’سٹاک مارکیٹ میں نقصان‘ سے دلبرداشتہ سکول پرنسپل نے بیوی بچوں کو قتل کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا

    • مصنف, جیون بودھلے
    • عہدہ, بی بی سی مراٹھی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

انتباہ: اس خبر کی کچھ تفصیلات پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

انڈیا کی ریاست مہاراشٹر میں سولہاپور ضلع کے رہائشی ایک شخص نے اپنی بیوی اور دو بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ 11 جون کو پیش آیا۔

متوفی کی شناخت یوگیش پاٹیل کے نام سے کی گئی ہے۔ وہ نندوربار ضلع میں سکول کے پرنسپل تھے اور چھٹیاں گزارنے سولہاپور میں اپنے گاؤں آئے ہوئے تھے۔

ان کے گھر دودھ فراہم کرنے والے شخص نے معمول کے مطابق صبح کے وقت دروازہ کھٹکھایا، لیکن آگے سے کوئی جواب نہ آیا۔ شک کی بنیاد پر گاؤں والوں کی مدد سے دروازہ توڑا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ پیش آ چکا تھا۔

پولیس کا خیال ہے کہ پاٹیل نے یہ قدم سٹاک مارکیٹ میں بھاری نقصان کے بعد اٹھایا۔

پولیس کی جانب سے درج کردہ شدہ شکایت میں کہا گیا ہے کہ یوگیش پاٹیل کو ایک کروڑ 80 لاکھ روپے کا نقصان ہوا تھا اور ہو سکتا ہے یہ قدم انھوں نے اسی دباؤ میں اٹھایا ہو۔

اپنی بیوی اور دونوں بچوں کے قتل کے الزام میں پولیس نے متوفی یوگیش پاٹیل کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا۔ معاملے کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

’سٹاک مارکیٹ میں نقصان‘

بی بی سی مراٹھی نے یوگیش پاٹیل کے دوست سومناتھ گھایتیڈک سے بات کی۔

انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ چھ ماہ سے وہ سٹاک مارکیٹ میں پیسے لگا رہے تھے لیکن اچانک انھیں بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی وجہ سے انھوں نے پورے خاندان کو ختم کر کے اپنی زندگی بھی ختم کر لی۔‘

سومناتھ کے مطابق یوگیش نے اپنی والدہ سے بھی پراویڈنٹ فنڈ کے پیسے لیے تھے۔ اسی طرح کچھ دوستوں سے بھی رقم لی تھی۔ یہ تمام پیسے انھوں نے سٹاک مارکیٹ میں لگا دیے تھے۔

خاندان والوں نے کیا بتایا؟

بی بی سی مراٹھی نے یوگیش پاٹیل کی والدہ سنگیتا پاٹیل سے رابطہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے بیٹے کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کوئی نہ کوئی راستہ نکل آتا۔‘

شرد سالونکھے متوفی یوگیش پاٹل کے ماموں ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شرد نے کہا کہ یوگیش نے بہت غلط فیصلہ کیا۔ ’بچپن سے انھیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بہت جدوجہد کر کے انھوں نے یہ سب حاصل کیا تھا۔ ان کا خاندان صرف بیوی اور دو بچوں تک محدود تھا۔‘

شرد سالونکھے نے مزید کہا ’یہ کرنے سے پہلے یوگیش کو کسی سے بات کرنی چاہیے تھی، وہ بہت تنہا ہو گئے تھے۔ زیادہ کسی سے بات نہیں کرتے تھے۔ سٹاک مارکیٹ میں نقصان کی وجہ سے انھوں نے یہ قدم اٹھایا۔‘

پولیس کی تفتیش میں کیا سامنے آیا؟

اس واقعے کی رپورٹ ویراگ پولیس سٹیشن میں درج کی گئی۔ انسپیکٹر کندن گاوڈے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بارے میں معلومات دیں۔

پولیس نے بتایا کہ اپنی زندگی ختم کرنے سے پہلے یوگیش پاٹیل کی لکھی ہوئی ایک چٹھی بھی ملی ہے۔

پولیس کے مطابق اس چٹھی میں انھوں نے اپنی والدہ سے معافی مانگی اور لکھا کہ والدہ کے دیے گئے پیسوں کا انھوں نے غلط استعمال کیا اور اب معاشرے میں منہ دکھانے کے لیے ان کے پاس کوئی جگہ نہیں رہی۔