا۔

ایئر مارشل مشرا 6 دسمبر 1986 کو لڑاکا طیاروں کے پائلٹ کے طور پر انڈین فضائیہ میں شامل ہوئے تھے۔

انھوں نے پونے میں واقع نیشنل ڈیفنس اکیڈمی، بنگلورو میں واقع ایئر فورس ٹیسٹ پائلٹ سکول، امریکہ کے ایئر کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اور برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز سے تربیت حاصل کی ہے۔

وہ فائٹر کامبیٹ لیڈر اور تجرباتی ٹیسٹ پائلٹ ہیں۔ انھیں 3,000 گھنٹے سے زیادہ پرواز کا تجربہ حاصل ہے۔

38 سال سے زیادہ طویل سروس کیریئر میں ایئر مارشل مشرا نے کئی اہم کمانڈ اور اسٹاف عہدوں پر کام کیا ہے۔

ایئر مارشل مشرا کو ’اَتی وششٹ سیوا میڈل‘ اور ’وششٹ سیوا میڈل‘ سے نوازا جا چکا ہے۔

'آپریشن سندور' میں کردار کے لیے سنہ 2025 میں انھیں سیوا میڈل (ایس وائی ایس ایم) سے نوازا گیا تھا۔

ان کے کیریئر کا سب سے اہم موڑ گذشتہ سال انڈیا اور پاکستان کا فوجی تصادم تھا۔ انڈیا نے اپنے فوجی آپریشن کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا تھا۔

26 اگست کو اے این آئی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں جیتندر مشرا نے ’آپریشن سندور‘ کے بارے میں بات کی تھی۔

’آپریشن سندور‘ کی تیاری سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انھوں نے کہا کہ ’26 اپریل 2025 کو پہلگام حملے کے بعد اسی روز رات گئے میں نے فضائیہ کے سربراہ کو فون کر کے بتا دیا تھا کہ اگر حکومت فوجی آپشنز کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے تو میں اپنے منصوبے کے ساتھ تیار ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’فوجیں امن کے زمانے میں تیاریاں کرتی ہیں۔ ہم خفیہ معلومات، خلائی تصاویر اور زمینی خفیہ معلومات کی بنیاد پر ہزاروں اہداف کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اگر حکومت ہمیں ان اہداف کو نشانہ بنانے کی اجازت دیتی تو ہم چند ہی گھنٹوں میں ان پر حملہ کر دیتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آپریشن سندور کے دوران انتہائی مضبوط خفیہ معلومات پر بھروسا کیا گیا، جیسے کہ کس عمارت میں کتنے لوگ ہیں۔ آپریشن سندور کے پہلے دن کے حملے کے بارے میں حکومت کی ہدایات بالکل واضح تھیں کہ دہشت گرد، ان کے ہینڈلرز اور ان کے حمایتیوں کو سزا ملنی چاہیے، نہ کہ پاکستان کے عام شہری کو۔‘

’آپ کو حیرت ہو گی کہ ہمارے حملے کا وقت 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب ایک بجے تھا۔ (ہم نے سوچا) اس وقت کوئی عام شہری مرکز یا مسجد میں موجود نہیں ہو گا۔ ہم نے مقامی لوگوں والے مدارس کو چھوڑ کر ان مقامات کو مضبوط خفیہ معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جہاں دہشت گرد اور ان کے ہینڈلرز موجود تھے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں میں معصوم شہری ہلاک ہوئے تھے اور اس نے پہلگام حملے کے بعد نئی دہلی کے الزامات کی تردید کی تھی۔

ٹرسٹ نے 16 افراد کا انٹرویو کیا تھا

رام مندر کے چندے کی چوری کے تنازع کے بعد ٹرسٹ نے سی ای او کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں۔

سی ای او کا کام انتظامی اور مالی معاملات کی نگرانی کرنا ہو گا۔

سی ای او کے انتخاب کے لیے اسی ماہ ہونے والے انٹرویوز بھی خاصی بحث کا موضوع رہے۔

ٹرسٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ ایک اعلیٰ سطحی پینل نے 5,585 درخواستوں میں سے منتخب کیے گئے 16 امیدواروں کا انٹرویو لیا۔

پینل نے ان میں سے تین نام ٹرسٹ کو بھیجے تھے اور حتمی فیصلہ ٹرسٹ کو کرنا تھا۔

سرچ کمیٹی میں جسٹس (ریٹائرڈ) پرمود کوہلی، لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) وی کے چترویدی (ویٹرن) اور جوہری سائنسدان ڈاکٹر سریش ہوارے شامل تھے۔

انٹرویو میں مذہبی امور کے تجربے، بھگوان رام کے ساتھ عقیدت اور ہندو مذہب کی بنیادی مذہبی روایات سے متعلق سوالات پوچھے گئے۔

انٹرویو کے دوران یہ بھی پوچھا گیا کہ آیا امیدوار خالص سبزی خور ہیں یا گوشت خور، شراب نوشی کرتے ہیں یا نہیں، سخت گیر ہندو ہیں یا صرف عقیدت مند، آیا وہ ہندو مذہب کے مطابق لباس پہننے میں آسانی محسوس کریں گے اور دوسرے مذاہب کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے۔