آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ماؤنٹ ایورسٹ پر معجزاتی طور پر زندہ بچ جانے والے شرپا کی کہانی: ’پہلے دو دن کچھ نہیں کھایا، پھر برف چبانا شروع کر دی‘
- مصنف, کمال پری یار، ٹوبی مان اور فلورا ڈروری
- عہدہ, بی بی سی، کھٹمنڈو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر چھ روز تک لاپتہ نیپالی شرپا کو مردہ تصور کیا گیا تھا مگر وہ زندہ حالت میں مل گئے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’برف چبا کر‘ اور اپنی جیب سے ملنے والی چند چاکلیٹس کھا کر زندہ رہے۔
داوا شرپا کا کہنا تھا کہ وہ اترائی کے دوران ’لاپتہ نہیں ہوئے تھے‘ بلکہ آکسیجن ختم ہونے کے بعد ’پیچھے رہنے‘ پر مجبور تھے۔
یہ سمجھا جا رہا تھا کہ داوا شرپا پہاڑ پر جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ان کا خاندان آخری رسومات کی ادائیگی شروع کر چکا تھا۔ مگر اچانک ایک صفائی کرنے والی ٹیم نے انھیں بیس کیمپ کی طرف پہاڑ سے ’پھسلتے‘ ہوئے دیکھ لیا۔
انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انھوں نے پانی کی کمی، فراسٹ بائٹ اور ہڈی ٹوٹنے کے علاج کے دوران بی بی سی سے بات کی۔
انھوں نے جمعے کو بی بی سی نیپالی کو بتایا کہ ’مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں زندہ رہوں گا۔ مجھے لگا تھا کہ میں اسی طرح مر جاؤں گا۔‘
کوہ پیما کرس تھرال وہ آخری شخص تھے جن کے بارے میں معلوم ہے کہ انھوں نے جمعرات کو کھمبو آئس فال کے قریب ریسکیو سے پہلے داوا شرپا کو زندہ دیکھا تھا۔
سابق برطانوی فوجی نے کہا تھا کہ 57 سالہ داوا شرپا کیمپ تھری کے اوپر تقریباً 7,500 میٹر (24,600 فٹ) کی بلندی پر اپنے ’بیگ پر بیٹھے ہوئے تھے‘ جیسے کہ وہ اس سے پہلے سینکڑوں مرتبہ مختصر آرام کے لیے کرتے رہے تھے۔
تھرال نے تنہا نیچے اترنا جاری رکھا اور ان کے اندازے کے مطابق تقریباً 50 سے 100 میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ اپنے گروپ کے ایک اور رکن سے ملے وہ ’ایک پولش کوہ پیما تھے جن کے پاس آکسیجن نہیں تھی اور جو کافی شدید فراسٹ بائٹ کا سامنا کر رہے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بی بی سی کے پروگرام نیوز آر کو بتایا ’فوراً میری توجہ اس تین رکنی گروپ کے سب سے کمزور رکن کی طرف گئی۔‘
’جب میں نے اس آدمی کو نیچے اترنے میں مدد دیتے ہوئے پہاڑ کی طرف واپس دیکھا تو ہلری داوا اپنی جگہ سے ہلتے ہوئے نظر نہیں آئے اور یقیناً وہ نیچے نہیں اتر رہے تھے ورنہ ہم ان کی ہیڈ ٹارچ دیکھ لیتے۔‘
جب شرپا ایک دراڑ میں گِر گئے
داوا شرپا یاد کرتے ہیں کہ وہ ماؤنٹ ایورسٹ سے واپسی کے دوران کئی مشکلات سے دوچار ہوئے۔
انھوں نے کہا کہ ’جب آکسیجن ختم ہو گئی تو میں چل نہیں سکتا تھا۔‘
’پہلے دو دن میں نے کچھ نہیں کھایا۔ پھر میں نے برف چبانا شروع کی۔ اس سے میرے دانتوں میں درد ہوتا تھا۔ میں سختی سے برف چباتا رہا۔‘
پھر انھیں اپنی جیب میں کچھ چاکلیٹس ملیں اور وہ پگھلی ہوئی برف سے کچھ پانی پینے میں کامیاب ہوئے۔
انھوں نے آہستہ آہستہ نیچے اترنا شروع کیا لیکن دو مختلف افراد کے مطابق، جنھوں نے داوا شرپا سے ان کے اس تجربے کے بارے میں بات کی، وہ ایک برفانی دراڑ میں گِر گئے تھے۔
ان کے مطابق وہ ڈھائی دن تک اس میں پھنسے رہے اور باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ ڈھونڈ سکے۔
پھر ایک برفانی تودہ آیا اور اس نے اس دراڑ میں برف گرا دی جس نے کئی دنوں بعد انھیں پہلی بار امید دی۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب میں نے برف پر قدم رکھا تو میں کھڑا ہوا اور اوپر دیکھا۔۔۔ مجھے لگا کہ میں یہاں سے نکل سکتا ہوں۔‘
جب وہ ہاتھ پاؤں کے بل نکل آئے تو انھیں قریب ہی رسیاں ملیں جنھوں نے دنیا کے بلند ترین پہاڑ سے مزید نیچے اترنے میں ان کی مدد کی۔
ایک اور برفانی تودہ ان کی پیش رفت کے لیے خطرہ بنا لیکن وہ آگے بڑھنے کے لیے پُرعزم رہے۔
وہ یاد کرتے ہیں کہ ’میں برف کے درمیان سے گزرا اور نیچے کی طرف بڑھتا رہا۔ میں ساری رات چلتا رہا۔‘
’پھر میں بیس کیمپ کے قریب پہنچ گیا۔‘
یہیں انھوں نے تقریباً ایک ہفتے میں پہلی بار لوگوں کو دیکھا۔
’کچھ لڑکے کچرا جمع کرنے کے لیے اوپر جا رہے تھے۔ میں ان سے ملا۔ وہ مجھے نیچے لے آئے۔‘
’ناقابل یقین معجزہ‘
ان کی زندگی بچ جانے کی خبر پر شرپا برادری، ان کے ساتھ موجود کوہ پیما اور ان کے اپنے خاندان نے حیرت اور خوشی کا اظہار کیا۔
اس سال کے کوہ پیمائی کے سیزن کے دوران پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 1920 کی دہائی میں ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 300 سے زیادہ افراد جان سے جا چکے ہیں۔
ایٹ کے ایکسپیڈیشنز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمبا شرپا، جو تلاش کی کوششوں کی نگرانی کر رہے تھے، نے اسے ’حقیقی طور پر خود کو ریسکیو کرنے‘ کی کہانی قرار دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’داوا نے کئی دن تک ناممکن حالات کے باوجود زندہ رہنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔‘
جب تھرال نے پہلی بار سوشل میڈیا پر یہ دیکھا کہ داوا شرپا، جنھیں معروف کوہ پیما ایڈمنڈ ہلری کے بعد ہلری داوا شرپا بھی کہا جاتا ہے، زندہ مل گئے ہیں تو انھیں یہ خبر جھوٹی اور بے بنیاد لگی۔
تھرال نے بی بی سی کے پروگرام نیوز آر کو بتایا ’ایک لمحہ آپ ان کی بیٹی کے ساتھ آنسو بہا رہے ہوتے ہیں اور اگلے ہی لمحے آپ انھیں شہر میں رینگتے ہوئے داخل ہوتے دیکھتے ہیں۔ یہ واقعی حیرت انگیز ہے، یہ ناقابل بیان ہے۔‘
داوا کی بیوی دامو شرپا نے بی بی سی کو بتایا کہ جب مہم چلانے والی کمپنی نے کہا کہ ریسکیو آپریشن ممکن نہیں تو انھوں نے امید چھوڑ دی تھی۔ خاندان نے ان کی آخری رسومات شروع کر دی تھیں۔
انھوں نے کہا ’جب میں نے انھیں پہلی بار دیکھا تو میں بہت حیران ہوئی۔ جب ہمیں بتایا گیا کہ وہ کبھی گھر واپس نہیں آئیں گے تو میں بہت دباؤ کا شکار تھی۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ وہ کیسے زندہ واپس آئے۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ محفوظ واپس آگئے۔‘
’میں سوچتی ہوں کہ وہ کتنے عرصے تک بغیر کھانے اور سامان کے زندہ رہے۔۔۔ میں یہ سمجھ نہیں سکتی کہ میرے شوہر نے اس بلندی پر کیا کھایا اور پیا۔ مجھے امید ہے کہ کسی کو بھی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‘
انھوں نے اپیل کی کہ نیپال کی حکومت ایسے واقعات دوبارہ ہونے سے روکے۔
ان کی بیٹی مہینڈو لہامو شرپا نے بعد میں روئٹرز کو بتایا کہ جب وہ ان سے مل کر آئیں تو ’انھوں نے مجھے پہچان لیا۔۔۔ وہ ٹھیک ہیں اور بات کر رہے ہیں۔ ہم خوش ہیں۔‘
ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ داوا شرپا کو ’انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں مکمل طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔‘ ان کی حالت مستحکم ہے اور ان کے جسم میں پانی کی کمی ’واضح طور پر بہتر ہو رہی ہے۔‘
اس سیزن میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ایورسٹ کی چوٹی سر کر چکے ہیں جس سے یہ آج تک کا سب سے مصروف سیزن بن گیا ہے۔