آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں خلیجِ فارس میں اتنا زیادہ تیل اور گیس کیوں موجود ہے؟
- مصنف, سکاٹ ایل مونٹگمری
- عہدہ, امریکہ میں واشنگٹن یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سٹڈیز کے پروفیسر
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
کہا جاتا ہے کہ خلیجِ فارس کے ممالک اپنی وسیع تیل اور گیس کی دولت کی وجہ سے ایک طرح سے نعمت بھی ہیں اور آزمائش بھی۔
لاکھوں برسوں پر محیط ارضیاتی عمل نے اس خطے کو عالمی توانائی کا مرکز بنا دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ جنگ جیسے کسی بھی بڑے تنازعے کے آغاز پر دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔
بطور پٹرولیم جیولوجسٹ، جس نے اس خطے کا مطالعہ کیا ہے، میں آج بھی اس کے ہائیڈروکاربن ذخائر کی وسعت دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں۔
مثال کے طور پر خلیجِ فارس کے اردگرد 30 سے زائد ایسے تیل سے مالا مال علاقے موجود ہیں جنھیں ’سپر جائنٹ‘ کہا جاتا ہے اور ہر ایک میں کم از کم پانچ ارب بیرل خام تیل پایا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اس خطے کے کنویں روزانہ اتنا تیل پیدا کرتے ہیں، جو شمالی سمندر یا روس کے بہترین کنوؤں کی پیداوار سے دو سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
جدید ارضیاتی سائنس نے چٹانوں میں کئی ایسے عوامل کی نشاندہی کی ہے جو کسی خطے کو تیل سے مالا مال بناتے ہیں، جن میں ہائیڈروکاربن پیدا کرنے اور انھیں محفوظ رکھنے کی صلاحیت شامل ہے۔
خلیجِ فارس کے خطے میں یہ تمام عوامل اپنی بہترین یا قریب ترین مثالی سطح پر موجود ہیں۔ اپنی بے پناہ دولت اور آسان پیداوار کی وجہ سے خلیجِ فارس کا خطہ عملاً بہت آگے ہے، جس کا دور دور تک کوئی مقابل نہیں ہے۔
ایک مختصر تاریخ
انسانوں کو اس خطے میں ہائیڈروکاربن کی موجودگی کا علم اُس وقت سے تھا جب آخری برفانی دور کے اختتام پر، تقریباً 14 ہزار سے چھ ہزار سال قبل، سیلابوں نے خلیجِ فارس کی تشکیل کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خطے کے کئی حصوں میں دریاؤں اور وادیوں کے ساتھ خام تیل اور گیس کے قدرتی رساؤ عام پائے جاتے ہیں۔
ہزاروں سال قبل، مسیحی دور کے آغاز سے بھی پہلے، لوگ بٹومین، جو بھاری پٹرولیم کی ایک قسم ہے، کو گارا بنانے اور کشتیوں کو واٹر پروف کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
جدید دور میں تیل کی پہلی دریافت 1908 میں مغربی ایران میں ایک معروف قدرتی رساؤ کے مقام پر ہوئی۔
1950 اور 1960 کی دہائیوں میں، جب تیل اور گیس کی تلاش میں تیزی آئی، یہ بات واضح ہو گئی کہ دنیا کے کسی اور خطے میں اس قدر وافر ذخائر موجود نہیں۔
دنیا کے دیگر خطوں میں بھی تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، جیسے روس کے مغربی سائبیریا میں، اور حالیہ برسوں میں امریکہ کے پرمِین بیسن میں۔
تاہم ان میں سے کوئی بھی خلیجِ فارس کے ذخائر کے حجم کا مقابلہ نہیں کر سکتا، نہ ہی اس خطے میں خام تیل اور گیس کی اُس بلند شرحِ پیداوار کا جو اسے منفرد بناتی ہے۔
ارضیاتی محلِ وقوع
خلیجِ فارس کا خطہ اُس مقام پر واقع ہے جہاں دو بڑی ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں: جنوب مشرق میں عربین پلیٹ اور مشرق و شمال میں یوریشین پلیٹ۔
یہ تصادم تقریباً تین کروڑ 50 لاکھ برس سے جاری ہے اور اس کے نتیجے میں ایک ایسا متحرک جغرافیائی ماحول پیدا ہوا ہے جہاں چٹانوں کی تہیں مڑ گئیں، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں اور گہرے حصوں میں شدید حرارت اور دباؤ کے باعث تبدیل ہو گئیں۔
خلیج کے دونوں اطراف کی ارضیاتی ساخت میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ ایرانی جانب زاگرس پہاڑی سلسلہ 1,800 کلومیٹر (1,100 میل) تک پھیلا ہوا ہے، جو خلیجِ عمان سے ترکی کی سرحد تک جاتا ہے۔
عظیم الپائن–ہمالیائی نظام کا حصہ ہونے کے ناطے، زاگرس پہاڑی سلسلہ انتہائی مڑی ہوئی اور شکستہ چٹانوں پر مشتمل ہے، جو گذشتہ چھ کروڑ برس میں افریقہ، عرب اور بھارت کی یوریشیا سے ٹکراؤ کے نتیجے میں تشکیل پائی ہیں۔
خلیج کے عربی ساحل پر چٹانوں میں اس طرح کی تبدیلی اور ٹوٹ پھوٹ واقع نہیں ہوئی۔
اس کے برعکس پلیٹوں کے تصادم سے پیدا ہونے والی دباؤ کی قوتوں نے گہرائی میں موجود سخت اور ٹھوس چٹانوں کے پلیٹ فارم، جسے بیسمنٹ راک کہا جاتا ہے، کو مسخ کر کے وسیع، گنبد نما ڈھانچے تشکیل دیے، جو درجنوں بلکہ سیکڑوں مربع کلومیٹر تک پھیلے ہوئے ہیں۔
خلیجِ فارس کے نیچے ایک ایسا حوض (بیسن) موجود ہے جو زاگرس پہاڑوں کے اُبھار کے نتیجے میں کٹاؤ سے بننے والی تلچھٹ سے بھر گیا ہے۔ اس حوض کے گہرے حصوں میں وہ بلند درجہ حرارت اور دباؤ موجود تھا جو تیل اور گیس کی تشکیل کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
مختصراً یہ خطہ بڑے پیمانے پر ہائیڈروکاربن کی پیداوار اور ذخیرہ اندوزی کے لیے ایک نہایت موزوں ارضیاتی ماحول رکھتا ہے۔
خام تیل پیدا کرنے والی چٹانیں
خام تیل اور گیس سمندری جانداروں، جیسے زوپلانکٹن اور فائٹوپلانکٹن، کے نامیاتی مادّے سے بنتے ہیں۔ یہ مادّہ ابتدا میں مٹی سے بھرپور چونے کے پتھر اور دیگر ایسی چٹانوں میں مرتکز ہوتا ہے جو بلند درجہ حرارت اور دباؤ کا سامنا کرتی ہیں۔
جب کسی چٹان میں نامیاتی مادّہ کم از کم دو فیصد ہو تو اسے تیل اور گیس کی پیداوار کے لیے اعلیٰ معیار کا سورس راک سمجھا جاتا ہے۔
خلیجِ فارس کے خطے میں ایسے سورس راکس کی تہیں خاص طور پر زیادہ تعداد میں موجود ہیں، جن میں سے بعض نہایت موٹی، وافر مقدار میں پائی جانے والی اور نامیاتی مادّے سے بھرپور ہیں۔
اس کی مثالیں عربی خلیج کے ساحل پر واقع حنیفہ اور طویق کی ارضیاتی تشکیلیں ہیں، جو جیوراسک دور میں وجود میں آئیں، یعنی تقریباً 20 کروڑ سے 14 کروڑ 50 لاکھ سال قبل۔ اسی طرح ایران میں کژدومی کی تشکیل کریٹیشس دور میں بنی، جو تقریباً 14 کروڑ 50 لاکھ سے چھ کروڑ 60 لاکھ سال پہلے کا زمانہ ہے۔
ان چٹانوں میں نامیاتی مادّے کی مقدار ایک فیصد سے 13 فیصد تک ہوتی ہے، اور بعض مقامات پر اس سے بھی زیادہ پائی جاتی ہے۔
تیل اور گیس کے ذخائر کی ساخت
خطے کی مڑی ہوئی اور شکستہ چٹانوں کی تہیں اور اس کے گنبد نما ڈھانچے ہائیڈروکاربن کو پھانسنے اور محفوظ رکھنے کے لیے نہایت موزوں ہیں۔
زاگرس کے یہ مڑاؤ، جو اپنی دلکش شکلوں کی وجہ سے ماہرینِ ارضیات میں شہرت رکھتے ہیں اور سیٹلائٹ تصاویر میں واضح دکھائی دیتے ہیں، سینکڑوں ارب بیرل تیل اور کھربوں مکعب میٹر گیس اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔
خلیجِ فارس کے تیل اور گیس کے نقشے پر ایک نظر ڈالنے سے فوراً واضح ہو جاتا ہے کہ شمال مغرب سے جنوب مشرق کی سمت لمبوتری، ساسیج نما ساختیں موجود ہیں، جو بڑے مڑے ہوئے ڈھانچوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
ان ساختوں میں مختلف سائز کے سینکڑوں ذخائر شامل ہیں، جو جنوبی ایران سے شمال مشرقی عراق تک پھیلے ہوئے ہیں۔
عربین پلیٹ پر گنبد نما بڑے ڈھانچوں نے تیل اور گیس کے بے حد وسیع ذخائر تشکیل دیے ہیں۔ ان میں سعودی عرب کا غوار آئل فیلڈ بھی شامل ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا تیل کا میدان ہے اور جس سے 70 ارب بیرل سے زیادہ خام تیل پیدا کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح ساؤتھ پارس–نارتھ ڈوم قدرتی گیس کا میدان کم از کم 46 ارب مکعب میٹر گیس پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو توانائی کے اعتبار سے 200 ارب بیرل سے زیادہ تیل کے برابر ہے۔
سب سے اہم ذخیرہ چٹانیں چونے کے پتھر ہیں، جن کے بعض حصے جزوی طور پر تحلیل ہو چکے ہیں اور یہی عمل تیل اور گیس کے بہاؤ کو آسان بناتا ہے۔
زاگرس کے ذخائر میں سیال مادّہ (تیل اور گیس) اُن دراڑوں اور شگافوں کے ذریعے حرکت کرتا ہےٹ جو پلیٹوں کے تصادم سے پیدا ہونے والے مڑاؤ اور فالٹوں کے نتیجے میں وجود میں آئے۔
سعودی عرب کے غوار فیلڈ میں عرب-ڈی ذخیرہ اور زاگرس کے کئی میدانوں میں سماری چونا پتھر ایسی اعلیٰ معیار کی ذخیرہ چٹانوں کی مثالیں ہیں جو وسیع علاقوں، سینکڑوں بلکہ ہزاروں مربع کلومیٹر، پر پھیلی ہوئی ہیں۔
زمین پر یا سمندر میں کہیں بھی اس پیمانے کی ارضیاتی ساختیں موجود نہیں، جو خلیجِ فارس کے خطے کی منفرد اور بے مثال پٹرولیم جیولوجی کو واضح کرتی ہیں۔
مستقبل کے امکانات
ان تمام عوامل کے مجموعی اثر کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا کے روایتی تیل کے تقریباً نصف ذخائر اور گیس کے 40 فیصد ذخائر زمین کی صرف تین فیصد سطح کے نیچے موجود ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کی جائزہ رپورٹس کے مطابق ایک صدی سے زیادہ عرصے تک کھدائی اور پیداوار کے باوجود، خلیجِ فارس کے خطے میں اب بھی تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہونے باقی ہیں۔
سنہ 2012 کی ایک رپورٹ میں، جس میں عرب جزیرہ نما اور زاگرس پہاڑی سلسلے کا مطالعہ کیا گیا تھا، امریکی جیولوجیکل سروے نے اندازہ لگایا کہ پہلے سے دریافت شدہ مقدار کے علاوہ چٹانوں میں مزید 86 ارب بیرل تیل اور 9.5 کھرب مکعب میٹر گیس موجود ہو سکتی ہے۔
مزید یہ کہ 2000 اور 2010 کی دہائیوں میں امریکہ میں ترقی پانے والی افقی ڈرلنگ اور فریکچرنگ جیسی تکنیکوں کے ذریعے بھی زیادہ تیل اور گیس پیدا کی جا سکتی ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنے تیل کے میدانوں میں ان طریقوں کو آزما رہے ہیں۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ طریقے کتنے کامیاب ہوں گے، لیکن مطالعات سے اشارہ ملتا ہے کہ ان کے ذریعے پیداوار میں مزید اضافہ ممکن ہے۔