اسلام آباد ہائیکورٹ: چین سے گرفتار پاکستانی شہری کی قید کے 12 سال مکمل ہونے پر رہائی کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
اسلام آباد ہائیکورٹ نے منشیات کے مقدمے میں چین سے گرفتار کیے گئے سزا یافتہ پاکستانی شہری سید جلال حیدر کی رہائی کی درخواست منظور کر لی ہے۔
عدالت نے 12 سال قید کاٹنے والے جلال حیدر کو آج ہی رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ احکامات جسٹس خادم حسین سومرو نے جاری کیے۔
رہائی کی درخواست منظور ہونے پر سید جلال حیدر کی والدہ اور بہن کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہو گئیں۔
درخواست گزار کی جانب سے وکیل حسنین حیدر تھہیم عدالت میں پیش ہوئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ سید جلال حیدر کو 350 گرام ہیروئن کے مقدمے میں چین میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہاں انھیں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
وکیل کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت سید جلال حیدر کو پاکستان منتقل کیا گیا، جبکہ پاکستانی قانون کے مطابق وہ اپنی سزا مکمل کر چکے ہیں، لہٰذا انھیں رہا کیا جانا چاہیے۔
اس موقع پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے مجرم کو ریلیف دینے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس اقدام سے پاکستان اور چین کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ مجرم کو جیل میں کتنا عرصہ ہو چکا ہے، جس پر وکیل حسنین تھہیم نے بتایا کہ سید جلال حیدر 12 سال سے قید ہیں، جبکہ پاکستانی قانون کے مطابق ان کی سزا 10 سال ہونی چاہیے تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد سید جلال حیدر کی رہائی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دے دیا اور کیس نمٹا دیا۔